Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

میراجی کے تجزیے – ڈاکٹر نوشاد عالم

by adbimiras مئی 12, 2021
by adbimiras مئی 12, 2021 0 comment

میراجی نے اپنے فکری رویے کی وضاحت کرتے ہوئے بہت پتے کی بات کہی تھی کہ ان کا مسقتبل سے علاقہ بے نام سا ہے وہ صرف دوزمانوں کے انسان ہیں یعنی ماضی و حال کے:

”مستقبل سے میرا تعلق بے نام ساہے۔میں صرف دوزمانوں کا انسان ہوں۔ماضی اور حال۔یہی دو دائرے مجھے ہر وقت گھیرے رہتے ہیں اور میری عملی زندگی بھی انہی کی پابند ہے“1

میراجی کا یہ بیان ان کی فکری ساخت اور اس کی تشکیل کے کلیدی عناصر کو آئینہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہو یا تنقید یا پھر ان کے تجزیے سبھی جگہ یہ دو زمانے ان کے فکر و عمل کے دائروں کا تعین کرتے ہیں۔وہ زمان کے انہی دودائروں کو اپنے تجزیے،تخلیق اور تأثرات کا مرکز ومحور بناتے ہیں۔ماضی کی روایات،عالمی سیاست، سماجی اور ادبی تاریخ کے ساتھ ساتھ عصری حسیت اور معاصر عالمی منظر نامے کی آگہی سے اپنی تخلیق اور تجزیے کی ترتیب و تنظیم میں استفادہ کرتے ہیں۔

میراجی نے نسبتاً کم عمر پائی (37سال میں وفات) تاہم یہ عمرجو گرچہ زمانی لحاظ سے قلیل تھی اپنی تخلیقی زرخیزی،اختراعی ذہنیت اورمنفرد افتاد طبع کی وجہ سے نابغہ ئ روزگار بننے کی صلاحیت سے مملو تھی۔بائیس تیئس سال کی عمر میں انگریزی کے توسط سے ادبیات عالم پر گہری نگاہ کی وجہ سے ان کے ذہنی افق میں کشادگی نے مسائل کو ان کے صحیح پس منظر میں دیکھنے کی خُو پیدا کردی تھی۔ اس سلسلے میں صلاح الدین احمدلکھتے ہیں:

”انگریزی ہی کے توسط سے اس نے دنیا کی قریب قریب ہر زبان کی شاعری کا مطالعہ کیا اور اسی مطالعے کی گہرائیوں میں  وہ اپنے زخم دل کا اندمال تلاش کرتا رہا“2

ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور ہنوز لکھا جارہاہے۔ میراجی کا شمار ایسے شعرا میں ہوتاہے جن کی تخلیقیت کی پرتیں اتنی تہہ دار اور دبیز ہوتی ہیں کہ ان کی تفہیم کے لیے بار بار قرأت کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بعد بھی ضروری نہیں کہ نظم کے واقعی مضمون تک رسائی ہوجائے۔دراصل بات شخصی علائم اور استعاروں کی بھی ہے جن کی وجہ سے کسی متن کی تفہیم میں دشواری ہوتی ہے۔میراجی کے شعری کردارکی تشکیل میں ذاتی عنصر کا خاصا حصہ ہے جس کو الگ کرنا اس لیے مشکل ہے کہ وہ نظم کی تخلیقی بُنت کا ناگزیرجزو ہے۔

نظموں کی ہی طرح میراجی تجزیوں میں بھی اپنی انفرادیت کے نقوش مرتسم کرتے ہیں۔اس مطالعے میں بشمول ن م راشد کی پانچ نظموں کے تجزیے کے (جو میراجی نے کیے ہیں) خود میراجی کی نظم’سہارا‘ کا تجزیہ بھی (جو انھوں نے خود کیاہے) شامل ہے۔

متن کے مطالعے میں قاری کا عمل اتناہی اہم ہوتاہے جتنا کہ خود متن کا۔ تخلیقی تونگری کے لامتناہی امکانات کی شناخت قاری کی آزادیئ تعبیر کے بغیر ناممکن ہے۔میراجی نے اپنے تجزیوں میں شاعر کی فکری وفنی جہتوں کا احاطہ اسی نہج پر کیاہے کہ اس میں صرف شاعر کی شخصیت کے تارو پود نظر نہیں آتے بلکہ مختلف ایسے نکات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے جو ایک عام قاری کی نظر سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔میراجی کرداروں کی نفسیات کی تحلیل و تجزیہ کے دوران میں ان کے اندرون میں اترکر ان کی سرگرمیوں پرباریک نظر رکھتے ہیں۔ نظم کوئی بھی ہواس کے مختلف کرداروں کی نفسیاتی گرہوں کو کھولنے میں میراجی کو لطف آتاہے۔اس نفسیاتی جراحی کے دوران میں وہ شاعر کی نفسیات کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔میراجی کے تجزیوں کا یہ پہلو ان کے تجزیاتی ذہن و دماغ کی بھر پور عکاسی کرتاہے۔ راشد کی نظم ”اجنبی عورت“ کے مطالعے سے ایک عام قاری کے لیے جو باتیں طشت از بام ہیں ان کو اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جاسکتاہے۔

1۔ مغربی عورت جسے دیوارِ ظلم اور دیوارِ رنگ کا عرفان حاصل ہے

2۔یہ ظلم خود مغرب کا ڈھایا ہوا ہے جس سے مایوس ہوکر سکون کی تلاش میں اس کی مراجعت مشرق کی طرف ہورہی ہے۔

3۔ لیکن اسے یہاں بھی ایک انجانے خوف کا احساس ستارہاہے۔

بالغ نظر میراجی کی نظر میں یہ نظم ایک الگ ان کہی داستان پیش کرتی ہے۔وہ راشد کے ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بیشتر افکار کے ہمنوا دیکھائی دیتے ہیں۔ان کے تجزیے روایات کی آگہی کا گہرا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔انہیں اس کا علم ہے کہ ایک فرنگی اجنبی عورت کو دیکھنے سے مشرقی نوجوان میں کس طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں چنانچہ بجنوری جیسے فنکاروں پر چوٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتے ملاحظہ کریں:

”وہ ہمارے لیے صرف ایک حاکم قوم کے نسائی پہلو کا مظہرتھیں،یا اگر ہمارے جنسی جذبات انھیں دیکھ کر

برانگیختہ ہوجائیں تو اس صورت میں ناممکن الحصول عورتیں بن جاتی تھیں۔جنھیں دیکھ کر بجنوری جیسا شاعر

ایک المناک انداز میں یہ کہہ اٹھتا تھا۔’مجھے کیا پتہ ہے کہ اب کہاں،تجھے کیا خبر گئی کس کی جاں۔“۳

ایک دوسرے مقام پر یوں رقمطراز ہیں:

”چنانچہ اس نظم کا شاعر جب ایک مغربی عورت کو دیکھتا ہے تو بجنوری کی طرح یہ نہیں کہتاکہ ”ترے عشق میں

ہوں مبتلا“بلکہ ایک اور ہی ڈگر پر چل پڑتاہے۔“4

میراجی شاعر کی نبض پکڑ کر چلتے ہیں اور اپنی یہ گرفت کسی بھی لمحے سست نہیں پڑنے دیتے۔وہ شاعر کے مافی الضمیرکی تفہیم کے لیے نظم کے بین السطور میں صبر و تحمل اورایک دانشورانہ خُو کے ساتھ اترتے ہیں جس سے پوری نظم ایک نئی اور جداگانہ معنویت سے ہمکنار ہوجاتی ہے۔  کسی نظم کے تجزیے میں ان کی نظر سب سے پہلے نظم کی تحریک پرپڑتی ہے یعنی شاعر نے جس جذبے کے زیر اثر وہ نظم کہی ہے۔پھر وہ تحریک کے رموز واسرار کے پردوں کو قاری کے لیے وا کرتے ہیں۔ خود شاعر ہونے کی وجہ سے ان میں تجزیہ نگار کی جگہ کبھی کبھی خود ایک شاعر ہوتا ہے جو شعر میں پیش کردہ نفسیات کے سلسلے میں ایک شاعر کے نقطہ ئ نظر سے ان امور کی تشریح کرتاہے۔اس لیے یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ وہ شاعر کی غیر شعوری طور پر وکالت بھی کرتے ہیں،’ملاحظہ کیجیے:

”وہ اپنے احساسات میں ڈوب جانے کے بجائے اس عورت کے خیالات پر غور کرنے لگتاہے۔وہ یہ سوچتا

ہے کہ اس وقت اس عورت کا انداز نظر ہماری ذات،ہمار ے حالات اور ہمارے ملک کے متعلق کیا ہوگا“۔5

میراجی ’اجنبی عورت‘ کے تجزیے میں مشرق ومغرب کے اندرونی تضادات کے باوجود مشرق میں روح کو طمانیت بخشنے والی قوت محسوس کرتے ہیں جس میں جھجک ہے۔ ان کی نظر مشرق کے حرم سراؤں میں محصور ومقید خواتین کی طرف بھی جاتی ہے جو اپنی پابند زندگی کی وجہ سے مغربی عورت کے لیے سکون فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

مذکورہ نظم کے تجزیے میں میراجی بیک وقت ایشیااور یورپ دونوں براعظموں کی سیر کرتے ہیں اور دونوں جگہوں کے کرداروں کے نفسیاتی پیچ و خم کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مغرب کی عورت جو ہنگامہ وآشوب سے تنگ آکر مشرق کی طرف یک گونہ سکون کے لیے آنا چاہتی ہے اسے یہاں آکر کوئی سکون نہیں ملتا۔کرداروں کی نفسیاتی تحلیل میراجی کے تجزیوں کی نمایاں خوبی ہے۔خواہ وہ ’اجنبی عورت‘ ہو یا ’خود کشی‘یا ’داشتہ‘وغیرہ ان نظموں میں وہ کرداروں کی نفسیاتی تحلیل وتجزیہ  کے ذریعہ قاری کے لیے کرداروں کی شخصیت سے ایسے باریک پردے اٹھاتے ہیں جن کی ہمت اس فن کا کوئی ماہر ہی کرسکتاہے۔

’خودکشی‘ میں متکلم کلرکی کی زندگی سے اکتا کر کلرکی سے آزاد زندگی گزارنا چاہتاہے۔جملہ ئ معترضہ کے طور پر عرض کردوں کہ یہ راشد کی وہی نظم ہے جس کے ایک مصرع’کود جاؤں ساتویں منزل سے‘ کے متعلق حیات اللہ انصاری نے اپنی کتاب ’ن م راشد پر‘ میں کہا تھاکہ”لاہور اور کلکتے میں تو سات منزل کی عمارت نہیں ہوتی تو راشد یہ کس جہان کی باتیں کر رہے ہیں یعنی خیالی دنیا کی باتیں“اسی مصرعہ کومیراجی کے تجزیے نے کہاں سے کہاں پہنچادیا۔وہ نظم میں ’ساتویں منزل‘کو ملازمت کا ساتواں سال تصور کرتے ہیں اور خود کشی کو’اقتصادی خود کشی‘تو دیکھا آپ نے میراجی کے تجزیے نے شاعر کی حس کو کس لطیف انداز میں گرفت میں لیا ہے۔دراصل میراجی کے تجزیوں میں کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو حل کرنے کا جو سلیقہ ہے وہ ان کے تجزیوں کو خاصے کی چیز بنادیتاہے۔

وہ اپنے تجزیے میں شاعر کی شخصیت کے تار و پود کو بنتے بگڑتے بھی دیکھتے ہیں۔نظم کے مختلف ٹکڑوں کی مدد سے شاعر کے کردار اور اس کی ذہنی نشو و نما میں نشیب و فراز کے مختلف مراحل کا اندازہ بھی کرتے جاتے ہیں مصرع:’ہوچکی سینے میں بیدار وہ دل سوزی بھی‘ لکھتے ہیں:

”اس ٹکڑے سے شاعر کے ذہنی نشو و نما پر روشنی پڑتی ہے۔یعنی وہ ایک ایسا مرد ہے جس کی جنسی تسکین ہر پہلو سے  مکمل نہیں ہوئی۔جس کی زندگی میں پہلی بار ایک ایسی عورت آئی ہے جو نہ محض گھر کی سیدھی سادی بی بی ہے نہ بازار کی چتُر رنڈی“6

سماج میں ’داشتہ‘کا کردار ایک خاص پس منظر کو آشکار کرتاہے۔پوری نظم کا فکری محور ماسوائے اس کے کیاہے کہ شاعر ’داشتہ‘ کے پاس جاتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے صرف تھوڑی اقتصادی خوشحالی دے گا اور کچھ نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ میراجی بین السطور میں اترتے ہوئے اس کے معنی برآمد کرتے ہیں۔انہیں نظم کی نمایاں خوبی اس کے کرداروں میں نظر آتی ہے ”ایک اس کی غمزدہ ہیروئن جو نہ گھر کی بی بی ہے،نہ اسکول یا کالج کی آزادہ رو لڑکی،نہ محض رنڈی بلکہ عورت کے تصور کی سماجی دھنک میں کسی درمیانی رنگ کی ترجمان اور دوسرے اس کا بزدل ہیرو جو اپنی عشرت پرستی کو تسکین دے سکتاہے“بلکہ پوری نظم کے تجزیے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ”اس نظم کا مرد ایک عام مرد ہے۔مگر اس نظم کی عورت ایک خاص عورت ہے“۔

زیادہ دنوں کی بات نہیں جب عورتوں میں اپنے حقوق اور مساوات کا احساس جاگا۔ورنہ ادب میں عورتیں یا تو شہزادیاں تھیں یا کوٹھے والیاں درمیان کی کوئی جگہ نہ تھی لیکن عورتوں نے سماجی و سیاسی اور ادبی ہر سطح پر جس طرح اپنی حیثیت سے تسلیم کرائی ہے اس نے ادبا و شعرا کے طرز احساس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کردیا ہے۔یہ نیا احساس اپنی خوشبو عصری حسیت اور سماجی آگہی سے کشید کرتاہے اس کا انطباق اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک کے بعد سے ادب پر خصوصاً (شعوری طور پر برتے جانے کی وجہ سے)کیا جاسکتاہے۔

’رقص‘ کے کردارکی نفسیات کی تحلیل میں بھی میراجی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”ایک ایسے انسان کا تصور جس کے ذہن پر تہذیب و تمدن کی الجھنوں کا اثر ذرا حد سے زیادہ ہواہو جو کسی بات سے جی بھر کر پورے طو رپر لطف اندوز نہ ہوسکتا ہو،ایک نقطے سے ہٹ کر دوسرے نقطے تک جاتا ہو اور پھر دوسرے سے تیسرے تک“

بادی النظر میں قاری اس نظم سے صرف اس قدر فیض اٹھا تاہے کہ شاعرزندگی کی کلفتوں سے اکتاکر اس کا جوا گلے سے اتار کر تھوڑی دیر ایک خواب سی زندگی بتا نے کی خواہش رکھتاہے۔ کرداروں کی نفسیاتی تحلیل میں میراجی کی ذہانت کا اساسی رول ہے۔نفسیاتی پیچیدگی کی گتھی کو سلجھانے کے لیے جس ذکاوت کی احتیاج ہوتی ہے میراجی کی شخصیت اس سے آراستہ تھی۔وہ کردار کے اندرون میں اتر کر اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

دوسری بات جو میراجی کے تجزیوں کو منفرد بناتی ہے وہ ان کے عروض کی سمجھ ہے۔ایک مسلم الثبوت شاعر ہونے کی وجہ سے شعر کی صوتی آہنگ اور اس کی نغمگی کے اصولوں سے انھیں مکمل آگاہی ہے۔ اس لیے اپنے تجزیوں میں نظم کے اوزان و بحور کے ذکر سے نظم کے بہاؤ اورموسیقیت کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ نظم ’رقص‘کی بحر کے متعلق لکھتے ہیں:

”بنیادی رکن فاعلاتن ہے جھٹکے دیتا ہوا اورہرگردش کو پورا کرتاہوا رکن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن ’فاعلا‘ میں بہاؤ ہے  او ر’تن‘ کا ٹکڑا اس بہاؤکو روک کر گردش کے دوسرے آدھے دائرے میں لے جاتاہے۔متواتر جب یہ پورا رکن دو  یا چار بار چلتاہے تو اس کے بہاؤکا زور بڑھ جاتاہے اور آخر میں فاعلن یا فاعلات کا چھوٹا رکن روک کا کام دیتا ہے“۔7

آپ نے بھی اندازہ کیا ہوگا کہ انھوں نے کتنی سائنٹفک اور سلیس طرز گفتار میں نظمیہ آہنگ کی وضاحت کی ہے۔میراجی کی نظرنظم کے داخلی حسن کے ساتھ صوتی آہنگ سے متشکل ہونے والے اس کے خارجی حسن پر بھی رہتی ہے۔اس طرح وہ تجزیے کے ’پل صراط‘ سے صحیح سالم گزر جاتے ہیں۔

میراجی اپنے تجزیوں میں کرداروں کی نفسیاتی گتھیوں کو سلجھانے کے علاوہ نظم کی زیادہ بہتر تفہیم کے لیے اس کی قرأت کے اصول بھی بتاتے ہیں۔کون سا بند کس مقام پر آئے گا جس سے مطلب کی ادائیگی میں آسانی ہوگی انہیں خوب معلوم ہے۔در اصل یہ اس بات کو آشکار کرتاہے کہ وہ بحیثیت شاعر نظموں کے تخلیقی بُنت کے پیچیدہ تر مراحل سے آگاہ ہیں۔ ’زنجیر‘ کے تجزیے میں لکھتے ہیں:

”نظم کے دوسرے اور تیسرے بند کا مفہوم نسبتاً آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لیکن پہلا بند ذرا الجھن میں ڈالنے

والاہے،دوسرے بند میں پیلہ ئ ریشم اور تیسرے بند میں ہنگام آورد کے معنی جلد ہی متعین ہوجاتے ہیں لیکن

پہلے بند میں سنگ خارا،خار ِ مُغیلاں،دوست وغیرہ کے استعارے ذرا مبہم دکھائی دیتے ہیں اگر مفہوم کا تسلسل

قائم کرنا چاہیں تو دوسرے بند کو پہلا اور پہلے کو دوسرا بند سمجھ کر پڑھنا چاہیے“۔8

میراجی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ’زنجیر‘ کے تجزیے میں ایک گوشوارہ بھی دیا ہے جس میں مصرعوں کا مجوزہ شمار اور موجودہ شمار کے ذریعے مزید وضاحت کردی ہے۔قرأت کے مکمل پروسیس کی جو کامل تصویر ان کی نگاہوں میں ہے اسے وہ قاری تک باحسن طریق پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔’زنجیر‘پر تبصرہ کرتے ہوئے میراجی لکھتے ہیں:

”سیاسی لحاظ سے غالباً راشد کی یہ پہلی خالص نظم ہے،اگر چہ اس میں فرنگی عورتوں اور ان کے حسنِ روز افزوں کی زینت کا احساس اس کی جنسی رغبت کی غمازی کرتاہے اور یہ خیال ہمارے دل میں لاتا ہے کہ شاید اسی قسم کی عورتوں کے حضور میں ناکامی ہی شاعر کے لیے اس للکار کی تحریک کا باعث ہوتی ہے لیکن اگر یوں ہے بھی تو یہ نفس ِ لاشعوری کی بات ہے“9

یہ امر قابل حیرت و استعجاب ہے کہ میراجی راشد کی طرف جو نشانہ سادھ رہے ہیں وہ خود بھی اسی کے سحر میں گرفتارہیں۔ورنہ یہ اتفاقِ محض نہیں کہ ماسوائے نظم’خود کشی‘ کے جتنی نظمیں ہیں ان میں عورت کا ذکر ضرو ر ہوا ہے۔ خواہ وہ ’داشتہ‘ ہو یا ’اجنبی عورت‘ یا ’رقص‘ یا ’زنجیر‘ یا پھر خود ان کی نظم ’سہارا‘ ان جملہ نظموں میں عورت یا تو اجنبی ہے اور مغربی دیار سے ہے یا دیسی ہے لیکن اجنبی ہے جس سے بوس و کنار اور اس کے پہلو میں کچھ فرصت کے لمحات گزارنے کی حسرت پیش نظر ہے۔

میراجی کے تجزیوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے متن کے بین السطور میں اتر کر اس کی مختلف جہات کو اپنی گرفت میں لینے کی جو جرأت رندانہ کی ہے وہ دوسرے لوگوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ نظم کے منتشر اجزا کو منطقی ربط کے ساتھ خیال کی ایک وحدت میں پیش کرنے پر قدرت کاملہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی نظم ’سہارا‘کے تجزیے میں شعری ساخت کے داخلی پہلوؤں پر نظر کی ہے۔ دیگر نظموں سے قطع نظر یہاں وہ نظم کے خارجی پہلو کو زیر بحث نہیں لاتے بلکہ اپنی پوری توانائی نظم کے اندرون میں فکری فضائے بسیط کو وا کرنے میں صرف کرتے ہیں۔مذکورہ نظم کے تجزیے میں ان کا مرغوب طریقہ ئ کار موجود ہے یعنی علیحدہ علیحدہ بندوں کو خیال کی ایک اکائی میں پروکر پیش کرنا جو اس کا غماز ہے کہ تجزیہ نگار ذہن میں نظم کی داخلی ساخت کی بہتر تنظیم رکھتا ہے۔

میراجی پہلے پوری نظم کے خیال کو گرفت میں لاتے ہیں اس کے بعد ایک عمومی رائے پیش کرتے ہیں۔ مصرع در مصرع نظم کی تہہ میں اترنے کی منزل اس کے بعد آتی ہے۔خیال کی ارتقا پذیری کے ساتھ ساتھ کرداروں کی شخصیت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے وہ قاری کو ایک نئی معنویت و بصیرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔کرداروں کا بتدریج ارتقا بھی ان کے تجزیہ کا خصوصی مرکز نگاہ ہوتاہے۔عمومی رائے کی مثال کے طور پر نظم ’سہارا‘کے متعلق میراجی کی یہ سطریں دیکھیں:

”اس نظم میں شاعر کے مد نظر دوعورتیں ہیں،ایک جس سے وہ مخاطب ہے اور دوسری جو اس کی ذہنی فضائے بعید میں کھو چکی ہے۔پہلی اس کے نفس کے ’قصر سیمگوں‘ میں ایک فانوس کی صورت آویزاں ہے۔اسی کی رغبت کے  ”زہرغم کو پی کر وہ اب تک اپنی زندگی سے بھاگتا پھر رہا ہے۔یہاں تک کہ اس کے ’رشتہئ عہد تخیل“ میں بھی ایک

گرہ پڑگئی۔گویا اس کے لیے نسائی پیکر سے لذت کے حصول کی تحریک بھی ایک جامد حقیقت بن کر رہ گئی۔

لیکن اس نظم سے ظاہر ہوا کہ اس کی تشنہ لبی اور محرومی کی زندگی میں عشقی توجہ کا ایک نیا مرکز پیدا ہواہے۔“10

میراجی کی فلسفیانہ موشگافی کی تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ جب تم بھی اداس ہو اور میں بھی تنہا ہوں تو کیوں نہ مل کر غم غلط کرنے کی کوئی سبیل نکالی جائے تاکہ ہماری تمہاری تشنہ لبی و محرومی کو لذت ِجاوداں کا آشیانہ مل جائے۔

عمومی تبصرہ کے بعدمیراجی شعور ی طورپر نظم کو اجزا میں منقسم کرکے اس کی تفہیم کرتے ہیں۔کسی فن پارے کے تجزیے کے لیے یہ طریقۂ کار یقیناً لائق تحسین ہے۔میراجی کے تقریباً سبھی تجزیوں میں طریقہ ئ کارکی معنی خیزی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ان کے تجزیوں سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ تخلیقی زرخیزی،تنقیدی ژرف نگاہی،تجزیاتی بصیرت،عصری آگہی اور شعور و وجدان کی بیش بہا دولت سے مالا مال تھے۔ان کے تجزیے گو کہ مختصر ہیں لیکن اپنی وقعت و اہمیت کے لحاظ سے باعثِ صدافتخار ہیں۔

 

حواشی

1۔میراجی ایک مطالعہ،ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص 28

2۔ ’میراجی کی نثر‘مشمولہ’میراجی ایک مطالعہ‘ صلاح الدین احمد، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص409

3۔ن۔م۔راشد شخصیت اور فن،مرتبین ڈاکٹر مغنی تبسم،ڈاکٹر شہریار،ماڈرون پبلشنگ ہاؤس،دریا گنج دہلی،1981ء ص 133

4۔ایضاً،ص134

5۔ایضاً ص 135

6۔ایضاً ص 143۔144

7۔ایضاًص 147

8۔ایضاً ص 152

9۔ایضاً ص153

10۔ ’اپنی ایک نظم ’سہارا‘کا تجزیہ“ میراجی مشمولہ’میراجی ایک مطالعہ‘،ڈاکٹر جمیل جالبی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،1991ء ص496

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

میراجینوشاد عالم
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو کا محسن : وقار رضوی – محمد اویس سنبھلی
اگلی پوسٹ
پرومیتھیس – ڈاکٹر قمر جہاں

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں