معیار نقد / ڈاکٹر نسیم ابن صمد – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اردو کے علمی اور ادبی حلقوں میں نسیم ابن صمد کا نام اہم ہے۔ان کے مضامین مختلف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہو کر منظر عام پر آتے رہے اور قارئین سے داد و تحسین وصول کرتے رہے۔ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا تازہ ترین مجموعہ’معیار نقد ‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ اصناف شاعری سے متعلق ہے جبکہ دوسرا اصناف نثر سے۔پہلے حصے میں کل نو مضامین ہیں اوردوسرے حصے میں کل چھ مضامین۔اس طرح اس میں کل سولہ مضامین شامل ہیں۔کتاب میں شامل پہلا مضمون ’اردو غزل اپنے ارتقائی مراحل کے آئینے میں ‘ ہے۔غزل اپنے ابتدائی مراحل میں جس تہذیب و ثقافت سے بہت زیادہ متاثر تھی اس کی روشنی میں اس کے مآ خذ ،موضوعات،ایرانی تہذیب و ثقافت کے اثرات کے ساتھ غزل کی بنیادی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے اس کے ارتقائی مراحل کا تنقیدی محاکمہ کرنے کی کو شش کی ہے۔غزل کے ارتقاء میں صوفیاء کرام کا رول ،اس عہد کے مسائل، شاعر کے داخلی و خارجی احوال و کوائف کی روشنی میں جائزہ لینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔دوسرا مضمون ’خدائے سخن —میر‘ ہے۔کلاسیکی شعرا میں میر کی اہمیت،ان کی شعری معنویت،ان کے موضوعات و مسائل،طرز اظہار، سوز و گداز،حزن و یاس کے علاوہ ان کے تجربات و مشاہدات کا عکس ان کی شاعری میں کس حد تک نمایاں ہے ،اس کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے اشعار کی روشنی میں ان کے مقام و مرتبے کے تعین کی کوشش کی ہے۔تیسرا اور چوتھا مضمون جگر مراد آبادی کے حوالے سے ہے۔جس میں جگر کے شعری سرمایے کی روشنی میں انھیں ایک’جدت پسند شاعر‘ثابت کرنے اور ان کی ’شاعرانہ عظمت‘ کو معاصر شعرا میں کے مابین نشاندہی کی سعی کی ہے۔اس کے علاوہ جگر کی زبان ،لب ولہجہ،طرز اظہار اور اسلوب کی روشنی میں ان کی انفرادیت کو اجاگر کرنے بھر پور کوشش کی ہے۔پانچواں مضمون’فراق کی شاعری کا رنگ و آہنگ‘ہے۔اس میں فراق نے غزل کے سلسلے میں جو موقف اختیار کیا ہے مثلاً’’ غزل انتہائوں کا سلسلہ ہے۔اگر تمام فنون لطیفہ احساس حیات و کائنات کا عطر ہیں تو غزل اس عطر کا عطر ہے۔غزل کا ایک ایک شعر کہنے میں شاعر اپنی پوری شخصیت و صلاحیت کو صرف کر دیتا ہے۔توجہ کا یہ ارتکاز مصروفیت و محویت و یکسوئی کا یہ عالم عقلی و منطقی طور کی مسلسل نظم گوئی میں نہیں ہوتا۔غزل کا ہر کامیاب شعر جمعیت خیال کی مکمل مثال ہوتا ہے۔‘‘ان تمام افکار و نظر یات کی روشنی میں فراق کی شاعرانہ عظمت ، ان کے تنقیدی زاویہ نگاہ کی روشنی میں مدلل گفتگو کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ چھٹا مضمون’مہجور:شخصیت و فن کے آئینے میں‘ ساتواں مضمون ’دھوپ چھائوں کا شاعر:کمل‘ اور نواں مضمون’کوکب غزل فردوس گیاوی‘ہے۔یہ تمام مضامین وہ ہیں جو شاعر اور ان کی شعری تخلیقات سے متعلق ہیں،جن میں شعرا کے کلام کی روشنی میں افہام و تفہیم کی سعی کی گئی ہے۔ایک شاعر دوسرے شاعر سے ممتاز اور مختلف کیوں ہے،اس کے اسباب و علل کیا ہیں،ان کی شاعر ی کی نوعیت کیا ہے۔ان سب سوالوں کی روشنی میں سمجھنے کی کامیاب کو شش کی گئی ہے۔کتاب میں شامل دسواں مضمون’ترقی پسند مارکسی اردو ادبی تحریک کا زوال‘ہے۔مصنف نے ترقی پسندتحریک جس نے ملک و قوم کے مسائل حیات، تغیر پذیر معاشرہ،عوامی جد وجہد،معاشرتی اور سماجی اقدارو روایات کی تبدیلی،مظلوموں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی اور ان کے اندر زیست کا مادہ پیدا کیانیز خواب غفلت سے بیدار کرکے عسکریت و ملوکیت اور سامنتی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا حوصلہ بخشا۔لیکن اس کے زوال کے اسباب کیا تھے کہ ایک منظم تحریک اختلاف، انتشار،بد نظمی اور جمود و تعطل کا شکار ہوکر رہ گئی ۔صاحب کتاب نے سب کا تاریخی حوالوں کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ کرنے کی کو شش کی ہے۔لیکن اس کا عنوان اگرصرف’ترقی پسند ادبی تحریک کا زوال‘ ہوتا ،تو زیادہ بہتر تھا،اس میں ’مارکسی اردو ادبی‘ جوڑنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔اصناف نثر میں سے دوسرا مضمون ’اردو ادبی تنقید اور سید احتشام حسین‘ہے۔جس میں سید احتشام حسین کے ترقی پسند انہ نقطۂ نظر کی روشنی میں ان کے نظریات کو پیش کرتے ہوئے ایک مختصر تجزیہ کیا ہے ،جس سے ان کی تنقیدی بصیرت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔دوسرے حصے کا تیسرا اور چوتھا مضمون اردو کے اہم فکشن رائٹر احمد صغیر کے افسانوں اور ناولوں کی روشنی میں ان کے فنی و فکری پہلوئوں کو پیش کیا گیا ہے۔’احمد صغیر کی افسانہ نگاری (منڈیر پر بیٹھا پرندہ کی روشنی میں)‘ اور ’احمد صغیر کی جذبات نگاری(دروازہ ابھی بند ہے کی روشنی میں)‘مصنف نے ان دونوں مضامین کے ذریعہ احمد صغیر کی تخلیقی جہات اور اس کے وسیع کینوس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔اس کے علاوہ احمد صغیر نے زندگی کو کس ڈھنگ سے دیکھا اور برتا ہے،زندگی کے سلسلے میں ان کا مطمح نظر اور زاویہ نظر کیا ہے؟ان کا مشاہدہ اور تجربہ کتنا گہرا ہے؟وہ قاری کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں؟مذکورہ تمام حوالوں سے ان کی تخلیقات کو سمجھنے کی حتی المقدور سعی کی ہے۔اس کے علاوہ’فساد کے افسانے‘ اور ’ناول:آخر کب تک کا تجزیاتی مطالعہ‘ بھی اہم ہے۔مذکورہ بالا مضامین کے مطالعے کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مصنف کا تنقیدی شعورایک مثبت روشنی فراہم کرتا ہے اور قاری کو مطالعے کی دعوت بھی دیتا ہے۔کتاب کا ٹائٹل بھی دیدہ زیب ہے ۔قیمت بھی مناسب ہے البتہ ایک بات جو کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت زیادہ محسوس ہوئی وہ پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں۔اگر اس کو درست کر لیا جائے تو مجموعی اعتبار سے کتاب اچھی ہو جائے گی۔امید ہے کہ علمی اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔ (یہ بھی پڑھیں اماوس میں خواب : جبرکے تسلسل میں روشنی کااستعارہ – نورین علی حق )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

