’’جدید اردو شاعری پر فیض احمد فیض کے اثرات‘‘ – محمد نور الہدیٰ
مصنف : ڈاکٹر ایس ۔ایم ۔ ہاشمی
ناشر : اثبات ونفی پبلیکیشنز، کولکاتا
صفحات : 448
قیمت : 300 روپئے
سال اشاعت : 2012
زیر نظر کتاب ’’جدید اردو شاعری پر فیض احمد فیض کے اثرات‘‘ (2012) ڈاکٹر ایس۔ایم۔ہاشمی کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ دراصل ’’پروفیسر یوسف تقی‘‘ سابق صدر شعبہ اردو کلکتہ یونیورسٹی‘ کی نگرانی میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے ضبط تحریر میں آیا ہے جس پر کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں پی۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری تفویض کی۔
بیسوی صدی انقلابات اور تحریکات کی صدی رہی ہے جس میں متعدد عظیم شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ جنہوں نے اپنی اعلیٰ علمی صلاحیتوں سے اردو ادب اور شاعری کے آسمان پر اپنے فن کے زندہ نقوس قائم کیے۔ جو آگے چل کر ادب کا تخلیقی شاہکار بنے۔ ان باکمال شعرا میں علامہ اقبال ، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، فیض احمد فیض اور اخترالایمان سب سے زیادہ روشن نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے تحقیقی مقالے کے لیے اردو کے ایک بڑے شاعر فیض احمد فیض کی عہد آفریں شاعری اور ان کے معاصرین اور بعد کے شعرا پر ان کے اثرات کا انتخاب کیا جن کی شعری تخلیقات نے ادب وشاعری پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں جن پر زبان اور فن دونوں مفتخر ہیں ۔
زیر نظر کتاب چار ابواب پرمشتمل ہے جس میں ذیلی فصلیں بھی قائم کی گئی ہیں۔ پہلے باب میں فیض احمد فیض سے قبل اردو نظم وغزل کی روایت وہئیت ، اہم تحریکات ورجحانات کے ساتھ نظم گو اور غزل گو شعرائ کے کلام کا خصوصی مطالعہ پیش کیا گیا ہے جس کی حیثیت تاریخی اور ارتقائی ہے۔ پہلی فصل میں قلی قطب شاہ سے فیض تک اردو نظم کی روایت کا ایک اجمالی جائزہ لیا گیا ہے جبکہ دوسری فصل میں اردو غزل کی روایت کا جائزہ لیتے ہوئے اہم غزل گویوں کے کلام سے بحث کی گئی ہے۔
دوسرے باب میں فیض احمد فیض کی خصوصیات شاعری کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ فیض کس لحاظ سے اور کس حد تک اپنے ہم عصر شعرائ میں ممتاز تھے اور اپنی منفرد پہچان بنائی۔ فیض کی شاعری میں اردو اور فارسی کا رچا ہوا امتزاج ملتا ہے جو خوبصورت تشبیہات و استعارات اور اشارات سے مزین ہے۔ ان کی ہر غزل اور ہر نظم انفرادی حیثیت کی حامل ہے جو ان کے گہرے غوروفکر کا نتیجہ ہے اور جو انتہائی عرق ریزی سے معرض وجود میں آئی ہیں۔ انہوں نے اس باب میں بہت سلیقے سے اپنے تجزیاتی شعور سے فیض کی شاعری کو آزادانہ طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ بال خصوص غزل اور نظم دونوں اچھوتے اور منفرد کردار کی جمالیاتی کیفیت کو معروضی ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ خیال صحیح ہے کہ فیض کا ذہن انقلابی ہونے کے باوجود اردو شاعری کی روایتی زبان کو قبول کر چکا تھااور ان کا ڈکشن بنیادی طور پر کلاسیکی مزاج سے ہم آہنگ تھا۔ انہوں نے فیض کی شاعری کے خوبصورت استعاراتی نظام اور اسلوب کا مطالعہ بڑے اعتماد سے کیا ہے۔ فیض ترقی پسند تحریک سے جڑے ہونے کے باوجود قدیم شعری روایت سے گریز نہیں کرتے بلکہ انہیں عصری آگہی کے تریاق سے توانا کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں آج کے صاف وشفاف دھلی ہوئی زبان کی شائستگی ملتی ہے۔ وہ اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبار سے اور وقت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے جمالیاتی آہنگ میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ ان کی شاعری عصر حاضر کے صداقتوں کے ساتھ وطن پرستی، قومی اور سماجی وسیاسی حالات کوبھی منعکس کرتی ہے۔
اسلوب وہی ہیں مگر معنوی اعتبار سے عہد قدیم کے نقش سے قطعی جدا اور مفاہیم کے اعتبار سے قطعی الگ ہے۔
1960 کے بعد کی اردو شاعری کو سمجھنے کے لیے یہ باب بہت اہم ہے۔
مقالے کے تیسرے باب میں انہوں نے 1960 کے بعد کی اردو شاعری بالخصوص نظم وغزل کا عملی مطالعہ پیش کیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جدید اردو نظم اور غزل کن کن نظریات اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی ہیئتی تحریک سے کس حد تک متاثر ہوئی ہے۔ 1960 کے بعد کا دور جدیدیت کے حوالے سے بلبل ہزار داستان بنا ہوا نظر آتا ہے۔ 1960 کے بعد جدید ادب کا اگر سب سے بڑا کارنامہ ہے تو یہ ہے کہ اس نے انسان کے آزاد اور ذاتی وجود کو بقول مصنف ’’ہر طرح کی جبریت کے خلاف ادب میں مستقل حیثیت عطا کی‘‘۔ 1960 کے بعد اردو شاعری کا مزاج یکسر بدل جاتا ہے اور ایسے رجحانات زیر توجہ آتے ہیں جو عام مزاج کو اپنی مٹھی میں لے لیتے ہیں۔ نئے اور پرانے شعرائ کی غالب اکثریت جدیدیت کی طرف جھک جاتی ہے۔ اس نامناسب شکنجے سے باہر نکل کر کھلی ہوئی فضا میں سانس لینا چاہئے جو کسی بھی محکومیت سے ماورا ہوجس میں فرد اپنی شخصیت کے آئینے میں اپنے اندر کے تقاضوں کو سمجھے۔
باب چہارم میں فیض کی شاعری کے اثرات ہم عصر اور بعد کے نظم اور غزل گو شعرائ پر نگاہ ڈالی گئی ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ فیض احمد فیض کی شاعری کے موضوعات و مفاہیم اور اسالب وتراکیب نیز مواد، ہیئت اور لفظیات کو بعد کے نظم گو اور غزل گو شعرا نے کس حد تک اپنایا ہے۔
اس میں انہیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ وہ استدلال سے یہ بتا سکے کہ صرف ہم عصر ترقی پسند شعرائ ہی نہیں ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف رکھنے والے فنکار بھی ان کے لہجے کی نرمی ، خود کلامی الفاظ کی غنائی کیفیت اور اشاراتی تہداری سے متاثر ہوئے۔ ترقی پسند شعرا میں ساحر لدھیانوی ، قتیل شفائی، شہرت بخاری، پرویز شاہدی یہاں تک کہ سردار جعفری ، جاں نثار اختر ، مجروح سلطان پوری، غلام ربانی تاباں، کیفی اعظمی اور احمد فراز تک کسی نہ کسی مرحلے میں فیض کے ساحرانہ اسلوب فن سے قریب آئے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی بے دلیل نہیں ہے کہ 1980کے بعد ابھرنے والے اہم شعرا مثلاً افتخار عارف، شہر یار، ندا فاضلی اور جان ایلیا وغیرہ بھی فیض کی اثر پذیری سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر ہاشمی کا یہ کام اپنی نوعیت کا منفرد کارنامہ ہے۔ امید ہے کہ اہل نظر اس سنجیدہ علمی کام کی داد ضرور دیں گے۔ جہاں یہ کتاب مطالعہ فیض میں ایک اضافہ ثابت ہوگی وہیں عام قاری کے لیے دلچسپی کا باعث بنے گی۔
محمد نور الہدیٰ
ریسرچ اسکالر،
گرونانک دیو یونیورسٹی امرتسر، پنجاب
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

