سرونج گنگا جمنی تہذیب کا سنگم ہے جہاں آج بھی آپسی اتحاد ہے
سرونج/انتساب پبلی کیشنز اور سد بھائونا منچ کی جانب سے سرونج میں سیفی سرونجی اور استوتی اگروال کی مرتب کردہ کتاب’خالد محمود:شخصیت اور ادبی کارنامے‘کی رسمِ رونمائی پروفیسر اخترالواسع کے دستِ مبارک عمل میں آئی۔آپ نے صدارت کے فرائض بھی انجام دیے اور کہا کہ اہلِ سرونج نے یہ جلسہ منعقد کرکے اِس بات کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ قدرِ بردہ بعدِ مردہ ہند کا دستور ہے ۔کیونکہ اگر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اُس کی زندگی میں ہی قدر کی جاتی ہے جس کی مثال خالد محمود ہیں۔انھوں نے کہا کہ سرونج کی شہرت و مقبولیت میں سہ ماہی’انتساب‘ کا بڑا رول رہا ہے۔سرونج گنگا جمنی تہذیب کا سنگم ہے جہاں سیفی سرونجی اور انل اگروال رہتے ہیں۔پروفیسر خالد محمود نے جذباتی ہوکر کہاکہ میں اِس شاندار تقریب کے لیے انتساب پبلی کیشنز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ہمیں تو اردو پڑھنے پڑھانے کا شوق تھا،لوگ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں،ہمیں اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے اُلٹے پیسے ملے۔مہمانِ اعزازی ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ خالد محمود ایک زندہ لیجینڈ ہیں۔میں سرونج کی سرزمین کو سلام کرتا ہوں جہاں خالد صاحب پیدا ہوئے۔میں سیفی سرونجی کو بھی مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ استوتی اگروال جیسی نئی نسل تیار کر رہے ہیں۔مفتی رحیم اللہ نے مشورہ دیا کہ آپ اپنے گھروں میں اولادوں کا نام خالد محمود رکھیں۔مہمانِ ذی وقارپروفیسر طاہرہ عباسی نے کہا کہ خالد محمود کی زندگی میں پروفیسر تسنیم فاطمہ کا بڑا رول ہے،اقبال مسعود نے بھی اِس بات کی تائید کی اور مزید کہاکہ اِس درخت کو تسنیم نے ہی ہر طوفان سے بچایا ہے۔سیفی سرونجی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خالد صاحب ہر دلعزیز شخصیت ہیںاور میں نے بھی اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے۔استوتی اگروال نے مہمانوں کا تعارف کروا کر تقریب کی شروعات کی اورخالد محمود کو اردو زبان کا حاتم طائی کہہ کر مخاطب کیا۔ نظامت کے فرائض بدر واسطی نے انجام دیے،گلدستے اور شالیں عبدالصبور خاں،راجیو جین اورفرحان خاںنے پیش کیں۔پروفیسر حسان،ظفر صہبائی،ضیا فاروقی،مرضیہ عارف،حسام الدین فاروقی،پروفیسر ارجمند بانو،رضوان الدین فاروقی،شان فخری،غازی ولی، ظفر سرونجی اورعروج احمد نے بھی اظہارِ خیال کیا۔شاعروں میں اعظم،نفیسہ سلطانہ،سہیل نسیم،سلیمان آذر،اسعد ہاشمی نے خالد محمود پر نظمیں پڑھیں۔اِن کے علاوہ نظر محمود،قمر علی،سراج احمد،عظیم اثر اور پروین صبا نے بھی حصہ لیا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

