غزل  – اصغر شمیم

by adbimiras
1 comment

عمر بھر خود کو بناتے ہوئے مر جاتے ہیں

بوجھ ہم اپنا اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

زندگی تجھ سے نہیں کوئی شکایت لیکن

ہم ترا خواب سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کم نہیں ہوتا ہے اس دل کا اندھیرا جبکہ

ہم چراغوں کو جلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

حسن ترتیب سے مایوس نہیں ہیں ہم تو

درد کو اپنے سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں

جانتے ہیں کہ نہیں ساتھ ملے گا ان کا

ہم مگر ساتھ نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم بھی ایسے ہیں کہ ہنستے ہوئے سب کو اصغر

حال دل اپنا سناتے ہوئے مر جاتے ہیں

 

اصغر شمیم، کولکاتا

 

You may also like

1 comment

Zabeehullah جون 9, 2021 - 9:48 شام

زبردست

Reply

Leave a Comment