آقا! آپ کے شکریہ کی ادائیگی کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں اور اگر مل بھی جائیں یہ غلام شکریہ کا حق ادا نہیں کرسکتا کہ آپ نے اس سراپا عصیاں و تقصیر کو متعدد بار باریابی کے شرف سے نوازا ۔ وہاں ہجومِ عاشقاں میں آہوں اور سسکیوں کے درمیاں کچھ کہنے سننے کا موقع بھی کہاں رہتا ہے ‘ بس ایک سرشاری اور مدہوشی کا عالم ہوتا ہے’ بس یہ احساس ہی کافی ہوتا ہے کہ عظیم الشان آقا کا دربارِ عالی ہے اور غلام کی قسمت اوجِ ثریا کو چھو رہی ہے ‘ غلام آقا کی بارگاہ میں قدم بوسی کی سعادت عظمی سے سرفراز ہورہا ہے ۔
آقا ! آج یہ غلام آپ کی اجازت سے استغاثہ کے ساتھ حاضر ہے بلا شبہ
تمھیں نے جراءت اظہار شوق دی ورنہ
مجال کیا تھی ہماری کہ آرزو کرتے
تاریخ عالم کا وہ تاریک دور تھا جب اس خاکدانِ گیتی پر آپ کی تشریف آوری ہوئی اور پھر مہیب تاریکی کا سینہ چاک ہوگیا آپ کی بعثت نے انداز جہاں بدلا تصویر بدل ڈالی کفار اور مشرکین نے اپنے مضبوط قلعے میں شگاف پڑتے دیکھ کر بزن بول دیا ۔ ظلم وجبر کی انتہا کردی ۔ ہجرت کے سانحے سے گزرنا پڑا مگر آپ پر قربان ہونے والوں نے آپ سے جو پیمانِ وفا باندھا بشرطِ استواری اس کے تقاضوں کی تکمیل کرتےرہے ‘ اذیتوں کی انتہا سے گزر گئے مگر پائے استقامت میں لرزش پیدا نہیں ہونے دی اور قیامت تک کے لیے آپ کے دین کی بقا کے ضامن بن گئے ۔
آقا ! آپ کے چشمِ عالم سے چھپ جانے کے تھوڑے دنوں بعد ہی سے وہ سب کچھ ہونے لگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ مصر سے رافضیت کا فتنہ ابھرا اور آپ کے ذوالنورین شہید کردئے گئے ‘ قاتلان عثمان سے انتقام کے مطالبے نے جنگ جمل اور جنگ صفین کی شکلیں اختیار کیں ۔ صحابہ کے ہاتھوں صحابہ تہہِ تیغ ہوئے’ جنگ کا خاتمہ خارجیت کے فتنے کا نقطۂ آغاز بن گیا ‘ فاتح خیبر مولا علی خارجیوں کے جنون کا شکار ہوگئے ۔ اس دلدوز سانحے کے بعد بھی دو سو سالوں تک کلمہ گو کلمہ گویوں کے ہاتھوں خاک و خون میں لٹتے رہے ۔ خلافت نے ملوکیت کا رخ کیا تو آپ کے چہیتے نواسے نے بہتر نفوس قدسیہ کے ساتھ کربلا کی زمین کو اپنے خون کی چھینٹوں سے لالہ زار کردیا ‘ خلافت پورے طور پر ملوکیت میں تبدیل ہوگئی ۔ جغرافیائی اعتبار سے مملکتِ اسلامیہ کی سرحدیں پھیلتی گئیں اور روحِ اسلام سمٹتی رہی ‘ وہ تو صوفیا کرام کی مقدس جماعت تھی جس نے آپ کے دین کو تباہ ہونے سے بچالیا ۔
آقا ! پھر مملکتیں تاراج ہونے لگیں تاتاریوں نے بغداد کا عظیم الشان مرکزِ علوم و فنون خاکستر کردیا ‘ مسلمان کتے بلیوں کے طرح مارے گئے ۔ اسپین ہاتھوں سے نکل گیا ‘ آپ کے ایک سچے عاشق صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدّس کو بچایا ورنہ اسی زمانے میں قبلۂ اول بھی ہاتھوں سے نکل گیا ہوتا ‘ ہم آپ سے دور ہوتے چلے گئے اور ایک ایک کرکے ہماری ساری دولتیں چھنتی رہیں ‘ ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہوا ‘ ہم مسالک میں تقسیم ہوتے چلے گئے ‘ علم و فن کی میراث ہمارے ہاتھوں سے سرکتی گئی’ ہم عالیشان عمارتیں تعمیر کرتے رہے اور ہمارے دشمن ایجادات میں لگے رہے ‘ طب ‘ نجوم ‘ کیمیا ‘ ریاضی ‘ جغرافیہ ‘ طبیعات جو ہماری دولتیں تھیں نہ جانے کب یورپ چلی گئیں اور ہم بھیک منگے ہوگئے ۔
آقا ! گزشتہ ہزارے کی آخری صدی ہمارے لیے تباہ کن رہی عرب قومیت کا نعرہ وحدت اسلامی اور
ہر ملک ملک ما است کہ ملک خدائے ما است
کے نعرے کا پہلو دبانے میں کامیاب ہوگیا ‘ خلافت عثمانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور ملت فروشوں کو ملت فروشی کے عوض چھوٹے چھوٹے ممالک کا تحفہ عطا کردیا گیا آپ کا ایک عاشق اقبال رو پڑا ۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دینِ مصطفیٰ
خاک و خوں میں لوٹتا ہے ترکانِ سخت کوش
صلیبی جنگوں کی شکستوں کا بدلہ چن چن کر لیا گیا,صدی کے نصفف اول کے خاتمے سے پہلے ہی نصرانیت نے صیہونیت سے اپنی دو ہزار سالہ دشمنی بھلا کر دوستی کرلی اور اپنے مشترکہ دشمن مسلمانوں کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا’ فلسطین میں اسرائیل نام کی یہودی سلطنت قائم کردی گئی’ اصل باشندوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ‘ انھیں قتل کیا گیا ان کی عزتیں پامال کی گئیں ان کے معصوم بچوں تک کو نہیں بخشا گیا ‘ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ۔ صیہونی اور نصرانی مشترکہ سازشیں ہمیں ذلت کی انتہا پر پہنچ چکی ہیں ‘ کسی خطۂ ارض پر آپ کے نام لیوا توانا ہوتے ہیں تو ان کی توانائی کا سارا کس بل نکال کر رکھ دیا جاتا ہے ‘ جمہوریہ ایران جب ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے لگا تو صدام حسین کو اس کا حریف بنادیا گیا ‘ آٹھ سال کی جنگ نے جب ایران کی کمر توڑ دی اور عراق خود ایک بڑی طاقت بن گیا تو خود اس کے پڑوسی عرب ریاستوں کے ذریعہ اس پر حملہ کرایا گیا اور مغربی استعمار نے اپنے سارے حربے استعمال کرتے ہوئے عراقی طاقت کو ریزہ ریزہ کردیا ۔ عراق میں بننے والی نئی حکومت کے خلاف دولت اسلامیہ عراق اور شام نام کی جماعت تیار کرائی گئی’ اور اس جماعت نے بال و پر نکالنے شروع کئے تو اس کے خلاف فوج کشی کردی گئی ‘ اور جب القاعدہ کے سپاہ مغرب کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئے تو نائن الیون کا ڈرامہ اسٹیج کیا گیا اور افغانستان کو ملبے میں تبدیل کردیا گیا ۔
آقا : آپ نے جس امت کو اتحاد کا درس دیا آج وہ پوری دنیا میں مسلکی جنگیں لڑ رہی ہے , عراق میں شام میں ‘ یمن میں بڑے فخر کے ساتھ مسلکی جنگوں میں آپ کے کلمہ گو بے دردی کے ساتھ ایک دوسرے کو ہلاک کررہے ہیں اور ہمارے دشمن یہودی اور نصرانی ان کی فلمیں اپنی نسلوں کو دکھا کر ان کی مسرتوں کا سامان فراہم کررہے ہیں ۔
آقا: حجازِ مقدس پر گزشتہ ترانوے سالوں سے قابض نجدی حکمراں اپنی بقا کے لیے استعماری قوتوں کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں ‘ توحیدِ خالص کا نعرہ لگانے والے مغربی خداؤں کے آگے سجدہ ریز ہیں ‘ ہر آنے والا دن اسلام کی سربلندی چاہنے والوں کے لیے تاریک ترین دن ہوتا جارہا ہے ‘ مغرب میں مصر سے لیکر مشرق میں میانمار اور چین تک اسلام پسندوں پر عرصۂ حیات تنگ ہے ۔ اس اندھیارے میں ایک طیب اردگان ہے جو روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوا ہے مگر نجانے کب وہ خدا نخواستہ کلمہ گویوں کی ہی سازشوں کا شکار ہوجائے کہنا مشکل ہے اس لیے کہ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کو اس کا وجود بھاری پڑ رہا ہے ‘ قبلہ اول پر مکمل صیہونی قبضے کو قانونی حیثیت دی گئی ہے اور فلسطینیوں کی صدائے احتجاج صدا بصحرا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں محمد ﷺ کی ازدواجی زندگی – ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا )
آقا؛ ہمارا ملک ہندوستان بھی طاغوتی طاقتوں کے شکنجے میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے اس کو ہندو راشٹر بنانے کی تیاریاں بھی آخری مرحلے میں ہیں ۔ اسرائیل اور امریکہ سے ہمارے تعلقات بہت خوشگوار ہوگئے ہیں ‘ سی آئی اے اور موساد کی آزمودہ سازشوں کو ہندوستان کی دھرتی پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ‘ ان کا آزمودہ نسخہ مسلکی اختلاف ہے ‘ مگر ہم ہندی امت محمدیہ کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ ہم نوشتۂ دیوار نہیں پڑھ پارہے ہیں ۔ ہماری سماعتیں بھی کمزور ہوگئیں ہیں ‘ اس لیے ہم وقت کی آواز نہیں سن پارہے ہیں ‘ ورنہ یہ آواز ہم تک پہنچ جاتی
مقتل کی سیاست نہ ہماری نہ تمہاری
تفریق کروگے تو کوئی سر نہ بچے گا
آقا ! سب سے زیادہ قابلِ ماتم پہلو یہ ہے کہ آپ کے عشاق کہے جانے والے آپ کی محبت کا دم بھرنے والے دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے حال میں مست ہیں ‘ ہمارے اکثر مدارس معیار تعلیم کی غربت کے شکار ہیں ‘ ہماری مسجدوں میں اکثریت ایسے اماموں کی ہے جو علم سے عاری ہیں ‘ ہماری مجلسیں ایسے خطیبوں سے بھر گئی ہیں جن کے پاس نہ علم ہے نہ عمل اور آقا ! آپ کے نام پر ہونے والے اجلاس اپنی معنویت اور افادیت کھو چکے ہیں ‘ آپ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت کی پیشی کے نام پر پیشہ ور نعت خواں اپنی قیمتیں مقرر کررہے ہیں ‘ ہماری خانقاہوں کا عالم تو یہ ہے
زاغوں کے تصرف میں ہیں شاہیں کے نشیمن
آقا : ایک سو سال قبل آپ کے عاشقِ صادق امام احمد رضا نے خوش عقیدگی اور بدعقیدگی کا جو معیار قائم کیا تھا آج وہ حدِ فاصل ختم کردی گئی ہے ۔ اب نئے معیارات قائم کردیے گئے ہیں اور ان کی روشنی میں کفر کے فتوے دئے جارہے ہیں ‘ اور اس جماعت کا آپسی اتحاد بھی پارہ پارہ ہوگیا ہے ۔
اجالے تیل چھڑکنے لگے اجالوں پر
عجیب وقت پڑا ہے چراغ والوں پر
آقا ! تخاطب آپ سے تھا اس لیے صدیوں کا درد لے کر بیٹھ گیا ‘ آقا ! میں جانتا ہوں کہ یہ سارے حالات آپ کے مشاہدے میں ہیں پھر بھی حال دل آپ کو نہ سنائیں تو کسے سنائیں ۔ ہمیں احساس ہے کہ ہماری یہ درگت آپ کے فرمودات سے روگردانی کی وجہ سے ہے ‘ ہم آپ سے رشتہ رکھتے ہیں تو صرف کلمہ پڑھنے کا ‘ ہم آپ کے جھوٹے اور مکار نام لیوا ہیں مگر آقا ! ہیں تو آپ کے ہی ۔
آقا ! ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر نگاہِ لطف و کرم ڈالئے ورنہ ہم صفحۂ ہستی سے مٹا دئے جائیں گے اور ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں’ آپ تو رحمت للعالمین ہیں آپ کو حسنین کریمین کا واسطہ اس رحمتِ کاملہ کی بھیک ہمیں عطا فرمادیجئے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

