بیسوی صدی کے آخری عشرہ، تک جس کا نام اور تحریریں پختہ روشنائی میں طبع ہوجاتی تھیں، اس کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور طباعت میں تسلسل اور سرعت آجاتی تو اس کو ادیب گردان لیا جاتا تھا۔کیوںکہ کسی تحریر کا طباعتی مرحلہ سے گزرکر قارئین کی دسترس میں آجانا، کارِ دشوار تھا۔اس کی تفصیلات؛ تضیع اوقات کہلائے گا۔ مصنف یا ادیب کو سب سے پہلے کاتب سے سابقہ پڑتا تھا۔ اگر کاتب کے یہاں سے مسودہ غائب یا ضائع نہیں ہوا تو کتاب میں دانستہ یا نادانستہ ایسی ایسی کارگزاریاں منظرِ عام پر آتیں جس کی وجہ سے مصنف یا مرتب منھ چھپائے پھرتے۔ تصحیح کے لیے ایک سے زائد بار پروف دیکھنے کا عمل دشوار تھا۔ پھر پریس اور بائنڈنگ کا مرحلہ؛ ایک کتاب کی اشاعت میں برسوں اور مضمون کے لیے مہینوں درکارہوتا جب تک تحریر کے تصورات و تخیلات کی دھاریں ماند پڑجاتیں۔بعض مطبوعہ کے تعلق سے ناقدین فرماتے کہ عصری تناظر میں اس نے اپنی معنویت کھو دی ہے۔اسی طرح مطبوعات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی سماجی اور مذہبی مسئلے اور معاملے سنگین صورت اختیارکرلیتے جس کے تدارک میں برسوں لگ جاتے۔اس تعلق سے شیخ محمد اکرام کی کتاب ’’آبِ کوثر‘‘، ’’موجِ کوثر‘‘،’’رودِ کوثر‘‘ اور اس نوعیت کی دوسری کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے کہ مطبوعات کی عام دستیابی نہیں ہونے سے سماج میں کیا کیا گل بوٹے کھلے۔لہٰذا گزرے اور رواں دواں اوقات کے تقابل سے مطبوعاتی تفریط اور افراط کو بخوبی ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔
صدیوں گزرنے کے بعد آج مطبوعات کی باگ ڈور مصنف و مرتب کے ہاتھوں میں آگئی ہے اور مطبوعاتی نظام سہل ہوگیا ہے۔کبھی تصورات و تخیلات بھوج پتروں اور پودوں کی چھالوں پر اُکیرے جاتے تھے۔ پھر کاغذ کی ایجاد نے ایک نیا جہاں، طباعت کے سامنے کھول دیا۔کاغذ کارخانے کی ایجاد اور نئے طباعتی نظام نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔لہٰذا متعدد اطوار سے مطبوعات منظرِ عام پر آنے لگیں۔اخبار، رسائل اور کتابوںکی دستیابی سہل ہوگئی۔ تاہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے طباعت و صحافت کے میدان میں اب تک کا سب سے بڑا انقلاب آیا۔ کیوںکہ اس میدان میں عام عوام نے بھی اپنی شمولیت درج کرادی ہے۔واقعی دنیا مٹھی میں آگئی ہے چاہے وہ خاص ہو یا عام، وہ اپنے موبائل کے کی۔بورڈ سے ہر کام انجام دے رہا ہے۔انٹرنیٹ کے وسیلے سے محرر آن کی آن میں اپنے تصورات،تخیلات، معاملات، واقعات اور صورتِ حال گلوبلائز ہورہے ہیں۔ ان کے نتائج بھی پسند و ناپسند اور ردّ و قبول کی صورت میں محرر کو موصول ہورہی ہیں۔میرے خیال میں انسانی تاریخ میں اس سے بڑا انقلاب پڑھنے اور دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ مطبوعاتی نظام نے آج عروج کی بلندیوںکو چھولیا ہے۔ آج ای۔بک کے توسط سے کتابیں تیار کی جارہی ہیں۔سائبر اسپیس میں اردو نے بھی اپنی جگہ بنائی ہے۔ای۔پورٹل رسائل کے ذریعے مضامین اور تحریریں منظرِ عام پر آرہی ہیں۔آناً فاناً مصنف بننے کی ہوڑ مچی ہے نتیجتاً بیشتر تحریروں میں تخیلات و تصورات کو پروان چڑھنے اور اظہارِ خیال کے لیے مناسب الفاظ کے انتخاب اور اندازِ بیان پر غورو فکر کرنے پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔لہٰذا ماضی اور رواں دواں دور کی مطبوعات کے تقابلی مطالعہ سے تحریروں اور ادبیات کی تفریق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مطبوعات یا تحریریں خواہ کاغذ پر ہوں یا اسکرین پر ؛ کیا وہ ادب کا حصہ بن رہی ہیں؟آج کی صورتِ حال میں ادب پارے کی جستجو کارِ محال ہے۔میرے خیال میں جن مطبوعات یا تخلیقات میں دانشوری، عصری آگہی، نئی بصیرت؛ فنی کمال حاصل کرلیں، وہ ادب کا حصہ بن سکتی ہیں یا بننے کی مستحق ہیں۔ اس طرح دانشوری، عصری آگہی،زبان و اندازِ بیان اور نئی بصیرت ادبی تخلیقات یا ادب پارے کے لیے لازمی اجزا قرار پاتے ہیں۔
دانشوری ــــــــ دانشوری کا تصور ایک پیچیدہ عمل ہے۔کس طرح کے اقوال یا امور کو دانشوری کے زمرے میں رکھا جائے گا، اس کی نشاندہی دشوار ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی امر کی تفہیم اور ادراک ہوجانا دانشوری ہے جو مشاہدے، تجربے اور مطالعے پر مبنی ہوتا ہے اور قدرت کی عطا کردہ ذہانت اس میں بنیادی کردار نبھاتی ہے۔لہٰذا دانشوری کے بغیر کوئی تخلیق یا تحریر قارئین پر نہ اپنے اثرات مرتب کرسکتی ہے اور نہ ہی اس کی معنویت کا تعین ہوسکتا ہے۔دانشوری سے مبرّا تحریریں وقتی اور صحافتی نوعیت کی ہوسکتی ہیں جس کی اہمیت و افادیت رپورٹنگ سے آگے کی نہیں ہوتی۔ نتیجتاً دِن ڈھلتے ہی قاری کے ذہن سے محو ہوجاتی ہیں یا مزید تلاش وجستجو کے لیے زمین ہموار کرتی ہیں۔ تاہم دانشوری کے گارے سے تیار تحریریں اپنے دیرپا اثرات کے ساتھ قاری کے ذہن پر محفوظ ہوجاتی ہیں اور اس پس منظر میں قاری اپنے مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرتا ہے۔ کیوںکہ اس میں بہبودی کے پہلو کی کثرت ہوتی ہے جو مستقبل سنوارنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دانشوری کیا ہے اور اس کا حصول کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟عاقلوں کا کہنا ہے کہ دانشوری کی عینک سے دنیا کو دیکھو! اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمہ دم حواسِ خمسہ کو بیدار رکھنا ہے اور حواسِ خمسہ ؛مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ سے بیدار رہتی ہے۔دراصل دانش اور دانشوری کو ہم معنی قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً عقل مندی، حکمت، دانائی اور ادراک؛ دانشوری کے جز ہیں۔درحقیقت ادراک بھی ایک الہامی کیفیت ہوتی ہے۔ چوںکہ الہام کے لیے قلب و نظر کی پاکیزگی ناگزیر ہے اس لیے عام طور پر ادراکی شعور سے بہت سے معاملات کی تہہ تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ درحقیقت ادراکی شعور کی افہام وتفہیم ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق مشاہدات وتجربات سے ہے۔ مطالعہ خواہ نظامِ قدرت کا ہو یا کتابوں کا؛ اس سے جو درک پیدا ہوتا ہے اور جو احساسات وجذبات موجزن ہوتے ہیں اور قلم کار و فنکار کے تجربے کی بھٹی میں تپ کر جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، اس کو دانشوری سے موسوم کیا جاتا ہے۔یہی تپے ہوئے مواد جب فنی صورت اختیار کرکے کاغذ یا تحریروں میں پھیلتے ہیں ؛ادب پارے بن جاتے ہیں جس کی افادیت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ زیست کی دفع اور ارتقا کا انحصار بھی اسی پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرتی نظام میں تجربات (Experiences) کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
تخلیق یا کسی ادب پارے میں دانشوری کس حد تک ضروری ہے ایک مثال سے واضح ہوسکتا ہے۔ مکان کی تعمیر کے لیے ایک نمبر خوب اچھی اینٹ لائی جائے اور تہہ در تہہ سجاکر دیوار اونچی کردی جائے لیکن اینٹ کو تہہ بہ تہہ سجانے کے درمیان میں مناسب تناسب سے تیار سیمنٹ بالو کے گارے کا استعمال نہیں کیاجائے (جیساکہ کچھ لوگ اینٹ ہی پر اینٹ سجاکر دیوار اُٹھالیتے ہیں اور اس پر ایک طرفہ شیڈ ڈال کر گزر اوقات کرتے ہیں) تو ایک پختہ مکان نہیں تیار ہوسکتا ہے۔پائیدار اور عمدہ عمارت تیارکرنے کے لیے سیمنٹ بالو اور راڈ کا استعمال لازمی ہے۔اسی طرح بہت عمدہ اور اعلیٰ خیال ہو لیکن اس میں دانشوری ناپید ہو اور فنی اغماض ہو تو ایک معیاری، مفید اور پُرمعنی تخلیق یا تحریر ممکن نہیں ہے۔
عصری آگہی ــــــــ عصری آگہی کے حصول میں حواسِ خمسہ کا بیدار رہنا ناگزیر ہے۔سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ قوتِ باصرہ، قوتِ سامعہ، قوتِ شامّہ، قوتِ ذائقہ اور قوتِ لامسہ جاگزیں نہ ہوں تو انسان مجسمہ ہوکر رہ جائے گا تو یہ حواسِ خمسہ کی بیداری کیا معنی رکھتی ہے؟؟ دراصل شعور و ادراک اور علم و ہنر کا انحصار حواسِ خمسہ پر ہی ہے۔ظاہری آنکھیں دیکھنے کا کام ضرور کرتی ہیں لیکن اس وسیلے سے باطنی آنکھوں کا کھلنا یعنی شعور و ادراک کی بیداری اہم ہوتی ہے۔کان میں آواز پڑتے ہی خطرہ یا موافق فضا و معاملات کا انکشاف آگہی کہلائے گی۔ کسی شے کی بوٗ سے اس کی واضح جانکاری قوتِ شامّہ کی رہین ہے اور زبان ہر طرح کے ذائقہ سے محظوظ کراتی ہے تو قوتِ لامسہ بدن سے کسی شے ، فرد یا سامان سے مَس ہوجانے پر معلومات فراہم کرتی ہے۔لہٰذاان تمام امور کی ترجمانی کا ہنر آجائے، اسے عصری آگہی سے موسوم کیا جاسکتاہے۔اس طرح بیدار مغز افراد ہی کتابوںکے ساتھ نظامِ قدرت کو پڑھنے اور سمجھنے کا درک رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان میں تخلیقیت کی قوت عود کر آتی ہے جس کے طفیل دنیا میں اہم اور نمایاں کام انجام دیتے ہیں اور جب ان کی مراجعت شعر و ادب کی طرف ہوتی ہے تو ادبِ عالیہ معرضِ وجود میں آتاہے۔قلم کار جو کچھ بھی دیکھتا اور سمجھتا ہے اس کے دل و دماغ میں جو ردِ عمل ہوتا ہے، اس کو فنی پیکر میں ڈھالتا ہے، یہ اس کی فرسٹ ہینڈ اطلاع ہوتی ہے اس لیے دستاویزی حیثیت اس کی بنتی ہے۔
زبان اور اندازِ بیان ــــــــ زبان پر قدرت اور انداز میں ندرت، ادب کی روح ہے۔ الفاظ میں جادوئی اثر ہوتے ہیں اگر ان کا انتخاب و استعمال مناسب جگہ اور سلیقے سے کیاجائے تو الفاظ کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دیرپا بھی۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔بے محل اور بے موقع الفاظ کے استعمال اور اندازِ پیشکش میں کجی کے باعث تحریروںکی معنویت میں گراوٹ آتی ہے۔ نیز الفاظ بھی ایک طرح سے نامیابی شے ہیں لہٰذا وقت، حالات اور جغرافیائی صورتِ حال کے اثرات سے الفاظ کی تشکیل و ردِ تشکیل اور صورتی و صوتی آہنگ میں تبدیلی آتی ہے جو معنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ لیکن ان کی رفتار سست ہوتی ہے اس لیے نسلیں بدل جاتی ہیں اور نئی نسل کے لیے نئے الفاظ عصری تناظر میں معنی ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی کثیر مثالیں سنسکرت اور دیگر زبانوں سے اردو میں آئے الفاظ کی تخریب اور ردِ تخریب میں دیکھاجاسکتا ہے۔لہٰذا معاشرتی اور مروّجہ نظام، معاملات اور جذبات و احساسات کی ہم آہنگی اور آویزش کے نمائندہ الفاظ و تراکیب کے استعمال اور بہتر برتاؤ سے تحریر میں رچاؤ آتا ہے۔ اور ایسی تحریروں کی دائمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔الفاظ و تراکیب کی تشکیل میں معاشرتی شعور کے دخول سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔لہٰذا وقت اور موضوع کے تناظر میں اندازِ پیشکش ؛تہہ دار معنی ظاہر کرتا ہے جس سے تحریرکی اہمیت و افادیت متاثر ہوتی ہے۔ معنوی یکسانیت کے ساتھ بہت سارے الفاظ کی ساخت منفرد ہوتی ہے جو معنیاتی احساس کو متاثر کرتی ہے۔ مثلاً مرگ، موت، وفات، انتقال، فوت، سفرِ آخرت، ابدی نیند سونا، آفتابِ زندگی غروب ہونا، دارِ فانی سے کوچ کرنا، جامِ شہادت وغیرہ میں معنوی یکسانیت ہے تاہم وقت اور صورتِ حال کے تناظر میں ان کا استعمال جداگانہ انداز میں ہوتا ہے۔غالبؔ کو ان کے ’’اندازِ بیاں اور‘‘ کی وجہ سے اردو شاعری میں فوقیت ملی ورنہ حسن وعشق کے وہی موضوعات ان کے یہاں ہیں جو ان کے معاصرین کے ہاں ہیں۔
نئی بصیرت ــــــــ تخلیق یا تحریر کو ادبی معیار عطا کرنے اور لازوال بنانے میں نئی بصیرت کی حصہ داری کلیدی ہے۔دانائی کے کشکول سے نئی بصیرت جلوہ افروز ہوتی ہے۔ہر فرد و بشر، دانا نہیں ہوتا۔دانائی عطائے قدرت ہے۔ لہٰذا نئی بصیرت کی وجہ سے تواریخِ انسانی ہمہ دم تدریجی ارتقا سے فروزاں ہے۔بردباری سے فکرِ فردا کا ظہور ہوتا ہے۔دراصل مقامی اور عالمی سطح پر جو بھی واقعات ظہورپذیر ہوتے ہیں، خواہ وہ عمرانی ہوں یا مذہبی، معاشی ہوں یا سیاسی یا جنسیات کے تعلق سے کوئی معاملہ معرضِ وجود میں آئے؛فن کار و قلم کار ان تمام معاملات و حالات پر اپنی آرائ مرتب کرتے ہیں اور ان کو اپنی تخلیقات یا فن پارے میں ڈھالتے ہیں جس میں ان کی فکرِ فردا نمایاں ہوتی ہے۔یہ عمل بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی ریاضی کے ماہر اپنی تخمینہ سے واضح کرتا ہے کہ فی کیلو میٹر رفتار سے چلتی ہوئی کوئی ٹرین متعدد اسٹیشنوں پر ٹھہرتی ہوئی اس متعین وقت پر اپنی منزل پر ہوگی اور عام حالات میں یہ تخمینہ صحیح ثابت ہوتا ہے۔نظامِ زندگی اسی اصول پر رواں دواں ہے۔
بصیرت کا معنی آگاہی ہے۔یعنی نامعلوم اور مبہم باتوں کا واضح علم ہی نئی بصیرت ہے۔ زمانۂ قدیم سے انسان نے دنیا کے رازِ سربستہ سے واقفیت کے لیے سخت ریاضت کی ہے۔جنگل، بیابانوں اور پہاڑ کے گپھاؤں میں رات و دن مراقبے کیے ہیں اور اس سے حاصل شدہ مشاہدات و تجربات کو عام کیا ہے۔صوفی سنتوںکے ملفوظات میں ان کے مشاہدوں اور تجربوں کا ذکر ملتا ہے۔ لہٰذا زمانۂ قدیم کے بہت سارے امور جس نے بعد میں کتابی شکل اختیار کیا؛ علم و ادب کا سرچشمہ بنے ہیں اور انسانوں نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے سفرِ زندگی کو سہل بنانے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔زمانۂ قدیم کے بہت سارے مفکرین کے تصورات فقروں اور جملوں میں دستیاب ہیں، ان کو مرتب کرکے کتابی شکل دی گئی ہے۔اس سلسلے میں مولوی عبد الحق کی ترجمہ شدہ کتاب ’’مشاہیرِ یونان و روما‘‘ کی ورق گردانی کی جاسکتی ہے جس کے مطالعہ کو بابائے اردو مولوی عبد الحق نے تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے اہم قرار دیا ۔جملوں اور فقروں میں تصورات و تخیلات کے بیان نے عبارت کی شکل اختیار کی اور رفتہ رفتہ اصنافِ ادب کے نقوش واضح ہوتے گئے اور تحریروں میں موضوعاتی اعتبار سے خانہ بندی ہوئی، پھر مصنفین اپنی تحریروں کو خانہ بندی کی مناسبت سے پیش کرنے لگے۔ نتیجتاً دورِ رواں میں اصنافِ ادب کی حدیں تقریباً متعین ہوگئی ہیں۔
بہت سارے قلم کار، شاعر اور مصنفین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھ پر یہ خیالات القا ہوئے ہیں۔ بیشک آلائشوں سے پاک زندگی، فرد اور معاشرے کے لیے ان کی مثبت سوچ کی وجہ سے ان پر نئی بصیرت کے ورود کی توقع کی جاسکتی ہے کیوںکہ اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے دین و دنیا کے دروازے وا رکھا ہے، اس کے یہاں صلائے عام ہے۔جس نے اپنے حواسِ خمسہ پر ریاضت کی اور ذہنی ارتکاز کیا، کمال حاصل کرلیا۔
سائنس او ر ٹیکنالوجی کے ارتقائی سفر سے آج کی دنیا کے انسان محوِ حیرت ہیں۔نادر ونایاب ایجادات کے ساتھ معاشرتی زندگی میں نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں۔ایک ٹیلی ویژن شو میں دِکھایاگیا ہے اور پوری دنیا نے دیکھا کہ ایک چھٹے درجہ کی طالبہ نے باصرہ والے کام کو اپنی قوتِ شامّہ سے کردِکھایا یعنی اپنی آنکھ پر پٹّی باندھ کر اس نے سونگھ کر کتاب کی تحریروںکو صحیح صحیح پڑھ دیا۔لہٰذ ا شو کے اینکر نے ہر طرح سے پرکھنے کے بعد اس واقعہ کی سچائی کی تصدیق کردی اور ناظرین حیرت زدہ ہوگئے۔شو کے اینکر نے اس بچی کے والدین سے دریافت کیا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکا ہے۔اس نے ایک ادارہ ’ویژن سینٹر‘(Vision Centre)کا نام بتایا جس کے یہاں اس طرح کی تعلیم کا نظم ہے۔ اس واقعہ سے کمالاتِ بصیرت کی صراحت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے حواسِ خمسہ کو اس قدر حساس بنادیتا ہے کہ بغیر دیکھے اللہ کی عطا کردہ اپنی داخلی قوت کے طفیل انسان اپنی حسّ کی معرفت بہت سارے امور سے واقف ہوجاتاہے۔لہٰذا نئی بصیرت کے لیے اس سے عمدہ مثال کیا ہوسکتی ہے۔
نئی بصیرت سے ’’اڑن کھٹولے‘‘ اور ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ جیسے بہتیرے تخیلاتی واقعات و کردار ادب کی بساط پر پھیلے ہوئے ہیں۔یہ اس وقت کے تصورات ہیں جب ہوائی جہاز کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی دوسرے سیاروں پر انسانی قدم پڑے تھے لیکن جب یہ تصورات عمل گاہ میں پہنچ کر سائنس و ٹیکنالوجی کے قالب میں ڈھل گئے تو انسان ایک نئی دنیا سے آشنا ہوا۔ یہ تسلسل برقرارہے کیوںکہ انسانی بصیرت نئے امکانات کی جستجو میں رہتی ہے۔
فقط والسلام
پروفیسر عبدالبرکات
Dr. Abdul Barkat
University Professor
Mob. : 8210281400
E-mail : abarkat9835@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

