اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انکار کی کوئی صورت نظر آتی ہے کہ ہم نے اپنے تحفظ اور بقا کے لیے زندگی کے تمام میدانوں میں خوب کام کیے خوب زور آزمائی کی۔ اور ابھی بھی کرر ہے ہیں اور آئندہ بھی جہد مسلسل کا یہ عمل تحرکات حیات میں جوش اور جنوں شعاری پیدا کرنے کےلیے کرتے رہیں گے غرض اس عزم مصمم کا پاس و لحاظ ہر صورت باقی رہے گا،زمانے کے جو بھی چیلنج اور حالات ہوں۔
جدو جہد کی اس طویل داستان حیات پر ملت کےایک ایک فرد کو دل سے مبارک باد پیش ہے تاہم آپ اس پر بھی سنجیدگی سے غور کیجیے کہ سر زمین بر صغیر اور متحدہ ہندوستان پر آپ کی حیثیت کیا تھی اور اب کیا ہے۔ جب آپ یہاں تشریف لائے تو فاتح قوم کی حیثیت سے آپ کا یہاں ورود مسعود ہوااور صدیوں بہ حیثیت فاتح قوم کے آپ یہاں کے سیہ و سپید کے مالک بن کر عزت اور سربلندی کے ساتھ رہے کسی نے آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کی آپ کو حقیر اور کمتر سمجھنا بلکہ دوسرے درجہ کا شہری سمجھنا تو دور کی بات۔ حتى کہ جن راستوں سے آپ کا گزر ہوتا تھا لوگ پلکیں بچھا کر استقبال کرتے تھے۔ آپ کی جانبازی اور ہمت سے زیادہ لوگ آپ کے اخلاق اور کردار سے متاثر تھے۔ لیکن آج کوئی یہاں آپ کے وجود کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ ہر دن آپ کی بقاء خطرے سے گزر تی ہے۔ اور آپ کے وجود پر اس خطرے کا سوالیہ نشان ثبت ہوجاتاہے۔
جب تک ہم ان فاتح اور اپنے ان نڈر حکمرانوں کی زندگی کے افکار و احوال کا مطالعہ نہیں کریں گے۔ اور ان کے زندہ اور جاوید کارناموں سے واقف نہیں ہوں گے ان کے حوصلے ہمارے جذبات کے پابند نہیں ہوں گے تو مایوسیوں کے سیہ بادل ہمارے سروں پر تاریکیوں کی طرح چھائے رہیں گے۔ اور شاید ہی ہم صدیوں بھی احساس کمتری کے اس بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہو پائیں جو ہمارے جذبات اور احساسات پر بھاری چٹان کی مانند رکھا ہوا ہے۔
ایک مسلمان کا اصل مسئلہ روزی روٹی نہیں۔بلکہ اس کی ترجیحات میں ایک مکمل نظام حیات اور ضابطہ حیات ہے۔ جس میں ایمان اور عقیدہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی اور معاشرتی اور اپنی نسل نو کی تعلیم و تربیت اور پروش اور فکر و شعور کی پختگی۔ کیونکہ یہ تمام وہ بنیادی عناصر اور فطری حقوق ہیں جو مسلمان کی زندگی اور حیات میں بنیاد کے پتھر کی مانند حیثیت رکھتے ہیں ۔بلکہ ان تمام مذکورہ مشمولات کے بغیر ایک مسلمان کی زندگی بے حس اور بے عقل جانور کی طرح ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ جب تک ہم پوری ذمہ داری اور احساس کے ساتھ اپنی ترجیحات طے نہیں کریں گے اور ایک پلاننگ یا خاکہ اپنے ذہن میں ان ترجیحات کے حل اور ان کی رسائی تک پہنچنے کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے تو اس ملک میں ہماری بقاء خطرات سے دوچار رہے گی بلکہ اس خطرے کا مشاہدہ اور آثار ہر دن اور ہر لمحہ آنکھوں کے سامنے نظر آرہا ہے۔ تاہم اس شدید خطرے کے احساس کے باوجود ہم اپنے بنیادی مسائل کے حوالے سے اور ان پر احتساب سے مکمل بے نیاز ہیں۔
سچ بات یہ ہے کہ بہت سے میدانوں میں احتساب کی اشدضرورت ہے۔خصوصا ایسے مسائل اور معاملات میں جو ہماری اجتماعی زندگی سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اتحادِ ملّت کانفرنس : چند معروضات – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
اگر بغیر غور و فکر کے ہم اپنے مشن اور ان مسائل میں اپنے گمان اور اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھنے کا خیال اور گمان کریں گے۔ اور یہ بغیر احتساب اور پلاننگ کے ہوگا ۔توڈر ہےکہ کہیں پھر ماضی کی طرح نقصان نہ ہوجائے.اس لیے پلاننگ ۔احتساب اور لوبی کے ساتھ کام کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جو بھی چیلنج اور مسائل ہیں ان پر گفتگو حال یا مستقبل کی طرف دیکھ کر کر نی ہے۔ وہ غلطیاں جو ماضی میں ہوئی انہیں نظر انداز کیے بغیر ان سے عبرت حاصل کرکے میدان عمل طے کیا جائے۔ بلکہ ان غلطیوں سے سبق اور عبرت حاصل کر کے آئندہ کی حکمت عملی بنا ئی جائے۔ کیونکہ یہ زندہ اور بہادر قوموں کی عادت اور طریقہ میں شامل ہے۔کہ وہ مسائل اور چیلنج کو صرف تقدیر کے سہارے نہیں چھوڑ تی بلکہ اپنے عمل کے زور سے تقدیر کو اپنے حق میں کرنے کی بھرپور صلاحیت اور حوصلہ رکھتی ہے۔
بہر حال احتساب کیا ہے اور کس بات کا کرنا ہے ۔یہ سوال ہم سب کے لیے بڑا اہم ہے اس لیے اجتماعی طور پر سب کو اس سوال کا جواب اور اس کے مشمولات پر غور کرنا ہے۔ اور اس پر بھی سوچنا اور عمل کی دنیا میں لاناہےکہ ستر سال میں کیا کچھ کیا ہے اور کیا نہیں کیا۔کہاں غلطیاں اور چوک ہوئی۔کن کن میدانوں میں کام کرنا تھا اور کہاں کام نہیں کیا۔مسلمانوں کی حالت ستر سال پہلے کیا تھی اور اب کیا ہے۔معاشی استحکام کتنا ہوا ہے۔تعلیمی گراف اس وقت کیا تھا اور اب کیا ہے ۔ملی۔ سماجی سیاسی اور دینی شعور کتنا بیدار ہوا ہے ۔ان سب باتوں پر احتساب کی شدت سے ضرورت ہے لیکن احتساب سے پہلے ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ہم اپنی ناکامی یا غلطی تسلیم کرنے میں سنجیدہ اور متفق بھی ہیں یا نہیں اگر اس سے اتفاق ہے تو پھر احتساب ممکن بھی ہوگا اور آسان بھی اور نتیجہ خیز بھی لیکن اگر اتفاق ہی نہیں تو احتساب اور غور فکر کا عمل بے کار اور لاحاصل ثابت ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں اتحادِ ملت کانفرنس:کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟ – محمد علم اللہ )
(جاری)
(نوٹ: یہ مضمون جناب علم اللہ صاحب کے فیس بُک سے لیا گیا ہے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

