جدیدیت کا استعارہ”اترکے”اور ڈاکٹر محمد علی حسین شائق- نسیم اشک
خوبی اور حسن دونوں کو اظہار کی حاجت ہوتی ہے اور یہ صفات اپنے اظہار کا میڈیم تلاش کر ہی لیتی ہیں خوبی ظاہر ہوکر رہتی ہے اور حسن بے نقاب ہوکر رہتا ہے انسان کو جو خوبیاں دوسری مخلوقات سے افضل بناتی ہیں ان میں اظہار ایک اہم خوبی ہے اظہار کے لئے فکر چاہۓ اور فکر کے لۓ بالیدہ شعور،دھڑکتا دل اور سانس لیتے احساسات اور یہ تمام اوصاف انسانی ہے درحقیقت یہ کائنات جو حسن کا مرقع ہے عشق کا اظہار ہے خالق کائنات کا سرور کائنات کے لئے۔
مختلف ادوار میں احساس کی ترجمانی مختلف طریقے سے ہوتی رہی کبھی چٹانوں کو کاٹ کر کبھی سروں میں نغمہ بن کر کبھی مصور کی تصویر بن کر کبھی شاعر و ادیب کے قلم سے داستان، ڈراما ،ناول اور کبھی افسانوی پوشاک زیب تن کرکے مگر اظہار کا سلسلہ جاری رہا اور آج بھی جاری ہے ڈاکٹر محمد علی حسین شائق نے اپنے احساسات کی ترسیل کے لئے افسانہ نگاری کو اپنایا۔ ہندوستان میں انگریزی اور فرانسیسی ادب کے مطالعے سے افسانہ کا چلن عام ہوا حالانکہ افسانوں کے اولین نمونے قدیم داستانوں میں مل جاتے ہیں مگر انہیں افسانہ کا نام نہیں دیا جا سکتا با ضابطہ افسانہ نگاری کا آغاز پریم چند سے ہوا افسانوی موضوعات وقت کے ساتھ بدلتے رہے رومانیت سے حقیقت نگاری تک افسانہ نگاری ایک طویل سفر طۓ کرکے یہاں تک پہنچی ہے یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ افسانہ نگاری کو نئی سمت اور رفتار دینے میں ترقی پسند تحریک کی بہت اہمیت رہی ہے اس تحریک نے ادب برائے زندگی کی صدا لگائی اور اس تحریک کے زیر اثر جو ادب لکھا گیا اس میں حقیقت پسندی اور مقصدیت کو اہمیت حاصل رہی۔ تخلیق شعری ہو یا نثری مگر حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے کیونکہ زمینی حقیقتوں سے آنکھیں موند لینا کسی بھی شاعر اور ادیب کو زیب نہیں دیتا کیسے کوئی ذی شعورقلم کار حقیقت سے چشم پوشی کر سکتا ہے؟ یہی روزمرہ کے مسائل بد عنوانی، لاچاری،مفلسی حق تلفی،بشر نوازی ،اعتبار کی ڈھلتی عمر،خون تھوکتا مزدور ،بوجھ اٹھاتا بچپن،نفرت کا پھلنے والا پودا،بے سمت زندگی،خوبورت آنکھوں سے ڈھلکتا آنسو،ظلم اور بربریت،وجود کا جنگ،انا کا معرکہ،اور مختلف خانوں میں بٹی زندگی یہی تو تخلیقات کے موضوعات ہیں یہیں تو تخلیق پیدا ہوتی ہے اور انہی موضوعات کو ایک حقیقت نگار اپنے فن میں جگہ دے کر ایک نحیف آواز کو للکار بنا دیتا ہے حقیقت نگاری جب افسانے کا روپ لیتی ہے تو کمال عروج کو پہنچتی ہے اور اسی حقیقت نگاری کو جلا بخشنے والوں میں ڈاکٹر محمد علی حسین شائق ایک اہم نام ہے۔ افسانوں کا مجموعہ "اتر کے” ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔اس سے قبل "کرچیوں میں بٹا انسان "انکا پہلا افسانوی مجموعہ ادب کے قارئین کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کے افسانے ان کے عمیق مطالعے اور سماج پر گہری نظر کی ترجمانی کرتے ہیں موصوف ایک زندہ دل اور حساس افسانہ نگار ہیں انکے افسانوں کے پاؤں ہوتے ہیں جو زمین کو مضبوطی سے پکڑے رہتے ہیں اور یہ افسانے اپنے پیروں سے چل کر زمین پر مکینوں کو دعوت فکر دیتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے ہیں بغیر اس کی پرواہ کیے کہ کس نے اپنے دل کے دروازے ان کے لیے وا کۓ اور کس نے بند۔ ان کے افسانوں کی صدا پر کان بند کرنا ایک حساس دل کے لیے مشکل ہے اثرات کو واضح کرتے انکے افسانے وجوہات کی تلاش کی دعوت دیتے ہیں اور اسکا مداوا بھی چاہتے ۔
افسانوں کا مجموعہ "اترکے” میں چودہ افسانے شامل ہیں افسانوں کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ ان کے افسانوں میں روانی غضب کی ہے اسلوب کی جادوگری موجود ہے اور سلیس زبان نے افسانوں میں زندگی بھردی ہے۔ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کے افسانوں میں بہت سلیس زبان کا ذائقہ ملتا ہےاور وقت کی ضرورت بھی یہی ہے کہ بھاری بھرکم الفاظ کا استعمال کم کیا جائے تاکہ کہانی کا اثر قاری لے سکیں ورنہ کہانی تو بھلی ہوتی ہے مگر مقصدیت سے بھٹک جاتی ہے،مقفع اور مسجع جملے،رنگین عبارتیں افسانے کو حسن تو بخشتے ہیں مگر افسانہ اپنے وجود کا احساس نہیں دلا پاتا۔ زمانہ حال ہو بہو دیکھنے کا قائل ہے وہ لفظوں کی پیکر تراشی اور دائرہ نما بات سے گھبراتا ہے بلکہ یوں کہوں کہ بوریت محسوس کرتا ہے موصوف کے افسانے مقصدیت پر زیادہ زور دیتے ہیں اور قاری کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں افسانہ پڑھنے والا خود کو ان کرداروں میں پاتا ہے اور وہ کہانی میں کھوتا چلا جاتا ہےموصوف کے افسانوں کی فصیلیں ذہن و فکر کی سرحد پر سینہ تانے کھڑی رہتی ہیں جن کے حصار سے نکلنا ممکن نہیں ان کے بعض افسانوں میں ترقی پسندی اور جدیدیت کا امتزاج ملتا ہے اور یہ انوکھا پن خوب لگتا ہے۔عصر حاضر کی تبدیلیوں سے آگاہ اور مسائل سے دوچار ہونے والا ان افسانوں میں اپنا کردار ڈھونڈلے گا اور جو عہد حاضر میں پیدا شدہ مسائل سے بے خبر ہو گا وہ طلسماتی نظارہ ڈھونڈے گا جو ان کے افسانوں میں نہیں ہے کیونکہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا کے مصداق موصوف کے افسانوں میں رومانیت کم کم ہے اور وقت کے تقاضے کے عین مطابق افسانوں میں سماج کے کھوکھلے پن پر نہ صرف کف افسوس ملتے دیکھائی دیتے ہیں بلکہ اصلاح کی بات بھی کرتے ہیں زندگی کا ایک مثبت نظریہ انکے افسانوں میں جا بجا ملتا ہے موصوف اپنے افسانوں میں عہد جدید کے انتشار اور کرب کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔
افسانہ” شب گزیدہ سحر” عصر حاضر کی نام نہاد ترقی کے کھوکھلے پن کواجا گر کرتا ہے جہاں ترقی کے نام پر زندگی کا سودا ہوتا ہے یہ افسانہ ایک احتجاج ہے ترقی پر نہیں بلکہ ترقی کے نام پر جو موت کا برہنہ رقص ہو رہا ہے اس پر۔
” خاموشیوں کی گونج” بہت بہترین افسانہ ہے اس میں ایک مقناطیسی کیفیت ہے چونکہ اس افسانے میں جس درد کا ذکر کیا گیا ہےاس درد کا بھوگی کوئی ایک دو نہیں سب ہیں تمام انسانی دل ہیں جو اس کربناک فضا میں سانس لے رہے ہیں عہد حاضر کا یہ المیہ ہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد کسی خاص فرقے کی حیات جس طرح سے تنگ کی جارہی ہے کہ اس کا خدا ہی حافظ۔
افسانہ "سویرا جاگ گیا” مہذب ہونے کا تکبر کو چور چور کر دیتا ہے اور بالیدہ ذہن کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے یہ کیسی رفتار ہےجو وجود کے ٹرین کو ہی ڈیریل کردے؟ اگر روشنی اس قدر بڑھ جائے کہ جسم جلنے لگے اور چہرے پہچانے نہ جا سکے تو لازم ہے کہ اس میک اپ نما تیز روشنی والے بلب کو توڑ کر مٹی کا دیا روشن کردیا جائے۔
” سلگتے لمحے بجھتے سال” ایک علامتی افسانہ ہے جس میں زندگی کے نشیب و فراز سے فرار کا راستہ نہیں ملتا اور وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے پھر لاشعوری طور پر ایک ہاتھ آ تا ہے اور زندگی نما ٹرین کو اسکی منزل پر پہنچا دیتا ہے افسانے کا ستارہ زندگی کے محور پر گھومتا ہے۔ٹائٹل افسانہ”اترکے” ایک نفسیاتی افسانہ ہے مصنف نے سوسائٹی پر گہری طنز کی ہےجدید ہونے ترقی یافتہ ہونے کا مطلب ہے حیائی تھوڑی ہوتی ہے تنگ کپڑے اور ان تنگ کپڑوں میں منہ چھپائے تنگ ذہنیت نت نۓ خیالات کی پرورش کرکےاپنی تسکین کا ذریعہ پیدا کرتی ہے اس افسانے میں محض کپڑے ہی کی بات نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ہماری دیانت داری، ہمارے اسلاف جو ہماری ترقی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اسے بھی خوشی خوشی اتار دینے کی بات کہی گئی ہے اور ہم ایسا کرکے شرمندہ ہونے کے بجائے نازاں ہو رہے ہیں یہ ذہنیت عنقریب ہمیں تباہ کر دیں گی۔ کیونکہ اب دجال نمودار ہوگا۔
"کرب ناک زندگی” روزمرہ کی زندگی کا نقشہ پیش کرتا ہے اس مصروف ترین زندگی میں انسان کبھی خود سے بھی نہیں مل پاتا زندگی گھر میں رہتی ہے تو وجود باہر اور وجود گھر میں رہتا ہے تو زندگی باہربلکل آج کی حقیقی زندگی کی تصویر ہے کرب ناک زندگی۔
"کھلے پنجڑے کے پنچھی” عہدحاضر ماتم کناں ہے اور وجودیت کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
"شکستگی” شکست کا مثلث ہے سسمیتا کےیقین کی شکست، سویٹی کے معصوم آنکھوں میں پل رہے خوابوں کی شکست اور غوری کے اندر بسے آدمی کی شکست۔
"رشتے کی دیمک” ملک کی موجودہ صورت کو پیش کرتا ہے اور” زلزلہ” وقت کی ستم ظریفی کو بیان کرتا ہے جو پلک جھپکتے خوابوں کے محل کو زمین بوس کر دیتا ہے افسانوں کا تسلسل یہ بتاتا ہے کہ ایک ہی نشست میں لکھا گیا ہے اور یہ ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے کشمکش سے پر مگر کمپلیکس سے آزاد افسانوں کے خالق ڈاکٹر محمد علی حسین شائق کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔کتاب ہر لحاظ سے خوبصورت اور دیدہ زیب ہے۔ڈاکٹر تسلیم عارف کا کمال فن اس کتاب کی زیبائش میں بھی نمایاں ہے آخر میں یہی کہوں گا
یاتری گن کرپیا دھیان دیں
شائق ایکسپریس برق رفتاری سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں یہ نہ رکے گی نہ تھکے کی لہذا جن مسافر وں کی منزل آگئی ہو وہ ٹرین کے قیام کے دوران "اتر کے” دیکھ لیں۔
نسیم اشک
ھولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Bahut umdah