عشقِ نبی سے ہوکر کے فیضیاب تازہ
باسی حیات میں ہوں میں کامیاب تازہ
پھر تو رکھو عمل میں ذکرِ درود اقدس
جو چاہتے ہو پاؤ ہر دم ثواب تازہ
یہ ہے ہمارے آقا کے شہر کی فضیلت
کانٹا بھی ہے وہاں کا جیسے گلاب تازہ
پھر یاد آگیا ہے مولا مدینہ مجھ کو
پھر دل میں جاگ اٹھا ہے اضطراب تازہ
برسوں کے رکھے زم زم نے جاں مری بچائی
اترا نہ حلق سے جب میرے یہ آب تازہ
ذکرِ نبی کو سن کر چہرے پہ منکروں کے
وہ دیکھو ہو رہا ہے نازل عذاب تازہ
سرکار نے جو دی تھی مجھ کو وہی ہے کافی
درکار اب نہیں ہے کوئی کتاب تازہ
جب تک نہ بھیج طیبہ اے رب ہے یہ گزارش
روزانہ رکھ دے اس کے آنکھوں میں خواب تازہ
( ذکی طارق بارہ بنکوی )
ایڈیٹر۔ہفت روزہ "صداۓ بسمل” بارہ بنکی
سعادت گنج،بارہ بنکی، یوپی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

