by adbimiras
0 comment

کتابوں کا قبرستان اور ایک زندہ کتاب – اورنگ زیب نیازی

قبرستانوں سے میرا دو جذبی تعلق ہے۔قبرستان کی وسعت، گہرا سکوت، پر سکون تحیر اور ون اور جال کے درختوں کی پر اسراریت مجھے فیسی نیٹ کرتی ہے جب کہ ادھ مٹے کتبے، غیر مانوس نام، کاہ سے ڈھکی مٹی کی ڈھیریاں اور بارشوں کے پانی سے بیٹھ جانے والی قبریں مجھے خوف میں مبتلا کر دیتی ہیں۔پھر بھی میں اندھیرا ہونے تک وہاں ٹھہرتا ہوں۔اندھیرا نشیب و فراز اور رنگوں کی تفریق مٹا دیتا ہے۔ کبھی کبھار کوئی جگنو چمکتا ہے، کسی مزار کے طاق میں رکھا دیا جلتا ہے اور روشنی کی ایک لکیر مجھے نئی دنیاؤں اور پر اسرار جہانوں تک لے جاتی ھے۔ مجھے کتاب اور انسان کی زندگی میں حیران کُن مماثلت دکھائی دیتی ہے۔انسان کو وجود میں لانے والوں (والدین) کے لیے وہ اہم ترین اور قیمتی ترین ھوتا لیکن ضروری نہیں کہ اسے بہت زیادہ چاہنے والے میسر آئیں۔ان پھولوں کی اکثریت فقط مزاروں کے لیے کھلتی ہے اور کھل کر رزق خاک ہو جاتی ھے۔خاک بھی ایسے کہ اس کا نام، اس کا نشان بھی باقی نہیں رہتا۔فقط چند انسان، چند صدیوں یا چند قرنوں کے لیے اپنی اندرونی طاقت یعنی اپنے علم، اپنی ذہانت، محنت، بہادری یا کسی دوسری صفت کے بل بوتے، لوح جہاں پر اپنا نقش ثبت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بعینہ،ِ کتاب۔۔۔۔۔۔ ہر کتاب اپنے لکھنے والے کے لیے اہم اور عزیز تر ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اسے سلسلہ در سلسلہ قارئین کا وسیع حلقہ بھی میسر ھو یا اس کا اثر تا دیر قائم رہے۔ہم صرف گزشتہ ستر، پچھتر برس کا شمار کریں تو مختلف موضوعات پر لاکھوں کتابیں شایع ھوئی ہوں گی۔صرف اردو ادب پر کتابوں کی تعداد ھزاروں میں ہو گی لیکن آپ ڈھونڈنے نکلیں تو ساری کتابیں آپ کو اب بازار میں نہیں ملیں گی، بڑی لائبریریوں اور ریختہ پر بھی سب موجود نہیں ہیں حتیٰ کہ مصنف کے گھر میں۔۔۔اگر وہ فوت نہیں ہو گیا۔۔۔تو شاید موجود نہ ہوں۔ کتابوں کا بھی قبرستان ھوتا ھے(ماخوذ از افسانہ قصہ کتابوں کے قبرستان کا)۔کتابیں لکھی جاتی ہیں، شائع ھوتی ہیں، کم یا زیادہ پڑھی جاتی ھیں اور مر جاتی ھیں۔زندہ صرف وہی کتاب رھتی ھے جس کی کوکھ سے ھر موسم میں جگنو نکلتے ھیں، جس کے طاقچوں میں رکھے ھوئے چراغ نئے زمانوں میں روشنی دیتے ھیں۔جو معانی کے نئے جہانوں تک ھماری راھنما ھوتی ھے۔ ناصر عباس نیر کی کتاب”جدیدیت اور نو آبادیات "کتابوں کے قبرستان میں چند زندہ کتابوں میں سے ایک زندہ کتاب ھے۔(یہ بھی پڑھیں جدیدیت اور نو آبادیت/ ناصر عباس نیّر – پیر زادہ سلمان  اس لیے نہیں کہ ناصر عباس نیر عصری دانش اور معاصر تنقید کا مستند اور سب سے قابل اعتبار نام ھے بلکہ اس لیے کہ اس کتاب کا متن "محفوظ توانائی "کا ذخیرہ ھے۔یہ توانائی آنے والے وقتوں میں ادبی تصورات، مباحث اور متون میں مسلسل منتقل ھوتی رھے گی۔یہ میرا دعویٰ نہیں، یقین ھے۔ یہ اردو میں ان کے جمود شکن مابعد نو آبادیاتی مطالعات کی چوتھی کڑی ھے۔یہ کلیشیز کو توڑتی ھے، نئے سوالات کو جنم دیتی ھے اور کئی سوالوں کا جواب دیتی ھے۔سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ جدیدیت کیا ھے؟ اس سوال کا جواب کئی مغالطوں کا شکار رہا ہے۔ اول یہ کہ ماڈرنٹی ،ماڈرن اور ماڈرن ازم کا فرق ہی پوری طرح واضح نہیں ہو سکا۔دوم یہ کہ جدیدیت کو صرف مابعد صنعتی عہد کے تاریخی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی اور سوم یہ غلط خیال رواج پا گیا کہ جدیدیت صرف ایک مغربی مظہر ہے۔ناصر عباس نیر کا خیال ہے کہ جدیدیت صرف مغربی مظہر نہیں ہے۔یہ ایک”ذھنی رویے کے طور پر آفاقی اور انسانی ھے۔جب یہ مخصوص ادارہ جاتی صورت اختیار کرتی ھے تو یورپی، مغربی، افریقی، لاطینی امریکی، ایشیائی، مشرقی ھو جاتی ھے، یہاں تک کہ جسے ھم مغربی جدیدیت کہتے ھیں، اس میں بھی کئی تنوعات ھیں۔” مصنف کا کہنا ھے کہ جدیدیت نہ تو کسی ایک شعبہ ء زندگی اور شعبہ علم و فن سے مخصوص ھے نہ کسی ایک خطے سے۔وہ اس دعوے کو بھی رد کرتے ھیں کہ جدیدیت مغرب کے علاوہ کسی اور خطے میں موجود نہیں ھے۔بدھ، ابوالعلا معری، ابن طفیل، بیدل اور غالب کے ھاں جدیدیت اپنے شخصی اختصاص کے ساتھ موجود ھے۔غالب اردو میں اولین اور اھم ترین جدید شاعر ھے۔برعظیم میں نو آبادیاتی تسلط کے بعد یہاں کے ادب کا واسطہ ایک اور طرح کی جدیدیت سے پڑا اور یہ نو آبادیاتی جدیدیت تھی۔یہ کچھ نئے تصورات کو جنم دیتی ھے۔آزادی کے بعد جدیدیت کا سفر نئی منزلوں کی جانب گامزن ھوا تو اس کا رابطہ ایک بار پھر غالب کی جدیدیت سے استوار ھوا۔ان دعاوی یا آراء کی روشنی میں مصنف نے یورپی جدیدیت، نو آبادیاتی جدیدیت، اردو/مشرقی جدیدیت، کلاسیکیت کا مطالعہ اور بیدل اور غالب کو نئے زاویوں سے دریافت کیا ھے۔نشان خاطر رھے کہ یہ صرف کتاب میں شامل مضامین کے عنوانات ھیں۔ورنہ یہ کتاب اردو ادبی تاریخ کے مخصوص ادوار، رجحانات کا بالخصوص اور سبک ھندی کا بالعموم مطالعہ پیش کرتی ھے۔اور نوآبادیاتی تصورات اور کلامیوں کو ڈی کنسٹرکٹ کرتی ھے۔یہ اردو تنقید کی عمومی کتاب نہیں ھے۔اس کے صفحات پر تاریخ، زبان، ثقافت ،ادب اور فلسفہ کی سرحدیں ملتی ھیں۔ کتاب کا اسلوب اور اس کی زبان ادق ھرگز نہیں ھے لیکن اس کا طلسم اچانک کھلنے والا بھی نہیں۔کتاب کا متن تقاضا کرتا ھے کہ اسے رُک رُک کر، ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔اس کی مختلف طرفوں میں کئی در اور روزن ھیں جو ایک ایک کر کے کھلیں گے۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment