بھوک ایک ایسی کیفیت ہے جس سے ہر ذی حیات دوچار ہوتا ہے جس طرح یہ سچ ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ ہر جاندار کوبھوک کا مزہ چکھناہے۔ موت اور بھوک ان دونوں کیفیات پر قلم اٹھانے والے عالمی شہرت یافتہ نوجوان اردو ناول نگار خالد جاویدحقیقت کو موہوم حقیقت نگاری تکنیک سے گذار قارئین کے دلوں تک پہنچاتے ہیں ۔۔
موت کی کتاب سے ناول نگاری میں قدم رکھنے والے خالد جاوید کے افسانے تواتر سے شائع ہوتے رہے اور ان کی پذیرائی بھی ہوئی۔ جب خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب ‘ شائع ہوا تو چندناقدین کے ردّ عمل سے یہ ظاہر ہوا کہ ناقدین اس اکیسویں صدی میں بھی اپنے بندھے ٹکے اصولوں سے سمجھوتا کرنا نہیں چاہتے انہیں روایات کی پاسداری بے حد عزیز ہے۔ ہند و پاک کے چند ناقدین نے یہ کہہ کر اس ناول کی مخالفت کی کہ یہ اس جدیدیت کے زیرِ اثر تخلیق کیا گیا ناول ہے جس تحریک نے برسوں پہلے دم توڑدیا ۔ ان بچکانہ سوچ کے حامل چند گھسی پٹی سوچ رکھنے والے ناقدین کے علاوہ اردو دنیا نے ناول ’موت کی کتاب‘ کا والہانہ خیر مقدم کیا۔
حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ناول کو پڑھا جاتا اور اس کی خوبیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی۔ فن ، تکنیک اور مواد کے حوالے سے گفتگو کی جاتی۔ اب جبکہ ’موت کی کتاب ‘ کا دوسرا حصہ یعنی موت کی دوسری کتاب’نعمت خانہ ‘ ہمارے سامنے موجود ہے تو ایک سنجیدہ ناقد کی یہ ذمہ داری ہے کہ بجائے یہ کہنے کے کہ یہ ترقی پسندی کے زیرِ اثر ہے یا مزدوروں کی مخالفت کرتا ہے، اس پر جدیدیت کا سایہ ہے یا ما بعد جدیدیت کا آسیب ، ہم یہ گفتگو کریں کہ ناول میں ناول نگار نے کس تکنیک کا استعمال کیا ہے، کیا کہنے کی کوشش کی ہے اور کس طرح کہنے کی کوشش کی ہے۔ کہاں حقیقت کو سامنے رکھا ہے اور کہاں حقیقت سے منہ موڑلیاہے۔ سیدھے سادے جملوں میں کیا کہا گیا اور زیریں لہر میں کیا پرویا گیا۔ حقیقی دنیا کی بات کی گئی یا خوابوں کی دنیا موضوع بنی۔ یہ باتیں زیادہ اہم ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں نعمت خانہ:ایک منفرد بیانیہ – ڈاکٹرصدف پرویز )
ناول’ نعمت خانہ ‘کا موضوع بھوک ہے۔اس کیفیت سے گذرتے ہوئے انسان جرم کے سمندر میں بھی غوطے لگاتا ہے اور موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے، اور اتار بھی دیتا ہے۔ اسلوب ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ الفاظ تشبیہات کی مدد سے کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ علامتوں کا استعمال بالکل نہیں ہے، در اصل علامتیں موت کی کتاب کے پہلے حصے میں بھی نہیں تھیں، وہ تو در اصل اردو کے کچھ نام نہاد ناقدین نے نا سمجھی کی بنیاد پر موت کی کتاب کو علامتی ناول کہہ ڈالا تھا، حالانکہ دلیل کچھ بھی نہ تھی۔ ناول نعمت خانہ میں تہہ در تہہ چل رہی کہانی کو ہم پڑھ کر محظوظ ہو تے ہیں۔ ’چبا چبا کر پڑھی جانے والی کتاب ہے‘ ناول نعمت خانہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حقیقت کے اظہار کے لیے جادوئی حقیقت نگاری اور موہوم حقیقت نگاری کا سہارا لیا گیا ہے۔ عرض کرتا چلوں کہ جادوئی حقیقت نگاری یا موہوم حقیقت نگاری کسی تحریک یا تکنیک کا نام نہیں یہ وہ زاویے ہیں جن کی مدد سے فن پاروں میں موجود فنی کاریگری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جدیدیت کے زیرِ اثر وجود میں آنے والے بیشتر فکشن کی طرح اس ناول نعمت خانہ میں ترسیل کا مسئلہ بالکل نہیں ہے۔ ایک ادنیٰ سا قاری بھی اس ناول میں الفاظ کے نہاں خانوں میں پوشیدہ جذبات، کیفیات، محسوسات ، اور پیغامات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
کسی بھی فن پارے کے وجود میں آتے ہی فن کار کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ۔اب اس فن پارے کی قدر و قیمت متعین کرنا حساس قارئین اور ذمہ دار ناقین کہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ ناول سیدھا سادہ اور سپاٹ نہ ہوتا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا رنگ محل ہے جس میں سجی مورتیاں آپ کو اچھی لگ سکتی ہیں، آپ ان کی محبت میں گرفتار بھی ہو سکتے ہیں اور ان کی خوبصورت نقش و نگارکی فنی لوازمات آپ کو خیرہ کر سکتی ہیں۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس رنگ محل کے شامیانے میں لگے ترپال میں موجود گندے دھبوں ہی کو دیکھ کر آپ فن کی قدر و قیمت متعین کرنے لگ جائیں یا بجائے رنگ محل کی خوبصورت کلاکاریوں کو دیکھ کر محظوظ ہونے کے فن کاروں کا شجرہ لے کر بیٹھ جائیں کہ وہ کون سی ذات کا تھا، یا اس کا تعلق کس تحریک یا مکتبِ فکر سے تھا۔ اب یہ قاری کی وسعت ِ نظری یا تنگ نظری پر منحصر ہے کہ اس کو کیا بھاتا ہے اور اس کو اللہ نے کتنا عقلِ سلیم عطا کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فن کسی مکتبِ فکر کا غلام نہیں ہوا کرتا۔ فن ان سب لا یعنیت سے آزاد ہوا کرتا ہے۔ جب بھی فن کو اس طرح کی لا یعنیت میں قید کر نے کی کوشش کسی نے کی ہے توگمنامی کا قید خانہ ایسے صیادوں کا مقدر ہوئی ہے۔
نعمت خانہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا راوی واحد متکلم ہے۔ فکشن کی باریکیوں سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ راوی اگر خود مصنف ہو تو زیادہ با اثر تریقے سے وہ کردار میں اتر کر اس کے احساسات اور ردّ عمل کو سمجھ سکتا ہے، اور بہتراسلوب میں اس کو بیان کر سکتا ہے۔ اس کہانی کے راوی کے ساتھ اس کے بچپن ہی میں ایک حادثہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے اندر ایک عجیب و غریب صلاحیت پیدا ہو جاتی جس سے اس کومستقبل میں رو نما ہونے والے حادثات و واقعات کا قبل از وقت احساس ہو جاتا ہے۔ یہ صلاحیت اس کے اند ر تب سے پیدا ہو جاتی جب اس نے ایسا دودھ پیا جس میں ایک چھپکلی مری ہوئی تھی۔ اس خاص صلاحیت کے پیچھے معاملہ کسی علامت یا کسی فلسفے کا نہیں ہے بلکہ اس خاص صلاحیت کو نفسیاتی تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نعمت خانہ کا وہ حصہ ملاحظہ فرمائیں:
’’پل بھر کو مجھے اپنا وزن بہت کم محسوس ہوا۔ میں ہوا یا روشنی کی طرح ہلکا سا ہو گیا۔ میں نے اپنے اندر ایک واضح تبدیلی محسوس کی۔ جیسے دیوار پر ٹنگی کسی پرانی، دھول زدہ گھڑی کی ٹک ٹک اچانک بہت بلند ہوگئی ہو۔
یقینا میرے اندر، میرے جسم اور دماغ میں کچھ تبدیل ہوا تھا۔ اُلٹیوں اور قے کے ذریعے نہ جانے کیا کیا میرے جسم سے باہراُنڈیل دیا گیا تھا، مگر ساتھ ہی جسم سے باہر موجود ہوائوں نے کوئی پُراسرار یا آسیبی شے میرے وجود کی گہرائیوں میں پیوست بھی کر دی تھی۔ (یہ بھی پڑھیں موت کی کتاب :سیاہیوں کی تہہ داریاں – پروفیسر انتخاب حمید )
میرے اندر کوئی طاقت آئی تھی۔ آخر کمزوری اورنقاہت، ایک نئی قوت اور طاقت کا پیش خیمہ بھی تو تھے۔
مگر میں اپنی چھٹی حس سے پہچان گیاکہ یہ طاقت منحوس اور خطرناک ہے۔ مجھے احساس تھا کہ جو بھی ہے وہ جلد ہی میرے لیے ایک عذاب کی پیشین گوئی ثابت ہوگا— ہاں! یقینا ایک عذاب!
(نعمت خانہ صفحہ نمبر83)
ناول کا یہی وہ حصہ ہے جس میں اس خاص صلا حیت کا ذکر ہے جس کی وجہ سے ناول کا ہیرو یعنی مصنف ایک خاص قسم کی قدرتی صلاحیت سے آراستہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پورے ناول میں اس کو آنے والے حادثات اور واقعات کی پیشگی اطلاع ہو جاتی ہے او ر اس کی وجہ سے وہ ایک خاص قسم کی داخلی کشمکش میں مبتلا رہتاہے۔ جس جگہ خالد جاوید نے ہیرو کے داخلی جذبات و کیفیا ت کا بیان کیا ہے وہ حصہ بہت خوب ہے۔ چونکہ خالد جاوید فلسفے کے رموزو نکات سے واقف ہیں اس لیے کرداروں کی آپ بیتی کو جگ بیتی فوراََ ہی بنا دیتے ہیں جس سے ایک فرد کا تجربہ عالمی تجربے میں تبدیل ہو کر قارئین کو اس واقعہ سے دور کہیں داخلی جذبات کی دنیا کا سیاح بنا دیتا ہے۔ اور یہی سیاحت فنی اعتبار سے اس ناول کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ جب قاری کسی داخلی جذبے کی سیاحی میں مصروف ہوتا ہے تو اچانک سے رونما ہونے والا کوئی حادثہ پھر سے قاری کو اس دنیا سے نکا ل کر ناول کے پلاٹ سے وابستہ کر دیتا ہے۔ قاری مختلف قسم کی کیفیت سے گذرتاچلا جاتا ہے۔
اس ناول کی جائز قدر و قیمت متعین کرنے کے لیے موہوم حقیقت نگاری یعنی Hallucinatory Realism کا زاویہ سب سے زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ فکشن کی صنف اسی حقیقت نگاری کے زیادہ قریب بھی ہے۔ موہوم حقیقت نگاری میں حقیقت ہوتی تو ضرور ہے مگر وہ حقیقی دنیا کی نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا کی حقیقت نگاری ہو تی ہے جو حقیقی دنیا نہیں بلکہ خوابوں کی دنیا ہے۔ ناول میں اصل واقعے کی حقیقت نگاری مقصود نہیں ہوا کرتی بلکہ ناول نگارایک خیالی دنیا کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک اچھا ناول نگار ناول میں ایک ایسا عکس چھوڑ جاتا ہے جو حقیقت اور موہوم حقیقت کے درمیان کی کڑی ہوا کرتا ہے۔ خالد جاوید کے ناول نعمت خانہ کی کہانی حقیقی اور موہوم دنیا کے درمیا ن گشت کرتی ہوئی قارئین کے دلوں میں بہت ہی موئثر انداز میں اترتی چلی جاتی ہے۔
اس اثر انداز تخلیقی نثر کے پیچھے شاید خالد جاوید کے فلسفیانہ اندازِ بیان کا عمل دخل بھی ہے جو موہوم حقیقی فضا میں حقیقت نگاری کا گمان کراتا ہے مثال کے طور پر نعمت خانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے
’’باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔
منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔
مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟
آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!
ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔
مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔
(نعمت خانہ ، صفحہ 67)
مندرجہ بالا اقتباس کی بنیاد پر ناول نعمت خانہ کے فنی لوازمات پر گفتگو کرنے کا جواز مجھے نظر آتا ہے۔ منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت یہ وہ اعضائے خمسہ ہیں جن کے متعلق اگر ہم کسی دانت کے ڈاکٹر سے بات کریں تو اس کا زاویہ کچھ اور ہوگا اور اگر ہم کسی ماہرِ لسانیات سے بات کریں تو اس کے زاویہ میں ایک ڈاکٹر کے زاویہ نظر کے مقابلے ایک بڑا فرق ہم محسوس کر سکتے ہیں، ایک فلسفی انہیں اعضا کے مختلف تفاعل پر غور و فکر کرتا ہے۔ خالد جاوید جیسا ناول نگار ان اعضا کے دو مخالف میدانِ عمل کے درمیان مشترک عناصر کی تلاش کر ان میںفلسفہ حیات کی بحث کا جوازپیدا کر لیتا ہے۔ چونکہ یہ بحث فکشن کے کینوس پر ہو رہی ہے اس لیے اس کے کچھ حدود بھی ہیں اور ان حدود میں رہ کر کرداروں کے ذریعہ خیالات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔اور اگر یہ بیانیہ ہے تو بیانیہ کا تعلق اصل پلاٹ سے اگر نا ہو تو یہ ساری بحث فضول کی بحث ہو کر رہ جائیگی۔ خالد جاوید کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے ناول میںہر ایک جملے کا رشتہ ناول کے پلاٹ سے بہت گہرا ہوتا ہے۔ اب آپ اس ناول کے نام، نعمت خانہ، ناول کے اس باب کے پہلے لفظ باورچی خانہ، اور زیرِ بحث اعضا کے درمیان تعلق پیدا کرنا ایک عام قاری کے لیے بھی دشوار بالکل نہیں ہے۔ (یہ بھی پڑھیں تفریح کی ایک دوپہر – پروفیسر خالد جاوید )
کفایتِ لفظی خالد جاوید کے ناول کی دوسری خوبی ہے۔ ان کے ہر باب میں کم الفاظ میں بہت کچھ کہہ جانے کا ہنر پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور ہر باب میں کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو یقیناََ بڑی بحث کو جنم دینے کا مادّہ رکھے ہیں لیکن خالد جاوید بڑے کنٹرول کے ساتھ آگے بڑھتے جاتے ہیں ہار میں پروئے موتیوں کی طرح خیالا ت کو ایک دوسرے سے پیوست کرنا ان کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ درجِ بالا اقتباس میں انہوں نے اعضائے تکلم اور اعضائے خوردنی کی بحث چھیڑ کر قاری کے ذہن میں اس ناول میںآئندہ رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی فضا آفرینی کی ہے، جن کا اس ناول کے نام کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
وہ بیانیہ جس کی طرف مندرجہ بالا سطروں میں اشارہ کیا گیا ہے ناول کی فضا آفرینی میں اس طرح کے بیانیے سے حسن پیدا ہوتا ہے۔ یہی حسین فضا آفرینی جو فلسفیانہ افکار پر مبنی ہوا کرتی ہے خالد جاوید کی وہ خوبی ہے جو ان کو ہم عصر ناول نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔
ناول میں فلسفیانہ افکار کی موجودگی در اصل نئی نہیں ۔ سترہویں صدی میں جب ہسپانیہ میں سلطنتِ اسلامیہ کے دور میں ایک حکیم نے عربی ادب میں فلسفیانہ افکار کی آمیزش کی مثال پہلی دفعہ قائم کی۔اس حکیم کا نام ابنِ طفیل تھا اور جس ناول میں اس نے فلسفیانہ افکار کا تجربہ کیا تھا اس ناول کا نام’حی ابن یقظان‘ تھا۔ بعض محققین تو اس ناول کو عربی زبان کا پہلا ناول بھی تصور کرتے ہیں۔ بہر حال، ابنِ طفیل نے کہیں سے باضابطہ فلسفے کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن فلسفیانہ ناول کے بنیاد گذار ہوئے ۔ ناولوں میں فلسفیانہ بحث کی شروعات در اصل اس سے بھی بہت پہلے قریب چوتھی صدی عیسوی میں ہو چکی تھی البتہ سینٹ اگستائن St. Augustine کی کتاب De Magistroکو جو چوتھی صدی کی تصنیف ہے کتنا ناول اور کتنا فلسفہ کہا جائے یہ ابھی تک طے نہیں ہو پایا۔ اگستان ایک لاطینی ادیب ہے جس کو فلسفیانہ ناول کا بنیاد گذار تسلیم کیا جاتا ہے۔
میرا مقصد فلسفیانہ ادب کی تاریخ بیان کرنا قطعی نہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ ناول میں فلسفے کے عمل دخل کو بہت سے ناقدین قبول نہیں کرتے اور اس کو نئے زمانے کی اختراع کہہ کر خارج کر دیتے ہیں۔ تو در اصل اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ خالد جاوید کا امتیاز یہ ہے کہ وہ باضابطہ فلسفے کے طالب علم رہ چکے ہیں، اور فلسفے کی باریکیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ادب اور زندگی دونوں کا تعلق فلسفے سے بہت ہی گہرا ہے۔ ناول چونکہ زندگی کا عکس ہوا کرتا ہے اس لیے فلسفے کے ذریعہ زندگی کی پیچیدگیوں کوناول میں زیادہ پر اثر طریقے سے تخلیقی جامہ پہنایا جایا سکتاہے۔ خالد جاوید نے ’نعمت خانہ‘ میں یہی کیا ہے۔ بلکہ وہ اس سے بھی دو قدم آگے ہیں اس ناول میں موہوم حقیقت نگاری ، جادوئی حقیقت نگاری اور حقیقت نگاری تینوں زاویوں سے زندگی کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے اس ناول کا جائزہ لیتے وقت تینوں زاویے ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے تب ہی ہم اس ناول کی قدر و قیمت متعین کر پائنگے ۔
ناول در اصل شاعری کی طرح دل سے دل تک خیالات کی ترسیل کو نہیں کہتے اس میں تکنیک اور میکینزم کا دخل ہوتا ہے، ظاہرہے کہ ایک مساوی دنیا کی تخلیق خیالات کی ترسیل سے مشکل امر ہے تو ایسے میں ناول کی تنقید میں بھی ٹکنالوجی درکار ہے۔ اردو کے مشہور ناقد شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ایک لکچر کے دوران بڑے اہم سوالات اٹھائے ہیں:
In order to get some answers here, can we inquire into
what might be called the "Technology of the Novel”? By
"Technology”, I mean ways of ordering the facts, ways of
narration, methods of dialogue construction, techniques of
delineating the character. Do we still go by the notion of
"Flat” and "Round” characters? Or are there different ways of
now understanding how a "Complex” character should be
created? Henry James claimed, or at least pretended that the
Novelist was actually a "Dramatist.” Do we accept or reject
this claim or pretence in regard to James or in regard to the
Novel in general? Then there is the time-honoured question of
"Realism” and "Verisimilitude”.
(The Novel in the Twenty-first Century, Text and Context
University of Allahabad, November 29-December 1, 2009
Closing Statement: ShamsurRahmanFaruqi)
فاروقی صاحب نے جن ٹکنالوجیکل تفاعل کا ذکر کیا ہے ان کے مدّ نظر دو اہم سوالات ابھرتے ہیں۔ ایک ہے حقیقت نگاری اور دوسری چیز جس کے لیے انہوں نے لفظVerisimilitudeکا استعمال کیا ہے در اصل یہ لفظ اپنے اندر ان تمام رجحانات کو سمو لیتا ہے جن میں حقیقت کا گمان تو ہوتا ہے مگر وہ حقیقت نگاری نہیں کہی جا سکتی۔ TAYLOR STOEHR کا ایک مضمون Texas Studies in Literature and Languageکے 1969 کے ایک شمارے میں شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا Realism and Verisimilitude اپنے اس مضمون میں انہوں نے ان دونوں الفاظ کے معنوی فرق کو بہت اچھی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
Fiction does not immitate life in the way as mirrors do, though we sometimes talk its "mirroring of reality” nor does it pretend to be real in the way waxed bananas do, or in the way that plastic simulates cowhide. Except for some odd cases in the early period of the novel, only a very few special sorts of frauds and spoofs pretend to be what they are not. Obviously a work acknoledged as fiction can not also claim factuality, although it may assert its over-all lifelikeness, or even say "this is the way things really were in the thirties "
(Texas Studies in Literature and Language
Vol. 11, No. 3 (Fall 1969), pp. 1269-1288)
اقتباسِ بالا سے مفہوم واضح ہوجاتا ہے کہ ایک تو حقیقت نگاری ہے اور دوسرا وہ جس میں حقیقت نگاری کا گمان تو ضرور ہوتا ہے مگر لوازم حقیقی نہیں ہوتے۔ ایسی تحریروں کے لیے جادوئی حقیقت نگاریmagic realism ، surrealism (پتہ نہیں اس کو اردو میں کیا کہا جا نا چاہیے؟) اور موہوم حقیقت نگاری Hallucinatory Realism جیسے اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کل ملا کر ہم اس کو تصوراتی ادب یعنی imaginative literature کہہ سکتے ہیں۔
نعمت خانہ میں کہانی کے پلاٹ کو مضبوطی سے قارئین کے سامنے لانے کے لیے خالد جاوید نے مختلف تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ جزیات نگاری پر اس ناول میں بہت محنت کی گئی ہے۔ اس ناول میں انسان کے باطنی معاملات کے ساتھ ساتھ خارجی واقعات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جبکہ’ موت کی کتاب‘ میں خارجی واقعات کا ذکر بہت کم ہے ۔ اس ناول پر تنقید کر تے وقت اگر کچھ معیار قائم کرلیے جائیں تو آسانی ہوگی ۔ مثلاََ ناسٹلجیا، جادوئی حقیقت نگاری، موہوم حقیقی دنیا، بھوک، اور حسیت۔
چونکہ اس ناول میں فلیش بیک کی تکنیک استعمال کی گئی ہے اس لیے اس کے بیانات کئی مقامات پر قاری کو ناسٹلجک کر دیتے ہیں۔ خاص کر ناول کے اس حصہ میں جہاں منظر کشی کی گئی ہے۔ منظر نگاری کرتے وقت خالد جاوید مناظر کا ناول کے معنایاتی نظام سے ربط بنائے رکھنے کے لیے کچھ فلسفیانہ عناصر پر زیادہ زور دیتے ہیںوہ اس ناول کی امتیازی خصوصیت بن جاتی اور یہی ان کے اسلوب کو دوسرے معاصر ناولوں سے ممتاز بھی کرتی ہے۔ کیا ناسٹلجیا کا بھوک سے کوئی تعلق ممکن ہے؟ کیا ماضی کے مناظر کا بیان کرتے وقت ناسٹلجک ہونا یا قاری کو ناسٹلجک کر دینا ایک ناول نگار کے لیے فطری عمل ہوتا ہے؟ کیا اشیائے خوردنی کا ذکر قاری کو ناسٹلجک کر سکتا ہے؟ کیا یہ امور کسی ناول کے لیے عام بات ہیں، یا یونہی در آ جانے والی خصوصیات ہیں یا جان بوجھ کر خالد جاوید نے اپنے اس ناول کو ان جذبات سے آراستہ کیا ہے؟ان سوالوں کے جواب کے لیے علمِ نفسیات کے اصولوں کا سہارا لینا بے حد اہم ہے۔ (یہ بھی پڑھیں زندوں کے لیے ایک تعزیت نامہ – ڈاکٹر خالد جاوید )
علمِ نفسیات کی ایک مشہور تھیوری ہے ’کلاسیکل کنڈیشننگ‘ اس تھیوری کے ماہر ایوان پیبلاو(Ivan Pevlov) نے ایک تجربہ کیا تھا جس کو علمِ نفسیات کا کلاسیکل تجربہ کہا جاتا ہے۔ اس تجربے میں پیبلاو نے ایک کتے کی مدد لی تھی۔ کتے کو قیمہ دکھایا جاتا ہے اور اس کے منھ میں پانی(saliva) آ جاتاہے۔ اس تجربے میں یہ تھا کہ جب بھی اس کتے کو قیمہ دکھا جاتا ایک گھنٹی بجائی جاتی۔ یہ عمل بار بار دہرایا گیا۔ کچھ وقت کے بعد صرف گھنٹی بجائی جاتی اس کتے کے منھ میں پانی آ جاتا۔ حالانکہ وہاں پر دور دور تک قیمے کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
پیبلاو کے اس کلاسیکل کنڈیشننگ کی تھیوری کی جھلک آپ کو نعمت خانہ میں مل سکتی ہے۔ مثلاََ اشیائے خوردنی کا ذکر کرتے وقت اس کو کچھ اس انداز سے نبھاتے ہیں کہ اس کے ناسٹلجیاکی کنڈیشننگ بن جاتی ہے۔ پیبلاو کی کنڈشننگ میں صرف دو چیزوں کا تعلق دکھایا گیا تھا جبکہ خالد جاوید کے اس ناول میں یہ عمل دو سے زیادہ معاملات کی کنڈیشننگ کرتا ہے۔ اشیائے خوردنی کا تعلق خوف سے کچھ اس طرح پیدا کر دینا کہ جب بھی خوف کا ذکر آئے قاری کے ذہن میں اشیائے خوردنی کا تصور ابھرنے لگتا ہے اور جب بھی اشیائے خوردنی کا ذکر اس ناول میں کیا گیا ہے ایک عجیب سے خوف کی کنڈیشننگ اس کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ اور اس نفسیاتی تھیوری کا اطلاق اس ناول میں اس نازکی سے کیا گیا ہے کہ یہی خصوصیت جادوئی حقیقت نگاری کی تھیوری کو بھی اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت یا جواز بہت مشکل ہے۔
نائجیریامیں جب پہلی دفعہ انگریزی میں ایک ناول وجود میں آیا تو اس ناول میں دو مختلف دنیا میں ایک ہی کردار کے الگ الگ اخلاقیات کا موازنہ پیش کیا گیا۔ کہانی یہ تھی کہ وہ کر دار مر جاتا ہے اور مرنے کے بعد وہ اپنی بیوی ، بچوں، کو ہی نہیں بلکہ اپنی شراب کی فیکٹری کے لیے کام پر رکھے گئے مزدوروں کو بھی مردوں کی دنیا سے زندہ لوگوں کی دنیا میں واپس لانا چاہتا ہے۔در اصل ان مزدوروں کے بغیر کھجور کی شراب بنانا تقریباََ ناممکن ہی ہو جاتا ہے اور ان مزدوروں کا واپس زندوں کی دنیا میں آنا بھی ممکن نہیں۔ اس ناول کا نام تھا The Palm-Wine Drinkardاور اس ناول کے خالق تھےAmos Tutuola۱۹۵۲میںیہ ناول وجود میں آ یا۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ جس طرح آموس نے اپنے اس ناول میں مزدوروں کے حق کی بات کی، جادوئی خقیقت کی تکنیک بھی اس میں موجود ہے۔ موہوم حقیقی عناصر بھی آپ تلاش کر سکتے ہیں، ما فوق الفطری عناصر بھی موجود ہیں۔ ٹھیک اسی طرح نعمت خانہ میں خالد جاوید نے کچھ ایسی تکنیک اختیار کی ہے کہ یہ بھی تکنیک کے اعتبار سےmulti facetedناول کا درجہ رکھتی ہے۔ چونکہ The Palm-Wine Drinkardنائجیریا میں وجود پزیر ہو رہا تھا اس لیے وہاں کے بھوک سے مرنے والوں اور ہندوستان کے کچھ دیہی علاقوں میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد میں کچھ زیا دہ فرق نہیں۔
مذکورہ بالا نفسیاتی تھیوری اور نائیجریائی ناول کی مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ خالد جاوید کے ناول نعمت خانہ میں َ ناسٹلجیا، جادوئی حقیقت نگاری، موہوم حقیقی دنیا، بھوک، اور حسیت یونہی نہیں ہیں ان پر خاص توجہ دی گئی ہے اور ان کے باہمی رشتوں کو بھی ایک نظر نہ آنے والے مقناطیسی دھاگے میں پرویا گیا ہے۔ ایک ہی واقعے میں اس طرح کے مختلف معاملات کو ایک ساتھ پرو کر پیش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ خود اس کتاب کا نام ’’نعمت خانہ‘‘ کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ اس ناول میں موجود تمام دھاروں کی آماج گاہ ہے۔ اس لفظ کو آ پ خدا کی تمام نعمتوں یعنی بھوک(اشیائے خوردنی)، جسم کی بھوک(سیکس)، روح کی بھوک (محبت) وہم (موہوم حقیقی دنیا ، خطرات)، غیر سائنسی واقعات کے رونما ہونے کا ڈر(جادوئی حقیقت)ان تما م کیفیات و جذبات کی ترجمانی کرتا یہ لفظ اس ناول میں موجود تمام فلسفیانہ دھاروں کااستعارہ ہے۔ اب آئیے اس لفظ کے پیچھے چھپے ہوئے معنیاتی نظام کے فاش ہونے کے بعد اس لفظ پر غور کریں ۔ یہ لفظ جس شئے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ کسی غریب کے گھر کی زنیت کبھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ یہ زمین داروں اور فیوڈل کلاس کے لوگوں کے گھر کی زینت تھی جو قدرت کے انمول خزانوں یعنی انواع و اقسام کے نعمتوں کو تالا لگا کر رکھتے بھی تھے اور چونکہ یہ جالی دار ہوا کرتا تھا تو ایک طرح سے اپنے گھر میں آنے جانے والے غریب لوگوں پر یہ دھونس ڈالنا بھی مقصود ہوا کرتا تھاکہ ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ دوسری ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جن اشیائے خوردنی پر کچھ با اثر حضرات اترایا کرتے تھے ان کی حقیقت کیا ہے اس پر اس ناول میں خالد جاوید کے اس بیان سے اشارہ مل جاتا ہے کہیں نہ کہیں ہر بدشگونی کے پیچھے اشیائے خوردنی کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔ آج کل نعمت خانے کی جگہ ریفریجریٹر نے لے لی ہے۔ یعنی نعمت خانے کی شکل ترقی یافتہ ہو گئی، یا بد شگونی کی شکل ۔۔۔
اس طرح کی بہت سی سمجھ میں آنے والی اور ناسمجھ میں آنے والی باتیں اس ناول کو ایک اہم ناول بنا دیتی ہیں۔ بڑا ناول تو میں نہیں کہہ سکتا ، کیونکہ بڑا ناول ہونے کے لیے کیا کیا شرطیں ہیں یہ تو تحقیق طلب معاملہ ہے، ہاں اردو کا ایک بے حد اہم ناول ضرور ہے جس کی اپنی لفظیات ہے اور جس کا اپنا معنیاتی نظام ہے۔ ور نا بھلا کون سے ناول کا ہیرو بچپن میں ہی قتل جیسے گھناونے جرم کو انجام دیتا ہے اور ایسے میں قاری کی ہمدردی بھی بٹور لے جاتا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے؟نعمت خانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’شام کے وقت انجم باجی اورانجم آپا دونوں واپس اپنے اپنے گھر چلی گئیں۔ جاتے وقت اُنہوں نے مجھ سے صرف ایک دو رسمی سی باتیں کی تھیں۔
اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ ’’میں‘‘ نے کبھی اُن دونوں پراتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔
اتنے بڑے بڑے احسان!
’’اُف! اتنے بڑے بڑے دھبّے۔‘‘
دو دو قتل— ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔
مگراُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔
میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اوربس، اور اُن دونوں کی اپنی اپنی دنیائیں تھیں جن کا میری سیاہ اور زہریلی پرُاسرار دنیا سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ جیسے اُڑن طشتری پر،بے مروّتی کے ساتھ بیٹھ کر، کسی دوسرے سیّارے پر پہنچ گئی تھیں۔
اور میں اس کرۂ ارض، اس زمین اور اس مٹّی میں تمام رات اس کاکروچ کو ڈھونڈھتا پھرا جو میرے اُن عظیم احسانوں کا گواہ تھا۔
کم بخت وہ کاکروچ بھی مجھے اُس دن نہ ملا اور سنبل باربار مجھے یہ کہہ کہہ کر چڑاتا رہا کہ—’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ تھی نہ یہ ایک لرزہ خیز داستان!‘‘
(نعمت خانہ صفحہ نمبر ۲۰۸)
اقتباسِ بالا کے اسلوب سے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ اپنی بحث کو آگے بڑھانے کے لیے جو الفاظ ہم نے قائم کیے تھے یعنی ناسٹلجیا، جادوئی حقیقت نگاری، موہوم حقیقی دنیا، بھوک، اور حسیت وہ لایعنی نہیں ہیں۔
خالد جاوید اپنی بحث کا نچوڑ بھی نعمت خانہ میں خود ہی بیانیہ میں بتا جاتے ہیں:
’’کئی بار غصّے اور جھنجھلاہٹ میں میرا دل طوطے کی گردن مروڑ دینے کو چاہا۔ مگر یہ سب تب کی باتیں تھیں۔ اب تو مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ دراصل زندگی اتنی ہی سپاٹ شے کا نام ہے۔ یہ سب روز مرہ ہے۔ ماضی، حال، مستقبل سب ایک دوسرے کے اوپر لدے ہوئے ہیں۔ سب ایک دوسرے کے اوپر سواری کرتے ہیں۔ صرف کھانا کھانا اور پیٹ بھر کر کھانا ہی انسان کا نصب العین ہے۔ صرف اُس کی آنتیں ہی ہیں جو انسان کو ایک مسخ شدہ یا ٹوٹا پھوٹا وژن عطا کرتی ہیں۔
بس سارا چکر یہی ہے۔ کسی سے کوئی شکایت کیا کرے۔ شکایت کے معنی ہی کیا جب سب اپنی ناک میں کھانا ٹھونس کر، ہمہ وقت مباشرت کر رہے ہوں تو اُنہیں کسی کے احسانوں کا کیا پتہ چلے گا۔ اور یہاں تو کسی کا سرے سے کوئی قصور ہی نہ تھا۔ بھلا مجھ سے کس نے کہا تھا کہ میں اُن کی خاطر قتل کر ڈالوں۔
(نعمت خانہ صفحہ نمبر ۲۰۹)
زندگی کی حقیقتوں پر سے اب پردا اٹھ چکا ہے ۔ اب اس کہانی کے ہیرو نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیاہے۔ در اصل یہی وہ معاملات ہیں جن کی بنیاد پر میں نے نعمت خانہ کو خدا کے جن نعمتوں کی آماج گاہ کہا وہ ہیں بھوک(اشیائے خوردنی)، جسم کی بھوک(سیکس)، روح کی بھوک (محبت) وہم (موہوم حقیقی دنیا ، خطرات)، غیر سائنسی واقعات کے رونما ہونے کا ڈر(جادوئی حقیقت)۔ اقتباسِ بالا کو پڑھنے کے بعد آپ خود ہی طے کر سکتے ہیں کہ اس ناول میں جو کیفیات و جذبات محور ہیں وہ وہی مذکورہ بالا نعمتِ خدا وندی ہے۔
خالد جاویدکی تحریروں پر یہ الزام ہے کہ ان کے یہاں حقیقت کا بیان نہیں ہے۔ ایک حقیقت یہ دنیا ہے تو دوسری حقیقت انسان کا اندرون بھی تو ہے۔ ہم بھلا انسان کے اندرون کو کیوں نظر انداز کردیتے ہیں؟ انسان کے اندر جذبات کی ایک دنیا ہے اور اندر کی اس حقیقت کا بیان بھی تو حقیقت نگاری ہی کے دائرے میں آنا چاہیے۔ حقیقت کو دیکھ کر ہو بہ ہو نقل کر دینے کی امید ہم ایک ناول نگار سے بھلا کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ’موت کی کتاب ‘ کے مقابلے نعمت خانہ ایک قدم آگے اس لیے ہے کہ اس میں پلاٹ ہے، واقعات ہیں ، اور اس ناول کا اندرون خارجی دنیا سے منقطع نہیں ہے۔ موت کی کتاب میں زندگی کی حقیقت کا فلسفیانہ بیان تھا تو نعمت خانہ میں زندگی کی موہوم حقیقت کا فلسفیانہ بیان ہے۔ فکشن در اصل حقیقت کا ہو بہ ہو بیان ہوتا ہی نہیں، یہاں حقیقت یا تو جادوئی ہوتی ہے، یا موہوم، یا علا متی یا تجریدی یہ سائنسی نہیں ہو سکتی ۔ کیوںکہ اگر یہ سائنسی ہوگی تو ناول اور صحافتی تحریروں میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ایک دنیا جادوئی حقیقت کی بھی ہوتی ہے جس میںحقیقی واقعات رونما ہوتے ہیں اور ان واقعات کا کوئی سائنسی جواز ممکن نہیں ہوتا جب کہ موہوم حقیقت نگاری میں بھی حقیقی واقعات رو نما ہوتے ہیں اور ان کا سائنسی جواز بھی ہوتا ہے لیکن یہ خوابوں کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ نعمت خانہ میں یہ دونوں ہی باتیں صحیح معلوم ہوتی ہیں۔
فکشن حقیقت بیان کر ہی نہیں سکتی وہ حقیقت جس کو ہم سائنسی حقیقت کہتے ہیں اور اگر حقیقت بیانی ہونے لگے تو پھر وہ فن پارہ فکشن نہیں ہو سکتا وہ کچھ اور ہو جائے گا۔ اب ایک ناول نگار کو یا تو ایک دنیا تخلیق کرنی پڑے گی جو ایک مساوی دنیا ہو اور اس میں واقعات بھی اصل دنیا کے سے ہوں مگر وہ حقیقی نہ ہوں یا پھر خواب دیکھنا ہوگا۔ بس تخلیق کار کو اتنی آزادی ہوتی ہے کہ وہ بیانیہ کے ذریعہ ناول میں اپنے خیالات داخل کر سکتا ہے۔
موہوم حقیقت اور حقیقت کے تعلق سے شمس الرحمن فاروقی نے اپنی کتاب ’افسانے کی حمایت میں‘ جو کچھ لکھا ہے وہ بہت دلچسپ ہے البتہ انہوں نے ’موہوم حقیقت ‘ کی ترکیب کا استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ حقیقت کا التباس پیدا کرنے والی شئے سے موسوم کیا ہے یہ دلچسپ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ہر افسانے کا کام حقیقت کا التباس پیدا کرنا ہے۔ لیکن حقیقت کا التباس پیدا کرنے کی کوشش افسانے کو غیر دلچسپ بھی بنا دیتی ہے۔ مثلاََ کرشن چندر اپنے ناول ’جب کھیت جاگے ‘ یا ’شکست ‘ میں جب تفصیلی منظر بیان کرتے ہیں تو الگ الگ طرح کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔’’جب کھیت جاگے‘‘غیر دلچسپ ہو جاتا ہے لیکن ’’شکست ‘‘ میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ کردار کے عادات و سکنات ، بول چال کے طریقے اور لب و لہجے کی مکمل نقل کی کوشش دلچسپی کے بجائے اکتاہٹ پیدا کر سکتی ہے، اس لیے افسانہ نگار ہمیشہ اس کشاکش میں گرفتار رہتا ہے کہ وہ حقیقت کے التباس کو دلچسپی پر قربان کر دے یا دلچسپی قائم رکھنے کی خاطر حقیقت کے التباس کو خیر باد کہہ دے۔ اس طرح دو قسم کے افسانے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو داستانی ماحول رکھنے والے افسانے ہیں جن کے بارے میں افسانہ نگار افسانہ نگار ہمیں کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں کرتا اور صاف واضح کر دیتا ہے کہ یہ مروج معنوں میں حقیقت نگاری نہیں ہے۔ دوسری طرف وہ افسانے ہیں جن میں افسانہ نگار صاف کہہ دیتا ہے کہ دلچسپی پیدا کرنا میرا مقصد نہیں بلکہ میرا یہ افسانہ اگر غیر دلچسپ ہے تو یہ میری کامیابی ہے۔ یا پھر وہ ایسے افسانے بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں دلچسپی واقعات سے نہیں بلکہ کسی اور طرح سے ، مثلاََ کسی مخصوص طرزِ اظہار یا الفاظ کے انوکھے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(افسانے کی حمایت میں، شمس الرحمن فاروقی، صفحہ ۵۹۔۵۸)
شمس الرحمن فاروقی کے اس بیان سے یہ واضح ہو گیا کے ہر افسانے کا کام حقیقت کا التباس پیدا کرنا ہے۔ یعنی موہوم حقیقت نگاری (Hallucinatory Realism ) جو حقیقت کا التباس پیدا کرتی ہے وہ کہیں نہ کہیں افسانے کی صنفی شرست میں داخل ہے۔ خالد جاوید کے اس ناول نعمت خانہ میں جب اس کا مرکزی کردار آفتاب بھائی سے نفرت کرنے لگتا ہے تووہ نفرت فطری معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ اس کو انجم باجی سے محبت ہے ا ور اسی وجہ سے وہ آفتاب بھائی سے نفرت کرتا ہے اس کی نفرت اتنی بڑھتی ہے کہ وہ پتھر سے کچل کر آفتاب کا خون کر دیتا ہے ۔ اس واقعے کے بعد اس کہانی کے ہیرو سے نفرت نہیں ہوتی اور نا ہی اس کے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ ہوتا ہے۔ البتہ پورا ماحول خوفناک بن کر رہ جاتا ہے۔ منظر کو خوف ناک بنانے میں خالد جاوید کے خاص اسلوب کا دخل ہے۔ وہ ایسا فلسفیانہ ماحول پیدا کرتے ہیں کہ اس میں قاری گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ ناول کئی معنوں میں’ موت کی کتاب ‘سے آگے ہے ۔ واقعہ نویسی میں فلسفیانہ اسلوب کی منظر نگاری اس ناول کو اپنے معاصرین سے ممتاز کرتی ہے۔ موت کی کتاب سے پہلے خالد جاوید کے مختصر افسانوں سے ایک غلط فہمی عام ہونے لگی تھی کہ خالد جاوید کے یہاں علامتیں بہت ہیںاور اس وجہ سے ان کے یہاں ترسیل کی کمی ہے۔ ان کی چند کہانیوں کو مدّ نظر رکھا جائے تو یہ بات صحیح بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس ناول کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں واقعات ہیں ، منظر نگاری ہے ایک خوبصورت پلاٹ ہے اور ساتھ ساتھ فلسفیانہ اور شاعرانہ اسلوب بھی ہے۔ جب اس کہانی کا ہیرو پہلا خون کرتا ہے اس وقت خالد جاوید کا بیانیہ اگر کوئی پڑھ لے تو خالد جاوید پر لگائے جانے والے ناقدین کے تمام تر الزامات کو قاری خود ہی رد کر دے گا۔ اور یہ سمجھتے دیر نہیں لگے گی کہ خالد جاوید ترقی پسندی ، جدیدیت یا ما بعد جدیدیت کا افسانہ نگار نہیں بلکہ وہ فطرت کی فلسفیانہ ترجمانی کرنے والا تخلیقی نثر نگار ہے۔ ملاحظہ کریں یہ اقتباس :
’’پتھّر کی سِل کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اونچا اُٹھائے اُٹھائے، میں ننگے پیر بہت آہستگی کے ساتھ آفتاب بھائی کی طرف بڑھنے لگا۔ میں اُن کے سر پر پہنچ گیا۔ اُبٹن اور خون کی ملی جلی بو نے میری ناک کے نتھنوں کو چھو لیا۔
اپنی سانس روک کر، تمام طاقت کے ساتھ پتھّر کی سِل کو تھوڑا اوراونچا اُٹھائے ہوئے، میں نے اُسے آفتاب بھائی کے سر پر دے مارا۔ اُن کے منھ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی زور سے ڈکار لیتا ہے۔ مگر یہ چیخ ہرگز نہ تھی۔ انھیں چیخنے کی بھی مہلت نہ ملی۔
اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اُن کا سر فرش پر جاکر لڑھک گیا۔ وہ سر جو پوری طرح کچل گیا تھا۔
میرے ہاتھوں سے سل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ سِل پر آفتاب بھائی کے بھیجے کے ریشے اور خون کے چھیچھڑے چپک کر رہ گئے۔
کھیر کی ہانڈی اپنی جگہ ویسی کی ویسی ہی رکھی تھی۔ مگر آفتاب بھائی کے منھ، حلق اور آنتوں تک میں پھنسی ہوئی سفید فیرینی باہر آکر کھرنجے کے فرش پر پھیل گئی۔
وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔
مگر میں نے صاف صاف اور واضح طو رپر دیکھا اس میں مجھے رتّی بھر بھی شبہ نہیں ہے۔ ایک کاکروچ فیرینی کی ہانڈی کے پاس بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ پھر شاید وہ ہنسا بھی تھا۔
میں نہ جانے کب تک وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا۔ باورچی خانے کے فرش پر گاڑھے گاڑھے خون کی ایک لکیر آگے بڑھتی جاتی تھی۔
غسل خانے میں سے لگاتار، نورجہاں خالہ کے لوٹے بھربھر کے جسم پر پانی ڈالنے کی وحشت انگیز آوازیںآرہی تھیں۔ وہ دنیا مافیہا سے بے خبر نہانے میں گم تھیں۔
تب آفتاب بھائی کی لاش کے قریب کھڑے کھڑے، اچانک جیسے مجھے ہوش آیا، میری سمجھ میں آگیا کہ میں نے آفتاب بھائی کا قتل کر دیا ہے۔ ان کی سفید قمیص اور بھوری پتلون ہی اس قتل کا حلیہ تھی۔‘‘ (نعمت خانہ، خالد جاوید ، صفحہ ۱۵۰)
اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کہاں علامت اور کہاں جدیدیت ہے؟
تخلیق کسی تحریک کی مرہونِ منت نہیں ہوا کرتی البتہ افسانوں کی تخلیق کے پیچھے زندگی کی حقیقتیں ہوتی ہیں جو ہو بہ ہو نہیں ہوتیں نہ ہو سکتی ہیںزندگی کو کسی ایک مخصوص عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا نہ ہی زندگی کسی ایک اصول پر گذرتی ہے۔ زندگی رنگوں کا ایک اسپکٹرم ہے جس میں مختلف رنگ ہیں۔ افسانہ زندگی کی تصویر کھینچتا ہے اس لیے یہ اصل دنیا اور اس کی حقیقت کوفن پارہ بنا کر قارئین کے سامنے لاتاہے۔ اب بات یہ ہے کہ نری حقیقت نگاری فن نہیں ہو سکتی ۔ خوبصورت بیانیہ افسانہ کو خوبصورت اور فنی نمونہ بناتا ہے۔ خالد جاوید کے بیانیہ میںزندگی کی حقیقت کے ساتھ زندگی کے فلسفے کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔
اگر ہم حقیقت کی بات کریں تو عام طور پر حقیقت کا روپ ایک ہی ہوتا ہے البتہ رنگ بہت ہوتے ہیں ۔ اور چونکہ افسانہ حقیقت نہیں تو اس کے بہت سے الگ الگ زاویے ہوتے ہیں۔ جس طرح کاغذ پر کھینچی ہوئی ایک سیدھی لکیر کے بارے میں کسی کو بھی بتایا جائے تو اس کے ذہن میں جو تصویر ابھرے گی وہ طے شدہ ہوگی لیکن اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ لکیر ٹیڑھی ہے تو اس کے ذہن میں کوئی بھی تصویر ابھرے وہ طے شدہ نہیں ہو سکتی۔ ٹیڑھی لکیر کسی بھی طرح کی ہو سکتی ہے مگر سیدھی لکیر ہمیشہ ایک طرح کی ہو تی ہے۔ افسانوں کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ حقیقت سیدھی لکیر کی طرح ہوا کرتی ہے جب کہ افسانے ٹیڑھی لکیروں کی طرح ہوتے ہیں۔ حقیقت طے شدہ ہوتی ہے مگر اس کے التباسات طے شدہ نہیں ہو سکتے ۔ اب کوئی بھی قاری یہ کہہ سکتا ہے کہ واقعات و حادثات جو افسانوں میں ہوتے ہیں وہی اصل حقیقت میں بھی تو ہوا کرتے ہیں۔ ہاں بالکل ہو تے ہیں اور اسی لیے التباسات حقیقت نگاری کے بے حد قریب ہوا کرتے ہیں۔ نری حقیقت نگاری افسانہ نہیں ہو سکتی۔ ان کا تعلق ادب کے صنفِ صحافت سے تو ہو سکتا ہے، افسانوں سے نہیں۔
ٹیڑھی لکیر کے الگ الگ زاویوں کو بھی مختلف حقیقت نگاری کا نام دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ان ہی میں ایک ہے جر منی کا گوتھک ریلزم۔ اس طرح کی تحریروں میں عموماََ خوف اور رومان شامل ہوا کرتا ہے۔ ’نعمت خانہ‘ میں بھی جا بہ جا یہ کیفیت موجود ہے مگر اس ناول کومجموعی طور پر اس دائرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ مختلف تجربات سے آراستہ یہ ناول کسی ایک خانے میں فِٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ادب کو کسی ایک مکتبِ فکر کا غلام ہونابھی نہیں چاہیے۔ ادب میں تاریخ شاہد رہی ہے کہ جو بھی ادب کسی ایک مکتبِ فکر کے زیرِ اثر پروان چڑھا وہ بڑا ادب نہیں بن پایا۔ ایک بڑا ادب ہمیشہ مکاتیبِ فکر سے ما ورا ہوا کرتا ہے۔ کسی ایک فکری اصول وضابطے کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والا ادب بڑا ادب اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں آفاقیت نہیں ہوتی۔ ’نعمت خانہ‘ کی مختلف الجہتی ہی اس کی وہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں وہ تمام جواہر موجود ہیں جن سے کوئی ناول اپنے عہد کا بڑا ناول بنتا ہے۔
فکشن کی خوبیوں پر بات کر تے ہوئے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنی مشہور کتاب ’جدیدیت کے بعد‘ میں لکھا ہے:
’’سوم دیو کی ’کتھا سرت ساگر‘جو کئی جلدوں میں ہے، اور نارائن کی’ ہتواپدیش‘ بھی پنچ تنتر کی کہانیوں سے بالکل الگ نہیں ۔ یہی حال پرانوں کی سینکڑوں ہزاروں کہانیوں کا ہے۔ نوشیرواں عادل کے زمانے میں چھٹی صدی عیسوی میں پنچ تنتر کا ترجمہ پہلوی میں ہوا۔ اور نویں عیسوی تک اس کا عربی روپ ’کلیلہ دمنہ‘کے نام سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ آگے چل کر اسلام ہی کی وساطت سیان کہانیوں کا نفوذ یوروپی ادب میں ہوا۔ بید پائے کی کہانیاں ہوں یا الف لیلیٰ کے قصے یا گلستان کی حکایتیں ان سب میں قدیم ہندستانی روایت اسلامی ایرانی روایتوں کے پہلو بہ پہلو موجزن رہی ہے۔۔ یہی معاملہ پانچویں صدی قبل مسیح جاتک کہانیوں کا ہے جو مہاتما بدھ سے متعلق ہیں، یا تیرہویں صدی عیسوی کی مثنوی رومی کی حکایات کا ہے جن میں دنیا بھر کی حکایتوں کے نہایت نہایت وسیع سلسلے کہاں کہاں سے آ کر عجیب و غریب روحانی و تخلیقی کیفیت پیدا کرتے ہیں ۔ اس ساری روایت میں اس ’خالص علامت‘ کا کوئی تصور نہ تھا جسے ہم نے ابھی چند دہائیاں پہلے مغربی ادب سے لیا ۔ نہیں بھولنا چاہیے کہ افسانوی ادب کی ہماری صدیوں کی مہتم بالشان روایت میں استعاراتی تفاعل کے تقاضے جن پیرایوں سے پورے ہوتے رہے ہیںان میں ہمیشہ myth ،legend تمثیل، کتھا اور حکایتوں کا عمل دخل رہا ہے۔ یہ کون کہتا ہے کہ نیا افسانہ ان قصے کہانیوں کو جوں کا توں دہرانے سے اپنے عہد کے تقاضوں سے عہدہ بر آ ہو سکتا ہے۔ البتہ اس وسیع خزانے سے اگر نئے نئے علامتی اور تمثیلی مفاہیم پیدا کیے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔تو اس سے پریشان ہونے اور ’خالص علامت‘ کی دہائی دینے کی ضرورت نہیں ہے؟ ضرورت البتہ اس بات پر اصرار کرنے کی ہے کہ فکشن میں اصل معاملہ پہلو دار معنیات اور استعاراتی نظام کا ہے، خواہ وہ کسی بھی پیرائے سے زیرِ دام لایا جا سکے ، اور یہ بات فنکار کی ذاتی تخلیقی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ کس پیرائے کا استعمال کس سطح پر کرتا ہے۔ ‘‘
(جدیدیت کے بعد، گوپی چند نارنگ، صفحہ ۴۳۰)
گوپی چند نارنگ فکشن کا اصل معاملہ پہلو دار ہونے اور اس کے معنیات اور استعاراتی نظام کو مانتے ہیں ۔ایسے میں خالد جاوید کے اس ناول ’نعمت خانہ‘ کے پہلو دار ہونے اور اس کے زیریں لہر میں موجود معنیات اور استعاراتی نظام میں شبہے کی کوئی گنجائش ہی نہیں بنتی یہ اور بات ہے کہ پیرایہ بیان ذرا الگ ہے۔ ایسے میں نارنگ صاحب کا یہ بیان کہ یہ فنکار کی ذاتی صلاحیت پہ منحصر ہے کہ وہ کس پیرائے کا استعمال کس سطح پر کرتا ہے۔
جہاں تک تعلق ہے فکشن کے پہلودار ہونے کا تو نعمت خانہ کا تو ہر واقعہ، ہر باب بلکہ ہر جملہ پہلودار ہے۔ اس بات سے شاید کوئی بھی ذی شعور
ناقد انکار نہیں کر سکتا کہ خالد جاوید کے ناولوں میں بیک وقت کئی پہلو ہوتے ہیں۔ نعمت خانہ میںبھوک، کھانا، پیاس، سیکس، موت، زندگی ، حسیت اور ما ورائے حسیت وغیرہ ایک ساتھ پہلو بہ پہلو کار فرما ہیں ۔
اس ناول کی دوسری اہم خصوصیت اس کا حسین اسلوب ہے۔ اس کی ایک مثال یہاں ملاحظہ فرمائیں:
’’خدا کی بنائی ہوئی ساری زمین پر وہ کاغذ کے ایک آوارہ پُرزے کی طرح اُڑتا پھرا کیا، کوہستانوں اور وسیع و عریض کوہستانی جنگلوں پر، سمندر پر تیرتے ہوئے برف کے تودوں پر، پہاڑوں پر، اُن سوئے ہوئے آتش فشانوں پر جو اپنی آگ اُگل کر، خاموش ہو گئے تھے اور قبروں کی مانند تھے۔
اس کے پیروں کے نیچے نہ جانے کتنی سرنگیں تھیں۔ کتنی ندیوںنے راستہ بدل لیا تھا اور کتنے دریا سوکھ کر ریت کی گہری کھائی میں تبدیل ہوچکے تھے۔ اس لیے اس کے پیر اس کے سینے میں دھمک پیدا کرتے تھے اور وہیں پیوست ہوجاتے تھے۔ اور اُس کے دانت منھ سے نکل کر اس کے اوپر ہنستے تھے۔ ارتقا کا سفرایسا ہی رہا ہوگا۔ یہ ایک دوسرا ارتقا ہے ایک تنہا شے کا اکیلا ارتقا، جو جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی پیچھے اور دائیں بائیں کے اندھیروں کی سمت بھی بڑھتا ہے۔
ان دائیں بائیں کے اندھیروںمیں اس کے پائوں کے نیچے وہ گیلی دلدل ہے جہاں، نیچے ہی نیچے کئی ندیاں آکر آپس میں مل رہی ہیں، کہیں اندر ہی اندر گم ہوتی ہوئی، معدوم ہوتی ہوئی۔ وہ ان ندیوں میں صرف قلعے کی ندی تلاش کرتا ہے۔ اس کا پائوں دلدل میں بھی چوکنّا ہے۔ کتّے کی سوتی ہوئی آنکھ کی طرح چوکنّا کہ اسے قلعے کی ندی کے پانی کی سڑتی ہوئی کائی اور نمی کو محسوس کرنا ہے۔ اُس میں جاکر ڈوب جانا ہے۔‘‘
(نعمت خانہ، خالد جاوید، صفحہ ۴۲۴)
دنیا کے حقیقی واقعات اور جذبات کا بیان نعمت خانہ میں کیا گیا ہے۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول اچھوتا ہے۔ اس ناول میں تکنیکی تنوع بھی ہے اور تہہ داری بھی۔ اصل دنیا کی کہانی کو خوابوں کی دنیا کی کہانی بنا کر پیش کر نا اس ناول کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ گویا کہ حقیقت کا بیان موہوم حقیقی فضا آفرینی کے ساتھ۔ موہوم حقیقی فضا آفرینی ویسے تو فکشن کی صنف کا تقاضا ہے مگر اس کے بطن میں حقیقی واقعات کا وفورخالد جاوید کا کمالِ فن ہے۔
مجموعی طور پر یہ ناول اردو کے ان چند اہم ناولوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جن میںموضوعاتی اور تکنیکی تجربات کیے گئے ہیں۔ یہ عامروایت یا روش سے الگ ہے۔ اور تخلیق کار کا روایت سے انحراف کشتی کو ہوا کے مخالف ڈال دینے کے مترادف ہے۔ یہ آسان نہیں ہوتا۔اس کے لیے بہت ہمت چاہیے ۔ روایت کی پیروی کر بڑے کارنامے انجام نہیں دیے جاتے۔ ناول ’نعمت خانہ ‘کی تخلیق اردو ناول نگاری میں ایک اہم اضافہ ہے۔اردو فکشن کی تاریخ اس کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
ڈاکٹر انوار الحق
صدر ، دی وِنگس فاوندیشن ، نئی دہلی۔۲۵
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ایک اچھے ناول پر ایک عمدہ تحریر۔ موہوم حقیقت نگاری ڈاکٹر انوار الحق کا پسندیدہ موضوع ہے۔