اقبال نے ہندوستانیوں کو اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنے اور سناتن دھرم کے اہم پہلوؤں کو اپنانے کی بات کی: ڈاکٹر روی کمار مشرا
پریس ریلیز ( نئی دہلی) دارا شکوہ فاؤنڈیشن اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اشتراک سے اسکول آف لینگویجز لٹریچراور کلچر اسٹیڈیز میں آج ایک توسیعی خطبہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بطور مہمان خصوصی اور اقبال ایکسپرٹ کی حیثیت سے ڈاکٹر روی کمار مشرا ڈپٹی ڈائریکٹر نہرو میموریل لائبریری نئی دہلی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اقبال کی حیثیت موجودہ دنیا میں ایک عبقری شخص کی ہے انہوں نے اپنی شاعری میں کائناتی آفاقی اور فلسفیانہ نظریہ پیش کرتے ہوئے ملک سے محبت اور اس کے تئیں وفاداری کا درس دیا ہے ایک طرف ان کا اسلامی نظریہ ہے تو دوسری طرف انہوں نے سیاسی نظریہ کو بیان کیا ہے جب کہ ہندوستان کو انہوں نے اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنے اور سناتن دھرم کے اہم پہلوؤں کو اپنانے کی بات کی جس میں محبت اور بھائی چارگی کا اہم درس دیا گیا ہے
انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ شکوہ میں وہ اللہ سے شکایت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں لیکن یہ شکایت اصل میں اس ایک بچہ کے شکایت جیسی ہے جسے یہ لگتا ہے کہ اس کے والد اس کی خواہشات کا احترام کریں گے اس کے علاوہ اقبال کی اکثر نظموں کی انہوں نے تشریح کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی نظموں میں ہندوستان اور اس کے دیومالائی عناصر جگہ جگہ ظاہر ہیں اگر ان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں ہم بستے ہیں اور ہندوستان ہم میں بستا ہے
جب کہ استقبالیہ کلمات میں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے پروفیسر مظہر آصف ڈین اسکول آف لینگویج لٹریچراور کلچر اسٹیڈیز نے کہا کہ اقبال ماہرفن اور وطن پرست تھے اور ہندوستان کے حوالے سے ان کی تمام نظمیں اہمیت کی حامل ہیں اور اسلام کو انہوں نے ایک آفاقی مذہب کے طور پر پیش کرتے ہوئے دنیا کے اندر امن اور سکون کو تلاشنے کی بات بھی کی ہے اس کے علاوہ انہوں نے دارہ شکوہ فاؤنڈیشن کے مقاصد اور نظریات پر بھی اپنی بات رکھی
اخیر میں دارہ شکوہ ریسرچ فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی ڈاکٹر محسن علی اسٹنٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ہے اس پروگرام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے علاوہ دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ ادرریسرچ اسکالر موجود تھے جن میں پروفیسر انور پاشا،پروفیسر رضوان الرحمٰن،پروفیسر خورشید،پروفیسر اخلاق آزاد ،ڈاکٹر قطب الدین،ڈاکٹر اختر،ڈاکٹر زرنگار،محترمہ صنم،ڈاکٹر ساجد مبین،ڈاکٹر قرۃ العین، ڈاکٹر انور خیری،ڈاکٹر عبدالواسع، محمد امجد صاحب موجود تھے جب کہ نظامت کے فرائض صدام حسین ریسرچ اسکالر جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے کی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

