جامعات میں اردو : صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras
0 comment

جدید دنیا کی مشہور تعلیمی اصطلاح یونی ورسٹی کے ڈکشنریوں میں یہ معنی لکھے ہوئے ملیں گے کہ وہ جگہ یا ادارہ جہاں اعلا تعلیم کی سہولت حاصل ہو اور اس کی ڈگریاں تفویض کی جاتی ہوں۔ اسی کے ترجمے کے طور پر جامعہ دارالعلوم یا وشوودیالیہ جیسی اصطلاحیں استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر کا اضافہ کرتے ہیں کہ اعلا تعلیم کا یہ آخری ادارہ ہے جہاں کے بعد رسمی تعلیم و تدریس کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس انجام یا رسمی اختتام  پر بڑے اداروں میں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا اہتمام اور اس موقعے سے کسی بڑے ماہرِ تعلیم یا دانش ور  کا خطاب بھی اس لیے رواج میں رہا کیوں کہ اس روز ڈگری لیتے ہوئے اس کامیاب طالب علم کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ اس نے اپنے علم کی جو پونجی اکٹھی کی ہے، اسی کی بنیاد پر اسے آیندہ زندگی کے سارے نازک مراحل میں بہ سلامت گزر جانا ہے۔ جتنے مشہور کنووکیشن ایڈریس ہمیں معلوم ہیں، سب میں اس بات کی ترغیب شامل رہتی ہے کہ طالب علم اب اس لائق ہوگیا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ان معلومات کی بنیاد پر اپنے لیے آزادانہ مقام حاصل کرسکے۔ یونی ورسٹی لفظ کا ایک دوسرا مفہوم میکسم گورکی کے یہاں ملتا ہے جب وہ اپنی خودنوشت کے دوسرے حصے کو ’’میری یونی ورسٹیاں‘‘ کہتا ہے۔ اس جلد میں اس کی زندگی کا وہ دور شامل ہوا ہے جب وہ مشکل حالات کے شکنجے میں پھنسا اور دال روٹی پہ بن آئی تھی۔ ہوٹل میں اسے ویٹر کا کام ملا تھا۔ اسی سے زندگی کی گاڑی چلتی تھی۔ گورکی کے لیے وہ خوب دن تھے جب اس وقت کے روس کے انقلاب پسند نوجوان اور دانش وران ہوٹل میں بیٹھ کر استحصال سے عاری ایک نئے ملک کا خواب دیکھتے تھے۔ گورکی ان کی باتوں کو غور سے سنتا تھا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ انھی باتوں سے ہوٹل کے ایک ویٹر کی زندگی بدلی اور وہ نوجوان انقلاب پسندوں کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ پھر لینن کا دوست اور دنیا کا بڑا لکھنے والا اور نوبل انعام سے سرفراز میکسم گورکی بنا۔ اس زندگی کو گورکی نے اپنے یونی ورسٹی سے تعبیر کیا کیوں کہ یہاں اسے جو علم حاصل ہوا، اس کی بنیاد پر اس نے اپنی نئی زندگی کا خاکا تیار کیا اور اسی سے اسے دنیا میں کامرانی حاصل ہوئی۔

یونی ورسٹی کے حقیقی معنوں کو تو گورکی نے ہی سمجھا تھا مگر ڈگریوں کی اہمیت آج کے دور میں ہم نئے تصورات سے غافل نہیں رہ سکتے؛ اس لیے موجودہ گفتگو میں دونوں تصورات کے بین بین رہ کر غور و فکر کی کوشش کی جائے تو حقیقت تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ یونی ورسٹیوں میں بھی طرح طرح کے رسمی اور غیر رسمی امتحانات اور سماج میں مختلف کاموں کے لیے طرح طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں جو فی الحقیقت جامعات کے فارغین کی سماج کی ضرورتوں کے مطابق ڈھلنے اور ڈھالنے کی ایک کوشش ہی تو ہے۔ ہندستانی جامعات کی کم معیاری پر صدرِ مملکت سے لے کر ایک عام شہری تک کی جتنی بھی تنقیدیں آتی رہتی ہیں اور ان کی کم معیاری پر جس قدر بھی رونا رویا جاتا ہے مگر اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ دنیا کو بدلنے کے لیے یا تعمیر و تشکیل کے نئے دورمیں داخل ہونے کے لیے جو ہاتھ اور دماغ ہمیں چاہیے، ان کے لیے اساسی کارخانہ اب بھی یونی ورسٹیاں ہی ہیں اور ان کے فارغین اور مدرسین سے ہی دنیا کے علم و دانش کا سارا کاروبار چل رہا ہے۔ اس لیے ہمارے اختلافات جتنے بھی ہوں مگر ہمیں انھی اداروں میں تازہ لہو بہم پہنچا کر اصلاح اور معیار کے نئے منظرنامے تیار کرنے ہیں۔ جو مایوس ہیں، ان کے لیے بھی یہی چارۂ کار ہے کہ ان اداروں کو زوال کی پہنائیوں سے نکالیں اورانھیں وقت کی دیوار پر لکھی عبارت سے ہم آہنگ ہونے کے لائق بنائیں۔ (یہ بھی پڑھیں خطباتِ شبلی کی دانش ورانہ جہت – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

ہمیں معلوم ہے کہ ہندستان میں یونی ورسٹیوں کا قیام انگریزوں کے تعلیمی مشن کا ایک حصہ تھا۔ نالندہ، وکرم شلا اور تک شلا جیسی قدیم یونی ورسٹیوں کا تذکرہ یہاں یوں بے معنی ہے کیوں کہ ان کے تجربات ان کے زوال کے بعد کام میں نہیں لائے جا سکے۔ اپنے زوال کے ساتھ ہی وہ تمام اصول و ضوابط ختم ہوگئے اور وہ عظیم ادارے قصّۂ پارینہ بن گئے۔ غدر کے ساتھ ہی انگریزی تعلیم کے یہ نئے مینار ملک کی ضرورت کے مطابق بہت کم تعداد میں سامنے آئے اور ان اداروں کی توسیع کا کام بھی اتنی سست رفتارسے ہوا جس کے نتیجے میں پورا ملک چند فیض یافتگان کے علاوہ جہالت مندوں پر ہی مشتمل تھا۔ آزادی کے بعد تیزی کے ساتھ اس تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کی مشقت شروع ہوئی مگر اب بھی اس ملک کی تیس فی صد سے زیادہ آبادی کو اپنا نام بھی کسی بھی ایک زبان میں لکھنے نہیں آتا۔ حرف شناسی سے لے کر کسی کام کے لائق بننے کی مہارت تک کے مراحل بہت آگے کے معاملات ہیں۔ آج بھی متعدد طرح کی پرائیویٹ یونی ورسٹیوں اور تکنیکی کالجوں کے باوجود ہندستان کی تعلیمی ضرورتوں کے اعتبار سے صرف پچاس فی صد ادارے ہیں۔ ایسے اداروں کی کمی سے آئے دن ملک میں طرح طرح کے نقصانات کے بارے میں اخباروں کے کالم سیاہ کیے جاتے ہیں۔ ہمارے اسکول، کالج اور یونی ورسٹیاں یا ان کی پشت پر سرگرم صوبائی اور مرکزی حکومتیں آزادی کی سات دہائیوں کے بعد بھی حرف شناس نہ بنا سکیں تو آخر کس کا ماتم کیا جائے۔ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ کریں تو تعلیم کے میدان میں ہمارے ادارے اس قدر پیچھے ہیں جہاں سے عالمی نشانات تک پہنچنے میں نہ جانے کتنی نسلیں تلف ہوجائیں گی۔

برِ صغیر کی تعلیمی تاریخ پر غور کریں تو ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی یونی ورسٹیوں کے بہت سارے شعبہ ہاے اردو ایسے ہیں جنھوں نے سو برس سے زیادہ میعاد پوری کرلی۔ بہت سارے شعبہ پچھتر اور پچاس برس مکمل کرچکے ہیں۔ آزادی کے بعد کے کالج اور یونی ورسٹیوں میں ہزاروں کی تعداد میں شعبۂ اردو قائم ہوئے۔ بہت ساری جگہوں پر پہلے سے قائم شعبوں کو سیاسی تنگ نظری میں بند کیا گیا اور کہیں انھیں محدود کرنے کی کوششیں ہوئیں مگر ان مشکلات میں بھی اردو کے شعبے نہ صرف یہ کہ زندہ ہیں بلکہ اپنی بعض معقول سرگرمیوں کی وجہ سے وہ اکثر و بیش تر زندگی بہ داماں ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تینوں ملکوں اور یورپ امریکہ یا دوسرے ممالک کے طلبہ اور اساتذہ کی ایک سیشن میں تعداد کا اندازہ کیا جائے تو یہ لازمی طور پر لاکھوں میں ہوگی۔ ان میں اچھی خاصی تعداد بڑی چھوٹی ملازمتوں میں جارہی ہے اور ایک طبقہ اعلا تعلیم کو مستحکم کرنے میں لگا ہواہے۔ ظاہری طور پر یہ ادارہ پھل پھول رہا ہے اور اپنی ہم عصر زبانوں سے مطابقت بٹھا کر اپنے خواب کو صحیح شکل میں مرتب کررہا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں کے مضامین شایع ہورہے ہیں اور بڑی تعداد میں صاحبِ تصنیف نسل سامنے آرہی ہے۔ سے می نار اور مذاکروں میں طلبہ اور اساتذہ گرماگرم بحث میں مبتلا ہیں اور ایک ہنگامہ آرائی کا دور دورہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کلیم الدین احمد:ایک مثالی نقاد – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

ظاہری طور پر جو روشنی اور چمک نظر آرہی ہے، اسے پوری حقیقت نہ سمجھ کر آدھا فسانہ سمجھنا چاہیے۔ ایک طرف ان شعبہ ہاے اردو کے اساتذہ اور فارغین کی ایک طویل فہرست ہے۔ رشید احمد صدیقی، عندلیب شادانی، سید اعجاز حسین سے لے کر درمیانی دور کے اساتذۂ اردو کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سید احتشام حسین، آلِ احمد سرور، اختر اورینوی، نور الحسن ہاشمی، سید عبداللہ، کلیم سہسرامی، خواجہ احمد فاروقی اور وحید قریشی جیسے افراد نظر آتے ہیں جنھوںنے اپنے بزرگوں کی تربیت کا بہترین ثبوت فراہم کرتے ہوئے ہند و پاک کی یونی ورسٹیوں کے شعبہ ہاے اردو کے مقام و مرتبے میں اضافہ کیا اور اپنے ہونہار طلبہ کی بدولت ان تینوں ملکوں میں ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ کی متعدد یونی ورسٹیوں میں اردو کی تعلیم و تدریس کے منظرنامے کو اس قدر توسیع بخشی جس سے یہ زبان تعلیم و تدریس اور تحقیق کے ساتھ ملازمت کے حصول کا بڑا ذریعہ بنی۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ اردو اساتذہ کی یہ کھیپ سماج کے دوسرے شعبوں میں بھی دخل رکھتی تھی اور دوسری زبانوں یا مضامین کے کارندوں سے ہم آہنگی بٹھا کر اپنے شعبوں کو مقبول بنانے میں سرگرم رہی۔ اس نسل کے افراد نے شعبہ ہاے اردو کو اردو زبان کے  تخلیق کاروں، دانش وروں اور تحریک کاروں سے جوڑ کر رکھنے کا انداز پیدا کیا تھا جس سے یونی ورسٹی اور سماج میں مطابقت قائم ہوتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے جوڑ کر اپنی پہچان مستحکم کرتے تھے۔ اسی نسل نے تقسیمِ ملک کے بعد کے مشکل حالات میں ہندستان کے شعبوں کو سمیٹ کر رکھا اور نئے حالات کے مطابق اپنے مزاج و اسلوب میں بھی تبدیلی پیدا کی۔ ۱۹۷۱ء کے بعد جب یہ نسل اپنی خدمات میں انجام کو پہنچ رہی تھی، اس کے باوجود بنگلہ دیش کے دو بڑے شعبے یعنی ڈھاکہ یونی ورسٹی اور راج شاہی یونی ورسٹی میں اردو تعلیم و تدریس کے مواقع قائم رہ گئے۔ اس نسل نے ادبی تحریکوں کے ساتھ بھی مطابقت قائم کی اور ان کی خوبیوں خامیوں کے سلسلے سے بحث و مباحثے میں مقدور بھر حصہ لے کر شعبہ ہاے اردو کو اس لائق بنایا کہ وہ بدلتی صورتِ حال میں خود کو موزوں ثابت کرسکیں۔ ترقی پسند تحریک اس اعتبار سے خوش نصیب تحریک رہی کہ اس کا سماج اور شعبہ ہاے اردو دونوں نے استقبال کیا۔

۱۹۷۰ء کے آس پاس ہمارے شعبہ ہاے اردو میں جو نسل بزرگوں کے ذریعہ انتخاب میں آئی ، ان میں عجب اتفاق کہ ملازمت کی چاہ زیادہ تھی اور زبان کی Activism   کے تئیں رغبت کم تھی۔ اس دور میں تنخواہیں بڑھیں اور صارفیت نے اساتذہ کے میعارِ زندگی میں واضح طور پر تبدیلیاں پیدا کیں۔ دوسرے شعبے یہاں موضوعِ بحث نہیں ہیں، اس لیے عمومی حالات میں بھی اردو ہی زیرِ بحث آرہی ہے۔ اس زمانے میں جب شعبہ ہاے اردو میں مزید توسیع کے امکانات پیدا ہوئے، تقسیمِ ملک کے جبر سے نجات کی گنجایشیں ملیں اور ایک جدید ہندستانی زبان کے بہ طور اردو اور شعبہ ہاے اردو کے فروغ کے امکانات پیدا ہوئے؛ ٹھیک اسی مرحلے میں تقرری کی سطح پر واضح کوتاہ اندیشیاں پورے ملک میں نظر آتی ہیں۔ کم تر صلاحیت کے افراد اور سفارشات کی بنیاد پر ان کی تقرری نے شعبہ ہاے اردو کے پچھلے معیار کو ایک دوراہے پر کھڑ اکردیا۔ دیکھتے دیکھتے ان ناموران کے زیرِ سایہ ایک بالشتی نسل ابھر کر سامنے آئی۔ جو مزاج سے تدریس کا ہم رکاب نہ ہو، وہ تدریس کے لیے منتخب ہوا۔ اس کے برعکس جس نے اپنی زبان کا روڑا  بن کر جینے کا نشانہ رکھا تھا، وہ راندۂ درگاہ ہوا۔ نام گننے اور گنانے کی ضرورت نہیں مگر بہار میں غلام سرور شعبۂ اردو کا حصہ نہ بنائے جاسکے اور علی گڑھ میں راہی معصوم رضا کو محرومی جھیلنی پڑی۔ حنیف نقوی کی صلاحیتوں پر اہالیانِ سرسید کو بھروسہ نہ ہوا۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ کچھ بزرگ ذاتی فائدے اور ترقی کے اجالے میں کچھ ایسا اسیر ہوئے کہ توکل کی پرانی دولت ارزانی میں بٹ گئی۔ آلِ احمد سرور علی گڑھ، لکھنؤ سب جگہ نظر آئے۔ احتشام حسین بھی لکھنؤ اور الٰہ آباد  دونوں جگہوں پہ سرگرم ہوئے۔ گیان چند جین بھوپال سے الہ آباد ، جمّو اور حیدرآباد تک پہنچے۔ گوپی چند نارنگ دہلی یونی ورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دونوں کی فصلیں کاٹتے رہے۔ محمد حسن کو علی گڑھ بھی چاہیے اورکشمیر کے ساتھ ساتھ جواہر لال نہرو یونی ورسٹی بھی۔ شمیم حنفی بھی علی گڑھ میں ایک دور بتا کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لیے دہلی روانہ ہوگئے۔ کہنا چاہیے کہ اردو اساتذہ کی یہ وہ طاقت ور نسل تھی جس نے اپنے فائدے کے لیے جیسا چاہا، ویسا ہی پایا۔ ہندستان سے باہر بھی اردو کے نام پر جو فصلیں تھوڑی بہت شاداب ہوئیں، انھیں کاٹ کھانے والے بھی یہی لوگ تھے۔ ہر طرف سے اردو کے پھل پھول انھی چند اصحاب کو حاصل ہوئے۔ (یہ بھی پڑھیں خواجہ بندہ نواز سے منسوب دکنی رسائل: ایک مطالعہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

اسی زمانے میں شعبہ ہاے اردو کے نام ور افراد اردو سے متعلق دوسرے اداروں میں بھی اضافی حصولیابیوں یا ذمہ داریوں کو ادا کرتے نظر آئے۔ ان کے پاس اقتدار یا اقتدار سے متعلق افراد سے تال میل بٹھانے کی بہترین صلاحیت تھی، اس لیے اردو کے نام پر سارے من و سلویٰ انھی کے حصے میں آئے۔ آلِ احمد سرور انجمن ترقی اردو کے ذمہ دار ہوئے۔ ساہتیہ اکادمی میں کنوینرشپ ملی اور یہ بھی ہوا کہ کسی کو انعام نہیں دینے کا چلن بھی شروع ہوا ۔یعنی یگانہ کے لفظوں میں: ’’سب ترے سوا کافر‘‘کی ادا تھی ۔ یہ شعبہ ہاے اردو کے افراد کی جانب سے اپنی انتظامی قوت کے نشے میںدوسرے مصنفین کے حقوق سلب کرنے کی ابتدائی کوششیں تھیں۔

۷۲-۱۹۷۱ء سے اردو کے اساتذہ کے ہاتھ میں اقتدار کی ایک اور مضبوط رسّی ہاتھ لگ گئی۔ اتر پردیش اور بہار سے شروع ہوکر کم و بیش ہندستان کی تمام ریاستوں تک یہ سلسلہ دراز ہوا۔ گجرال کمیٹی کی سفارشات پر اندراگاندھی کی توجہ سے مختلف ریاستوں میں اردو اکادمیاں قائم ہونی شروع ہوئیں۔ یہ شعبہ ہاے اردو کے اساتذہ کے لیے مستقل ترقی کا ذریعہ رہیں۔ اردو اکادمی کی مجلسِ عاملہ کے رکن سے لے کر صدر، نائب صدر یا سکریٹری تک کے عہدے اساتذۂ اردو کو حاصل ہونا شروع ہوگئے۔ سب نے اردو اکادمی کے کام کو  ذمہ داریوں کی طرح نہیں بلکہ مواقع کے بہ طور استعمال کیا۔ اترپردیش اردو اکادمی میں پروفیسر محمود الٰہی کے دو بار عہدِ صدارت کو استثنیٰ کے طور پر ملاحظہ کریں تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ شعبہ ہاے اردو کے اساتذہ نے اردو اکادمیوں کو اردو زبان و ادب کے سلسلے کی خدمات کے لیے موزوں اداروں کے طور پر کبھی آگے نہیں بڑھنے دیابلکہ اس کے مقابلے میں اکثر و بیش تر ایسے کام ہوئے جن کا مقصد ذاتی تشہیر، اپنے حلقے کے لکھنے والوں کی پذیرائی، اپنے شعبے کی ترقی کا راستہ کھولنا اور قومی یا بین الاقوامی سطح پر لین دین یا تبادلۂ باہمی کے مستقل انتظام کی صورت پیدا کرناکھلے مقاصد رہے۔ شعبہ ہاے اردو کے اساتذہ نے اردو اکادمیوں سے ایک اور یہ کام بھی لیا کہ اپنے مخالفین کو جمہوری حقوق کے تحت کچھ ملنے جلنے والے فائدوں سے بھی بالارادہ دور رکھا۔ گذشتہ پانچ دہائیوں میں کبھی کبھی مصنفین کی طرف سے احتجاجاً انعامات واپس کرنے کی جو خبریں آتی رہی ہیں، ان میں سے اکثر و بیش تر اسی قبیل کی رہی ہیں۔ ایک زمانے میں قرۃ العین حیدر اور فکر تونسوی کو اترپردیش اردو اکادمی نے ان کی کتابوں پر پانچ سو روپیوں کے انعامات پیش کیے تھے۔ یہ آخری درجے کا انعام تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معتبر لکھنے والوں کو ان کی تصنیفات پر معمولی رقم پیش کرنا حقیقتاً انھیں بالارادہ ذلیل و خوار کرنا ہے۔ ہر اکادمی میں چیئرمین سے لے کر ذیلی کمیٹی یا مبصرین کی جماعت میں ۹۰ فی صدی اردو اساتذہ موجود رہتے ہیں۔ کم و بیش یہی صورتِ حال قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان کی بھی ہوئی جہاں جامعات کے اساتذۂ اردو اپنی زبان کے فائدے پر کم اور اپنے فائدے کا لامتناہی سلسلہ قائم کرنے کی جُگت میں منہمک نظر آتے ہیں۔

نتیجہ سامنے ہے کہ مختلف صوبائی اور مرکزی حکومتیں اردو زبان و ادب کی ترقی کے نام پر پورے ہندستان میں ڈھائی تین سو کروڑ بہرطور خرچ کردیتی ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے ایک بڑے ملک اور اردو آبادی کی تعداد کو سامنے رکھیں تو یہ رقم بہت معمولی ہے۔ مگر اسے اپنی زبان کے بنیادی کاموں میں خرچ کرنے کے بجاے بڑے سلیقے سے ہم شعبہ جاتی (Co-departmental) مد میں تبدیل کردینے کو ہی معراج سمجھا گیا۔ اردو خواندگی اور اسکول یا کالج اور یونی ورسٹیوں کے طلبا کو مرکز میں رکھ کر ان اداروں کی پالیسیاں صرف اس لیے نہیں بن سکیں کیوںکہ شعبہ ہاے اردو کے اساتذہ نے ان اداروں کو Extension services کے طور پرقبول کرنے کی کوشش کی تھی جس سے عوام کی گاڑھی کمائی کے پیسے اساتذۂ اردو کو ان کی تنخواہوں سے الگ باضابطہ طور پر حاصل ہونے لگے۔ یہ بات غور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی تعاون ،کتابوں پر انعامات، کتابیں لکھنے کے لیے مالی گرانٹ، آزادانہ پروجیکٹس کے لیے بڑی رقم، مطبوعہ کتابوں کی یک مشت خرید، مجموعی خدمات پر انعامات جیسی تمام اسکیمیں ۹۰ فی صدی اردو اساتذہ کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ایسے آزمائے ہوئے نسخے رہے جن کی وجہ سے ان اداروں کی تخلیقی اور زبان کی ترقی دینے کی صلاحیتیں معدوم ہوتی چلی گئیں۔ غرض ساہتیہ اکادمی سے لے کر اردو اکامیوں تک جن جن اداروں میں اردو کے لیے     شعبہ ہاے اردو سے الگ گنجایشیں پیدا ہوئیں، ان تمام جگہوں پر اردو اساتذہ نے اپنی سیاست، کم نظری اور عاقبت نا اندیشی کا ایک ایسا دھمال مچا ئے رکھا جس سے ہماری زبان کا نقصان در نقصان ہی ہونا تھا اور دیر پا فائدے مشکل سے ہاتھ لگ سکتے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں درس وتدریس کا سب سے ناز ک مرحلہ : جانچ پرکھ  اور تعیّنِ قدر (Testing and Evalvation) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

ساتویں دہائی میں آزادی کے بعد کی پہلی نسل کے جو اساتذۂ اردو ہماری یونی ورسٹیوں میں آئے، ان میں دو دھارے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ اپنے طلبا میں علمی شعور پیدا کرنے اور درس و تدریس یا تصنیف و تالیف اور اپنی زبان کے لیے بے لوث خدمت کا جذبہ بیدار کرنے میں ان کی کسی طرح کی کوششیں نظر نہیں آتی ہیں۔ انھوںنے بڑے سلیقے سے اپنے سب سے ہونہار طلبا کی حق تلفی کا منصوبہ بند انداز رواج دیا۔ دلی یونی ورسٹی ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، پٹنہ یونی ورسٹی، لکھنؤ یونی ورسٹی، الٰہ آباد یونی ورسٹی، عثمانیہ یونی ورسٹی، کلکتہ یونی ورسٹی، بمبئی یونی ورسٹی جیسے نمایندہ تعلیمی اداروں کے بارے میں اوربالخصوص ان کی موجودہ نسل پر طنز کرنے یا ماتم کرنے والے بزرگ اساتذہ آج ہر جگہ مل جاتے ہیں مگر ان میں سے ایک کو بھی یہ بات یاد نہیں رہتی کہ ان میں سے بہت سارے نااہل یا تعلیمی اعتبار سے کمزور اساتذۂ اردو کا انتخاب انھی بزرگ تر اور بزرگ اساتذۂ اردو نے مختلف سلیکشن کمیٹیوں میں بڑے کرّ وفَرکے ساتھ کیا تھا۔ یہ بات کہنے کی نہیں کہ جب کسی کم تر یا کمزور استاد کو منتخب کرکے یونی ورسٹی یا کالج میں پڑھانے کے لیے داخل کردیتے ہیں تو یہ نسل کُشی کے مترادف ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں میں شعبہ ہاے اردو میں جگہ جگہ نااہل اور کمزور چہروں کی وجہ سے اردو تدریس کا معیار  روٗبہ زوال ہوا ہے۔ ان تمام افراد کا جرم تو سب کو نظر آتا ہے مگر ان سے بڑا جرم انھیں نالائق بنانے والے اساتذہ اور اسی معمولی صلاحیت پر منتخب کرنے والے نامی گرامی پروفیسران کا ہے۔ فہرست سازی سے دل شکنی ہوگی مگر پورے ملک میں ایک دو درجن نہیں سیکڑوں کی تعداد میں ایسے اساتذۂ اردو کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ جنھیں ان ممتاز ادارے کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ چاند میں بدنما داغ کی طرح اپنی پوری مدت کار مکمل کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیے گئے۔ جب آپ نے انھیں ایک بار استاد بنادیا تو کل وہی لکچرر سے ریڈر اور پروفیسر بنیں گے اور پھر اپنے سے کم تر لوگوں کو منتخب کرکے اپنے کارِ جہل میں انصاف کرنے کے لیے باضابطہ طور پر ذمہ داریاں تقسیم کریں گے۔ جب شعبہ ہاے اردو میں اساتذہ کے انتخابات میں مصلحت اندیشی ، ایمان اور انصاف سے پرے جاکر اپنے منصب کے ساتھ فریب کاری کو رواج دیا جائے گا تو بھلا کیسے یہاں سے ہونہار نسل پیدا ہوسکے گی۔

کل کے شعبہ ہاے اردو، ان کے اساتذہ اور ہونہار فارغین کی وجہ سے امتیاز حاصل کرتے تھے۔ اُس زمانے میں اساتذہ اپنے شاگردوں کا نام بڑی توجہ سے لیتے تھے اور اسی طرح ان کے لایق شاگرد اپنے مشہور اساتذہ کے قدموں میں سیکھے ہونے کی بات کر فخر کے ساتھ عوام کے روٗ بہ رو پیش کرتے تھے۔ آزادی کے بعد کے پینتیس چالیس برس کا ایک گوشوارہ تیار کیجیے تو ایسے اساتذہ اور ان کے لائق شاگردوں کی ایک بڑی جماعت نظر آئے گی جن میں سب کے سب نامور اور بڑے کاموں کو انجام دینے والے معلوم ہوں گے۔ کئی جگہ استاد سے بڑھ کر شاگرد نظر آئے گااور کمال تویہ ہے کہ ان اساتذہ نے اپنے ایسے شاگردوں کی بڑی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا مگر رفتہ رفتہ معیار و مرتبے کا فرق نظر آنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے شعبہ ہاے اردو میں باصلاحیت اور نمایاں اصحاب قحط کا شکار ہو گئے۔ اب بھی ان شعبوں میں جگہ جگہ کچھ ایسے چہرے نظر آجاتے ہیں جو میڈیا کے انقلاب کے اس زمانے میں شہرت بھی پاگئے ہیںمگر اُن کے ذاتی علمی کاموں کا پتا لگائیے تو حیرت اور افسوس کا مقام ہوگا کیوں کہ اپنے فضائل اور کمالات پر مشتمل اخباری رپورٹوں سے آگے ان کے پاس نہ بڑی کتابیں ہیں اور نہ ہی ایسے علمی کام ہیں جن کی وجہ سے انھیں کوئی تاریخ میں یاد رکھ سکے گا۔

ایسے اساتذہ سے می ناروں میں بھی جلوے دکھاتے ہیں مگر کسی علمی موضوع پر سیر حاصل بحث کرنے والے مقالوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں خطبۂ صدارت پیش کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ تک خود کو محدود رکھنا انھیں زیادہ آسان یا موزوں کام لگتا ہے۔ جن اصحاب کی منتظمین پر دھونس زیادہ ہوتی ہے، انھیں کلیدی خطبات کے لیے بھی بہ صد احترام بلایا جاتا ہے مگر اب ہمارے اکثر اساتذہ کسی نئے موضوع پر غوروفکر کرنے کے لیے نہ راتوں کی نیند حرام کرتے ہیں اور نہ ہی کتب خانوں کی گرد جھاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کلیدی خطبہ پیش کرنے کے لیے دس بیس اور پچاس صفحات لکھنے کا جنجال کیوں پالیں۔ اپنی نام نہاد طلاقتِ لسانی کا مظاہرہ کیجیے،کچھ بے سر پیر کی اڑائیے اور بیس پچیس منٹ سامعین کی زندگی کے تلف کردیجیے۔ کلیدی خطبہ مکمل ہوجائے گا اور ہمارے استادِ محترم کا فریضہ بھی پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے۔ کلیدی خطبے کی فیس استاد کو ملی اور وہ کسی دوسرے پروگرام کے لیے رفوچکر ہوگئے۔ عام طور پر سے می ناروں میں بحث و مباحثہ کے لیے وقت ہی کہاںبچتا ہے مگر جہاں گنجایش پیدا ہوگئی، وہاں بھی سوالوں کے جواب دینے کے لیے اکثر و بیش تر کلیدی خطبہ خواں موجود نہیں ہوتا۔ شامتِ اعمال سے اگر وہ مجلس میں رہ گیا تو منتظمین میں سے کوئی نہ کوئی چاپلوس دوست بہ طورِ کُمک سامنے آجائے گا اور یہ ارشاد ہوگا کہ کلیدی خطبے پر سوال و جواب مناسب نہیں۔ کسی نے بنیادی نوعیت کے سخت گیر سوالات کردیے تو اردو کی مجلسی اور تہذیبی حیثیت پیش کرکے لوگ دفاع میں آجائیںگے مگر قسم لے لیجیے، پورے سے می نار میں چار آوازیں بھی کھل کر اساتذۂ اردو کے کارِ جہل اور فرض ناشناسی پر نہیں اٹھیں گی کیوں کہ سب کے سب اپنی صدا کے گنبدِ بے در میں قید رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔

پرانے شعبہ ہاے اردو کے فارغین سے گفتگو کیجیے تو بار بار وہ اپنے اساتذہ کے طریقۂ تدریس اور اخلاقِ استاذ کا بہ تفصیل ذکر کرتے ملیںگے۔ خاکسار نے ایسی باتیں جن اساتذہ کے سلسلے سے اُن کے نام ور شاگردوں کی زبانی بار بار سنی ہیں ، ان میں سے کچھ اساتذہ مثلاً رشید احمد صدیقی، سید اعجاز حسین، آلِ احمد سرور، سید احتشام حسین، خواجہ احمد فاروقی، اختر اورینوی، اختر قادری، خلیل الرحمان اعظمی وغیرہ کے نام بغیرذہن پرزور دیے یاد آتے ہیں۔ان میں سے اکثر فرض شناس اساتذہ کے طور پر معروف رہے اور ان کے کلاس روم کو اس عہد میں اردو زبان کی مقبولیت کا ایک ذریعہ بھی سمجھا جاتا رہا تھا۔ دوسری زبان اور مضمون کے طلبا ایسے اساتذہ کے درجوں میں پہنچ کر اردو کے جادو میں گرفتار ہوتے تھے۔ ان اساتذہ نے اپنے کردار اور عمل میں کچھ مثالی اوصاف شامل کررکھے تھے جس کا عام سا فارمولا ہمیں سمجھ میں یہ آتا ہے کہ مطالعہ، درس اور تصنیف و تالیف کی تثلیث میں خود کو ایسے توازن سے سنبھال کر رکھا جائے جس سے اساتذہ اپنے کاموں کو بہ حسن و خوبی انجام دے سکیں۔ ان اساتذہ نے اپنے ذاتی کاموں سے الگ اسی انداز کے لائق شاگرد بھی پیدا کیے جنھوںنے خود پڑھا، بہتر طریقے سے پڑھایا اور اچھا خاصا لکھا جس سے اور بھی دوسرے لوگ فیض یاب ہوئے۔

اس نسل میں صفِ اساتذہ اور حلقۂ شاگرداں میں شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد، محقق، نغمہ نگار، منظرنامہ نگار سے لے کر انتظامیہ کے بڑے بڑے عہدے دار بھی پیدا ہوئے۔ اردو کلاس روم سے نکل کر ان جگہوں تک بھی پہنچی جہاں آسانی سے اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آزادی کے بعد کے تیس چالیس برسوں کے صبر آزما سماجی اور سیاسی ماحول میں اردو کی بقا کی یہ بہترین جنگ تھی جو ان بزرگ اساتذہ اور ان کے شاگردوں نے جیتی۔ اس دور کے اردو اساتذہ اپنے اسٹاف روم یا چیمبر میں بند نہیں ہوئے تھے۔ ان کے کام کی خوشبو بھی باہر پھیل رہی تھی اور دوسرے مضامین کے اساتذہ اور طلبا بھی اردو کے اساتذہ کے کاموں کو جانتے اور سمجھتے تھے۔ انھیں سائیکل پر سوار یا پیدل گزرتے ہوئے کسی گلیارے میں یا رکشے پر چلتے ہوئے کوئی رشید احمد صدیقی،اختر اورینوی، سید احتشام حسین یا قاضی عبدالستارکے طور پر پہچان لیتا تھا۔ ایک مظلوم زبان اردو کے مرے کھپے استاد کے طور پر آج کے اساتذہ کی طرح یونی ورسٹی کے دوسرے مضمون کے طالب علم یا استاد نہیں جانتے تھے۔ انھیں یہ معلوم تھا کہ یہ اپنی یونی ورسٹی ، اپنے صوبے اور ملک کا نمایندہ شخص ہے۔ یہ اپنی زبان اور اپنے شعبے سے بڑھ کر پہچانا جاتا ہے۔ اس میں صرف ان اساتذہ کی شہرت شامل نہیں تھی بلکہ اس سے ہماری زبان اور اس کے پڑھنے والوں کا وقار بھی بلند ہوتا تھا۔

تب یہ ممکن ہوتا تھا کہ انگریزی میں مواقع حاصل ہونے کے باوجود آلِ احمد سرور اردو شعبے کا حصہ بنتے ہیں اور کلیم الدین احمد باضابطہ طور پر شعبۂ اردو میں آکر تنقید کا پرچہ پڑھایا کریں۔ اردو کے ادیب وشاعر دوسرے مضامین اور دوسرے شعبۂ حیات میںجہاں جہاں نظر آتے تھے، اس عہد کے اساتذہ انھیں شعبۂ اردو سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر جوڑ کر اپنے طلبا کو فیض یاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ قاضی عبدالودود بیرسٹر تھے مگر پٹنہ یونی ورسٹی نے انھیں پی ایچ۔ ڈی ۔ کی نگرانی کے لیے منتخب کیاتھا۔ کئی دوسری    یونی ورسٹیوں نے بھی انھیں اردو کے تحقیقی مقالوں کا ممتحن بنایا۔ کلیم الدین احمد بھلے انگریزی کے پروفیسر تھے مگر ان کی نگرانی میں باضابطہ طور پر اردو کے تحقیقی مقالے لکھے گئے اور قومی سطح پر تحقیقی مقالوں کے وہ ممتحن ہوتے تھے۔ گیان چند جین کے تحقیقی مقالے کو انھوںنے نامنظور کیا تھا اور ان کے تفصیلی مشوروں کے بعد گیان چند جین نے اپنا مقالہ دوبارہ لکھا ۔ شمیم حنفی کے ڈی لٹ مقالے کے ممتحنین میں سے کوئی بھی عام معنوں میں اردو کا آدمی نہیں تھا۔ کلیم الدین احمد اور سید عابد حسین۔کاش! شعبۂ اردو سے باہر کے سید محمد محسن(نفسیات؍پٹنہ یونی ورسٹی) ، خواجہ منظور حسین، اسلوب احمد انصاری اور زاہدہ زیدی (انگریزی؍علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی)، اختر انصاری اور ساجدہ زیدی(شعبۂ تعلیم؍علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی) اور ان جیسے ملک کی مختلف یونی ورسٹیوں میں پھیلے ہوئے اردو کے نامور مصنفین کو بھی اس شعبے سے جوڑ لیا گیا ہوتا تو بے شک نہ صرف یہ کہ ہمارے شعبے کے وقار میں اضافہ ہوتا بلکہ ہمارے طلبا کابھی بھلا ہوتا۔

گذشتہ نصف صدی میں شعبۂ اردو کے اساتذہ اور ان کے فارغین کی کارکردگی میں واضح طور پر ہمہ جہت گراوٹ نظر آتی ہے۔ جو نااہل اساتذہ تھے، وہ پڑھا نہیں سکتے تھے۔ جو پڑھا سکتے تھے، انھوںنے دوسری ذمہ داریوں کو اولیت دی۔ جن کی کارگزار ملازمت تھی، ان پر شعبے کے چلانے کی ذمہ داری بڑھی۔ اساتذہ جیسے جیسے مستقل اور معتبر ہوتے گئے، انھوںنے کلاس روم تدریس سے خود کو بہ تدریج الگ کرلینے میں اپنی بڑائی سمجھی۔ چند یونی ورسٹیوں اورکچھ فرض شناس اساتذہ کو علاحدہ کرلیں تو پٹنہ سے لے کر دلی اور دلی سے لے کر ممبئی تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ کمزور اساتذہ نے طلبا کو نہیں پڑھایا تو بے شک کوئی بجلی نہیں گری۔ کوئی خاص نقصان بھی نہیں ہوا۔ مگر جو باصلاحیت تھے اور علم و فن کے باریک نکتے اپنے شاگردوں کو بتا اور سکھا سکتے تھے، ان کی گریز خوئی نے ہماری نئی نسل کو علمی اعتبار سے بے حد کمزور اور بے مایہ بنادیا۔ تھوڑی یونی ورسٹیوں نے متن پڑھانے کا کچھ رواج رکھا ہے ورنہ تنقیدی مطالعہ اور عمومی سوال و جواب کے پیراے میں تدریس کو وہاںتک پہنچا دیا گیا ہے کہ آج مشکل سے دس فی صد ایم۔اے۔ کے ایسے طالب علم ملیں گے جنھیں آپ ’دیوانِ غالب‘ یا ’کلیاتِ اقبال‘ دے دیں اور ان سے یہ توقع کریں کہ وہ اشعار کی قرات درست طریقے سے کرلیں اور ان کے معنیٰ اور مفاہیم پر آپ سے گفتگو کریں۔ عروض و بلاغت کے موضوعات پر ابتدائی غور و فکر کرنے والی نسل بھی ہمارے درجوں میں نہیں ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان طلبا کے اساتذہ میں کتنے ہیں جو مشکل شعری متون بالخصوص قصائد اور مراثی کے متن کی تدریس باضابطہ طور پر کر سکتے ہیں۔ عروضی تجزیہ تو اب خواب کی بات ہے۔ لسانیات، دکنیات اور قدیم ادب کی تدریس بھی گم نام جزیرے کے سفرکی طرح سے ہمارے یہاں شعبۂ اردو میںکارِ محال ہے۔ ہم عصر ادب کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ ایسے میں ہم جن کی تربیت کرکے سماج کے سامنے ایم ۔اے۔ اور پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں دے کر بھیج رہے ہیں، ان سے یہ کیسے توقع کریں کہ وہ نئی تعلیمی دنیا بنائیںگے اور ہماری زبان کا پرچم بلند کریں گے۔ جو کام ان کے اساتذہ نہیں کرپاتے ہیں، اتنا بھاری پتھر ان غیر تربیت یافتہ طالب علموں پر کیوں ڈالیں؛ یہ تو حقیقت میں مظلوم ہیں جن پر ان کے اساتذہ نے بڑے جتن سے علم و فن کے دروازے بند کررکھے ہیں۔

آج شعبہ ہاے اردو پر کئی طرح کے حملے ہو رہے ہیں۔ ملک کے گوشے گوشے سے ایسی خبریں آتی ہیں کہ اساتذہ کے انتخابات اور تقرری کے مرحلے میں ان کے بزرگ اساتذہ نے ذاتی اور مالی منفعت ، اقربا پروری اور بہترین صلاحیتوں کی اَن دیکھی کی۔ سب الزامات یا چہ می گوئیاں درست نہیں ہوسکتیں مگر بغیر آگ کے دھواں بھی کیسے ہوگا؟ یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن سے لے کر متعدد تقرراتی ادارے اور یونی ورسٹیاں روز نئے اور سخت قوانین بنانے کی کوششیں کرتی ہیں مگر بعض بزرگ اساتذۂ اردو کی بے راہ روی اپنے لیے راستہ بنالیتی ہے۔ کہیں ماہرین کے نام اور کس کانام انتخاب میں آئے گا، اس کی فہرست اخباروں میں شایع ہوجاتی ہے اور کہیں بازاروں اور ہوٹلوں میں برسرعام ایسے لوگ جائز اور ناجائز امور کی انجام دہی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سارے گورکھ دھندے سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ اہل اور باصلاحیت افراد کو درکنار کرو اور کم تر درجے کے لوگوں کو داخلِ شعبۂ اردو کرو۔ اس کام میں اکثر بزرگ اور بزرگ تر اساتذہ ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں کچھ لایق لوگوں کی تقرری اگر ہوگئی تو شعبۂ اردو کا فائدہ ورنہ باصلاحیت افراد مایوس اور غم و غصے میں گھٹ گھٹ کر مرنے کے لیے مجبور کیے گئے ہیں۔ یہ کسی ایک کا ذاتی نقصان نہیں بلکہ شعبۂ اردو کا اجتماعی اور ہمارا قومی نقصان ہے کیوںکہ خراب تقرری سے ایسے لوگ کہاں سے آئیں گے جو ہمارے درس کا بوجھ اٹھا سکیں اور نئی نسل کی لایق تربیت کرکے انھیں شاہ راہِ حیات پر کامیابی کے پرچم لہرانے کے لیے بھیج سکیں۔

آج شعبہ ہاے اردو ہر یونی ورسٹی اور کالج میں ایک ایسے جزیرے کی طرح سے ہیں جن کا کسی دوسرے شعبے سے بہ مشکل رسمی یا غیر رسمی تعلق ہے۔ علمی رابطے کے معاملے میں تو اسے صفر ہی کہا جائے گا۔ اب بین شعبہ جاتی تحقیق کا دور دورہ ہے۔ تقابلی مطالعات کے لیے دنیا بھر میں گنجایشیں پیدا ہورہی ہیں۔ مگر شعبۂ اردو سکڑتا جارہا ہے۔ جب اس کے پاس کلاسیکی ادب پڑھانے والے اور دل لگا کر شاعری کے رموز و نکات بتانے والے اساتذہ نہیں، لسانیات کی تعلیم کا کوئی سلسلہ قائم نہیں ہورہا ہے تو نئے مضامین کی طرف کون نظر اٹھائے۔ کہاں مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے اور روزگار کے دوسرے ذرائع جہاں اردو دخل دے سکتی ہے؛ اس کے لیے نئے کورس اور تعلیمی مواد تیار کیا جاتا، یہاں تو یہ حال ہے کہ افسانہ، ناول اور چند نقادوں کے بارے میں بچوں کو آشنا کرانے کے بعد شعبۂ اردو نے یہ سمجھ لیا کہ اس کی تدریس کے ابواب مکمل ہوگئے اور وہ اپنے طلبا کو فارغ التحصیل ہونے کا سرٹی فیکیٹ عطا کرسکتا ہے۔ اس تربیت اور اس معیار سے اس زمانے میں تو بھیک بھی نہیں مل سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شعبۂ اردو اپنے فارغین کو کیا سڑکوں پر بھٹکنے کے لیے، ریل کی پٹریوں پر آکر خود کشی کرلینے کے لیے یا گنگا جمنا میں ڈوب کر مر جانے کے لیے ڈگریاں بانٹ رہا ہے۔ اگر ہاں تو عدالتوں کو ان پر suo motu   مقدمات درج کرنے چاہیے یا قوم کو گریبان پکڑ کر ان سے ان کے اعمال کا حساب لینا چاہیے۔

شعبہ ہاے اردو نقلی تعلیمی مراکز بن کر رہ گئے ہیں۔ انھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ باہر کی دنیا میں اردو پڑھ کر جو بچے جائیںگے، انھیں ان ڈگریوں ساتھ ساتھ اور کیسی مہارتوں کی ضرورت ہوگی۔ مگر اس کے لیے کوئی باضابطہ تیاری نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں ہماری زبان کے فرزندان کو مزید کون سی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا، کیا ان کا ہمارے شعبے کے اساتذہ کو اندازہ ہے؟ اگر ہے تو اس کے لیے انھوںنے اپنے نصاب میں کون سی تبدیلیاںکیں؟انھوںنے اپنے طریقۂ تدریس میں کن نئے وسائل کا استعمال کیا۔ اجتماعی طور پر شعبوں نے اگر درست کام نہیں کیا تو کون سے ایسے اساتذہ تھے جنھوںنے اپنی انفرادی کوششوں سے اپنے شعبے کے طلبا کو نئے دور کے کامیاب اور ہنرور لوگوں میں شامل کرکے اس لائق بنایا کہ وہ اپنی زبان کا آیندہ زندگی میں ماتم نہ کریں اور مظلوم کی طرح سے سکڑے سمٹے اور مرے کھپے لوگوں میں رہنے کے لیے مجبور نہ ہوں۔ کیا اردو کے طلبا نئی دنیا کے چمکتے اور روشن ستارے نہیں ہوسکتے تھے؟ جو ہوئے وہ اپنی انفرادی کوششوں سے ہوئے۔ ان میں ان کے شعبوں کا یا ان کے اساتذہ کا براے نام دخل ہے۔ اور نہ ہی ان کے اساتذہ کے خواب اس میں شامل ہیں۔

مایوسی کی فضا ہر طرف ہے۔ ہندستان کے کسی بھی شعبۂ اردو کے پاس گلیمر والے اساتذہ اب کہاں ہیں جنھیں دوسرے مضمون کے طلبا اور پورا شہر اشارے سے دوسروں کو دکھائے اور بتائے؟ اب قاضی عبدالستار اور شہریار بھی راہیِ ملکِ عدم ہوئے۔ روٹیشن نے تویہ بھی دن دکھایا کہ اب تو بڑی بڑی یونی ورسٹیوں کے صدور ایسے ہیں جن کے نام اور ان کے علمی کام سے ان کا شعبہ بھی واقف نہیں ہے۔ یہ بات دور دراز کے علاقوں تک محدود نہیں بلکہ مرکزی یونی ورسٹیاں اور پرانے شعبہ ہاے اردو بھی اس کی زد میں ہیں۔ علی گڑھ ، پٹنہ اور دلی ؛ سب جگہوں پر ایسے صدور اور ایسے اساتذہ وقتاً فوقتاً پائے ہی جاتے ہیں، اس لیے شعبہ ہاے اردو کے لیے یہ مشکل گھڑی ہے کہ ہمارا تدریسی معیار اور وقار دائوں پر ہے اور ہم صرف ایک میکانیکی عمل اور جسمانی کسرت کیے جارہے ہیں۔ حصولیابی کے نام پر اور قومی یا بین الاقوامی معیار پر ہم اتھاہ گہرائی میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہے اور آج جیسے ہیں اس میں تو یہ ناممکن ہی معلوم ہوتا ہے۔

اردو درس و تدریس کے ماحول کو بدلنے اور اس سے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ سب کی دیڑھ اینٹ کی جدی مسجدیں ہیں اور سب اپنے منصب اور تنخواہوں کے نشے میں مست اور سرشار ہیں۔ ایک مصنوعی ترقیاتی فضا صرف اردو میں نہیں تمام مضامین اور ساری یونی ورسٹیوں میں قائم ہے۔ اساتذہ تو ایک منزل پار کرچکے ہیں، افسوس اس کا ہے کہ طلبا اور ریسرچ اسکالرس بھی اسی کشتی میں سوار ہیں۔ بھلے انھیں سمجھ میں نہیں آتا ہو مگرحقیقت تو یہی ہے کہ یہ ناوپہلے سے ہی ڈوبی ہوئی ہے۔ حقیقت کی دنیا مشکل اور مختلف تقاضوں کی طلب گار ہے۔ اساتذہ کو اگر یہ یاد رہے کہ تعلیم و تدریس اور تربیت کا انھیں وہی کام کرنا ہے جنھیں الگ الگ وقتوں میں پیغمبروں، رِشی مُنیوں اور اولیاے عظام نے کیا تو بے شک صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ اساتذہ کو سب سے پہلے اپنے نصابِ تعلیم کو عصری ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری زبانوں، دوسرے علوم اور مختلف ملازمتوں کے پیش نظر کورس اس انداز سے تیار کیے جائیں کہ انھیں پڑھ اور سیکھ کر جو ہمارے کلاس روم سے نکلے گا، وہ اپنی زبان کے حوالے سے ہر امتحان میں کامرا ن ہوگا۔ وہ جیسی ملازمت چاہتا ہے اور دنیا میں رزق کے جن نئے ذرائع کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے، ادھر منزل اسے آواز دے ۔

نصابِ تعلیم اگر ازکار رفتہ ہے تو اس کی بنیاد پر ہم بھلا کیسے چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ دس بیس اور تیس سال پرانا نصاب ہمیں  اس طور پر سہولیات بہم پہنچاتا ہے کہ آزمائے ہوئے اور تیار شدہ نصابی مواد کی نسل در نسل منتقلی کرنے کی ہماری بے شرمی جاری ہے مگر استاد مستعدی سے اپنے نصاب کو ایک مختصر میعاد گزرنے کے بعد بالارادہ بدلنے کی کوشش کرے اور نئے موضوعات یا متون کو شامل کرنے کی سعی کی جائے تو طلبا کے دائرۂ کار اور علمی معیار میں واضح تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ ایک مہم چلنی چاہیے کہ ہم اپنے اداروں کے نصابِ تعلیم میں ہر چار پانچ برس میں کم از کم پچیس فی صدتدریسی مواد بدل دیں گے۔ اس سے پرانے تدریسی مواد پر انحصار کا طور بدلے گا اور اساتذہ کی سستی اپنے آپ کم ہونے لگے گی۔ اساتذہ اپنے یہاں رائج نصابِ تعلیم کا اگر تنقیدی جائزہ لیں اور ایک مضمون لکھ کر یہ بتائیں کہ اس نصاب میں کون سی بنیادی خامیاں ہیں اور کیوں یہ طلبا کے مستقبل کے لیے مددگار نہیں ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارا شعبہ جاتی معاشرہ اپنے نصابِ تعلیم کے تنقیدی جائزے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔

تمام یونی ورسٹیوں میں جو طریقۂ تدریس رائج ہے، اس میں متن سے بے رغبتی کو شاہ سرخیوں سے لکھا جائے گا۔نئے تدریسی وسائل کے استعمال سے تعلیمی روشنی پھیلانے کا کام تو ابھی اردو کے اساتذہ نے شروع ہی نہیں کیا ہے۔ لکچر دینے کا انداز کب خطیبانہ رنگ اختیار کرلے، یہ کہنا مشکل ہے مگر بڑے بڑے اساتذہ اپنی جادو بیانی میں تدریسی تقاضوں سے دور دیکھے جاتے رہے ہیں۔ شعری متن کی تدریس اور خاص طور سے کسی بھی موضوع کے اہم نکات کی ذہن نشینی کے لیے بلیک بورڈ یا وھائٹ بورڈ کا استعمال سائنس اور جغرافیہ کے لیے ہی نہیں، ہمارے لیے بھی کارآمد ہے مگر یونی ورسٹیوں میں اس سے ایک بیراگ بنا ہوا ہے۔ جن اساتذہ نے گھر سے وافر تیاری نہیں کی ہے، انھیں بھی بورڈ پر آنے اور متن بالخصوص شعری متن کو دورانِ تدریس مختلف پہلوئوں سے بحث و مباحثے میں عادتاً دشواری ہوتی ہے ۔اور وہ اس کے بغیر ہی اپنا تدریسی فریضہ انجام دے لیتے ہیں۔ جو سب سے زیادہ چاق و چوبند ہیں، ان کے ہاتھوں میں کتاب کی صورت قصیدہ یا مرثیے کا کوئی صفحہ تو ہو سکتا ہے مگر جب تمام طلبا کے پاس وہ متن سامنے نہیں تو آخر بغیر بلیک بورڈ  پر درج کیے ہوئے ایک ایک لفظ پر بحث اور محلِ استعمال یا معنوی نظام پر گفتگو کے راستے کیسے وا ہوسکتے ہیں؟ استاد کو ناچار مجموعی خدمات اور تنقیدی گفتگو یا عمومی جائزے کے بھول بھلیّوں میں خود بھی گم کرنا ہوگا اور اس طرحاپنے شاگردوں کی بھی مستقل نسل کشی کا ارتکاب ان کا مقصد ہوگا۔ جن یونی ورسٹیوں میں نصابِ تعلیم بنانے کے سلسلے سے بوسیدہ تصورات رائج ہیں ،وہاں تو’دیوانِ میر‘ اور’دیوانِ غالب‘ کو شامل کرکے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دو ہفتے یا دس بارہ گھنٹے میں کوئی استاد اس فرض سے عہدہ برآ ہوجائے۔ یہ تو جادو کی چھڑی سے بھی کوئی انسان نہیں کرسکتا۔ جن یونی ورسٹیوں میں دس بیس غزلوں ، نظموں یا چند افسانے یا ناول کا ایک باب جیسی معقول جدتیں ہیں، وہاں بھی شعری متن بغیر تختۂ سیاہ یا سفید کے پڑھانے کا رواج ہے تو یہ سمجھ لیجیے کہ آج کی نسل کو ہم اس کی زبان اور اس کے ادبی سرماے سے دور کرنے کا ایک باضابطہ نظم کیے بیٹھے ہیں۔ اس لیے اس طریقۂ تدریس میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت بغیر ایک لمحہ گنوائے ہوئے لازم ہے۔

ابھی گذشتہ برسوں میں لکچر شپ کے لیے یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعے لیے جانے والے امتحان نیٹ کے نصاب میں تبدیلی کی گئی۔ غزل کے باب میں پندرہ شعرا کے دواوین یا مجموعوں کو شامل کرکے دس بیس یا پانچ غزلوں کی تخصیص کی گئی۔ عجلت پسندی اور بے جا علمی اعتماد نے کچھ ایسا ماحول بنایا کہ انتخابِ کلامِ میر مرتبہ مولوی عبدالحق کا نام انتخابِ میر ہوگیا ۔ مجروح سلطان پوری کے مجموعے ’غزل‘ کی ابتدائی پانچ غزلیں نصاب کا حصہ ہیں مگر کسی نے یہ زحمت ہی نہیں کی کہ اس مجموعے کی الگ الگ اشاعتوں میں ابتدائی غزلوں کی ترتیب دیکھ لی جائے معلوم یہ ہوا کہ وہاں یہ مختلف ہے۔اگر سنہ اشاعت متعین نہیں ہے تو طالب علم کیا کرے گا؟ تنقید و تحقیق کے پرچے میں عربی، فارسی، سنسکرت، یونانی اور انگریزی روایات کے تفصیلی مطالعے کا طور شامل کردیا گیا ہے۔ ان موضوعات پر اردو کے اساتذہ امتحانات میں جو سوالات پوچھتے ہیں، وہ اس سے بھی عبرت آمیز ہے۔ کیوںکہ کبھی کسی مجموعے میں افسانوں یا مضامین کی کل تعداد پوچھی جاتی ہے تو کبھی کسی کتاب کے مختلف ابواب میں طویل کون ہے اور مختصر کون ، اس پر قومی سطح کے سب سے بڑے امتحان میں بچکانہ انداز کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ کل غزلوں کی تعداد اور رضا نقوی واہی کے طنز کے مطابق میر کے دیوان کے نقطوں کی تعداد بھی پوچھی جاسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نصاب بناتے وقت نہ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ طالب علم کو کون سی عملی دشواریاں درپیش ہوںگی اور نہ سوال پوچھتے ہوئے اس بات پر متوجہ تھے کہ حافظے کا امتحان کہاں تک لیا جانا ہے اور کشف و کرامات یا جادو ٹونے کا کام کہاں پر ہوتا ہے۔ کیوںکہ کل’ گئودان‘ میں کتنی سطریں ہیں اور عرفان صدیقی کے آخری مجموعے کی ساتویں غزل کا آٹھواں لفظ کون سا ہے، کوئی کم سواد  استادبچے سے یہی پوچھ کر اسے زیر کرنا پسند کرے گا۔ قیامت کی گھڑی میں اگر دیر بھی ہو تو اِسے آثارِ قیامت کہنے میں ہمیں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔

آج جس یونی ورسٹی میں جائیے، ریسرچ اسکالرس کی ایک بھری پری جماعت نظر آتی ہے۔ ان میں سے اچھی خاصی تعداد  یوجی سی اور دوسرے ذرایع سے فیلو شپ حاصل کرنے والوں کی ہے۔ اکثر اس میں قومی سطح کے امتحانات پاس کرکے کامیاب افراد ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مضمون نویسی سے لے کر کتاب نویسی میں بھی منہمک ملتے ہیں۔ بہت ساری جگہوں پر تو ایسے طلبا میں بعض رسائل کے مدیر اور ادارتی ٹیم کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے نوے فی صد طالب علم کا تخلیقی ادب سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ سب کے سب نقاد اور محقق بننے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے اساتذہ کی بھی بڑی تعداد تنقید و تحقیق کی ماری ہوئی ہے جن میں سے اکثر نے اپنی زندگی میں ایک عدد مقالۂ امتحانیہ لکھا اور باقی زندگی خوردہ گیری یا استادی کرنے میں گزر گئی۔ تقرری کے اصول و ضوابط میں تنقید و تحقیق کی اہمیت غیر ضروری طور پر بڑھی ہوئی رہتی ہے۔ ایسی حالت میں کوئی ریسرچ اسکالر کیوں نہ اس طرف بڑھے مگر ہماری یونی ورسٹیوں میں شاعر، افسانہ نگار اور ناول نگار نہیں پیدا ہوںگے تو کل کیا ہوگا؟جب سارے پڑھنے والے نقاد اور محقق ہی بننے کا گورکھ دھندا پال لیں تو اس زبان کے مرنے میں کوئی دو  راے نہیں ہو سکتی۔

یونی ورسٹی اساتذہ اپنے شہر اور حلقے کے تخلیق کاروں سے بھی اپنے شعبے کو اور ان کے طلبا کو دور رکھتے ہیں۔ ایک یونی ورسٹی اور کالج کے بچے دوسری یونی ورسٹی کے اپنے ہی شعبے کے بچوں یا اساتذہ سے دور رہتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں یہ دیواریں اساتذہ کی کھینچی ہوئی ہیں۔ مگر ان دیواروں کو طلبا کو توڑنا ہوگا۔ جب اپنے مخصوص دائروں سے طلبا باہر نکلیں گے تو انھیں پتا چلے گا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ تبادلۂ خیالات اور باہمی مقابلے سے طالب علم نکھریں گے اور آگے بڑھیں گے۔ ان کے لیے وہ معذوری بھی گھٹے گی کیوںکہ اگر کسی موضوع کا ماہر ان کی یونی ورسٹی میں نہیں تھا تو اس کا نعم البدل دوسری یونی ورسٹی یا اس شہر میں کوئی دوسرا ہوسکتا تھا۔ لیکن اس کے لیے ان جزیروں سے نکلنے کے وسائل پیدا کرنے ہوںگے۔ اساتذہ اگر اس مزاج کے ہوتے تو یہ جزیرے بنتے ہی نہیں۔ اس لیے ملک و قوم کی تاریخ میں کئی بار انقلاب کے جام نچلی سطح سے چھلکنا شروع ہوئے ہیں۔ ہندستان کے ہر شعبۂ اردو میں ایسے لایق طلبا موجود ہیں جن میں علم کی پیاس ہے اور اپنی زبان کے بہتر ذرایع کو استعمال کرنے اور خود کو مستقبل کا ایک ہونہار استاد بنانے کا بے پایاں شوق ہے۔ اب ان کا یہ فریضہ ہوتا ہے کہ خود اس شوق کو پروان چڑھانے اور پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی دیواریں گرائیں ، سرحدیں توڑیں اور کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے اتر جائیں۔ اقبال کا سبق ہمارے طلبا کو ہمیشہ یاد رہنا چاہیے:

نہیں  تیرا  نشیمن  قصرِ سلطانی  کے  گنبد پر

تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی  چٹانوں میں

DR. SAFDAR IMAM QUADRI

Head, Deptt. of Urdu,

College of Commerce, Arts & Science,

Patna- 800020 (Bihar)

safdarimamquadri@gmail.com

Mobile: 09430466321

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

Leave a Comment