پروفیسر نازؔ قادری بنیادی طور پر ایک تخلیقی فن کار ہیں۔ ان کا تعلق افسانہ نگاری سے بھی رہا ہے اور شاعری سے بھی۔ انہوں نے اپنی تعلیمی ضرورتوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تنقیدیں بھی لکھی ہیں۔ لیکن ان کا اصل میدان تخلیقی ادب ہے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا جوہر بالخصوص ان کی شاعری میں کھلتا ہے۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’لمحوں کی صدا‘ ۱۹۹۷ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ یہ مجموعۂ کلام اس لحاظ سے قابلِ مطالعہ ہے کہ اس میں موجود غزلیں اپنے مزاج کے اعتبار سے نہ ترقی پسند ادب کی ترجمان معلوم ہوتی ہیں اور نہ جدیت کی علم بردار۔ ان غزلوں کا اپنا منفرد رنگ وآہنگ ہے اور اس رنگ وآہنگ کی تشکیل میں شاعر کے اپنے مزاج ومنہاج کا خاصا دخل رہا ہے۔ انہوں نے اپنے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’زاویے‘ میں اس کا اعتراف کیا ہے کہ مطالعۂ شعر وادب کے دوران انہوں نے کبھی کسی نظریے کی رنگین عینک نہیں لگائی اور راست مطالعہ اور تاثرات وخیالات کا برملا اظہار ان کا شعار رہا۔ یہی وہ بنیادی بات ہے جو ان کی شاعری کو ان کے ہم عصر شعری منظر نامے میں امتیاز واختصاص کا حامل بناتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں نازؔ قادری کی شاعری ــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ – انور ایرجؔ)
نازؔ قادری کے فکر وفن کی آماج گاہ صنفِ غزل ہے۔ انہوں نے اس صنف میں ایک لمبی عمر تک مشق وریاضت کی ہے اور اس کے کینوس کو حتی المقدور وسیع وعریض کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ان کی غزلوں کا مزاج کلاسیکی غزل کے بہت قریب ہے اور بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ غزلیں بھی نئے تیور اور نئے لہجے کے ساتھ کلاسیکی غزل ہی ہیں، لیکن غور وفکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ جہاں یہ غزلیں ایک طرف کلاسیکی قدروں سے مملو ہیں وہیں دوسری طرف جدید شعری رویے سے بھی ان کا تعلقِ خاص ہے۔ یعنی یہ غزلیں کلاسیکی معیار غزل کی بھی پاس دار ہیں اور معاصر غزل گوئی کی فنی کسوٹی پر بھی یہ پوری طرح کھری اترتی ہیں اور ان میں مضامین نو کی باز گشت بہت دور تک سنائی پڑتی ہے۔ جمالیاتی شعور اور عصری حسّیت نے ان غزلوں کو حسن کا وہ معیار بخشا ہے جس سے آئینۂ ادراک کو جلا ملتی ہے۔ میں ان غزلوں کو جدید کلاسیکی غزل اور ان کے خالق کو جدید کلاسیکیت کا شاعر تصور کرتا ہوں۔
نازؔ قادری گہرا فکری وفنی شعور رکھنے والے شاعر ہیں۔ انہوں نے غزل گوئی کے نازک مرحلے میں فکری وفنی باریکیوں اور نزاکتوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جس کے نتیجے میں ان کی غزلیں جہاں فکر کی سطح پر مایہ دار ہوگئی ہیں وہیں فن کی سطح پر بھی قابلِ اعتبار۔ ان کا صحت مند فنی پہلو یہ بھی ہے کہ اپنے عہد کے مروجہ شاعرانہ فیشن کو قبول کرتے ہوئے نہ انہوں نے لسانی سطح پر کسی طرح کی شکست وریخت کے مظاہرے کو اپنی شاعری کے لیے ضروری سمجھا اور نہ ہی فکر وخیال کی کج روی کے شکار ہوکر پست ومبتذل مضامین کے انتخاب سے اپنے ذوقِ سلیم پر آنچ آنے دی۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں زبان کے کلاسیکی رچاؤ اور فکر کے نستعلیق انداز کی ترجمان معلوم ہوتی ہیں۔ وہ فکری وفنی مرحلے میں کسی طرح کے Confusion یا Dilemma کے شکار نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ان کے یہاں فکری اور فنی سطح پر ایک طرح کے ٹھہرائو کا گمان ہوتا ہے۔ ادب کی دنیا میں یہ ٹھہراؤ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی فن کار کو یہ احساس ہوجائے کہ اس نے جو راہ اختیار کی ہے، وہ درست ہے اور وہ اسے منزل مقصود سے ہم کنار کرسکتی ہے۔
سطور بالا میں میں نے نازؔ قادری کے یہاں پائے جانے والے جس ٹھہراؤ کا ذکر کیا ہے اس سے یہ مراد قطعی نہیں ہے کہ وہ کسی خاص مقام پر پہنچ کر ٹھہر سے گئے ہیں یا ان کی شاعری کسی خاص موڑ پر جاکے رک سی گئی ہے، انہوں نے خوب سے خوب تر کی تمنا چھوڑدی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی شاعری میں امکانات کے نت نئے چراغ روشن ہوں۔ ٹھہراؤ سے میری مراد صرف اور صرف اتنی ہے کہ انہوں نے اپنے شعری اظہار کے لیے جو روش اختیار کی ہے وہ ان کے دائرۂ تیقن سے علاقہ رکھتی ہے۔ ورنہ میری نظر میں یہ بات ارتقائے فکر وفن کے منافی ہے جسے آپ فن کار کے فنی موت کے اعلان نامے سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
بہرحال، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نازؔ قادری کے شعور وفکر میں کلاسیکی قدریں اس طرح رچی بسی ہیں کہ وہ ان سے دامن کش نہیں ہوپاتے ۔ ان کلاسیکی قدروں کا اطلاق ان کی زبان پر بھی کیا جاسکتا ہے اور ان کے موضوعی محتویات پر بھی۔ پردۂ غیاب میں موجود خیالات کو منصہ شہود پر لانے کے لیے وہ جس زبان کا استعمال کرتے ہیں اس میں روایتی تہذیب اور کلاسیکی رکھ رکھاؤ کا التزام ہر قدم پر ملتا ہے جس سے پہلی قرأت میں ان کی شاعری قدیم قدروں کی پاس دار دکھائی دینے لگتی ہے، لیکن بار بار پڑھنے کے بعد اس کی قدامت میں جدت کے گل بوٹے نظر آنے لگتے ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ بھی نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ان کی شاعری نہ جدید ہے اور نہ قدیم۔ بلکہ یہاں جدید وقدیم کا تصور ہی بے معنی سا ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اقبال کی طرح وہ بھی قصۂ جدید وقدیم کو ’دلیلِ کم نظری‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ہر زمانے میں مختلف شکلوں میں ہمارے درمیاں موجود رہتی ہیں اور جن کے گرد ہماری فکر چکر لگاتی رہتی ہے۔ زندگی کی لافانی قدروں سے مملو یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سرخیِ خونِ گلو تو رائگاں ہوتی نہیں
دیکھنا وہ چہرۂ قاتل کی لالی ہوگئی
تیری رحمت سے جڑے ہیں ترے شاکر بندے
کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے یارب
نہ خوش ہو اس قدر طرز تپاک اہل دنیا سے
ستم ڈھاتی یہ دنیا بہ اندازِ نوازش بھی
میں اپنے حرف ملامت کا خود شکار ہوا
کہ گھر میں آگ لگی جس سے تھا وہ گھر کا چراغ
کلاسیکی شاعری کا ایک خاص وصف صفائی، وضاحت اور الفاظ کا موزوں وبرمحل استعمال بھی رہا ہے۔ چوںکہ ہمارے کلاسیکی شعرا نے ابہام و اغلاق سے مملو شاعری کو ابھی شاعری کے زمرے میں نہیں رکھا اس لیے ایک زمانے میں بیان کی صفائی، مضمون کے وضاحت اور الفاظ ومحاورات کے صحیح استعمال کو لازمۂ شاعری تصور کیا جاتا تھا (اب بھی تصور کیا جانا چاہئے) نازؔ قادری کی غزلیں اس لحاظ سے بھی کلاسیکی ہیںکہ ان میں ان لوازمات شاعری کا استعمال بڑے حسن و خوبی کے ساتھ ہوا۔ وہ اپنے شاعرانہ اظہار تجریدیت کی طرف رُخ نہیں کرتے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اس میں وہ ٹوک انداز ہوا ہے۔ شعر کی کلاسیکی منطقیت بھی ان کی شاعری میں پائی جاتی ہے۔ اُن کے یہاں دعوی اور دلیل کے منزل سے گزرکر ہی کوئی شعر اپنا وجود ثابت کرپاتا ہے۔ مصرعوں کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اکثر وبیش تر مصرعے مکمل جملہ ہوتے ہیں، جملہ بھی ایسا کہ جس میں وحدت تاثر پائی جائے۔ یعنی اپنی لسانی ساخت (Structure) کے اعتبار سے بھی وہ مصرعے قواعد واصولِ زبان کی کسوٹی پر تقریباً کھرے اترتے ہیں۔ یعنی کہ جنابِ نازؔ قادری زبان کو ایسے ذریعۂ ترسیل کے بطور استعمال کرتے ہیں جس میں ترسیل کا مسئلہ برائے نام بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کے شعر میں ’از دل خیزد وبردل ریزد‘ والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
نازؔ قادری کی شاعری ان کی جذبات وخیالات کا راست اظہار ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تشبیہات واستعارات کلیدی حیثیت حاصل نہیں کر پاتے، ان کی حیثیت ہمیشہ ثانوی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ان کے یہاں شعری علامتیں تو پائی جاتی ہیں، لیکن زبان علامت کی شکل اختیار نہیں کرتی جس کی وجہ سے ان کے اشعار ذہن کے لیے گراں بار نہیں بنتے، وہ ٹیلی گرام والی زبان کے بھی قایل نہیں ہیں جس میں ہر لفظ ابہام واشکال لیے ہوئے ہوتا ہے۔ میرے دعوے کی دلیل کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
عروسِ فکر کی سادہ ہتھیلوں کے نام
تمام رنگ شفق، سرخیِ حنا لکھ دو
ملا جو تجھ سے تو ماضی کی تلخیاں جاگیں
نشاطِ ہجر کا موسم ترے وصال میں تھا
ابھرتے ڈوبتے لمحوں پہ تھی نظر میری
سمجھ رہا تھا زمانہ کہ بے خبر تھا میں
مٹا سکا نہ کبھی وقت کا غبار اسے
فصیلِ شب پہ لہو کا نشان باقی ہے
نازؔ قادری نے شاعری کے لیے نہ لفظ کو مقدم مانا ہے اور نہ معنی کو۔ وہ نہ صرف حُسنِ الفاظ پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ شاعری حسین لفظوں کی بہترین ترتیب کا نام ہے اور نہ ہی معنی کو لفظ پر ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ محض گنجینۂ معنی ہونا چاہیئے۔ ان کا خیال ہے کہ شاعری میں لفظ ومعنی دونوں یکساں حیثیت واہمیت حاصل ہوتی ہے۔ جب لفظ ومعنی کے درمیاں حسین اتصال اور خوبصورت امتزاج پیدا ہوتا ہے تبھی معیاری شاعری وجود میں آتی ہے۔ انھیں کے لفظوں میں:
اسی نے آئینۂ ناز کو جلا بخشی
جو حسن لفظ ومعانی کے اتصال میں تھا
نازؔ قادری کی شاعری اگر چہ روایتی قدروں کی ترجمان ہے، لیکن اس کی فضا بندی میں جدید شعری رویے کا بھی اہم حصہ ہے۔ کبھی کبھی وہ اپنی شعری بو طیقا کی تشکیلی عمل میں نئی غزل کے زیر اثر وجود میں آنے والی زبان کے ساتھ علامتوں، تشبیہوں اور استعاروں سے بھی مدد لیتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
منہدم ہونے لگیں دیوارِ جاں
جسم کا ظلمت کدہ روشن ہوا
اپنے ہی سنگِ انا کا کررہے ہیں ہم طواف
وضع گردش تو پُرانی ہے مگر محور نیا
کاسۂ حرف کہ خالی ہے مرا، بھر دے اسے
اک گنہگار کی بس اتنی دعا ہے یارب
فصیلِ شب پہ لہو کے چراغ روشن تھے
یوں ہی شفق بہ شفق جلوۂ سحر تھا میں
ضرور پھر کوئی طوفان آنے والا ہے
فصیل وقت سے آتی ہے یہ صدا کیسی
ایک دیوار تکلف ہے دلوں کے مابین
حاصلِ شوق یہ سوغات کہاں تھی پہلے
مذکورہ اشعار میں دیوار جاں، سنگ انا، کاسۂ حرف، فصیل شب، فصیل وقت، دیوار تکلف جیسی ترکیبیں ہمارا دھیان نئی غزل کے لفظیاتی نظام کی طرف موڑ دیتی ہیں۔ لیکن ان ترکیبوں کے فریب میں آکر نازؔ قادری کی شاعری کو نئی غزل کے فکری وفنی چوکھٹے میں فٹ کرنا موزوں نہ ہوگا۔ کیوں کہ ان کی غزلیں نئی غزل کے سانچے میں پورے طور سے ڈھل نہیں پائی ہے۔
اپنے مضمون کو اختتام پذیر کرنے سے پہلے یہاں میں اس بات کا اظہار کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے نازؔ قادری صاحب کی شاعری میں پائی جانے والی جن کلاسیکی قدروں کی بات کی ہے اس سے میرا مقصد ان کی شاعری کو آج کے ادبی منظر نامے سے خارج کرنے کی فضا تیار کرنا نہیں ہے۔ میرا مقصد تو ان کی شاعری میں پائی جانے والی تہذیب زبان اور تخلیقِ شعر میں اس کے بر محل استعمال کو اجاگر کرنا ہے، ساتھ ہی یہ بھی بتانا ہے کہ نئی تہذیب وتمدن کے دھارے میں بہہ کر اپنے آبا واجداد کی میراث کو لٹا نہ دیا جائے، کیوں کہ ادب معاشرے کے ساتھ بہہ جانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے دھارے کو موڑ دینے کا نام ہے۔ اقبال کے لفظوں میں:
حدیثِ بے خبراں ہے تو با زمانہ بہ ساز
زمانہ با تو نہ سازد تو یا زمانہ ستیز
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، الہ باد یونی ورسٹی، الہ باد
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

