مجتبیٰ حسین جیسے ایک بڑے فنکار پر خامہ فرسائی کی جرآت کی اس کے لئے سب سے پہلے معذرت واجب ہے۔ مجتبیٰ حسین کی تحریروں سے سرسری تعارف اس زمانے میں ہوا جب میں مولانا آزاد کالج ،کلکتہ یونیورسٹی میں اردو ادب کی ایک طالبہ کی حیثیت سے بی اے فرسٹ ائیر اردو آنرس میں زیر تعلیم تھی ۔ہمارے نصاب میں ان کا لکھا ہوا انشائیہ "برف کی الماری” شامل تھا۔ ان ہی دنوں مجتبیٰ حسین جیسی شخصیت اور انکی تحریروں تک میری رسائی ہوئی۔
اردو ادب میں مجتبیٰ حسین اردو کے منفرد مقبول اور پسندیدہ طنز و مزاح نگار ہی نہیں ، انشا پرداز،خاکہ نویس ،کالم نگار اور ایک بسیار نویس ادیب تھے ۔وہ اپنی تحریروں میں روزمرّہ کے سلیس و سادہ آسان زبان ،پر اثر دلکش اسلوب کا استعمال کرتے تھے اور یہی امتیاز انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد و ممتاز مقام دلاتا ہے۔
ڈاکٹر افسر کاظمی کی کتاب "مجتبیٰ حسین بحثیت طنز و مزاح نگار” کے مقدمہ میں نثار احمد فاروقی لکھتے ہیں کہ
"اگر سیاست کی طرح ادب کو بھی تقسیم کر کے دیکھا جائے تو ہندوستان کی موجودہ حالات میں یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین کی ہمت ہے کہ وہ مزاح نگار کا تابوت اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں حالانکہ کندھا دینے کے لیے بھی کم سے کم چار کی ضرورت ہوتی ہے”۔
شکیل الرحمٰن اپنی کتاب "مجتبیٰ حسین کا فن” اس میں یوں رقم طراز ہیں
"مجتبیٰ حسین کو پڑھتے ہوئے ذہن میں ایک خوبصورت روایت کا تسلسل قائم ہو جاتا ہے ۔فرحت اللّٰہ بیگ،مرزا عظیم بیگ چغتائی،چراغ حسن حسرت ،پروفیسر رشید احمد صدیقی،پطرس بخاری،شوکت تھانوی،شفیق الرحمٰن،کرشن چندر،کنہیا لال کپور اور مشتاق احمد یوسفی!۔۔ ان فنکاروں کی تحریروں سے جو لطف و انسباط حاصل ہوتا ہے ،مجتبی حسین کے مضامین سے بھی اسی نوعیت کالطف ملتا ہے اور اسی قسم کی مسرت حاصل ہوتی ہے”۔
مجتبیٰ حسین 15جولائی 1936 میں ریاست کرناٹک کے ضلع گلبرگہ کے تحصیل چیخولی میں پیدا ہوئے۔لیکن ان کی اصل تاریخ اور تعلیمی اسناد میں موجود تاریخ پیدائش مختلف ہے اور ان میں تین سالوں کا فرق ہے۔کیونکہ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور اس کے بعد پہلی،دوسری،تیسری جماعت کے بجائے مدرسہ تحتانیہ گلبرگہ میں ایک ہی بار چوتھی جماعت میں داخلہ کروایا گیا اسی وجہ سے عمر زائد بڑھا کے لکھائی گئی۔ ان کے والد کا نام مولوی احمد حسین اور والدہ امیر النساء بیگم تھی۔ مجتبیٰ حسین کی بھائیوں میں محبوب حسین جگر،عابد حسین،ابراہیم جلیس،یوسف حسین اور سرتاج حسین تھے۔بڑے بھائی محبوب حسین جگر سے مجتبیٰ حسین سترہ سال چھوٹے تھے اور ابرہیم جلیس سے بارہ سال چھوٹے تھے۔ان کو ادب سے یہ لگاؤ ورثہ میں ملا محبوب حسین جگر نے 1949 ء میں جناب عابد علی خان کے ساتھ ملکر "روزنامہ سیاست ” کی داغ بیل ڈالی جس میں محبوب حسین جگر جوائنٹ ایڈیٹر تھے اور ان کے دوسرے بھائی ابرہیم جلیس کی معروف شخصیت و شہرت کسی کی تعارف کا محتاج نہیں ۔ابراہیم جلیس نے نہایت کم عمری میں محض 24 سال کی عمر میں تقسیم ملک کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے ان کو بر صغیر ہند و پاک کے صنف اول کے افسانہ نگار اور طنز نگار کی حیثیت سے کافی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی لکھی ہوئی کتابیں "چالیس کروڑ بھکاری” اور "دو ملک ایک کہانی ” اردو ادب میں کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہند ہ پاک کی تقسیم اور سابق صدر ریاست حیدر آباد کے خاتمہ کے وقت مجتبیٰ حسین آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے تھے ۔اس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول تانڈور سے 1951 ء میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کالج گلبرگہ سے 1953ء میں انٹرمیڈیٹ آرٹس پاس کیا۔اس کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد بی اے میں داخلہ لیا اور 1955ء میں گریجویشن مکمل کیا اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے ہی 1958ء میں ڈپلومہ ان پبلک ایڈمنسٹریسن میں امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اسی دوران ان کی شادی چچا زاد بہن ناصرہ بیگم سے 12نومبر 1956ء میں ہوئی۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کے بلند پایہ طنز و مزاح نگار: مجتبی حسین – ڈاکٹر احمد علی جوہر )
"تکلف بر طرف” میں "مجھ سے ملئے” عنوان میں اپنی شادی کا ذکر مزاحیہ انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"ابھی اچھی طرح ہوش سنبھالنے بھی نہ پایا تھا کہ والدین نے میری شادی کردی اور یوں میرے رہے سہے ہوش بھی اڑ گئے اور ابھی تک اڑے ہوئے ہیں”۔
مجتبیٰ حسین نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور صحافت کے میدان میں ان کی تربیت ان کے بڑے بھائی محبوب حسین جگر کی سرپرستی میں ہوئی۔ ایک صحافی کی حیثیت سے روزنامہ "سیاست” میں 1956ء سے 1962ء تک تقریباً سات برسوں تک منسلک رہے اور اپنے کام کو بخوبی انجام دیا ۔ مجتبیٰ حسین کہتے ہیں کی "میرا مزاح ویسا ہی ہے جیسا کہ میں ہوں”۔
ان کی مزاح نگاری کے آغاز اور اس کی بنیاد ایک المیہ ہے۔
قصہ مختصر میں عنوان "میں اور مزاح” میں اپنی مزاح نگاری کے آغاز سے متعلق لکھا ہے کہ
"میری مزاح نگاری کی بنیاد ایک المیہ ہر رکھی ہوئی ہے ،وہ المیہ یہ ہے کہ مشہور کالم نگار شاہد صدیقی کے انتقال کے بعد میرے بڑے بھائی جناب محبوب جگر اور روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر جناب میر عابد علی خاں نے ایک دن مجھے بلا کر خوب ڈرایا،دھمکایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اچانک مزاح نگار بن جاؤں ۔چنانچہ حکم کی تعمیل میں 12 اگست 1962ء کو دن کے ٹھیک ساڑھے دس بجے میں نے پہلی مزاحیہ تحریر لکھی”۔
مجتبیٰ حسین اس کالم "شیشہ و تیشہ” میں "کوہ پیما ” فرضی نام لکھا کرتے تھے اور شاہد احمد صدیقی اسی کالم میں "کوہ کن” نام سے لکھا کرتے تھے۔وہ کسی کے مقلد نہیں انہوں نے شروع میں نطشے کا فلسفہ پڑھا ،اس کے بعد مارک توئین، ولی جی وڈہاءوس ،پطرس،اسٹفین لیکاک،کرشن چندر،راجندد سنگھ بیدی،شفیق الرحمٰن ،رشید احمد صدیقی،کنہیا لال کپور،احمد ندیم قاسمی،ابن انشاء،فکر تونسوی اور ابرہیم جلیس وغیرہ کو پڑھا ۔نطشے کا فلسفہ ،غالب کا دیوان اور پطرس کے مضامین انہیں زبانی یاد تھے 1964ء میں انہوں نے اپنے اصلی نام کے ساتھ اپنا پہلا مزاحیہ مضمون”ہم طرف دار ہیں غالب کے سخن فہم نہیں” کے نام سے لکھا۔ جس میں انہوں نے ان لوگوں کے طرف اشارہ کیا ہے جو غالب کا ایک شعر بھی سمجھنے سے قاصر ہے لیکن غالب کی طرف داری کو ضروری گردانتے ہیں۔
1962ء سے 1972ء تک محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت آندھرا پردیش سے وابستہ رہے ۔ حکومت حکومت ہند کے طرف سے گجرال کمیٹی کے شعبہ ریسرچ گجرال کمیٹی دہلی میں 1972ء سے 1974ء تک فریضہ انجام دیا۔ مختلف عہدوں پر فائز ہوئے اور 1992 میں ریٹائر ہوگئے۔ ان کی شخصیت اور تحریروں میں مختلف جگہ ہم آہنگی ہے ۔ان کے مضامین ،خاکے،سفر نامے اور مزاح نگاری کا بنیادی وصف ان کا انداز و بیان ہے ۔وہ اپنی تخلیقات میں ایسی بے تکلفانہ زبان اور آزاد و فضا استعمال کرتے تھے کہ قاری مضمون آغاز کرنے سے لیکر جب تک خاتمہ نہ ہو جائے اس کے ہاتھوں سے کتاب چھوٹ ہی نہیں سکتی اور قاری مسحور ہو کے پڑھتا چلا جاتا ہے اور مضمون ختم ہونے کے بعد ہی انکی تخلیق فضا کی گرفت سے آزادی حاصل کر سکتا ہے ۔ان کے مزاح میں وہ لطف اندوزی ہے کہ لبوں پہ تبسم خود بہ خود بکھیرنے لگتے ہیں ان کی شخصیت عجز و انکساری ،انسان دوستی ،سراپا خلوص و محبت ،دوسروں کا احترام ،نہ کوئی تکلف اور نہ ہی کوئی تصنع اور دوستوں پر اعتماد ان کی شخصیت کے نمایاں وصف تھے۔ اپنی دوستی کے متعلق مجتبیٰ حسین "قصہ مختصر ” میں ایک جگہ لکھا ہے کہ
"میں دوستوں کا رسیا اور متوالا ہوں اپنے وقت کا بڑا حصہ دوستوں میں گنواتا ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے دوستوں کو میرے خلاف غیبت کرنے اور مجھے ان کے خلاف غیبت کرنے کا موقع ہاتھ آتا ہے” ۔
مجتبیٰ حسین بنیادی طور پہ ایک قصہ گو تھے ۔ان کا موضوع انسان اور زندگی کے روزمرہ مسائل اور ان روزمرہ کے پریشانیوں سے قاری کو روشناس کراتے ہوئے اس کو حقیقت کے قریب لے جاتےاور نہ ان کی تحریروں سے کسی کی دل آزاری ہونے کا خدشہ ہی ہوتا ۔ ان کا مشاہدہ وسیع اور عمیق، موضوعات کا تنوع، اور سیدھی سادھی عام فہم زبان میں کسی بھی موضوعات پر اظہار خیال کرتے تھے ۔ انہوں نے 1969ء سے خاکے لکھنے شروع کئے اور ان کا سب سے پہلا خاکہ حکم یوسف خان پر لکھا۔ سماج میں موجود خوبیوں اور خامیوں کا اجاگر کرنے کا ہنر ان کے پاس موجود تھا کسی بھی واقعات کی مرقع نگاری بڑی کامیابی اور دلچسپ انداز کے ساتھ اپنی تحریروں میں بیان کرتے اور ساتھ ہی ساتھ مزاحیہ میں افسانوی اور ڈرامائی عناصر بھی بیان کر دیتے ۔
"قصہ مختصر” میں شامل مضمون "ریل منتری مسافر بن گئے ” سے یہ اقتباس دیکھے جس میں مزاحیہ انداز کے ساتھ سنجیدگی بیان سے بھی کام لیا اور سیدھے سادھے مکالمے میں محکمہ ریلوے پر گہرا طنز کیا اور جنرل کلاسیس میں سفر کرنے والے مسافروں کی صورتحال کا ذکر کیا ہے
"دریا کو کوزے میں یہی بند کیا جاتا ہے ۔ آپ یقین کریں کہ اس ایک ڈبہ میں ہمارے گاؤں کی پوری آبادی سما سکتی ہے۔مسافر کو ڈبہ میں صرف پاؤں رکھنے کی جگہ مل جائے تو سمجھے اس کا پورا خاندان معہ سامان اندر آ سکتا ہے ۔ آپ گھبرائیے نہیں بلکہ پوری بے دردی کے ساتھ مجھے اندر ڈھکیل دیجئے ورنہ گاڑی چھوٹ جائے گی۔”
ایک مزاح نگار کے لئے ذہانت بہت ضروری ہے اور مجتبیٰ حسین کے یہاں ذہانت بھرپور ہے جس کا استعمال کرکے انہوں نے واقعہ نگاری اور مرقع کشی میں کمال حاصل کیا ہے ۔ان کا سفر نامہ "جاپان چلو جاپان چلو” اردو ادب کے مزاحیہ انداز و بیان میں سنگ میل کی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا بنیادی وصف ہے کہ نہ وہ دوسروں کی خامیاں گنواتے ،نہ ان پر ہنستے ،بلکہ اپنی کمزوریوں کو اس طرح تحریری سانچے میں ڈھالتے ہیں کہ پڑھنے والے کو ہنسی آجاتی ہے۔
مجتبیٰ حسین "تکلف بر طرف” میں مجھ سے ملئے ” میں لکھتے ہیں کہ
"ہنسنے کو ایک مقدس فرض جانتا ہوں اور قہقہ لگانے کو دنیا کا سب سے بڑا ایڈونچر”۔(ص ۔12)
مجتبیٰ حسین کے مضامین کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ان کے تصانیف میں بر تکلف،قطع کلام،قصہ مختصر،بہر حال، آدمی نامہ (خاکوں کا مجموعہ) ،بالا آ خر،جاپان چلو جاپان چلو، الغرض،سو ہے وہ بھی آدمی،چہرہ در چہرہ (خاکے), سفر لخت لخت (سفر نامہ) آ خر کار،میرا کالم (کالموں کا مجموعہ)، تماشائے اہل قلم،تماشائے اہل کرم اور تماشائے اہل ستم ،ہوئے ہم دوست جس کے۔
ہندی میں شائع ہونے والے مجموعے: قصہ آرام کرسی کا، جاپان چلو جاپان چلو،سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا،سند باد کا سفر نامہ،چہرہ در چہرہ ،مجتبی حسین رچناولی
ہندی ،جاپانی کے علاوہ اڑیہ،تیلگو اور دیگر زبانوں میں بھی ان کی کتابوں کے ترجمہ شائع ہوچکے ہیں۔
تالیفات: شیشہ و تیشہ (شاہد صدیقی کے کالموں کا انتخاب)
ماہنامہ آج کل طنز و مزاح نمبر 1974 مہمان مدیر کی حیثیت سے مرتب کیا
ضبط شدہ نظمیں بہ تعاون ڈاکٹر خلیق انجم
مجتبیٰ حسین نے دنیا کے کئی ممالک کے اسفار کئے اور ان کی شہرت و مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حیدرآباد سے شائع ہونے والے رسالہ” شگوفہ” نے چار سو صفحات پر مبنی ایک ضخیم مجتبیٰ حسین نمبر نکالا ہے ۔ اس میں مضمون نگاروں نے انہیں قہقہوں کا سوداگر ،گردشوں کا آدمی،ادب کا سپر مین، من موہن مجتبیٰ،سچے لمحوں کا آدمی،مجتبوں کا اسٹاک ایکسچینج وغیرہ کے ناموں سے عنوان کر کے انہیں ان ناموں سے نوازا ہے۔
اعزازات و انعامات: مجتبیٰ حسین نے شخصی خاکے بھی لکھے،کالم بھی، انشائیہ بھی اور سفر نامہ بھی۔ ان بے شمار تخلیقات کی وجہ سے انہیں متعدد انعامات و اعزازات دئیے گئے ۔ مجتبیٰ حسین کو سب سے پہلا اڑیا زبان کے ادیبوں کی تنظیم "سر سن ساہتیہ سمیتی” کی جانب سے 1980ء میں کٹک میں "ہاسیہ رتن کا خطاب ” سے نوازا گیا ۔1983ء میں دہلی کی ادبی تنظیم "ساز و ادب ” کیطرف سے "نشان امتیاز” اور 1984ء میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے ہاتھوں "غالب انعام” دیا گیا ۔ 1989ء میں دہلی اردو اکیڈمی کی جانب سے تخلیقی ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ اور 1993 میں آندھرا پردیش اکیڈمی سے پہلا طنز و مزاح (مخدوم ایوارڈ) سے نوازا گیا۔”زندہ دلان حیدرآباد ” کیطرف سے اعتراف خدمات کا انعام ملا۔ اتر پردیش اردو اکیڈمی،ہریانہ اردو اکیڈمی، کرناٹک اردو اکیڈمی سے بھی ایوارڈ دئیے گئے ۔ مجتبیٰ حسین کو ملک کے مختلف اکیڈمیوں سے ایوارڈ مل چکے ہیں ۔2003ء میں حکومت مدھیہ پردیش نے "کل ہند جوہر قریشی ایوارڈ برائے طنز و مزاح” دیا۔ حکومت ہند نے انہیں 2007ء میں باوقار سویلین اعزاز پدم شری اعزاز سے نوازا۔ 2006 ء میں میرتقی میر ایوارڈ،2010ء میں گلبرگہ یونیورسٹی سے انہیں ڈی لٹ کی ڈگری سے سرفراز کیا۔2011ء میں سنت گیا نیشور نیشنل ایوارڈ ملا۔ ان کا انتقال 27 مئی 2020 ء حیدرآباد میں ہوا۔ (یہ بھی پڑھیں مجتبیٰ حسین کے خاکوں میں انفرادی رنگ- ڈاکٹر قسیم اختر )
ان کی تحریریں اردو ادب میں بیش بہا اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اس مختصر مضمون مجتبیٰ حسین شخصیت اور ادبی خدمات میں ان کی شخصیت کو پیش کرنے کی کوشش کی مگر حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوا ۔
ہزاروں شوق سے کھولے تھے بادباں لیکن
کہاں ہے ساحل دریا ، کہاں سفینئہ دل
تبسم ریاض
(ایم اے،بی ایڈ کلکتہ یونیورسٹی )
کولکاتا، ویسٹ بنگال۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ❤️✨
ایک بہترین ویب سائٹ
اللہ تعالیٰ "ادب میراس” کی ٹیم اور ادیبوں کو جزاۓ خیر عطاء کرے
مشکور,
محمد جنید م ن
(بی اے_ انجمن کالج بیلگام کرناٹک )
8151902148