اماوس میں خواب سے پہلے حسین الحق کی شناخت تہذیبی اورثقافتی تصادم کوپیش کرنے والے افسانہ نگار و ناول نگارکی حیثیت سے تھی۔ اماوس میں خواب سے ان کی یہ شناخت ذراتبدیل ہوتی نظرآتی ہے۔یہاں تہذیبی تصادم اورثقافتی اتصال توہے۔لیکن ناول خوداس دنیاکے ثقافتی اورتہذیبی تغیرات سے تحیرکانگارخانہ بن گیاہے۔ ہرآن بدلتی ہوئی تہذیبی صورت حال سے بناگیاناول تہذیب کی مسلسل چلتی ٹرین ہے، جس کے مسافرکسی اسٹیشن پراتررہے ہیں اور چڑھ رہے ہیں۔یہاں وقت کا تصوربہت مضبوط اورمستحکم ہے اور تصوروقت کے استحکام کے ساتھ تہذیبیں بدل رہی ہیں۔وقت کے خوردبینی تصورکوپیش نظررکھ کرناول کاراوی شعورکی رومیں بہتا چلا جاتاہے اورتہذیبی نے رنگیاں اوربو العجبیاں سپردقرطاس ہوتی چلی جاتی ہیں۔یہی تہذیبی نے رنگی اسماعیل کو اپنی بندھن میں باندھ کرماں باپ،بھائی بہن،بیوی بچے کے فساد میں کام آجانے کے بعدپٹنہ اپنے ماموں کے یہاں لاتی ہے اوراسی کی کرشمہ سازی نائلہ کوماں باپ کے بعدرمیش کی بانہوں میں حمائل کر دیتی ہے۔بھیونڈی سے پٹنہ اورپٹنہ سے گیا،اورنگ آباد،جہاں آبادہرجگہ تہذیبی تبدیلی غالب ہے۔فیضان رسول میرانی،جوخانقاہی ماحول میں پلا بڑھا ہے،اس کی تہذیب مختلف ہے،اسماعیل کی مختلف۔فیضان رسول کی تہذیب کی تہہ میں رواداری، تحمل،برداشت اورصلح کل کا نظریہ توہے لیکن وہ ان سب سے آگے بڑھ کررمامیں دلچسپی بھی رکھتاہے۔قدریں کھورہی ہیں اوران قدروں کی واپسی کاامکان نظرنہیں آتا۔تہذیب کی تبدیلی کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ ماضی گذرچکاہے،حال بے حال ہے اورتہذیبی قدروں کامستقبل نامعلوم ۔ایسی صورت حال میں تہذیب کیاانسان بھی عدم شناخت کاحصہ بنتاجارہا ہے اوراس صورت حال سے صرف فرد متاثر نہیں ہے۔پوری تہذیب متاثرہے،پوری قوم متاثر ہے، کہناچاہیے کہ پوراہندوستان متاثر ہے۔ ایک قوم اپنی شناخت کی بقا اور واپسی کے لیے سراپا احتجاج ہے تودوسری کی روشنی اپنے ماں باپ کے پاندان کی تلاش میں ہے۔ان تبدیلیوں اور اخلاق کے قتل کے باوجود اسماعیل کو شہرکے غنڈوں سے واسطہ پڑاتو گنگاجمنی تہذیب اورمشترکہ فکری اساس کی وجہ سے بھاٹیہ درمیان میں حائل ہوگیا۔
ناول میں جہاں تہذیبی تصادم ،تہذیبی اتصال اورتہذیبی تغیرپرکافی توجہ دی گئی ہے ۔وہیں اس میں بہت خوبصورتی کے ساتھ قومی یکجہتی اور مشترکہ وراثت کے تئیں جذبۂ بے خودی بھی پیش کیاگیاہے ۔
’’پٹنہ ریلوے اسٹیشن پروہ بھوچکا سارہ گیا،اسٹیشن کے باہرذراسی دوری پرمسجد اور مندر دونوں اپنی شان وشوکت کے ساتھ موجود تھے۔وہ آگے بڑھاتو مسلمانوں اورہندوؤں کی دوکانیں بھی پاس پاس نظر آئیں۔اسماعیل کاجی خوش ہوگیا،اسے اپناعلاقہ یادآگیا،علاقے کی یاد کے ساتھ جے رام چاچا،ست نرائن بھائی،اس کایارجانی اکشے،کون کون نہ یادآگیا۔سب چھوٹ گئے ۔‘‘(۷۹)
اماوس میں خواب ایک ایساناول ہے،جس میں واقعات وجزئیات کودرج کرتے ہوئے انصاف کادامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیاگیاہے۔ اگرکسی مخصوص قوم کی شدت پسندی دکھائی گئی ہے تودوسری طرف کی شدت پسندی بھی اسی انصاف کے ساتھ پیش کی گئی ہے ۔تہذیبی قدریں دکھائی گئی ہیں توکسی ایک قوم کی نہیں ہندوستان کی اکثریت کی تہذیبی قدریں پیش کی گئی ہیں۔مندرجہ بالااقتباس کوبھی غورسے دیکھاجائے اورانصاف وناانصافی کی بات کی جائے تو بہت سی باتیں ہوسکتی ہیں ۔چوں کہ پہلے پٹنہ ریلوے اسٹیشن کے باہرپیپل کادرخت تھا،اب ایک پرشکوہ مندروہاں براجتاہے۔مسجدسڑک پارکرکے غیرسرکاری زمین پرہے،یعنی وہ جگہ بہرحال مسجدکی ہی ہے،لیکن مصنف قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں۔ایسی باتیں کرتے ہیں،جس سے مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی بقا ممکن ہوسکے ۔ہندوستانی امن ومحبت کی عکاسی ہوسکے۔ یہ ناول یک طرفہ بات نہیں کرتا۔احساس سودوزیاں پیش کرتا ہے۔ناول سستی جذباتیت کی تشہیرنہیں ہے۔صدیوں کی مشترکہ وراثت اور ایک دوسرے کے غم میں برابرکی شراکت کوپیش کرتاہے۔اگرکوئی کسی فسادسے متاثرہے تواس کایہ مطلب نہیں کہ پوراہندوستان فسطائی ہوگیا، ناول یہ مان کرچلتاہے کہ اچھائی اوربرائی کاکھیل ہمیشہ سے جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا ۔کچھ لوگ غیرسماجی اورامن وقانون کے دشمن ہوسکتے ہیں ۔لیکن ہندوستان کی اکثریت آج بھی مشترکہ تہذیب کی ضامن ہے ۔(یہ بھی پڑھیں ’اماوس میں خواب ‘ قربانی کی انوکھی داستان – ابوحذیفہ )
’’اورپھرعجیب سی بات ہوئی۔انیل شرمانے اسماعیل کاپیرپکڑلیا۔اسماعیل مجھے معاف کردو۔
ارے ارے!یہ کیاپاگل پن ہے؟کس بات کی معافی؟اسماعیل نے اچنبھے کے عالم میں بہت تیزی سے اپنا پیر چھڑایا۔
اسماعیل !انیل نے پھرپیرپکڑلیے۔مجھے فیضان نے سب بتادیا،جوکچھ تم پربیتا،مجھے لگتاہے یہ سب میں نے کیا،میں اپرادھی ہوں، مجھے چھما کردو،مگرمجھ سے ڈسٹینس مینٹین مت کرو۔
آئی مس یو!
انیل کی آوازبھراگئی تھی،اب اس کاایک ہاتھ اسماعیل کے کندھے پرتھا۔
مدتوں بعداسماعیل کواس کایارجانی،اکشے یادآگیا۔
جانتے ہو انیل؟میراسب سے اچھادوست اکشے تھا۔وہ بھی ماراگیا،ہرشریف آدمی ماردیاجاتاہے۔اتنا کہتے کہتے اسماعیل کی آواز آنسوؤں میں ڈوب گئی۔
گنگاپرشام جھک آئی تھی۔‘‘(۹۳)
انیل شرمابھیونڈی فسادکامجرم نہیں۔بھیونڈی یاممبئی سے اس کاکوئی تعلق بھی نہیں،پھروہ کیوں معافی مانگ رہاہے۔وہ خودکوکیوں مجرم مان رہاہے ۔ناول نگارجذبات سے نہیں کھیل رہاہے ۔عقل وہوش سے کام لے رہاہے ۔ایک پیغام ہے،جوفسادات کے مجرموں کی قوم کو ان سے الگ کررہاہے ۔تاکہ مشترکہ تہذیبی قدریں باقی رہیں ۔ناول پھریہ بتاتاہے کہ سوال انسانیت اورشرافت کاہے ۔ہندویامسلمان کا نہیں۔ناول نگاریہ بھی بتاناچاہتے ہیں کہ فسادات میں کسی ایک قوم کاہی نقصان نہیں ہوتا۔نقصان شرافت کاہوتاہے،خسارہ ہندوستان کی مشترکہ اورگنگاجمنی تہذیب کاہوتاہے ۔ہندواورمسلمان باقی رہتے ہیںیانہیں لیکن شریف ماراجاتاہے اوریہ شرافت کسی مخصوص مذہب تک محدودنہیں اس کادامن وسیع ہے ۔شرافت اورقدریں توکہیں بھی پائی جاتی ہیں۔قوم اورقومیت،ہندوستان وہندوستانیت اور انسان وانسانیت کااحساس جہاں ہوگا،وہاں قدریں توپائی جائیں گی ۔ناول نگارہندوستان کی ناگفتہ بہ صورت حال میں اردو قارئین کویہ احساس بھی دلاناچاہتے ہیں کہ جب تک ہندوستان میں سیکولرعوام پائے جائیں گے ،تب تک ہندوستانیت ختم نہیں ہوسکتی۔کمپوزٹ کلچرکاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔
’’انہی دنوں فیضان میرانی کے ایک چچاکاانتقال ہوگیا۔وہ بھی کبھی صاحب جائیدادہواکرتے تھے ،مراہاتھی سوالاکھ،مرتے مرتے بھی تقریبا پچاس ساٹھ بیگھہ زمین چھوڑگئے۔مرے توپوراگاؤں ہی نہیںاردگردکاعلاقہ بھی ٹوٹ پڑا،معلوم ہواکہ آدمی بااخلاق تھے اور انگریزوں کے زمانے کے میٹرک پاس۔بڑے زوروں کاکہرام مچا۔پھران کی موت کے چوتھے یاپانچویں دن دیوالی پڑی توبارہ گاؤں کا اندھیرا ویسے کا ویسا ہی رہا،جب کہ دوسرے دیہاتوں میں جلتے چراغوں کی روشنیاں دیوالی کی رات کی خبردے رہی تھیں۔
فیضان!بارہ گاؤں میں کوئی خاص بات ہوئی ہے کیا؟
نہیں تو۔
پھرآج دیوالی کی رات میں اتنااندھیراکیوں؟
او!تم کوتوبتاناہی بھول گیا۔چچاصاحب کاانتقال ہواہے نا۔
بارہ گاؤں والے ہمارے دکھ سکھ دونوں کے شریک ہیں۔ہم دونوں کے یہاں جب بھی کوئی موت ہوتی ہے تومرنے والے کے چالیس کے پہلے ہم دونوں کسی بھی تہوارمیں خوشی کا اظہارنہیں کرتے ۔‘‘(۱۰۷۔۱۰۸)
اسی ہندوستانیت اورمشترکہ احساس الفت ویگانگت کو آج کاہندوستان ترس گیاہے،اسی کی بازیابی کی کوششوں میں ناول اماوس میں خواب ممبئی سے بہار کا سفر کرتاہے اوراسی ہندوستان کو شایدسارے جہاں سے اچھاہندوستاں ہمارا کہا گیا ہے ،اسی تہذیب کے زیرنگیں پرورش پانے والوں کے رویوں اورتہذیب کوگنگاجمنی تہذیب کانام دیاگیاہے۔ اسی کاخواب حسین الحق دیکھتے ہیں۔لیکن یہ خواب اماوس میں انھیں نظرآتاہے۔گھٹاگھنگھوراندھیری رات میں دیکھے ہوئے خواب کوتعبیرملنی مشکل ہے اورحالات یہ بتاتے ہیںکہ نئے ہندوستان میں اس اماوشیاکی رات کومزیدگہرانے اورتاریک ترہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔حسین الحق کی ستریں رات آگے بڑھ کر۷۵ویں سے بھی آگے بڑھ رہی ہے اوران اماوشیاکی راتوں میں اوراس کی تاریکی میں نہ جانے کتنے بے گناہ مارے جاچکے ہیںاورنہ جانے تہذیب کی کتنی پرتیں ادھیڑی جاچکی ہیں،جس بدتہذیبی کواماوس میں خواب میں بارباریادکیاگیاہے۔اس شاہ بانوکوانصاف مل چکاہے ۔تین طلاق پر کی گئی غلطی بزورسدھاردی گئی ہے۔مگرکیایہ بھی تہذیب کے خلاف زورآوری اورشدت پسندی کاکھلامظاہرہ نہیں تھا ؟ ظاہرہے کہ ان سب کے لیے پہلے تہذیبی قدروں کاخاتمہ ضروری ہوتاہے ۔مشترکہ احساس وفکرکی قربانی دینی پڑتی ہے ،جوآج ہورہاہے ۔جتھابناکرکسی فکرکودوسرے طبقے سے منواناآج بھی جاری ہے۔جتھابناکرقانون کولولالنگڑا ہرزمانے میں بنایاگیاہے،تب بھی جب حسین الحق کی عماریاں غروب آفتاب کے بعدواپس آرہی تھیں،تب بھی جب ایک بوڑھی اوربوڑھے کوعلماے اسلام ایک میزپرنہیں بیٹھاسکے تھے،لیکن قانون کوجتھااکٹھاکرکے مجبورکردیاتھااورتب بھی جب شاہ بانوکاحوالہ دے کربزوراپنی تعبیرات و تشریحات کے ساتھ تین طلاق کوقابل سزاجرم قرار دیاجارہاتھا۔اس جتھائیت کاسراغ توصدیوں پہلے سے مل رہاہے لیکن کیا جاہلوں کی بھیڑکے خلاف ایسادانش ورانہ اورغیرجانب دارانہ نریشن (Narration)کہیں اوربھی آج کے ہندوستان میں تخلیق ہوسکتا ہے؟ جذبات انگیزی کسی ایک طبقے کی شناخت نہیں، تہذیب کے اس مندرپرتقریبا۱۹۲۴سے غیرمہذب لوگوں کاقبضہ ہے ۔توتہذیب کی بقاممکن کیسے ہواوردوسری طرف نوجوان صارفیت کے شکارہیں ،جنھیں تہذیب اورکلچرکے بارے میں عمومی طورپرکچھ معلوم نہیں یاوہ خود اپنی ایک الگ طرح کی اور منفردسی تہذیب پیداکررہے ہیں،جس کاذکرناول کے جے این یووالے باب میں ہواہے۔یہاں صرف قیداریانائلہ اپنی عدم شناخت سے پریشان نہیں ہیں،نائلہ ہی اپنی شناخت کی بقاکی جدوجہدمیں انجانی راہ کی مسافرنہیں بن رہی ہے۔تہذیب کو بھی عدم شناخت کامسئلہ درپیش ہے ۔وہ بھی اسماعیل، قیدار اورنائلہ کی طرح بے گھراوربے درہورہی ہے ۔ہندوستانی تہذیب، گنگا جمنی تہذیب،خسروکی پروردہ تہذیب کے لیے کوئی جائے اماں نہیں۔یہ استعاراتی اسلوب دیکھیں۔
’’اسماعیل کواپنی سائیکی پرخودہنسی آگئی،اسے گلاب،بیلا،جوہی،چمبیلی کے نام پرباغ یادآتا،جہان رنگ برنگے پھول مل جل کرایک باغ بناتے۔
اسماعیل نے اپنے آپ کوسخت ذہنی خلجان میں گھرتامحسوس کیا۔
کیاکسی ایک ہی پھول کی پھبن بغیہ کوزیب دیتی ہے؟کیاآدمی کو،کم ازکم ہندوستان کے آدمی کوان رنگ برنگے پھولوں کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے؟
کیاسچ مچ کسی ایک پھول اورخوشبو کے علاوہ باقی سارے پھول اورخوشبوئیں صرف باہرسے برآمدکی ہوئی ہیں؟
کیا اس رویے اوررجحان کے بغیرجینے کی کوئی اورراہ بھی ہے؟‘‘(۲۲۲)
ہندوستان کی رنگارنگی اورگنگاجمنی تہذیب کے خاتمے کی کوشش سے مصنف پریشان ہیں ۔تہذیب کے نقطۂ نظرسے دیکھاجائے تو اماوس میں خواب اپنے بین السطورسے یہی کہتانظرآئے گاکہ
چمن میں اختلاط رنگ وبوسے بات بنتی ہے
ہم ہی ہم ہیں توکیاہم ہیں تم ہی تم ہوتوکیاتم ہو
اندھیری رات طوفانی ہوا ٹوٹی ہوئی کشتی
یہی اسباب کیاکم تھے کہ اس پرناخداتم ہو
زمانہ دیکھتاہوں کیا کرے گامدعی ہوکر
نہیں بھی ہو تو بسم اللہ میرے مدعاتم ہو
ہماراپیاررسوائے زمانہ ہونہیں سکتا
نہ اتنے باوفاہم ہیں نہ اتنے با وفا تم ہو
سیاست،سماج،معاشرہ،تعلیم ہرجگہ یک رنگی کو پسندکرنے والے اور یک رنگی کے نفاذکے خواہاں افرادموجودہیں۔ایک تہذیب،ایک کلچر اور وہ بھی غلبے کے فکری زعم میں مبتلاکلچرکے خواہاں لوگوں کی تعدادہندوستان میں بڑھتی چلی جارہی ہے ۔
ناول میں تصوف کوبھی خاصی اہمیت دی گئی ہے ۔صوفی تہذیب کی مثالیں پیش کی گئی ہیں اوروہاں سے اتحاد،یکسانیت،انسان کو انسان کی نظرسے دیکھنے کا درس لیاگیا ہے ۔ناول میں تہذیبی جڑیں اورمشترکہ کلچرکی بنیاداوراساس تصوف کے فکری منہج پرہی رکھی گئی ہے ،جہاں سے توسع پسندی کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔ورنہ اپنی فکرکوپیش کردینا اور کسی ایک طبقے کوٹارگیٹ کرلینا تو بہت آسان ہے،جو اکثرعصری حسیت وآگہی پرلکھنے والے اردوکے ناولوں میں کررہے ہیں ۔
اکیسویں صدی میں اردو ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں سے ناقدین اور قارئین کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ وہ لکھتے ہوئے ہندوستان کی ۷۷ فیصد آبادی،جو دیہاتوں میں بستی ہے ،اسے فراموش کرجاتے ہیں ۔لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کے کئی ایک ہندوستانی ناول نگاروں نے دیہاتوں کو اس کی شکل وصورت اور اس کی تہذیب وتمدن اور بولی ٹھولی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ان میں مشرف عالم ذوقی ،سید محمداشرف ،حسین الحق ،صغیررحمانی ،شموئل احمد،عبدالصمد وغیرہ خصوصی طورپر قابل ذکر ہیں۔حسین الحق کاناول اماوس میں خواب یوں توآزادیٔ ہنداور تقسیم ہند کے بطن سے پیداہونے والا ناول ہے ،جو صحیح معنوں میں مابعدآزادی کے ۷۰برسوں کو محیط ہے اور اس عرصے کے تمام ترقابل ذکر واقعات وحادثات اور سانحات کو چن چن کر نشان زدکرتاہے۔ یہ دراصل لہولہوآزادہندوستان کی سوانح عمری ہے،جس میں مقامات فرحت وانبساط کم اور مقامات آہ وفغاں زیادہ ہیں۔ان تمام واقعات وسانحات کو درج کرتے ہوئے حسین الحق صرف شہروں اور میٹروپولیٹن شہروں کو ہی قابل ذکر تصورنہیں کرتے بلکہ جب وہ اپنی نگاہ انتہا پسند تنظیم ایم سی سی اور دیہاتوں سے بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اثرات ختم ہونے کے اسباب کی طرف مرکوز کرتے ہیں تو صرف ان کی ہی روداد لکھ کر آگے نہیں بڑھتے بلکہ پورے دیہات کو اور دیہاتی احساسات وجذبات کو بھی درج کرتے ہیں۔اس ناول کا سب سے اہم اختصاص اس کا موضوعاتی تنوع اور رنگارنگی ہے اورانہی واقعات وسانحات ، تہذیب وتمدن اور ذہنی افکارکے تغیرکے سہارے ناول آگے کا سفر طے کرتاہوا جے این یو کے تازہ ترین مفروضہ ملک مخالف نعروں کے مناظر کو پیش کرتاہوا اپنے کامیاب اختتام کو پہنچتا ہے ،جو اس بات کا علامتی اشارہ بھی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور بزورحاشیے پرڈال دی جانے والی اقوام ناول میں درج چھوٹے بڑے نامساعدحالات وواقعات اور چھوٹی بڑی ناانصافیوں سے آزادی چاہتی ہیں،ہندوستان کی ایک بڑی آبادی ان کالی راتوں سے نجات چاہتی ہے ،جو دراز ہوتی چلی جاتی ہے۔ اماوس میںخواب کے نظریے کے مطابق یہ تمام راتیں جو آزاد ہندوستان میں آتی رہی ہیں ،وہ کالی اور ہندومیتھالوجی کے مطابق نحس ہیں اور ان تمام راتوں کی نحوست کے اثرات سے سب سے زیادہ مسلم قوم متاثر ہوئی ہے ۔’’یہ آزادیٔ وطن کے بعد کی سترویں رات تھی،نائلہ کی وہ رات جاگتے کراہتے گزری۔‘‘(ص۳۲۸)
یہ اقتباس ناول کے اس حصے سے لیاگیا ہے ،جہاںنائلہ نامی کردار یعنی ناول کے مرکزی کرداراسماعیل مرچنٹ کی بیٹی کے غیر مسلم شخص سے محبت کے خاتمے کا منظر ہے ،جہاں وہ سمجھ جاتی ہے کہ رمیش کی محبت ایک دھوکہ ہے ،فریب ہے اوروہ ایک ایسے جال میں پھنس چکی ہے ، جس سے نکلنا ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے جمہوری ہندوستان کی کچھ شدت پسند تنظمیں ایسی بھی ہیں ،جو اپنے جوانوں کو اسی کاز کے لیے استعمال کرتی ہیں کہ وہ مسلم لڑکیوں کو محبت کے فریب میں پھنسا کر شادی کریں اور ہندو بنائیں ۔اس پورے عمل کانام بڑی خوبصورتی سے گھر واپسی رکھا جاتا ہے ۔ان تمام ناامیدیوں کے سمندر سے امید کی سیپ بھی اسی جمہوری ہندوستان میں برآمد ہوتی رہتی ہے۔مخالف ہواؤں کے درمیان سے امیدکی کرن بھی نمودار ہوتی ہے یہی دنیاکا رواج ہے ۔اگر مٹھی بھرلوگ جمہوری قدروں کو تارتارکرنے پر آمادہ ہیں تو ہندوستان کی ایک بڑی آبادی انہی قدروں کو اپنے لیے حرزجاں بھی بنائے ہوئے ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اماوس میں خواب : معاصر ہندستان کا استعارہ- ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )
’’بدلے ہوئے منظرنامے میں وہ سب کھوتا اورکہیںنہ کہیں تھوڑا بہت روشنی کے یہاں ہمکتا،مسکراتا،سر اٹھاتا اورکبھی کبھی بے ساختہ کھلکھلاتا محسوس ہوتا ہے ۔
وہ زیادہ تراردوبولنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس کے دادا شاعرتھے،ان کے اشعارسناتی ہے ۔
شلوارجمپرپہنتی ہے ۔سرپرڈوپٹہ رکھنے کی بھی جب نہ تب کوشش کرتی ہے ۔
ایک مرتبہ اس نے اپنی نانی کی سرمہ دانی اوراپنے اباکی رام پوری ٹوپی دکھائی تھی۔
بتارہی تھی کہ اس کے ماں باپ کے گھرمیں پاندان موجودتھا۔
اس نے محسوس کیاکہ وہ ناسٹلجیاکے گھیرے میں آرہاہے۔‘‘(۳۴۱)
روشنی صرف ناول کا کردار نہیں۔ہندوستانی جمہوری قدروں اور سیکولر زم کی بقا کے خواب کو شرمندۂ تعبیرکرنے والی روشنی ہے۔ گنگاجمنی اور مشترکہ تہذیب کی علامت کی روشنی ہے ،جس میں ہندوستان کی روح زندہ ہے۔ماضی قریب کی مشترکہ قدریں ہیں،جو ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقے اورنفرت کو عارضی،وقتی اور اسپانسرڈ قراردیتی ہے اور ایک کودوسرے سے متنفر کرنے اور دوقومی نظریے کا انکار کرتی ہے۔تہذیبی تغیرات سے ہی یہاں موضوعات ومسائل پیداہوتے ہیں۔ہرپل تبدیل ہوتی دنیا اور ہندوستان میں لکھا گیا یہ ناول غیرجانب داری کی اعلی مثال ہے ،جس کے مصنف کہیں خود کو جانب دار نہیں ہوتے دیتے،جب قدریں بدل رہی ہیں ،ہندواورمسلم کے درمیان کھائی پیداہوگئی ہے تو ظاہر ہے کہ مسلم معاشرے اور سماج میں بھی تبدیلیاں رونماہورہی ہیں۔حالات اورمسائل بدل رہے ہیں۔ لوگوںکے رجحانات اور زندگی کرنے کے طرق تبدیل ہورہے ہیں۔تہذیب کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا سلسلہ دراز ہے۔قدیم تہذیب اورقدریں بدل رہی ہیں۔نئی تہذیبیں اور قدریں ان کی جگہ لے رہی ہیں۔موضوعات ومسائل کے انبار میں مشاعرے کو بھی یہاں نظرانداز نہیں کیا گیاہے۔کہاجاتا ہے کہ مشاعرے ہماری تہذیبی علامت ہیں۔مشاعرے اردو کو غیراردوداں طبقے تک پہنچانے کاذریعہ ہیں۔ مشاعروں میں کس طرح کی تبدیلیاں آئی ہیں۔اسے بھی یہاں دیکھا جاسکتا ہے ۔
’’شہرکی ادبی اورعلمی فضامیں بھی پہلی تبدیلی ۶۵۔۱۹۶۰ کے آس پاس شروع ہوئی،جب مخصوص علمی وادبی اورشعری نشستوں کی جگہ شہر میں کل ہندمشاعرے کااہتمام ہوا،ان کل ہندمشاعروں میں جوہرسال دوسال پرمنعقدہوتے رہے۔ ۸۱۔۱۹۸۰ تک مسلم خواتین کی شرکت نہیں ہوئی ۔۸۳۔۱۹۸۲ کے درمیان فضامیں بدلاؤ کے آثارپیدا ہوئے۔پہلی مرتبہ باہرسے آئے ایک مسلمان منصف مجسٹریٹ کی بیوی کے ساتھ شہرکے ایک وکیل صاحب کی بیوی بھی برقع پہن کرلیڈیز گیلری میں بیٹھ گئیں ،مگرشہرکے لوگ انہیں پہچان نہیں سکے کیوں کہ وہ مجسٹریٹ صاحب کے گھر سے ان کی بیوی کے ساتھ مشاعرہ گاہ میں پہنچی تھیں۔پھر اگلے سال مجسٹریٹ صاحب کی بیوی،وکیل صاحب کی بیوی اورمزیدچندخواتین . . . . . ‘‘ (۳۴۲)
اس اقتباس میں نہ صرف بدلتی دنیا اور سماج ہے ۔بلکہ مشاعرے میں خواتین کی شرکت کی تاریخ بھی ہے۔ ناول کو چھوٹے چھوٹے واقعات سے سجایا گیاہے اوراس طرح آزادبھارت کی ناولانہ تاریخ رقم کی گئی ہے ۔حسین الحق ستر کی دہائی سے افسانے لکھ رہے ہیں۔ان کا اسلوب وانداز ایک مخصوص طرز کا ہوتا ہے ۔وہ کسی بھی موضوع کو اٹھائیں اپنی طبیعت اور رجحان کے مطابق اسے بناتے ہیں۔موضوع کے کسی ایک پہلو کو زیادہ یا کسی کو کم اہم جان کر چھوڑتے یا ضرورت سے زیادہ نہیں پکڑتے۔سماج پراپنی پینی نظر ڈالتے ہوئے ان کی دسترس اورسماج میں کسی بھی طرح موثر اقوام اور افراد کو ضرورلاتے ہیں۔ان کی نگاہیں اور قلم چوطرفہ چلتے ہیں۔یک رخی بنانے سے وہ خود کو بچاتے ہیں۔ صوفی سماج کوڈسکرائب کرنا اوراس پربے تکان لکھتے چلے جانا ان کے اختصاص کاایک اہم اور اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔اس ناول میں بھی ایک قصبے کے خاندانی پیروں کو دکھایا گیا ہے ۔مگر انہوں نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو بھی قلم انداز نہیں کیا ہے ۔ناول کا ایک بڑا حصہ ایم سی سی اور پسماندہ طبقات پرمشتمل ہے ۔بہار جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ ہندوستان کی سب سے زیادہ نکسل متاثرہ ریاستیں ہیں۔اس لیے جب بھی ظلم وجبر اور پسماندگی سے اکتا کر ہتھیار اٹھانے کی تاریخ لکھی جائے گی۔پسماندہ،دلت اور حاشیہ نشیں طبقات کے ساتھ نکسل تحریک کو لکھنا ہی ہوگا ۔شدت پسندتحریک ایم سی سی کے اثرات کہاں کہاں تک آج پہنچ چکے ہیں۔اس کا اندازہ اس اقتباس سے کیا جاسکتا ہے ۔
’’نکسل ازم کاعروج کمیونسٹوں کی بدعملی اور ذہنی افلاس کانتیجہ ہے ۔دوسری طرف اعجازعلی اورعلی انور وغیرہ نے انصاریوں کے علاوہ باقی پسماندہ مسلمانوں کوسماجی انصاف کی لہرکے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی،اس کا فائدہ لالو،نتیش کوملایانہیں،یہ گفتگو کا الگ موضوع ہے ،مگر نکسلی جدوجہدکوبھی اس کافائدہ بہرحال پہنچا۔اب مسلم دیہاتوں میں بھی پارٹی کی میٹنگ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔اس زمینی سچائی کوقبول توکرناہی ہوگا۔‘‘(۲۵۸)
مسلم دیہاتوں میں نکسلی تحریک کی میٹنگ پر ناول نگارکاتحریری تحیراس لیے ہے کہ عرصے تک یہ بات سماج میں رائج رہی کہ مسلمان نکسلی نہیں ہوتے۔
بابری مسجدکے انہدام پر حسین الحق کاافسانہ نیوکی اینٹ مقبولیت کا ریکارڈ رکھتا ہے ۔اس ناول میں بھی بابری مسجد زیر بحث آئی ہے ۔ مگر یہاں انداز کچھ بدلاہوا ہے ۔وہ جب بابری مسجد پر بات کرتے ہیں تو شاہ بانوکیس کے وقت کورٹ اور عدلیہ کی بے بسی کو درج کرنا نہیں بھولتے۔مسلم سماج اس ناول کا سب سے اہم اورمستحکم موضوع ہے۔تاہم ناول کو پڑھنے سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس میں یک طرفہ بات کی گئی ہے۔حالاں کہ ناول میں معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ، ظاہریہ،وہابی،دیوبندی اوربریلوی سارے طبقات موضوع بحث بنے ہیں۔ لیکن ہر جگہ غیرجانب داری اوراعتدال وتوازن اس ناول کا طرۂ امتیاز ہے اورایسے موضوع پر ہلکاسا طنز کا احساس عبارت کو دوآتشہ بناتا ہے ۔
’’مگرپھراسماعیل نے خودکوکاٹا۔کیابابری مسجد کاگرناکسی ایک فرقے کامسئلہ ہے ؟یاقومی سطح پرقانون کے بے بس ہونے کا لمحہ؟مگرقانون کوبے بس اورلولا لنگڑاتوشاہ بانوکیس کے وقت بھی بنایاگیا۔زوال روس کاسب سے زیادہ خراب اثریہ ہواکہ طبیعتوں کاتوجیہی اورتجزیاتی مزاج کمزورہوااورنظریاتی مباحث میں اختلاف ناممکن ہوگیا۔عباسیوں کاکمال یہ تھا کہ ان کے عہدحکومت میں معتزلہ،اشعری ،ماتریدی اورظاہریہ سب مکالمے کی ہمت رکھتے تھے مگریہ دورتویزیدی جبرکااستعارہ ہے ۔ ‘‘(۲۰۶)
یہ دور تو یزیدی جبرکااستعارہ ہے۔کسی ایک شخص یا کسی ایک حکومت کی طرف اشارہ نہیںہے۔یہاں بات مکالمے کے رجحان کے خاتمے کی کی جارہی ہے کہ آج ہم نہ کسی حکومت سے اختلاف کرسکتے ہیں،نہ کسی سیاسی پارٹی سے ،نہ کسی اپنے سے نہ کسی مسلک سے ہر جگہ اپنے اپنے انداز کی شدت پسندی موجود ہے ۔
اماوس میں خواب ایک ایسا ناول ہے ،جس میں آزاد ہندوستان کے ۷۰برس موجود ہیں اوران ستربرسوں میں جتنے اہم اور قابل ذکر واقعات وسانحات اور حادثات واقع ہوئے وہ سب موضوع بحث بنے ہیں۔دہشت گردی ،شدت پسندی ،بابری مسجد کا انہدام ،شاہ بانو کیس،نکسل تحریک کا عروج،کمیونسٹوں کا زوال،مسلکی فسادات،مسلم مخالف فسادات،سکھ مخالف فسادات،سیاسی تبدیلیاں، سماجی اور تہذیبی تبدیلیاں،مزاجوں کاتغیر،اقوام کے درمیان بعد اور دوری،اسلامی شخصیات اور بھارت پر پڑنے والے اسلامی یا مسلم اثرات، مشائخ چشت کے رویے،خواجہ نظام الدین اولیا،حضرت بابافرید گنج شکر اس ناول میں آئے ہیں۔ناول کی سوچ اور اس کی زیریں لہریں دراصل صوفی نقطہ نظر سے حالات وواقعات کا تجزیہ ہی ہے اورجب ایک انسان صوفی بن کر سوچتا ہے تو اس کے بہت سے مسائل خود بہ خود حل ہوجاتے ہیں۔چوں کہ احتساب ذات اسے کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے نہیں دیتا اورحق گوئی سے بازنہیں رکھتا۔ ایسے یہ بات تو کھلی ہوئی ہے کہ گنگاجمنی تہذیب اور اقدار پسندی کے خاتمے نے ہمیشہ حسین الحق کو پریشان رکھا ہے اوریہ پریشانی اور اضمحلالی کیفیت کااظہاروہ فرات ،بولومت چپ رہو، اماوس میں خواب اوراپنے افسانوں میں بھی کرتے رہے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ جب کوئی غلامی کے رسیاذہن کی عروق مردہ کوٹھرے کانشہ پروستارہے گاتو اسے تہذیبی،مسلکی اورمذہبی نرگسیت کی قوالی یقیناپسندنہیں آئے گی،اسے چھکوں یاچھکے قسم کے لوگوں کے ناچ اورگانے ہی پسندآئیںگے۔اگرناول ادیب کی مسلکی نرگسیت کی قوالی سنانے والااسٹیج نہیں ہے توباطن میں موجودمسلکی عصیبت کامنھ سے دوموضوعی فضلہ انڈیلنے کااسٹیج بھی نہیں۔
ناول اماوس میں خواب میں تکنیکی تجربات کے ساتھ اوربہت سے تجربات کیے گئے ہیں۔ان میں خاص طورپراسلوبی تجربہ قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتا ہے۔بیانیہ کااتنااسلوبی تجربہ کسی ایک ناول میں ملنامشکل ہوتاہے۔ناول اماوس میں خواب ان چندناولوں میں ایک ہے،جس کے مصنف اپنے فن کی فکر کرتے ہیں،لوگوں کی سوچ اورلوگوں کی افواہوں کی فکرنہیں کرتے۔حالاں کہ مکالموں پر بہارغالب ہے،جوناول کی مقامیت (Local)کا تقاضا تھا۔ تاہم ناول کابیانیہ تجریدیت،استعارات،علامات،محاورات،نظم کونثربنانے اور نثر کو آزاد شعری روپ میں ڈھالنے کی کوشش اورکہیں کہیں عمومی بات کی داستانوی اسلوب میں پیش کش کے خمیرسے گندھاہواہے۔سترسالہ آزاد ہندوستان کی تاریخ یہاں تاریخی اسلوب میں نہیں مشاہداتی اورفلسفیانہ اسلوب میں پیش کی گئی ہے ۔
ناول کے ابتدائی ۷۰۔۷۵صفحات میں بہت سے مقامات ہیں،جہاں تجریدیت کاسہارالے کرمصنف نے اپنی بات اورناول کوآگے بڑھایا ہے اوریہی وہ صفحات ہیں،جونہ ماننے والوں سے بھی حسین الحق کے فن کالوہامنواتے ہیں۔لیکن یہ سلسلہ پورے ناول کومحیط نہیں ہے، ایک ماہرفکشن نگارکی طرح مصنف نے اپنے اسلوب کاچولابدلاہے۔ اسلوبیاتی تنوع کاجس طرح یہاں مظاہرہ ہواہے۔وہ اکیسویں صدی کے ناولوں میں کم کم ہواہے۔ناول کبھی استعاراتی زبان اختیار کرتا ہے توکبھی علامتی اورکبھی داستانوی اسلوب،کبھی اپنی بات کسی شعرسے کہتا ہے توکبھی نثرکوشعری قالب میں ڈھالتاہے۔حسین الحق استعاراتی زبان کے استعمال کے لیے کافی مشہورہیں، افسانہ نیوکی اینٹ کی شہرت بھی استعاراتی اسلوب کی ہی مرہون منت ہے اورافسانوی مجموعہ نیوکی اینٹ کے بیش ترافسانے استعاراتی اظہاریہ رکھتے ہیں ۔ ایسی ہی صورت حال ناول اماوس میں خواب کی ہے،جہاں کہیں ان کے معاصرافسانہ وناول نگاراپناتوازن برقرارنہیں رکھ پاتے اورجنسی مناظر پیش کرکے لطف اندوزہوتے ہیںاورنوجوانوں میں شہرت پانے کی کوشش کرتے ہیں،زیادہ ترانہی مقامات پرحسین الحق استعاراتی زبان اوراسلوب کاسہارالیتے ہیں یاایسے مقامات،جہاں اپنی بات استعارے کی دبیرچادرمیں لپیٹ کرپیش کرناقرین قیاس ہووہاں وہ استعاراتی اسلوب کوپیش نظررکھتے ہیںاوراستعارہ بھی آسان سانہیں،ان کے استعمال سے اس میں بھی تنوع پیداہوجاتاہے۔ایک ساتھ موسیقی، مزامیر، پہاڑ، ابر، کہسار،کنڈ،اساطیر،دیومالائی عناصراورمتھ سب محلول ہوکرحسین الحق کااستعارہ بنتے ہیں۔ناول کے بہت سے مقامات پراس طرح کے اقتباسات موجودہیں،لیکن ناول کے صفحہ نمبر ۲۸۰سے۲۸۳ کودیکھنا قارئین کوزیادہ لطف دے گا۔انہی صفحات سے ایک اقتباس دیکھیں۔
’’اورتب یوں ہواکہ جنت اورجہنم دونوں کے دربیک وقت کھل گئے۔
کہیں آفاق کے پرے آنسوؤں میں بھگوئی،مسرتوں سے لپٹی،وجودکے اندرباہرپورپورکوسرمست وبدمست کرتی،سوئی کی نوک کی طرح ہولے ہولے چبھتی،مورپنکھ کی طرح بہت شریف ورحیم ہلکی ہلکی،سوئی سوئی شرم سے لجاتی،جھجھک جھجھک کرآگے بڑھتی شیتل ہوادونوں کے آپے سراپے کوہلکے ہلکے چھونے لگی،سونابھٹی کے قریب آنے لگا،سنارنظرنہیں آرہاتھامگرکہیں تھا،دوں گی میں کانوں کابوندل،کاہے کروہتھ جوری،باجوبندکھل کھل جائے،نہ کروتکرار،پیاںپروں میں توری،سیاں مورے….سیاں مورے….سائیں سنارنظرنہیں آرہاتھا، سونا آتش دیدہ ہوتاجاتاتھا۔کوئی شراب تھی کہ زراب تھی،یازررومی تھا،کچھ توتھا،جومثال آتش ترسرسے پیرکے انگوٹھے تک سرایت کرتاجاتاتھا، دونوں جلتے جاتے تھے اوردونوں بھیگتے جاتے تھے،کوئی جنت تھی پتہ نہیں سچی کہ جھوٹی مگرتھی،محفل طرب آراستہ تھی،مغبچے ہاتھوں میں کچھ لیے ہوئے تھے،پتہ نہیں دف تھاکہ کھنجڑی تھی کہ جھانجھر تھا یا پھراکتارا، طنبور، ستار،خیال کچھ تھا،کچھ بجتاتھا،دھمال مچاہواتھا،برہماکنکھیوں سے پاروتی کودیکھتے تھے،منواسمرتی میں لکھاہے کہ کرشن کی پسلی سے رادھاپیداہوئیں اورپھرکرشن نے رادھاکے ساتھ راس رچا،پھررادھاکرشن میں سماگئیں۔برہماپاروتی کی طرف جھک آئے ہیں،نائلہ اوررمیش کہاں تھے۔ ‘‘ (۲۸۰۔۲۸۱)
اس اقتباس میں نغمگی،موسیقی،گیت،اردوہندی،فارسی تراکیب،ہندی مزامیز،جنت جہنم،رادھاکرشن،برہماان سب نے مل کرجولطف پیداکیاہے،وہ جنس زدہ نہ کرکے عبارت کو فن کاشاہکاربنادیاہے۔یہ گنگاجمنی تہذیب کی بہتی دھاراہے۔حالاں کہ ناول میں یہاں جنسی عمل پیش کیاگیاہے ۔پورے ناول میں حسین الحق نے جنسی عمل کوجس طرح پیش کیاہے،اس سے نئی نسل کوروشنی ملتی ہے ۔
مندرجہ بالاہنداسلامی استعارے کے بعدخالص ہندودیومالائی عناصراماوس میں خواب میں کس طرح استعارے کے طورپراستعمال کیے گئے ہیں۔اقتباس دیکھیں ۔
’’گلاسناسٹ اورپرستروئیکا کے بعدجنمے یہ لڑکی لڑکے چھٹپٹارہے ہیں اور انھیں راستہ نہیں ملتا،یہ ایک ایسی مہابھارت جھیل رہے ہیں،جس میں دھرت راشٹراورشکنی دوالگ کردارنہیں ہیں،کبھی شکنی پانسہ پھینکتاہے توکبھی دھرت راشٹرسوال کرتاہے یہ کیاہورہاہے؟ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو ناول۔ ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی)
مگرجوکچھ ہورہاہے اس کے نہ ہونے یااس جیسانہ ہونے کے لیے دھرت راشٹرکبھی کوئی قدم نہیں اٹھاتااورکیوں اٹھاوے؟کرنے والے تو اس کے اپنے ہیں،پھردھرت راشٹرغائب ہوجاتاہے،سامنے آجاتاہے شکنی….پانسہ پھینکتاہواشکنی!
گئی رات تک قیداراورروشنی ندی کنارے بیٹھے رہے اوراپنے اپنے خیالوں میں اپنے اپنے خیالوں سے الجھتے رہے۔‘‘(۳۴۵)
جمہوریت اورسیکولرزم اوربھائی چارہ پربات کرتے ہوئے ناول نگارنے یہ استعاراتی اسلوب کاحامل اقتباس پیش کیاہے۔اس اقتباس سے پہلے انھوں نے یہ بھی لکھاہے کہ جمہوریت،سیکولرزم اوربھائی چارہ ایک نعرہ ہے،جس کاجی کھول کرسیاست دانوں نے زنابالجبرکیا ہے ۔
یہ تواستعارے اوراستعاراتی اسلوب کی بات تھی،ناول میں بے شمارایسے جملے اورفقرے بھی آئے ہیں کہ انھیں اگرمرتب کردیاجائے تووہ جملے اورفقرے حسین الحق کے اقوال زریں نامی کتاب میں کام آجائیں گے۔ہردوسرے اورتیسرے صفحے پرایسے جملے بآسانی مل جاتے ہیں،جہاں قاری یہ محسوس کیے بغیرنہیں رہتاکہ پوراناول اورناول کاایک ایک صفحہ پوری توجہ اورانہماک کے ساتھ لکھاگیاہے ۔
دراصل ہرحال میں آدمی حالت خواب ہی سے گزرتاہے،جہاں خواب کے سواکچھ نہیں ہوتا۔(۹)
اختلاف کے لیے تصوف کی نہیں مذہب کی ضرورت پڑتی ہے ۔(۳۰۳)
نظریات کے ساتھ یہ بڑامسئلہ ہے کہ جب وہ اپنے ابھارپرآتے ہیں توجذباتی ابال بن جاتے ہیں اورجب ڈھلان کی طرف مڑتے ہیں تو پست ہمتی یاغداری کامظاہرہ۔(۳۴۵)
ایساکیوں ہواکہ جوملاوہ چاہاہوانہیں تھا۔(۳۴۱)
نظریہ جان کے سبب استوارہوتاہے یاجان نظریے کے سبب بچی رہتی ہے ؟(۴۳)
یہ چندمثالیں ہیں۔پوری کتاب میں درجنوںاس طرح کے جملے اورفقرے بکھرے پڑے ہیں۔ناول میں محاوراتی اسلوب اورزبان کا بھی استعمال کیاگیاہے۔خیال رہے کہ ناول میں علمی وادبی محاوروں کاکم عوامی محاوروں کااستعمال زیادہ ہواہے ،جنھیں ہندوستانی عوام اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ان محاوروں کے استعمال سے عبارت کالطف دو بالا ہواہے اورکہیں کہیں مقامیت اپنی انتہاکو پہنچ گئی ہے۔ناول نگارنے بہاریت کوپیش کرنے کاجوازبھی دیاہے کہ اسماعیل جب بہارلوٹااوربرسوں وہاں رہ گیا’’اوراب تووہ اپنی زبان اورلہجے پردھیان دیتاتواسے ایک دلچسپ احساس یہ بھی ہوتاکہ اس کالہجہ بھی اب بہاری ہوتاجارہاہے۔‘‘(۲۲۲)اس جملے کاکرشمہ اس کی فکر،جملے اورلہجے پردکھائی دیتاہے ۔ محاوروں سے ناول نگارنے بڑاکام لیاہے ۔محاوروں کی تعدادبھی ناول میں شمارنہیں کی جاسکتی چوں کہ ان کی تعدادکافی ہے۔
اسلوبیاتی لطف کودوبالاکرنے اوراسلوب میں رنگارنگی اورتنوع پیداکرنے کے لیے ناول نگارنے خوب پینترابدلاہے ۔بہت سے مقامات ایسے ہیں،جہاں انھیں محسوس ہوتاہے کہ اسلوبی یکسانیت بڑھتی جارہی ہے تواپنے اسلوب کوبدلتے ہیں،رنگارنگی اورتنوع پیداکرتے ہیں۔استعاراتی،علامتی اورمحاوراتی اسلوب سے آگے بڑھ کرکہیں ڈائری لکھنے لگتے ہیں توکہیں خط کی تکنیک استعمال کرتے ہیں اور کہیں داستانوی اسلوب اختیارکرکے اپنے قاری کو یکسانیت کی تھکن سے بچالیتے ہیں ۔
’’بیان کیاہے راویان ثقاہت شعارنے کہ گوتم بدھ کے شہرگیاکے ایک دورافتادہ علاقے نصرت پورعرف بارہ گاؤں میں کہ جہاں دراصل رہا کرتے تھے اسامی سیدپورعرف میران بیگھہ کے۔مگرساتھ امتدادزمانہ کے،ہوتے گئے آزادیہ سارے باج گزاربندے اوراس بیچ پائی آزادی ہمارے ملک ہندوستان جنت نشان نے بھی اورنتیجے میں نصرت پورہوگیاگم تاریخ کے کوڑے دان میں اورطلوع ہواسورج بارہ گاؤں کا،جہاں اکثروبیش تربھومیہاران اورکچھ قوم راجپوتان کے فرزنددل بندبنے ہوئے تھے مالک،علاقے کے سیاہ وسفیدکے،مگر پھر تاریخ ایک نئی کروٹ لیتی ہے اورہوتاہے چلن زمانے میں کمیونزم کا۔یہ ایک فرقہ ہے،راندۂ بارگاہ طبقۂ اشراف،جس کے پیشوایان قوم براجتے تھے دوردیس میں۔مگرداستان عجیب،اثرات فرقہ کی یہ ہے کہ لینن گراڈسے ابراٹھااوربرساجھوم جھوم کرہندوستان کی پسماندہ اقوام پر۔خدا مغفرت کرے ہمارے ہردل عزیزکامریڈوں کی،جنھوں نے غریبوں کویہ سبق پڑھایاکہ ان کے مرض کاعلاج انصاف میں نہیں مساوات میں ہے ۔ایک طرف یہ سبق اوردوسری طرف تاریخ کی یہ خبرکہ آزادی کے لیے جہاں گاندھی جی اہنساکاگیت گارہے تھے وہیں سبھاش چندربوس اوران سے پہلے بھگت سنگھ پرتشدد جدوجہدکاثبوت دے چکے تھے۔اسی پرتشددجدودجہدکاایک منفی رخ ۱۹۴۷میں دیکھنے کو ملا،جب ہندوستان کے ہندوؤں ،مسلمانوں اورسکھوں کے بڑے جتھے نے یہ یقین کرلیاکہ ہم پرتشددجدوجہدکے ذریعہ وہ سب کچھ پالیں گے،جواب تک نہ پاسکے۔توہمارے عزیز برادر بجان برابر..یہ سب کچھ اسی پرتشددروایت کااگلاقدم ہے ۔‘‘(۱۱۵)
یہ اقتباس فیضان رسول میرانی کی زبان سے اداکرایاگیاہے،جس میں تاریخ کو معاصرزمانے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے اوراس اقتباس کاماضی اتناپرانابھی نہیں ہے کہ اس عہدکوبتانے کے لیے داستانوی اسلوب کاسہارالیاجائے مگریہاں ناول نگارکاقلم جوبن پرہے، جس کامقصدصرف اتناہے کہ اسلوب کی یکسانیت زائل ہواورقاری کوتاریخی اسلوب کی گرانی کااحساس نہ ہو،اس لیے انھوں نے داستانوی اسلوب میں ڈھال کرہنسااہنسااورتشددکی بات بہت ہلکے پھلکے اندازمیں پیش کردی۔اس اقتباس میں داستانوی اسلوب اختیارکیاگیاہے، جس میں کہیں کہیں فارسی ترکیب کااستعمال کیاگیاہے،ورنہ الفاظ سامنے کے ہیں،اقتباس میں داستانوی الفاظ نہیں،لیکن ناول میں اوربھی ایسے اقتباسات ہیں،جہاں لہجہ ،الفاظ اورتراکیب داستانوی ہیں ۔صفحہ۴۹پرخالص داستانوی الفاظ، تراکیب اورلہجہ بھی ہے،سوداکے قصیدے کاپہلامصرعہ لے کراسے نثرکے قالب میں ڈھالاہے اوراس پرسوال قائم کیاہے کہ ’’پرچمنستاں پربہمن ودے کاعمل کب تھا؟‘‘
سودا،میر،غالب،اقبال،مجروح سلطان پوری ،خماربارہ بنکوی،سرشارسیلانی،افتخارعارف کے اشعاراستعمال کیے گئے ہیں اوراکثرمقامات پران اشعار کو نثر بنانے کی کامیاب کوشش ملتی ہے ۔اس کے علاوہ بہت سے مقامات پرنثری نظموں کابھی استعمال ہواہے اورکئی عبارتیں مقفیٰ بھی ہیں۔متن اوراسلوب کایہ تنوع حسین الحق کواپنے معاصرین سے بہت آگے پہنچادیتاہے ۔حالاں کہ بالجوازبہاریت کاکثرت سے استعمال میرے خیال میں ان کے فن کونقصان بھی پہنچاتاہے،تاہم اس متنی رنگارنگی اوربین المتونیت کی نے رنگی نے اس نقصان کی کافی حد تک بھرپائی کی ہے۔میں کیاکرسکتاہوں کہ پنجابی مقامیت کے استعمال سے ایک پنجابی تارڑدنیاکے اردوناول نگاروں میں معززقراردیے جا تے ہیں ۔لیکن ایک بہاری،بہاری مقامیت کواستعمال کرکے خوارہوجاتاہے ۔اماوس میں خواب میں مقامیت کی نوعیت بالکل وہی ہے، جیسی تارڑکے ناول خس وخاشاک زمانے میںہے۔وہاں بھی مقامیت پورے ناول کومحیط ہے،یہاں بھی ناول کا کوئی حصہ مقامیت سے عاری نہیں،وہاں ناول سرحدوں کوپارکرتاہواامریکہ اورکینیڈا تک پہنچ جاتاہے اوریہاں ناول صوبوں کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا مہاراشٹرسے بہار پہنچ جاتاہے،وہاں ناول پنجاب سے چل کرامریکہ اورکینیڈاپہنچتاہے اوریہاں مہاراشٹرسے چل کربہار اور پھربہارسے چل کردہلی اورممبئی پہنچتاہے،وہاں بھی ناول کے کرداروں کے فکری منہج اورطرزرہائش پرپنجابیت حاوی ہے اوریہاں ناول کے کرداروں کے فکری منہج اور طرز بودوباش پربہاریت حاوی ہے ۔لیکن دونوں کافرق یہ ہے کہ ہم پنجابیت سے اکتانے کے باوجوداپنی مرعوبیت کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے لیکن بہاریت وہ مقتول ومسلوب مقامیت ہے،جسے عصبیت کے دارورسن ہی راس آتے ہیں۔
خیرمیں یہ عرض کررہاتھاکہ بین المتونیت کی یہاں بہت سی نوعیتیں ہیں۔ ایک نوعیت توانتساب کاصفحہ ہے،جہاں افتخارعارف کا شعر نقل کر کے ناول کومادروطن ہندوستان کے نام منسوب کیاگیاہے۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
اوراس انتساب کے صفحے سے دوصفحے پہلے خماربارہ بنکوی کاشعردرج ہے۔
نہ ہاراہے عشق اورنہ دنیاتھکی ہے
دیاجل رہاہے،ہواچل رہی ہے
انہی دونوں اشعارکی تشریح ،تعبیراورتفسیرپورے ناول کومحیط ہے۔ان اشعارکی تشریح کے لیے درجنوں اشعار،کئی دیگرکتابوں کی عبارتیں، نثری نظمیں، علاماتی، استعاراتی،داستانوی اورمقفیٰ اسلوب کاسہارالیاگیاہے ۔حسین الحق نے کامیاب اسلوبی تجربے کیے ہیں۔ایسے منفرد و ممتازاسلوب کی تخلیق جس میں متنوع اسلوبی شادابی کے ساتھ بین سطوری غم اورستربرسوں کی مسلم کش تاریخ سماگئی ہو،یہ کامیابی دہائیوں کی فنی ریاضت کے بعدممکن ہوسکی ہے۔
اماوس میں خواب کے کرداراکیسویں صدی کے اہم اوریادگارکرداروں میں شمارکیے جائیں گے ۔ناول میں بہت سے کردارہیں،جنھوں نے ہندوستان کوسمجھنے اورموجودہ ہندوستان کی تبدیلی کوسمجھانے میں آسانیاں پیداکی ہیں۔ناول میں اسماعیل، تمکنت، رکمنی، انیماسارنگی،مبشر رجائی، میاںمیروالا، مقصودعلی، سعود، ودود،خوشنود،ممانی،فیضان رسول میرانی،انیل،نیلما،شہوار،شوبھا،بنسی دھر،کرپاشنکر، ارون بھاٹیہ، ممدوبھائی، نائلہ،شوبھا، رمیش، سیماب، توفیق، بھوپیندر، اروند،قیداربن اسماعیل،روشنی، عبدالجبار، رفیدہ،نادرہ،اخلاق وغیرہ جیسے کردار ہیں۔ ان کرداروں میں زیادہ ترکردارمتحرک وفعال ہیں۔
اماوس میں خواب اکیسویں صدی کے اہم تکنیکی تجربات سے لیس ناول ہے۔ازاول تاآخرناول میں تکنیکی تجربات کیے گئے ہیں۔ناول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں جدیدیت اورمابعدجدیدیت دونوں کی تکنیکوں کاتجربہ کیاگیاہے۔ناول کاپلاٹ بھی توڑپھوڑ کاشکارہے۔ ناول کے پلاٹ کاراستہ سیدھانہیں ہے۔جزئیات نگاری،استعارات،علامات،تجریدیت اورشعورکی روکے استعمال سے ناول کاآغازہی بتا دیتا ہے کہ ناول سپاٹ بیانیہ اوراکہرے پلاٹ کاحامل نہیں ہے۔ابتدائی ۷۰۔۷۵صفحات میں ناول میں متعددادبی تکنیکوں کااستعمال ہواہے ان صفحات میں تجریدیت اورشعورکی رو دونوں قاری کوتحیرات کی دنیاکی سیرکراتے ہیں اورناول اس کی گرفت سے بالابالارہتاہے۔ناول کا یہ حصہ سب سے قیمتی حصہ ہے۔جسے کسی طور نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ناول نگارکی مہارت اورفن پردسترس کی داددینی ہوگی کہ انھوں نے تجریدیت کے تجربے کوپورے ناول میں نہیں برتا،جب انھیں لگاکہ اس طرح کے تکنیکی تجربے کے ساتھ آگے لکھناقاری کو امتحان میں مبتلا کرنااوراس کی جھنجھلاہٹ کاشکارہوناہے توانھوں نے طریق کاربدلااورپھر مابعدجدیدتکنیکوں کاسہارالیا۔
ناول میں کئی مقامات پرخط کی تکنیک کااستعمال کیاگیاہے ۔اس میں طویل خطوط کا استعمال نہیں کیاگیاہے ۔چندسطروں اورجملوں کے خطوط ہیں،جن سے ناول کی رنگارنگی اورتنوع میں بیش بہا اضافہ ہوتاہے اورتکنیکی تجربے سے گزرتے ہوئے قاری کے مطالعے کی تسکین بھی ہوتی ہے کہ وہ ایک اچھااوراکیسویں صدی کانمائندہ ناول پڑھ رہاہے۔خط کی تکنیک کااستعمال دیکھیں۔
’’اورپھرتمکنت تھی،جس نے مرنے سے پہلے خط لکھا:مجھے کینسر ہوگیا ہے،میری کیموتھراپی ہوئی ہے،میرے سب بال اڑگئے ہیں، میراچہرہ جھانولاہوگیاہے ، مجھے بھولناچاہتے ہوتوایک مرتبہ آکردیکھ لو،مجھے نہیں لگتامیں اس کے بعدپھرتمہیں خط لکھ سکوں گی۔میرے شوہرکسی طرح کے ٹورپرگئے ہیں ۔‘‘(۲۳)
’’ایک رات قیدارکوکھانے کے ٹیبل پرایک رقعہ ملا۔
رمیش میرے لیے ایساسہارابن گیاہے کہ اس پراعتبارکرنے کوجی چاہتاہے۔میں اس کے ساتھ جارہی ہوں۔آپ کی بے سہارابہن نائلہ‘‘ (۲۷۳)
یہ دوخطوط ہیں۔دونوں کے مکتوب الیہم الگ ہیں۔ایک کامکتوب الیہ اسماعیل ہے،دوسرے کامکتوب الیہ قیدارہے۔ایک محبوب اپنے عاشق کوخط لکھ رہی ہے تودوسراخط ایک بہن اپنے بھائی کولکھ رہی ہے۔ ایک ابتدائی صفحات کاخط ہے تودوسراناول کے نصف آخرکاخط ہے ۔ایک میں کینسرکے مرض کی اطلاع ہے تو دوسرے میں رمیش کے ساتھ جانے کی اطلاع ہے۔لیکن دونوں ہی خطوط ایسے مقامات پردرج کیے گئے ہیں،جہاں خط کی تکنیک کااستعمال ناگزیرتھا۔سماجی حقیقت نگاری سے جڑے ہوئے اوراس سے سروکاررکھنے والے خطوط ہیں۔یہاں خط کی تکنیک کواختیارکرنے کے لیے مواقع پیدانہیں کیے گئے ہیں،ناول کے جس حصے میں یہ موقع آگیاہے،یعنی جب ناول نے خط لکھنے پرمجبورکیاہے،تبھی خطوط درج کیے گئے ہیں۔
عمومی طورپراکیسویں صدی کے ناولوں میں خط اورڈائری کی تکنیک اختیارکی گئی ہے ۔لیکن بہت کم ایسے اردوناول ہیں،جہاں بیک وقت خط اورڈائری دونوں تکنیک استعمال کی گئی ہیں۔انہی کم ناولوں میں ایک اماوس میں خواب بھی ہے،جس میں خط کی تکنیک اورڈائری کی تکنیک دونوں اختیارکی گئی ہیں اوربہت خوش اسلوبی کے ساتھ استعمال کی گئی ہیں،جہاں خط کی تکنیک کوپڑھنے سے قاری میں ایک طرح کا درد ابھر آتاہے۔وہیں ڈائری کی تکنیک سے عصری حسیت اورسیاسی آگہی کااندازہ ہوتاہے۔
’’اسے اپنے باپ اسماعیل کی ڈائری کاایک صفحہ یادآگیا۔
’’چالیس برس تک ہم لوگ سی پی آئی اورسی پی ایم کے سہارے جیے،اس آس پرجئے کہ وہ صبح کبھی توآئے گی ،مگروہ صبح کبھی نہیں آئی ،ہم قتل ہوتے رہے،ذلیل ہوتے رہے ،ہماری ماؤں بہنوں کی عزت لوٹی جاتی رہی،ہم بندھوامزدور بنتے رہے اورمالک نے جس طرح چاہاہمیں استعمال کیا،ہم دانے دانے کوترستے رہے اورمالک کی کوٹھیاں بھرتی رہیں،پٹنہ میں ڈمراؤںراج اورہتھواراج کی محل نماعمارتیںاس کی گواہ ہیںاورسب کامریڈلوگ شہرمیں بیٹھ کرصرف پرستاؤپرپرستاؤ پاس کرتے رہے۔آپ نے کیاکیاہے اب تک؟دہلی،پٹنہ،کلکتہ ہرجگہ آپ لوگ ہمیں چارے کی طرح استعمال کرتے رہے،اگرکانگریس اوربی جے پی ووٹ بینک کے لیے سوانگ بھرتی ہے توآپ نے بھی ووٹ بینک کے لیے کیاکم سوانگ بھرے ہیں ؟……(۳۱۹)
یہ اقبتاس ڈائری کاایک حصہ ہے۔ ڈائری کے اس صفحے سے پہلے ناول کے ابتدائی صفحات میں درج ڈائری کاصفحہ کافی طویل ہے ۔اس لیے چھوٹا صفحہ میں نے اقتباس کے لیے منتخب کیا،اس صفحے کابھی نصف حصہ میں نے یہاں نقل کیاہے۔ڈائری کے دونوں صفحوں سے عصری حسیت اوراندرونی کیفیات واحساسات کااندازہ ہوتاہے۔عمومی طورپرآج کامسلمان یاآج کاانسان کانگریس اوربی جے پی کواپنے سیاسی زوال کے لیے موردالزام ٹھہراتاہے۔لیکن یہاں کیفیت کچھ الگ ہے ناول نگارمانتے ہیں کہ کانگریس اوربی جے پی ہندوستانیوں کی سیاسی تباہی کی ذمہ دارہیں لیکن سی پی آئی اورسی پی ایم بھی کچھ کم ذمہ دارنہیں ہیں۔وہ صبح کبھی نہیں آئی ،ہندوستانی عوام جس کے منتظرتھے،جس کا انھیں خواب دکھایاگیاتھا۔ڈائری درج کرنے میں بھی ناول نگارنے اس بات کاخیال رکھاہے کہ ڈائری قاری کے لیے الجھن کاسبب نہ بنے ۔اس لیے پورے ناول میں ڈائری کے دوتین ہی صفحات استعمال کیے ہیں ۔
ناول اماوس میںخواب کابیانیہ خوبصورت بیانیہ ہے ،جس میں ابہام اورژولیدگی نہیں ہے۔ مضبوط اورمستحکم بیانیہ ہے،اس کے بیانیہ کی تخلیق میں خام موادکی صورت استعارہ،علامت،تجریدیت ،بین المتن،ڈائری کی تکنیک،خط کی تکنیک،شاعری وغیرہ کام کرتے رہتے ہیں۔ان چیزوں کی وجہ سے اماوس میں خواب کابیانیہ مہابیانیہ کی صورت اختیارکرتاہے۔اس بیانیے میں جس تنوع ،ترتیب اورتہذیب کامظاہرہ ہوا ہے ۔وہ اکیسویں صدی کے ناولوں میں اماوس میں خواب کوایک خصوصی مقام اورمنصب عطاکرتاہے ۔اس کابیانیہ یک طرفہ نہیں،اس بیانیے کی نظرچہارجانب ہے،جہاں یہ انسان کے داخلی حالات وکیفیات کاغمازہے،وہیں سماجی،سیاسی اورثقافتی الٹ پھیرکاگواہ بھی ہے ۔ تہذیب کی تبدیلی کے تماشے بھی یہ دکھاتاہے۔ بدلتے ہوئے ہندوستان کے تبدیل ہوتے نعرے بھی لگاتاہے، انسانی افکارکی تبدیلی پربھی اپنی توجہ مرکوزرکھتا ہے ۔
اماوس میں خواب میں شعورکی روکی تکنیک اہم عنصرکے طورپرکام کرتی ہے ۔ناول کے ابتدائی صفحات سے ناول کے آخرتک شعورکی روکام کرتی رہتی ہے۔آزادی کے بعدسے معاصرہندوستان کاسیاسی منظرنامہ شعورکی روکی تکنیک کے تحت یہاں درج کیاگیاہے، ابتدائی صفحات میں شعورکی روکے ساتھ تجریدیت کااستعمال انھیں زیادہ معنی خیزبناتاہے،لیکن ناول کے آگے بڑھنے سے وہ کیفیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ پھرتجریدیت کے علاوہ تکنیکی آلات کام کرنے لگتے ہیں۔بابری مسجد ،جے این یو،روشنی اوراس کاگھر، ممبئی ،بہار،حاجی علی اورہندوستان کے دیگرحالات اورشہرکی داستان بتانے کے لیے ناول نگارنے شعورکی روکی تکنیک کااستعمال کیاہے ۔
ناول میں خوداحتسابی کی کیفیت بہت اہم ہے،جس میں ناول مسلمانوں کوخوداحتسابی پرابھارتاہے،آزادی کے بعدجوکچھ مسلمانوں کے ساتھ ہوا،ناول اس پرسوال قائم کرتاہے کہ کیااس ہونے میں مسلمان کہیں شامل اورشریک نہیں ہیں؟ایسے ہی مقامات پرناول نگار کے قلم سے کچھ ایسے جملے اور اقتباسات نکلے ہیں،جنھوں نے Ironyکی صورت اختیارکرلی ہے ۔طنزخفی یارمز کومابعدجدیدتکنیک میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔اس تکنیک کااستعمال ناول میں کئی مقامات پرہواہے ۔
’’پاس ہی ایک کمیونسٹ دوست بیٹھاتھا۔جھلاکربولا۷۳برس کے بعدبھی اگرعادتیں نہ بدل سکیں توتباہی کوکوئی روک نہیں سکتا۔ تو گوہر مالیگانوی نے مسکراکربولاتھا۔ہزاربرس کی عادت۷۳برس میں کیسے ختم ہوجائے بھائی؟
شکراداکروکہ زمانہ بدل گیاورنہ جزیہ توتم لوگوں سے وصول کیاجاناچاہیے تھا۔‘‘(۳۹)
’’قیدارصاحب۔بڑے بقراط بنتے ہیں آپ،مگرسامنے کی بات آپ کونہیں معلوم؟
عبدالجبارہنسا۔
کیاسامنے کی بات کیا؟
یہی کہ اس وقت مذہب بیچنے میں جتنافائدہ ہے،تاریخ فلسفہ بیچنے میں اس کاعشرعشیربھی نہیں۔
کیا ملحدوں جیسی باتیں کرتے ہو؟
تاریخ فلسفہ توچھوڑیے،اب توفلم سے بڑامارکیٹ مذہب کاہے۔
استغفراللہ!ــ‘‘(۲۸۹)
یہ دومثالیں ہیں،ورنہ ناول میں اس طرح کے بہت سے اقتباسات مل جائیں گے۔خوداحتسابی کے بعدعمومی طورپراس طرح کے جملے صادرہوتے ہیں۔Ironyکی تکنیک کااستعمال اچھی طرح کیاگیاہے۔ کئی مقامات پرقاری مسکرانے پرمجبورتوہوتاہے،لیکن جملوں کی حساسیت اوراس کے اندرپوشیدہ تیرونشتراسے غمگین کردیتے ہیں ۔
اماوس میں خواب میں مہافکشن (Metafiction)کے ساتھ تاریخی بیانیہ(historiographic metafiction)کااستعمال ہواہے۔ایک طرف جہاں یہ ناول اپنے قاری کویہ ذہن نشیں کراتاہے کہ تم ایک فکشن ؍ناول پڑھ رہے رہو۔
’’اب یہاں سے اگرقیدارمحمدکوکچھ دیرکے لیے کنارے بھی کردیاجائے تب بھی کہانی توبڑھتی ہی رہے گی،حالاں کہ قیدارمحمدواقعی آگے کی ساری کتھایاتراسے الگ ہوجائے گایالپت ہوجائے گایہ فیصلہ بھی شایدابھی صحیح نہیں ہوسکتا۔‘‘(۳۰۱)
وہیں یہ ناول آزادبھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جوکچھ ہوا،اسے بھی درج کرتاچلاجاتاہے۔ پوراناول دراصل مابعدآزادی کاتاریخی بیانیہ ہی ہے ۔اس بیانیے کاتعلق ماضی،حال اورمسلمانوں کے مستقبل سے ہے ۔
اماوس میں خواب ایک ایساسماجی حقیقت نگاری پرمشتمل ناول ہے،جواپنے فارم کے اعتبارسے ایک ناول ہے۔تاہم یہ آزادی کے بعد کے حقیقی حالات کوپیش نظررکھ کرلکھاگیاہے ۔بابری مسجدکی شہادت،اخلاق کابہیمانہ قتل،گھرواپسی کانعرہ،ہندومسلم تفریق کی انتہا،فرقہ وارانہ فسادات،پٹنہ بم دھماکہ یہ سب واقعات ہمارے آزادبھارت میں رونماہوچکے ہیں۔ان بنیادوں پریہ کہاجاسکتاہے کہ اس ناول میں factionکی تکنیک بھی استعمال کی گئی ہے۔جسے اردومیں کچھ لوگوں نے حق سانہ کاعنوان دیاہے ۔factionاسے کہاجاتاہے ، جس میں فکشن اورحقائق آپس میں مدغم ہو گئے ہوں ۔
ناول میں خط،ڈائری،اشعار،نثری نظم وغیرہ کااستعمال کیاگیاہے۔یہ صورت حال بین المتونیت اورفنی مخلوطہ (pastiche) کی ہے۔ اماوس میں خواب میں مندرجہ بالااصناف کے علاوہ لوک گیت اورداستانوی اندازکے اقتباسات بھی آئے ہیں۔مجھے لگتاہے کہ فنی مخلوطہ کی بہترین مثال ہے ناول اماوس میں خواب۔صنفی امتزاج اپنی کارستانیوں سے جمالیاتی حس بیدارکردیتاہے ۔
اماو س میں خواب میں بین المتونیت کی تکنیک کااستعمال مختلف نوعیتوں سے ہواہے۔ ایک توانتساب کے صفحے اوراس سے دو صفحے قبل درج خماربارہ بنکوی کے اشعارکی تشریح کرتاہے یہ ناول تودوسری طرف ناول نگاراماوس میں خواب کے متن کی تشکیل کے لیے خوداپنے ناول فرات،اپنی کتاب آثاربغاوت،اپنے افسانے سوئی کی نوک پررکالمحہ،حدیث شریف کاترجمہ اورنورالحسنین کے ناول ایوانوں کے خوابیدہ چراغ کے متن کاسہارالیتے ہیں۔درمیان میں بہت سی نظمیں اوراشعاربھی سامنے آتے رہتے ہیں۔مجروح اور ندافاضلی کے اشعاربھی بین المتونیت کی مثال ہیں۔یہاں کسی ایک متن پرمنحصرہوکربین المتونیت کی تکنیک اختیارنہیں کی گئی ہے ۔شدت پسندی کے خلاف،قومی یکجہتی کی بحالی کے لیے جومتن ناول نگارکے سامنے آئے، انھوں نے برمحل استعمال کیاہے ۔اس سے ناول کی شگفتگی،سنجیدگی،رنگارنگی ،تنوع اورتکنیکی تجربے میں اضافہ ہواہے ۔
ناول جابجاشعورکی روکے ساتھ وقت کے تصورکااحساس بھی کراتاہے،آزادی کے بعدہندوستان کاماحول،سماج،فکری دھارا،ایجوکیشن میں کرپشن ،ممبئی،بہار،کانگریس،بی جے پی اورکمیونسٹ پارٹیاںکس طرح بدل رہی ہیں۔کیسی تبدیلیاں آرہی ہیں۔وقت کس طرح بدل رہاہے ۔وقت کاتصوراہم عنصرکی طرح یہاں کام کرتاہے ۔فسادکاشکاراسماعیل پڑھ لکھ کرلکچراربن جاتاہے اوراسی کی بیٹی جونازونعم میں پلی بڑھی ہے،وہ حالات کی شکارہوکربالاخانے سے بچنے کے لیے خودکشی کرلیتی ہے۔فیضان رسول میرانی جوتعلیم کے حصول کی عمرسے باہر بھی نہیں نکلاتھاکہ اس کے سامنے گھریلوذمہ داریاں آکھڑی ہوتی ہیں اوروہ ذمہ داریوں کی نذرہوکرتعلیم کے حصول سے دورہوجاتاہے ۔ وقت بدل رہاہے۔ناول وقت کے تصورکوعمدہ طریقے پراپنے کینوس پرپینٹ کرتاہے اوراپنے کینوس کووسیع ترکرلیتاہے۔زمانی انتشار (Temporal Distortion)کے تحت ناول میںوقت کی توڑپھوڑاورزمان ومکان سے بحث کی گئی ہے ۔
مابعدجدیدتکنیک میں ایک کثرت پسندی(Maximalism)بھی ہے،جس کے اصولوں کوہم پیش نظررکھ کرناول اماوس میں خواب کوجانچتے اورپرکھتے ہیں تویہاں بھی ہمیںسیاست،مذہب،ثقافت،معاشرت اورسماجی مسائل مل جاتے ہیں۔پھراسی ناول میں اپنے سماج اورمعاشرے کومعاصرمذہبی فکراورمتصوفانہ افکارکے ساتھ بھی پرکھنے اورغورکرنے کاسلیقہ سکھایاگیاہے ۔از اول تاآخرناول سیاست، سماج، مذہب اورتصوف کوپیش نظررکھ کرآگے بڑھتاہے۔بین المتونیت،میٹافکشن اورکثرت پسندی یہ سب تکنیک آپس میں مربوط ہیں۔لیکن اماوس میںخواب میں یہ تکنیک اپنے آپ کوظاہرکرتی نظرآتی ہیں۔
ناول کے ۲۱۸سے ۲۲۱صفحات پرجادوئی حقیقت نگاری کااستعمال ہواہے ۔خانہ بدوشوں کی نمائش کے ذریعہ جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کااستعمال کرکے ناول نگارنے ناولوں کی جدیدتکنیکوں کے استعمال پراپنی مہارت کااحساس کرایاہے ۔قاری کاذہن کنفیوژن کا شکار ہوتاہے کہ تمثیل ہے یاجادوئی حقیقت نگاری مگرجب اسے احساس ہوتاہے کہ جادوئی حقیقت نگاری تمثیل میں ہی اپنااظہار کرتی ہے تو جادوئی حقیقت نگاری کی یہ گتھی سلجھ جاتی ہے۔پھراس جادوئی حقیقت نگاری کے درکھولتے ہوئے انھوں نے بہاراور ملک کی سیاست کواس تمثیل سے ملادیاہے۔ ناول نگارنے تکنیکی تجربات میں جس طرح کی سعی کی ہے،ناول اماوس میں خواب اکیسویں صدی کے بڑے ناولوں میں شامل ہوگیاہے۔ (یہ بھی پڑھیں نعمت خانہ: بھوک کی موہوم حقیقی دنیا – ڈاکٹر انوار الحق )
اماوس میں خواب میں ناول نگارنے شاندارتکنیکی تجربے کیے ہیں۔اکیسویں صدی کے ناولوں میں کئی چاندتھے سرآسماں،غلام باغ، نعمت خانہ،خس وخاشاک زمانے،خواب سراب اورحسن کی صورت حال خالی جگہیں پرکروایسے ناول ہیں ،جن میں عمدہ تکنیکی تجربے کیے گئے ہیں۔ان میں تکنیکی تجربے کی وجہ سے بلاشبہ اماوس میں خواب کویقیناشامل کیاجائے گا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

