عمر بھر خود کو بناتے ہوئے مر جاتے ہیں
بوجھ ہم اپنا اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
زندگی تجھ سے نہیں کوئی شکایت لیکن
ہم ترا خواب سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کم نہیں ہوتا ہے اس دل کا اندھیرا جبکہ
ہم چراغوں کو جلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
حسن ترتیب سے مایوس نہیں ہیں ہم تو
درد کو اپنے سجاتے ہوئے مر جاتے ہیں
جانتے ہیں کہ نہیں ساتھ ملے گا ان کا
ہم مگر ساتھ نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم بھی ایسے ہیں کہ ہنستے ہوئے سب کو اصغر
حال دل اپنا سناتے ہوئے مر جاتے ہیں
اصغر شمیم، کولکاتا


1 comment
زبردست