جدید طریقہ تدریس جو آج بی-ایڈ ، ایم-ایڈ ، ایم-اے ایجوکیشن اور پی ایچ ڈی یا ڈی-ٹی وغیرہ سے معروف ہے اگرچہ دور جدید کا انوکھا فن اور اہم کارنامہ مانا جاتا ہے مگر سیرت نبوی کا مطالعہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اسکا ماخذ و منبع رہبر اور معلم انسانیت کا پیش کردہ وہ بیش قیمت تحفہ ہے جو چودہ صدی قبل ہمیں شریعت اسلامی یعنی کتاب و سنت کی شکل میں عطا کیا گیا تھا۔
چنانچہ بعثت سے لے کر ختم نبوت تک 23 سالہ ایام پر محیط سیرت طیبہ کا مطالعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تدریس کا جو عملی نمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سامنے پیش کیا وہ ایک چراغ جاوداں ہے جس کی لو اور تمتماہٹ تا قیامت لوگوں کو روشنی فراہم کرتی رہے گی اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر علم کی شمع روشن کرتی رہے گی جس کی روشنی میں انسان رہتی دنیا تک اپنا رخت سفر طے کرے گا۔
نبی عرب و عجم کی حیات مبارکہ فرمان الٰہی ” اقرأ” سے لے کر ” الیوم اکملت لکم دینکم ” کی عملی تفسیر ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بذات خود اپنے حبیب کی تربیت کی اور نبی امی کو علم و ہنر کے زیور سے آراستہ کیا جس کی توثیق احادیث مبارکہ ” أدبنی ربی فأحسن تأدیبی "[1] اور "انما بعثت معلما ” [2]سے ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں قرآن وحدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بحیثیت معلم مبعوث کئے جانے کا ذکر موجود ہےـ اللہ تعالی کا ارشا د ہے :
’’هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ‘‘ (الجمعة 2).
ترجمہ : وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہیں میں سے بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے یقینا یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
اور معاویہ بن الحَکم السُلمی رضی اللہ عنہ كا قول ہے: ’’ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر معلم نہیں ملا‘‘[3]
اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس ذمہ دای کے بارے میں خبر ان الفاظ میں دی ہے’’یقینا الله نے مجھے لوگوں کو جھڑکنے کے لئے مبعوث نہیں فرمایا بلکہ مجھے لوگوں کے لئے آسانی پیداکرنے والا معلم بناکر بھیجا ہے‘‘ا[4]
مندرجہ بالا آیات و احادیث یہ توضیح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محبوب دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو طریقہ تدریس سے آشنائی بخشی جسے آپ نے عمل کے پیکر میں ڈھال کر اہل عالم کو انمول اور سنہری طریقہ تدریس اور اس کے اصولوں سے متعارف کرایا۔
آج جب کہ انسان روز بروز نت نئی چیزیں اور انوکھے طریقے ایجاد کرنے میں لگا ہوا ہے اور ہر ایک کا موجد خود کو مان رہا ہے بالکل اسی طرح دنیا میں تعلیمی میدان میں بھی بہت سے فلاسفر منظر عام پر آئے اور تدریس کے معیاری اصولوں سے روشناس کرایا اور اس کا کریڈٹ اپنے سر لے گئے ۔ چنانچہ کہیں ایڈیسن کو فادر آف ایجوکیشن کہا جاتا ہے تو کہیں ارسطو اور افلاطون کو رہنمائے تعلیم کے خطاب سے نوازا جاتا ہے جو دراصل انہی اسلامی اصولوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے اسلامی طریقت کو اپنانے میں پیش پیش رہے۔ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان فلاسفروں نے تدریس و تعلیم کے میدان میں کوئی نیا کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے تعلیمی و تدریسی فکر و فلسفہ کا ایسا بے نظیر تحفہ اقوام عالم کو پیش کیا جس کے قیمتی جوہر نے انسان کی تعلیم و تدریس کی ترقی کو چار چاند لگا دئیے۔ مگر اس کے باوجود دور جدید کے طریقہ تدریس اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تدریس کے اعلی و سنہرے اصول کا تقابلی مطالعہ کرنے والا قاری مبہوت و ساکت رہ جاتا ہے اور تدریس کا پہلا اور نایاب باب کھولنے والی شخصیت سے بے توجہی پر دم بخود رہ جاتا ہے اور اپنے ضمیر سے یہ سوال کرنے لگتا ہے کہ اس عظیم ہستی کو موجد تدریس اور معلم اعلی تسلیم کرنے کے بجائے دنیوی فلاسفروں اور رہنماؤں کو اس کا بانی مان لینا کیا انصاف کے منافی نہیں ؟ شریعت اسلامی سے روگردانی نہیں؟
چنانچہ اسی سوال نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑا اور ایک تسلیم شدہ حقیقت کو رقم کرنے پر مجبور کیا تاکہ امت مسلمہ جو آج غیروں کی اندھا دھند تقلید میں حیراں و سرگرداں ہے ، صحیح اور سچی حقیقت کی روشنی میں سانس لینا سیکھے اور پھر دنیا کو یہ باور کراسکے کہ جدید دور کی ایجادات و اختراعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا عطا کردہ خوبصورت ثمرہ ہیں۔
جدید طریقہ تدریس جو متعدد اصولوں مثلاً Demonstration , Symbol, Teaching Aid , Lesson plan , Psychology, Questionnaire , اور Philosophy وغیرہ پر منحصر ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز تدریس کے بالکل مشابہ ہے کیونکہ یہ تمام خوبیاں آپ کی ذات اقدس میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ چنانچہ Demonstration کو تدریس میں خاص اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ یہ Practice یعنی عمل کا ذخیرہ پیش کرتا ہے تاکہ بتائی جانے والی بات بآسانی ذہن نشین ہو سکے۔ لہذا حیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ یہ دریچے وا کرتا ہے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی کو عمل سے عبارت کرکے Demonstration کا وہ بہترین نمونہ پیش کیا کہ قرآن بھی اس کی گواہی دیئے بنا نہ رہ سکا۔ ارشاد ربانی ہے ” لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ "( سورہ الاحزاب : 21)۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج نیز زندگی کے تمام مسائل کو بیان کرنے سے پہلے خود اس پر عمل کرکے اس کی عملی تفسیر پیش کی تاکہ امت مسلمہ اسے بآسانی ذہن نشین کرسکے اور اپنے مسائل کو بطریق احسن انجام دینے کے قابل ہو سکے۔ آپ کے عمل کی تصدیق اس حدیث شریف سے ہوتی ہے ” صلوا کما رأیتمونی اصلی ” ۔ [5]( نماز اس طرح سے پڑھو جیسا تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہو).
یہ حدیث پاک یہ واضح کرتی ہے کہ آپ نے نماز اور دیگر فرائض و احکام کا وہ عمدہ demo پیش کیا کہ آج تک عام انسان پیش کرنے سے قاصر ہے اس لئے کہ آج کا انسان دوہری پالیسی کا شکار ہے مگر آپ کی ذات قول و فعل میں تضاد سے پاک تھی۔ آپ کا قول آپ کا فعل اور فعل آپ کا قول تھا چنانچہ آپ نے نماز کا حکم دینے سے پہلے خود نماز پڑھ کر دکھائی۔ روزہ کی فرضیت بتانے سے قبل بھوک و پیاس کی شدت برداشت کی ، حج کا حکم دینے سے پہلے سفر و حج کی صعوبتیں جھیلیں اور جہاد کا جوش دلانے سے پہلے خود میدان جہاد میں اترے۔ علاوہ ازیں زندگی کے تمام مسائل مثلاً نکاح و طلاق ، بیع و شراء، اور قیام و طعام غرضیکہ پوری حیات مستعار جو تعلیم و تعلم سے پر ہے ، اپنی عملی زندگی کو اعلی demo کے طور پر پیش کرکے انسانیت کو تعلیم و تدریس کے سربستہ رازوں سے بہرہ ور کیا۔
اسی طرح سے symbol کو آج جدید طریقہ تدریس میں مرکزی اہمیت حاصل ہے جسے معلم بطور مثال طالب علم کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ تمام باتیں بآسانی ذہن نشین ہو سکیں۔ اس طریقے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے معلم کچھ تصوراتی نقشے یا رموز کا استعمال کرتا ہے تاکہ ذیلی نکات کی وضاحت ہو سکے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اعلی مثال پیش کرکے امت کو عظیم خزانے سے مالامال کیا۔ اس ضمن میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ایک حدیث مشہور ہے:
’’حضور اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دائیں اور بائیں جانب لکیریں کھینچیں پھر فرمایا: یہ راہیں ہیں ان میں سے ہر راہ پر شیطان بلارہا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ایک آیت تلاوت فرمائی و” أن هذا صراطى مستقيماً فاتبعوه . ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله "(الانعام : 153) جس کا ترجمہ یہ ہے ‘‘اور یقینا یہ میری راہ ہے جو سیدھی ہے تم اس پر چلو اور دوسروں کی راہوں پر مت چلو وہ تمہیں سیدھی راہ سے بھٹکا دینگے‘‘۔[6]
اس حديث ميں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو باخبر کیا کہ راہ حق ایک ہے اور وہ صراط مستقیم ہے۔ ضلالت وگمراہی کے بے شمار راستے ہیں اور وہ شیطانی راہیں ہیں ۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکیروں کا استعمال کیا۔
امام طیبی اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھانےاور ذہن نشیں کروانے کے لئے لکیریں کھینچیں کیونکہ مخفی معانی کو بیان کرنے اور پوشیدہ رموز کی توضیح کی غرض سے تصویر وتمثیل استعمال کی جاتی ہے تاکہ وہ مرئی اور محسوس چیزوں کی طرح آشکار ہوجائیں اور بات سمجھنے میں انسانی عقل کی مدد کریں ۔ [7]
اسی طرح تحقیقاتی مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جدید طریقہ تدریس میں Teaching Aid اور Lesson plan کو کلیدی اہمیت حاصل ہے کیونکہ بغیر منصوبہ بندی کے معلم ایک دلچسپ اور خوشگوار ماحول بنانے میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیمی ترقی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں جان ڈیوی فرماتے ہیں :” استاد ایک منتظم ہوتا ہے جو پہلے تدریسی و اکتسابی سرگرمیوں کو ترتیب دیتا ہے اور پھر کمرہ جماعت میں ترتیب وار ان سرگرمیوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔” [8]
اس سلسلے میں متعدد ماہرین نے کچھ اصول وضع کئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں :
- سبق کی منصوبہ بندی کا خاکہ 2) مقاصد تدریس 3) ذہنی آمادگی 4) بلند خوانی یعنی موٹیویشن 5) تفہیمی سوالات 6) نئے الفاظ و معانی کا تعارف 7) سرگرمیاں 8) سبق کا خلاصہ 9) تفویضی کام یعنی ہوم ورک ضروری ہیں۔
لہذا سبق کی تدریس سے پہلے سبق سے وابستہ مقاصد کا تعین کرلینا ضروری ہوتا ہے۔
تدریس کے اس طریقہ کار پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائے نبوت کے ایام ہیں جب توحید خدا کا عظیم مقصد آپ کے مطمح نظر رہا اور اس مقصد میں کامیابی کے لیے آپ ہمہ تن مصروف عمل رہے۔ مندرجہ بالا وضع کردہ اصولوں پر چودہ صدی قبل ہی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بصورت اتم عمل کرکے دکھایا۔ چنانچہ آپ نے مختصر اور فصیح الفاظ کا استعمال کیا اور تدریس کی منصوبہ بندی میں وقت کی ترتیب، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ذہنی آمادگی ، ترغیب وترہیب کا خاص خیال رکھا۔ حکمت و دانائی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے بوقت ضرورت تعلیمات کو تین بار دہرایا اور کنایہ و تشبیہات کا بھی اہتمام کیا اور تفویضی کام کے طور پر عمل کی بھی تاکید کی تاکہ تمام باتیں ازبر ہو جائیں.
اس سلسلے میں کچھ احادیث ہیں جن سے اس طریقہ کار کی خاص تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’حضو اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین میں ایک چھڑی اپنے سامنےگاڑی ، دوسری اس کے قریب اور تیسری زیادہ دور، پھر فرمایا:تم جانتے هو یه كیا هے؟ صحابه نے فرمایا الله اور اس كے رسول بهتر جانتے هیں، رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا : یہ انسان ہے اور یہ اس کى موت ہے اور یہ تمناؤں کو پانے کی کوشش ہے لیکن تمناؤں کی تکمیل سے پہلے ہی موت اس کو آپہونچتی ہے‘‘۔[9]
اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تنبیہ کردی کہ امیدوں کی تکمیل سے قبل ہمہ وقت موت کی تیاری کرلو، اور اس کے لئے تین چھڑیوں کا استعمال کیا ،پہلی اور دوسری چھڑی قریب قریب گاڑی، جس سے مراد انسان اور اس کی موت ہے اور تیسری چھڑی دور رکھی جس سے مراد انسان کی آرزوئیں ہیں ۔ اس سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ انسان آرزؤوں کی تکمیل میں منہمک رہتا ہے اور اچانک وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہےـ۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر صحابہ کرام کو سمجھانے کے لئے حقیقی اشیاء کا استعمال بھی کیا ۔ اس ضمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
’’نبی كریم صلی الله علیه وسلم نے ریشم كو اپنے دائیں هاتھ میں ركھا اور سونا لے كر اسے اپنے بائیں هاتھ میں ركھا پھرفرمایا یه دونوں چیزیں میری امت كے مردوں پر حرام هیں‘‘۔[10]
اس حديث شريف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو شوق دلانے ، اپنی طرف متوجہ کرنے اور ذہنی طور پر تیار کرنے کے لئے ریشم اور سونا کو ذریعہ تعلیم کےطور پر استعمال کیا تاکہ بات بالکل واضح ہوجائے، جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہاتھ میں ریشم اور دوسرے ہاتھ میں سونا لیکر منبر پر چڑھنے لگے تو صحابہ کرام متوجہ ہوگئے اور ان کے اندر یہ جاننے کی جستجو پیدا ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم اور سونے کے بارے میں کیا حکم فرمانے والے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں ۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ کرکےصرف زبانی حکم صادر فرمادیتے تب بھی صحابہ کرام آپ کی بات بخوبی سمجھ لیتے، کیونکہ ریشم اور سونا سے وہ لوگ اچھی طرح واقف تھےـ لیکن ریشم اور سونا دکھا کر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے صحابہ کرام کو تعلیم دی تاکہ بات بالکل ذہن نشین ہوجائے ۔
طریقہ تدریس کا ایک اصول psychology یعنی نفسیات ہے جو معلم کو اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ تعلیم شروع کرنے سے پہلے متعلم کی ذہنی آمادگی اور اس کی نفسیات کا بطور خاص جائزہ لے تاکہ ایک خوشگوار فضا میں تعلیم کا آغاز ہو اور اس کا اکتسابی نتیجہ طالب علم کی کارکردگی پر نظر آئے ۔ چنانچہ سیرت رسول کے مطالعہ سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ کبھی صحابہ کی کسی مجلس میں تشریف لاتے ہی تعلیم کا سلسلہ براہ راست شروع نہیں کرتے بلکہ ان کے مذاکرہ میں پہلے بذات خود شامل ہوجاتے یا پھر ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے پھر تعلیم کا آغاز کرتے۔ طلبہ کی ذہنی کیفیت اور ان کی استعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے لیکچر یا خطبہ کا دورانیہ متعین کرتے تاکہ طالب علم اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔
اسی طرح Questionnaire یعنی سوال و جواب تدریس کے اہم اصولوں میں سے ہے جو بسا اوقات موضوع کو بطریق احسن سمجھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ ممالک اور ان میں تربیت پانے والے اساتذہ اسے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے طلبہ کی ذہنی صلاحیت اور ان کے رجحانات کو سمجھا جاسکے اور پھر ان کے طبعی میلانات اور صلاحیتوں کے مطابق مضامین کو ذہن نشین کرانے کی مشق دی جا سکے۔ مگر تحقیقی مطالعے سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ یہ اصول کوئی تجدد پسند ماہرین کا اخذ کیا ہوا اصول نہیں بلکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا کردہ وہ سنہرا اصول ہے جو انہوں نے اپنے طلبہ کے درمیان اپنایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تدریس طلبہ کی توجہ برقرار رکھنے کے لیے ان سے سوال جواب کا سلسلہ جاری رکھتے بلکہ کبھی کبھی آغاز ہی سوال جواب سے کرتے تھے ۔ اس سلسلے میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مشہور ہے کہ ” ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے۔ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ کا ہو رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ درخت کھجور کا ہے ۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا ۔ تو آپ نے فرمایا پیارے بچے! اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔[11]
اور احادیث کے مطابق یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ اس سے موقع کی مناسبت سے عقلی توجیہ یعنی لوجیکل ریزننگ کی بھی تائید ہوتی ہے۔
اسی طرح Philosophy بھی دور جدید کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے جہاں معلم مختلف طرق سے مختلف تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے طلبہ کی ذہنی ، علمی اور عقلی صلاحیتوں کو استوار کرتا ہے اور اسلامی فلسفہ تعلیم تمام تر صلاحیتوں کو اعلی انسانی اقدار پر استوار کرتا ہے جس کا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلسفہ و حکمت کے پیرائے میں تشبیہات و تمثیلات کا استعمال کرکے کفر و اسلام کی وضاحت کو اپنا نصب العین بنایا اور ایک ماہر فلاسفہ کے طور پر مومن کی مثال کھجور کے درخت سے دے کر اس کی پائیداری اور ثبات و استقلال کی توضیح کی جبکہ کفر کی مثال اندرائن اور شریان کے درخت سے دے کر اس کی کمزوری اور بے ثباتی سے متعارف کرایا تاکہ ہر بات طلبہ کے دماغ میں بآسانی سرایت کر جائے اور اس کی افادیت و مضرت کا پہلو بھی واضح ہو جائے۔
اسی طرح تدریس کا ایک اہم اصول Motivation اور باہمی ہم آہنگی ہے جس میں معلم بحیثیت فرد اپنے طلبہ کے مابین براہ راست تعلق قائم کرے اور تمام تعلیمات کو ذہن نشین کرانے کے لیے طلبہ کے تئیں ایک دردمندانہ دل رکھے اور اس کے لئے طلبہ کے درمیان حوصلہ افزائی کا ماحول پیدا کرتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطر سچی تڑپ رکھتے تھے اور اس کے لئے طلبہ کے سامنے مختلف تشبیہات کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے :” میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لئے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لئے ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔[12]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت مطہرہ جس کے اخلاق کو قرآن سے تعبیر کیا گیا ہو اور وہ قرآن جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے نازل کیا گیا ہو جس کی ہر آیت تعلیم و تدریس کے زیور سے آراستہ ہو لہذا ایسے شخص کے کسی بھی اخلاقی یا روحانی پہلو پر گفتگو کرنے کے لئے صفحات درکار ہیں جنہیں اس مختصر مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے مگر مندرجہ بالا تصریحات کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تدریس کے جو زریں اصول بتائے انہیں اپنائے بغیر کائنات کے ذروں میں اجالا نہیں کیا جا سکتا لہذا یہ اس بات کا اثبات ہے کہ تمام جدید طریقہ ہائے تدریس و تعلیمی تکنیک اسی منبع علم و فن سے نکلے ہیں جو نبی شاہ عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے پھوٹا اور جس کی ادنی سی مثال دنیا پیش کرنے سے بھی قاصر ہے۔
[1] اس حدیث کی سند کو بعض علماء ضعیف قرار دیتے ہیں مگر کثرث طرق کی بنا پر بعض اسے حسن کا درجہ دیتے ہیں لیکن اس کے معانی کو بہرحال صحیح مانتے ہیں۔
[2] ابن ماجہ : 229
[3] مسلم : 537
[4] صحیح مسلم ، کتاب الطلاق ، باب بیان تخییر المرأۃ لا یکون طلاقا
[5] صحیح بخاری : 6008
[6] مسند احمد : 4423
[7] شرح الطیبی علی مشکاة المصابيح 2/635).
[8] کامیاب تدریس کے لئے سبق کی موثر منصوبہ بندی ، فاروق طاہر
www.jasarat.com/blog/2018/09/07/farooq-tahir28/
[9] مسند ، کتاب الرقاق ، باب طول الأمل والحرص ، 3/18
[10] سنن ابوداؤد : 847
[11] صحیح بخاری
[12] صحیح مسلم
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] اسلامیات […]