میراجی نے اپنے فکری رویے کی وضاحت کرتے ہوئے بہت پتے کی بات کہی تھی کہ ان کا مسقتبل سے علاقہ بے نام سا ہے وہ صرف دوزمانوں کے انسان ہیں یعنی ماضی و حال کے:
”مستقبل سے میرا تعلق بے نام ساہے۔میں صرف دوزمانوں کا انسان ہوں۔ماضی اور حال۔یہی دو دائرے مجھے ہر وقت گھیرے رہتے ہیں اور میری عملی زندگی بھی انہی کی پابند ہے“1
میراجی کا یہ بیان ان کی فکری ساخت اور اس کی تشکیل کے کلیدی عناصر کو آئینہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہو یا تنقید یا پھر ان کے تجزیے سبھی جگہ یہ دو زمانے ان کے فکر و عمل کے دائروں کا تعین کرتے ہیں۔وہ زمان کے انہی دودائروں کو اپنے تجزیے،تخلیق اور تأثرات کا مرکز ومحور بناتے ہیں۔ماضی کی روایات،عالمی سیاست، سماجی اور ادبی تاریخ کے ساتھ ساتھ عصری حسیت اور معاصر عالمی منظر نامے کی آگہی سے اپنی تخلیق اور تجزیے کی ترتیب و تنظیم میں استفادہ کرتے ہیں۔
میراجی نے نسبتاً کم عمر پائی (37سال میں وفات) تاہم یہ عمرجو گرچہ زمانی لحاظ سے قلیل تھی اپنی تخلیقی زرخیزی،اختراعی ذہنیت اورمنفرد افتاد طبع کی وجہ سے نابغہ ئ روزگار بننے کی صلاحیت سے مملو تھی۔بائیس تیئس سال کی عمر میں انگریزی کے توسط سے ادبیات عالم پر گہری نگاہ کی وجہ سے ان کے ذہنی افق میں کشادگی نے مسائل کو ان کے صحیح پس منظر میں دیکھنے کی خُو پیدا کردی تھی۔ اس سلسلے میں صلاح الدین احمدلکھتے ہیں:
”انگریزی ہی کے توسط سے اس نے دنیا کی قریب قریب ہر زبان کی شاعری کا مطالعہ کیا اور اسی مطالعے کی گہرائیوں میں وہ اپنے زخم دل کا اندمال تلاش کرتا رہا“2
ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور ہنوز لکھا جارہاہے۔ میراجی کا شمار ایسے شعرا میں ہوتاہے جن کی تخلیقیت کی پرتیں اتنی تہہ دار اور دبیز ہوتی ہیں کہ ان کی تفہیم کے لیے بار بار قرأت کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ نظم کے واقعی مضمون تک رسائی ہوجائے۔دراصل بات شخصی علائم اور استعاروں کی بھی ہے جن کی وجہ سے کسی متن کی تفہیم میں دشواری ہوتی ہے۔میراجی کے شعری کردارکی تشکیل میں ذاتی عنصر کا خاصا حصہ ہے جس کو الگ کرنا اس لیے مشکل ہے کہ وہ نظم کی تخلیقی بُنت کا ناگزیرجزو ہے۔
نظموں کی ہی طرح میراجی تجزیوں میں بھی اپنی انفرادیت کے نقوش مرتسم کرتے ہیں۔اس مطالعے میں بشمول ن م راشد کی پانچ نظموں کے تجزیے کے (جو میراجی نے کیے ہیں) خود میراجی کی نظم’سہارا‘ کا تجزیہ بھی (جو انھوں نے خود کیاہے) شامل ہے۔
متن کے مطالعے میں قاری کا عمل اتناہی اہم ہوتاہے جتنا کہ خود متن کا۔ تخلیقی تونگری کے لامتناہی امکانات کی شناخت قاری کی آزادیئ تعبیر کے بغیر ناممکن ہے۔میراجی نے اپنے تجزیوں میں شاعر کی فکری وفنی جہتوں کا احاطہ اسی نہج پر کیاہے کہ اس میں صرف شاعر کی شخصیت کے تارو پود نظر نہیں آتے بلکہ مختلف ایسے نکات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے جو ایک عام قاری کی نظر سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔میراجی کرداروں کی نفسیات کی تحلیل و تجزیہ کے دوران میں ان کے اندرون میں اترکر ان کی سرگرمیوں پرباریک نظر رکھتے ہیں۔ نظم کوئی بھی ہواس کے مختلف کرداروں کی نفسیاتی گرہوں کو کھولنے میں میراجی کو لطف آتاہے۔اس نفسیاتی جراحی کے دوران میں وہ شاعر کی نفسیات کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔میراجی کے تجزیوں کا یہ پہلو ان کے تجزیاتی ذہن و دماغ کی بھر پور عکاسی کرتاہے۔ راشد کی نظم ”اجنبی عورت“ کے مطالعے سے ایک عام قاری کے لیے جو باتیں طشت از بام ہیں ان کو اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جاسکتاہے۔
1۔ مغربی عورت جسے دیوارِ ظلم اور دیوارِ رنگ کا عرفان حاصل ہے
2۔یہ ظلم خود مغرب کا ڈھایا ہوا ہے جس سے مایوس ہوکر سکون کی تلاش میں اس کی مراجعت مشرق کی طرف ہورہی ہے۔
3۔ لیکن اسے یہاں بھی ایک انجانے خوف کا احساس ستارہاہے۔
بالغ نظر میراجی کی نظر میں یہ نظم ایک الگ ان کہی داستان پیش کرتی ہے۔وہ راشد کے ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بیشتر افکار کے ہمنوا دیکھائی دیتے ہیں۔ان کے تجزیے روایات کی آگہی کا گہرا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔انہیں اس کا علم ہے کہ ایک فرنگی اجنبی عورت کو دیکھنے سے مشرقی نوجوان میں کس طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں چنانچہ بجنوری جیسے فنکاروں پر چوٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتے ملاحظہ کریں:
”وہ ہمارے لیے صرف ایک حاکم قوم کے نسائی پہلو کا مظہرتھیں،یا اگر ہمارے جنسی جذبات انھیں دیکھ کر
برانگیختہ ہوجائیں تو اس صورت میں ناممکن الحصول عورتیں بن جاتی تھیں۔جنھیں دیکھ کر بجنوری جیسا شاعر
ایک المناک انداز میں یہ کہہ اٹھتا تھا۔’مجھے کیا پتہ ہے کہ اب کہاں،تجھے کیا خبر گئی کس کی جاں۔“۳
ایک دوسرے مقام پر یوں رقمطراز ہیں:
”چنانچہ اس نظم کا شاعر جب ایک مغربی عورت کو دیکھتا ہے تو بجنوری کی طرح یہ نہیں کہتاکہ ”ترے عشق میں
ہوں مبتلا“بلکہ ایک اور ہی ڈگر پر چل پڑتاہے۔“4
میراجی شاعر کی نبض پکڑ کر چلتے ہیں اور اپنی یہ گرفت کسی بھی لمحے سست نہیں پڑنے دیتے۔وہ شاعر کے مافی الضمیرکی تفہیم کے لیے نظم کے بین السطور میں صبر و تحمل اورایک دانشورانہ خُو کے ساتھ اترتے ہیں جس سے پوری نظم ایک نئی اور جداگانہ معنویت سے ہمکنار ہوجاتی ہے۔ کسی نظم کے تجزیے میں ان کی نظر سب سے پہلے نظم کی تحریک پرپڑتی ہے یعنی شاعر نے جس جذبے کے زیر اثر وہ نظم کہی ہے۔پھر وہ تحریک کے رموز واسرار کے پردوں کو قاری کے لیے وا کرتے ہیں۔ خود شاعر ہونے کی وجہ سے ان میں تجزیہ نگار کی جگہ کبھی کبھی خود ایک شاعر ہوتا ہے جو شعر میں پیش کردہ نفسیات کے سلسلے میں ایک شاعر کے نقطہ ئ نظر سے ان امور کی تشریح کرتاہے۔اس لیے یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ وہ شاعر کی غیر شعوری طور پر وکالت بھی کرتے ہیں،’ملاحظہ کیجیے:
”وہ اپنے احساسات میں ڈوب جانے کے بجائے اس عورت کے خیالات پر غور کرنے لگتاہے۔وہ یہ سوچتا
ہے کہ اس وقت اس عورت کا انداز نظر ہماری ذات،ہمار ے حالات اور ہمارے ملک کے متعلق کیا ہوگا“۔5
میراجی ’اجنبی عورت‘ کے تجزیے میں مشرق ومغرب کے اندرونی تضادات کے باوجود مشرق میں روح کو طمانیت بخشنے والی قوت محسوس کرتے ہیں جس میں جھجک ہے۔ ان کی نظر مشرق کے حرم سراؤں میں محصور ومقید خواتین کی طرف بھی جاتی ہے جو اپنی پابند زندگی کی وجہ سے مغربی عورت کے لیے سکون فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
مذکورہ نظم کے تجزیے میں میراجی بیک وقت ایشیااور یورپ دونوں براعظموں کی سیر کرتے ہیں اور دونوں جگہوں کے کرداروں کے نفسیاتی پیچ و خم کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مغرب کی عورت جو ہنگامہ وآشوب سے تنگ آکر مشرق کی طرف یک گونہ سکون کے لیے آنا چاہتی ہے اسے یہاں آکر کوئی سکون نہیں ملتا۔کرداروں کی نفسیاتی تحلیل میراجی کے تجزیوں کی نمایاں خوبی ہے۔خواہ وہ ’اجنبی عورت‘ ہو یا ’خود کشی‘یا ’داشتہ‘وغیرہ ان نظموں میں وہ کرداروں کی نفسیاتی تحلیل وتجزیہ کے ذریعہ قاری کے لیے کرداروں کی شخصیت سے ایسے باریک پردے اٹھاتے ہیں جن کی ہمت اس فن کا کوئی ماہر ہی کرسکتاہے۔
’خودکشی‘ میں متکلم کلرکی کی زندگی سے اکتا کر کلرکی سے آزاد زندگی گزارنا چاہتاہے۔جملہ ئ معترضہ کے طور پر عرض کردوں کہ یہ راشد کی وہی نظم ہے جس کے ایک مصرع’کود جاؤں ساتویں منزل سے‘ کے متعلق حیات اللہ انصاری نے اپنی کتاب ’ن م راشد پر‘ میں کہا تھاکہ”لاہور اور کلکتے میں تو سات منزل کی عمارت نہیں ہوتی تو راشد یہ کس جہان کی باتیں کر رہے ہیں یعنی خیالی دنیا کی باتیں“اسی مصرعہ کومیراجی کے تجزیے نے کہاں سے کہاں پہنچادیا۔وہ نظم میں ’ساتویں منزل‘کو ملازمت کا ساتواں سال تصور کرتے ہیں اور خود کشی کو’اقتصادی خود کشی‘تو دیکھا آپ نے میراجی کے تجزیے نے شاعر کی حس کو کس لطیف انداز میں گرفت میں لیا ہے۔دراصل میراجی کے تجزیوں میں کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو حل کرنے کا جو سلیقہ ہے وہ ان کے تجزیوں کو خاصے کی چیز بنادیتاہے۔
وہ اپنے تجزیے میں شاعر کی شخصیت کے تار و پود کو بنتے بگڑتے بھی دیکھتے ہیں۔نظم کے مختلف ٹکڑوں کی مدد سے شاعر کے کردار اور اس کی ذہنی نشو و نما میں نشیب و فراز کے مختلف مراحل کا اندازہ بھی کرتے جاتے ہیں مصرع:’ہوچکی سینے میں بیدار وہ دل سوزی بھی‘ لکھتے ہیں:
”اس ٹکڑے سے شاعر کے ذہنی نشو و نما پر روشنی پڑتی ہے۔یعنی وہ ایک ایسا مرد ہے جس کی جنسی تسکین ہر پہلو سے مکمل نہیں ہوئی۔جس کی زندگی میں پہلی بار ایک ایسی عورت آئی ہے جو نہ محض گھر کی سیدھی سادی بی بی ہے نہ بازار کی چتُر رنڈی“6
سماج میں ’داشتہ‘کا کردار ایک خاص پس منظر کو آشکار کرتاہے۔پوری نظم کا فکری محور ماسوائے اس کے کیاہے کہ شاعر ’داشتہ‘ کے پاس جاتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے صرف تھوڑی اقتصادی خوشحالی دے گا اور کچھ نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ میراجی بین السطور میں اترتے ہوئے اس کے معنی برآمد کرتے ہیں۔انہیں نظم کی نمایاں خوبی اس کے کرداروں میں نظر آتی ہے ”ایک اس کی غمزدہ ہیروئن جو نہ گھر کی بی بی ہے،نہ اسکول یا کالج کی آزادہ رو لڑکی،نہ محض رنڈی بلکہ عورت کے تصور کی سماجی دھنک میں کسی درمیانی رنگ کی ترجمان اور دوسرے اس کا بزدل ہیرو جو اپنی عشرت پرستی کو تسکین دے سکتاہے“بلکہ پوری نظم کے تجزیے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ”اس نظم کا مرد ایک عام مرد ہے۔مگر اس نظم کی عورت ایک خاص عورت ہے“۔
زیادہ دنوں کی بات نہیں جب عورتوں میں اپنے حقوق اور مساوات کا احساس جاگا۔ورنہ ادب میں عورتیں یا تو شہزادیاں تھیں یا کوٹھے والیاں درمیان کی کوئی جگہ نہ تھی لیکن عورتوں نے سماجی و سیاسی اور ادبی ہر سطح پر جس طرح اپنی حیثیت سے تسلیم کرائی ہے اس نے ادبا و شعرا کے طرز احساس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کردیا ہے۔یہ نیا احساس اپنی خوشبو عصری حسیت اور سماجی آگہی سے کشید کرتاہے اس کا انطباق اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک کے بعد سے ادب پر خصوصاً (شعوری طور پر برتے جانے کی وجہ سے)کیا جاسکتاہے۔
’رقص‘ کے کردارکی نفسیات کی تحلیل میں بھی میراجی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”ایک ایسے انسان کا تصور جس کے ذہن پر تہذیب و تمدن کی الجھنوں کا اثر ذرا حد سے زیادہ ہواہو جو کسی بات سے جی بھر کر پورے طو رپر لطف اندوز نہ ہوسکتا ہو،ایک نقطے سے ہٹ کر دوسرے نقطے تک جاتا ہو اور پھر دوسرے سے تیسرے تک“
بادی النظر میں قاری اس نظم سے صرف اس قدر فیض اٹھا تاہے کہ شاعرزندگی کی کلفتوں سے اکتاکر اس کا جوا گلے سے اتار کر تھوڑی دیر ایک خواب سی زندگی بتا نے کی خواہش رکھتاہے۔ کرداروں کی نفسیاتی تحلیل میں میراجی کی ذہانت کا اساسی رول ہے۔نفسیاتی پیچیدگی کی گتھی کو سلجھانے کے لیے جس ذکاوت کی احتیاج ہوتی ہے میراجی کی شخصیت اس سے آراستہ تھی۔وہ کردار کے اندرون میں اتر کر اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔
دوسری بات جو میراجی کے تجزیوں کو منفرد بناتی ہے وہ ان کے عروض کی سمجھ ہے۔ایک مسلم الثبوت شاعر ہونے کی وجہ سے شعر کی صوتی آہنگ اور اس کی نغمگی کے اصولوں سے انھیں مکمل آگاہی ہے۔ اس لیے اپنے تجزیوں میں نظم کے اوزان و بحور کے ذکر سے نظم کے بہاؤ اورموسیقیت کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ نظم ’رقص‘کی بحر کے متعلق لکھتے ہیں:
”بنیادی رکن فاعلاتن ہے جھٹکے دیتا ہوا اورہرگردش کو پورا کرتاہوا رکن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن ’فاعلا‘ میں بہاؤ ہے او ر’تن‘ کا ٹکڑا اس بہاؤکو روک کر گردش کے دوسرے آدھے دائرے میں لے جاتاہے۔متواتر جب یہ پورا رکن دو یا چار بار چلتاہے تو اس کے بہاؤکا زور بڑھ جاتاہے اور آخر میں فاعلن یا فاعلات کا چھوٹا رکن روک کا کام دیتا ہے“۔7
آپ نے بھی اندازہ کیا ہوگا کہ انھوں نے کتنی سائنٹفک اور سلیس طرز گفتار میں نظمیہ آہنگ کی وضاحت کی ہے۔میراجی کی نظرنظم کے داخلی حسن کے ساتھ صوتی آہنگ سے متشکل ہونے والے اس کے خارجی حسن پر بھی رہتی ہے۔اس طرح وہ تجزیے کے ’پل صراط‘ سے صحیح سالم گزر جاتے ہیں۔
میراجی اپنے تجزیوں میں کرداروں کی نفسیاتی گتھیوں کو سلجھانے کے علاوہ نظم کی زیادہ بہتر تفہیم کے لیے اس کی قرأت کے اصول بھی بتاتے ہیں۔کون سا بند کس مقام پر آئے گا جس سے مطلب کی ادائیگی میں آسانی ہوگی انہیں خوب معلوم ہے۔در اصل یہ اس بات کو آشکار کرتاہے کہ وہ بحیثیت شاعر نظموں کے تخلیقی بُنت کے پیچیدہ تر مراحل سے آگاہ ہیں۔ ’زنجیر‘ کے تجزیے میں لکھتے ہیں:
”نظم کے دوسرے اور تیسرے بند کا مفہوم نسبتاً آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لیکن پہلا بند ذرا الجھن میں ڈالنے
والاہے،دوسرے بند میں پیلہ ئ ریشم اور تیسرے بند میں ہنگام آورد کے معنی جلد ہی متعین ہوجاتے ہیں لیکن
پہلے بند میں سنگ خارا،خار ِ مُغیلاں،دوست وغیرہ کے استعارے ذرا مبہم دکھائی دیتے ہیں اگر مفہوم کا تسلسل
قائم کرنا چاہیں تو دوسرے بند کو پہلا اور پہلے کو دوسرا بند سمجھ کر پڑھنا چاہیے“۔8
میراجی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ’زنجیر‘ کے تجزیے میں ایک گوشوارہ بھی دیا ہے جس میں مصرعوں کا مجوزہ شمار اور موجودہ شمار کے ذریعے مزید وضاحت کردی ہے۔قرأت کے مکمل پروسیس کی جو کامل تصویر ان کی نگاہوں میں ہے اسے وہ قاری تک باحسن طریق پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔’زنجیر‘پر تبصرہ کرتے ہوئے میراجی لکھتے ہیں:
”سیاسی لحاظ سے غالباً راشد کی یہ پہلی خالص نظم ہے،اگر چہ اس میں فرنگی عورتوں اور ان کے حسنِ روز افزوں کی زینت کا احساس اس کی جنسی رغبت کی غمازی کرتاہے اور یہ خیال ہمارے دل میں لاتا ہے کہ شاید اسی قسم کی عورتوں کے حضور میں ناکامی ہی شاعر کے لیے اس للکار کی تحریک کا باعث ہوتی ہے لیکن اگر یوں ہے بھی تو یہ نفس ِ لاشعوری کی بات ہے“9
یہ امر قابل حیرت و استعجاب ہے کہ میراجی راشد کی طرف جو نشانہ سادھ رہے ہیں وہ خود بھی اسی کے سحر میں گرفتارہیں۔ورنہ یہ اتفاقِ محض نہیں کہ ماسوائے نظم’خود کشی‘ کے جتنی نظمیں ہیں ان میں عورت کا ذکر ضرو ر ہوا ہے۔ خواہ وہ ’داشتہ‘ ہو یا ’اجنبی عورت‘ یا ’رقص‘ یا ’زنجیر‘ یا پھر خود ان کی نظم ’سہارا‘ ان جملہ نظموں میں عورت یا تو اجنبی ہے اور مغربی دیار سے ہے یا دیسی ہے لیکن اجنبی ہے جس سے بوس و کنار اور اس کے پہلو میں کچھ فرصت کے لمحات گزارنے کی حسرت پیش نظر ہے۔
میراجی کے تجزیوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے متن کے بین السطور میں اتر کر اس کی مختلف جہات کو اپنی گرفت میں لینے کی جو جرأت رندانہ کی ہے وہ دوسرے لوگوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ نظم کے منتشر اجزا کو منطقی ربط کے ساتھ خیال کی ایک وحدت میں پیش کرنے پر قدرت کاملہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی نظم ’سہارا‘کے تجزیے میں شعری ساخت کے داخلی پہلوؤں پر نظر کی ہے۔ دیگر نظموں سے قطع نظر یہاں وہ نظم کے خارجی پہلو کو زیر بحث نہیں لاتے بلکہ اپنی پوری توانائی نظم کے اندرون میں فکری فضائے بسیط کو وا کرنے میں صرف کرتے ہیں۔مذکورہ نظم کے تجزیے میں ان کا مرغوب طریقہ ئ کار موجود ہے یعنی علیحدہ علیحدہ بندوں کو خیال کی ایک اکائی میں پروکر پیش کرنا جو اس کا غماز ہے کہ تجزیہ نگار ذہن میں نظم کی داخلی ساخت کی بہتر تنظیم رکھتا ہے۔
میراجی پہلے پوری نظم کے خیال کو گرفت میں لاتے ہیں اس کے بعد ایک عمومی رائے پیش کرتے ہیں۔ مصرع در مصرع نظم کی تہہ میں اترنے کی منزل اس کے بعد آتی ہے۔خیال کی ارتقا پذیری کے ساتھ ساتھ کرداروں کی شخصیت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے وہ قاری کو ایک نئی معنویت و بصیرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔کرداروں کا بتدریج ارتقا بھی ان کے تجزیہ کا خصوصی مرکز نگاہ ہوتاہے۔عمومی رائے کی مثال کے طور پر نظم ’سہارا‘کے متعلق میراجی کی یہ سطریں دیکھیں:
”اس نظم میں شاعر کے مد نظر دوعورتیں ہیں،ایک جس سے وہ مخاطب ہے اور دوسری جو اس کی ذہنی فضائے بعید میں کھو چکی ہے۔پہلی اس کے نفس کے ’قصر سیمگوں‘ میں ایک فانوس کی صورت آویزاں ہے۔اسی کی رغبت کے ”زہرغم کو پی کر وہ اب تک اپنی زندگی سے بھاگتا پھر رہا ہے۔یہاں تک کہ اس کے ’رشتہئ عہد تخیل“ میں بھی ایک
گرہ پڑگئی۔گویا اس کے لیے نسائی پیکر سے لذت کے حصول کی تحریک بھی ایک جامد حقیقت بن کر رہ گئی۔
لیکن اس نظم سے ظاہر ہوا کہ اس کی تشنہ لبی اور محرومی کی زندگی میں عشقی توجہ کا ایک نیا مرکز پیدا ہواہے۔“10
میراجی کی فلسفیانہ موشگافی کی تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ جب تم بھی اداس ہو اور میں بھی تنہا ہوں تو کیوں نہ مل کر غم غلط کرنے کی کوئی سبیل نکالی جائے تاکہ ہماری تمہاری تشنہ لبی و محرومی کو لذت ِجاوداں کا آشیانہ مل جائے۔
عمومی تبصرہ کے بعدمیراجی شعور ی طورپر نظم کو اجزا میں منقسم کرکے اس کی تفہیم کرتے ہیں۔کسی فن پارے کے تجزیے کے لیے یہ طریقۂ کار یقیناً لائق تحسین ہے۔میراجی کے تقریباً سبھی تجزیوں میں طریقہ ئ کارکی معنی خیزی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ان کے تجزیوں سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ تخلیقی زرخیزی،تنقیدی ژرف نگاہی،تجزیاتی بصیرت،عصری آگہی اور شعور و وجدان کی بیش بہا دولت سے مالا مال تھے۔ان کے تجزیے گو کہ مختصر ہیں لیکن اپنی وقعت و اہمیت کے لحاظ سے باعثِ صدافتخار ہیں۔
حواشی
1۔میراجی ایک مطالعہ،ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص 28
2۔ ’میراجی کی نثر‘مشمولہ’میراجی ایک مطالعہ‘ صلاح الدین احمد، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص409
3۔ن۔م۔راشد شخصیت اور فن،مرتبین ڈاکٹر مغنی تبسم،ڈاکٹر شہریار،ماڈرون پبلشنگ ہاؤس،دریا گنج دہلی،1981ء ص 133
4۔ایضاً،ص134
5۔ایضاً ص 135
6۔ایضاً ص 143۔144
7۔ایضاًص 147
8۔ایضاً ص 152
9۔ایضاً ص153
10۔ ’اپنی ایک نظم ’سہارا‘کا تجزیہ“ میراجی مشمولہ’میراجی ایک مطالعہ‘،ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص496
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

