بھیم پور گاؤں کا رہنے والا ایک غریب رکشے والا جو نہایت ہی لمبے قد اور دبلے شخصیت کا مالک تھا۔ بچپن سے ہی چہرے کی رنگت سیاہ ہونے کے باعث گاؤں کے لوگ اسے ‘کلّو’ کے نام سے پکارنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نام ‘کلّو’ پڑ گیا۔ یوں تو کلّو کا پیشہ رکشہ چلانا تھا مگر انتہائی کمزور صحت کے باعث اس کے لئے رکشہ کھینچنا محال تھا۔ وہ ایک ایسے سواری کی تلاش میں رہتا جو اس سے ایک دو کیلو کم وزن کے ہی ہوں جسے وہ کم محنت میں کھینچ سکے۔ کلّو اس بات سے اچھی طرح واقف تھا کہ وہ اس رکشے سے اپنی خواہشات کو پورا نہیں کر سکتا، اس لئے اس نے ایک الگ راہ نکالی اور لاٹری میں اپنی قسمت آزمانے چلا گیا۔ وہ جو کچھ بھی اپنے رکشے سے کماتا شام کو اس پیسے سے لاٹری کی ٹکٹیں خرید لاتا۔ یہ اس کی بدقسمتی ہی تھی کہ سوائے ایک دو سو روپئے سے زیادہ اسے کبھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ مگر اس نے ہار نہیں مانی۔ ایک شام وہ لاٹری کی ٹکٹیں خرید کر اپنے گھر لوٹ رہا تھا اور من ہی من اس سوچ میں گم تھا کہ "نہ معلوم بھگوان نے میری قسمت میں کیا لکھا ہے کبھی ایک دو سو سے زیادہ کی لاٹری ہی نہیں لگتی۔ لگتا ہے میری زندگی صرف رکشہ کھینچتے ہی نکل جائے گی۔ کون جانے پرماتما کیا چاہتا ہے۔”
یوں تو کلّو کا کوئی اپنا خاندان نہ تھا ۔وہ اپنے مرحوم بھائی کی بیوی اور اس کے بیٹے راشد کے ساتھ رہتا تھا ۔وہ ان لوگوں کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ وہ لوگ اسے ہر دم کوستے رہتے، اسے برا بھلا کہتے، اپنا بچا ہوا کھانا کھانے کو دیتے اور من ہی من اس کے موت کی دعا کرتے رہتے۔ ایک صبح اچانک کلّو کی موت واقع ہوگئی جس پر اس کی بھابھی اور بھتیجا نے خدا کا شکر ادا کیا کہ چلو اچھا ہوا کہ بلا ٹلی۔
کچھ روز بعد لاٹری کا نتیجہ آیا جس میں بھیم پور کے پہلوان سنگھ کی ایک کروڑ کی لاٹری نکلی جس سے پورے بھیم پور میں تہلکہ سا مچ گیا۔ پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے مگر کسی کو اس بات کی خبر نہ تھی کہ آخر پہلوان سنگھ ہے کون؟ محلے کی عورتیں آپس میں اپنی اپنی رائے دیتیں کہ نہ معلوم پہلوان سنگھ اتنے پیسے کا کیا کرےگا ۔اتنے میں کلّو کی بھابھی نے طنزیہ لہجے میں کہا "نہ معلوم پہلوان سنگھ کون ہے خوش قسمت ہی ہوگا جسے ایک کروڑ کی لاٹری لگی ہے یہاں تو منحوسیت ہی تھی جسے ایک دو سو کے علاوہ کبھی کچھ ہاتھ نہ لگا-” کچھ دنوں بعد جب لاٹری کا ہنگامہ کم ہوگیا تو کلّو کے بھیتجے نے کہا: "کیوں نہ چچا کے کمرے کو خالی کرکے اس میں کوئی کرایہ دار لگا دیا جائے جس سے کچھ پیسے کی آمدنی ہو جائے گی۔” چنانچہ وہ کلّو کے کمرے کی صاف صفائی کرنے لگا۔ اس کے کمرے میں ایک بکس تھا جو نہایت ہی پرانی اور کمزور ٹِن سے بنا ہوا تھا اور چھجےکے اوپر یوں ہی پڑا تھا۔ جب راشد نے اس بکس کو نیچے اتارا اور اسے کھولا تو اس میں ڈھیروں بوسیدہ لاٹری کی ٹکٹیں پڑی تھیں۔ جس میں سے ایک ٹکٹ قدرے درست حالت میں تھا اور ساتھ ہی کافی خستہ حالت میں پڑی ایک جنم پتری بھی تھی جس پر نام لکھا تھا…… پہلوان سنگھ!!!
نازیہ پروین
ایم اے اردو (تری وینی دیوی بھالوٹیہ کالج، رانی گنج)
پتہ: آر کے مشن بائی لین، تالپوکھریا، آسنسسول-713303، پچھم بردوان، مغربی بنگال
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Very good keep it up ..