ایک زمانہ ایسا تھا کہ افسانے کو محض قصہ گوئی سمجھا گیا کیوں کہ ہماری روایت زبانی بیانیہ کی روایت رہی ہے۔ ایک زمانہ ایسا آیا کہ زبانی بیانیہ کے حدود کا تعیم کیا گیا اور سبب مسبب یا سبب اور اثر کا بیانیہ مقبول ہوا۔ اول الذکر اردو کا رومانوی اور ثانوی الذکر ترقی پسند دور ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی آیا جس نے کہانی کو کہانی تو دور کی بات، واقعہ بھی رہنے نہ دیا اور بیانیہ کو انشائیہ کا بیان بنایدا۔ گویا افسانے میں منشائے مصنف کا راج شروع ہوا، مصنف بادشاہ، قاری ، رعایا۔ یہ حالت جدیدیت کے آغازاور شباب کے دور تک رہے۔
آہستہ آہستہ اردو کہانی تبدیل ہوئی اور تقریباً ستّر اور اسّی کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی کہ بیان کرنے والے /مصنف کا ’’میں‘‘ برحق ہوتا ہے لیکن مصنف جس کو بیان کررہا ہے اس کا بھی تو ’’میں ‘‘ ہوتا ہے۔ اتن اہی نہیں اسے جوپڑھتا ہے اس کا بھی ’’میں‘‘ ہوتا ہے اس لیے مصنف/راوی اور کردار نیز قاری کی تثلیث کے اعتدال کا نام کہانی ہے کیوں کہ واحدمتکلم ’’راوی‘‘ کا ’’میں‘‘ یعنی Subject محض ایک تصوراتی ’’میں‘‘ ہوتا ہے جو ’’تو‘‘ بھی ہوا ہے اور ’’میں‘‘، ’’وہ‘‘ یعنی واحد غائب بھی ہوتا ہے ۔ یعنی ’’میں‘‘ کو بے شناخت رکھنا کہانی میں ضروری ہے اور یہی معرفت کا ذریعہ ہے۔ جسے جدیدیت کے ’’میں‘‘ نے فراموش کردیا تھا اور جسے سیدمحمد عقیل رضوی نے ’’کہانیاں کیوں لکھتے ہو اور کس لیے؟‘‘ جیسے سوالوں کے منطقی گھیرے میں لیا ہے۔ (اردو افسانے کی نئی تنقید، ص: 146) اس لیے اساطیر کی نئی سرے سے معاصر افسانے میں واپسی ہوئی جس کا بنیادی تجربہ ترقی پسند عہد میں راجندر سنگھ بیدی ، منٹو، ممتاز شیرں اور عزیز احمد وغیرہ نے کیا تھا۔
جس سیاست نے داستان کو رد کرنا شروع کیا تھا وہ مغرب کی سیاست تھی کیوں کہ مغرب نے انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں کچھ اس طرح سے دنیا پر اپنا قبضہ جما یا اور سائنس کی برکتوں کا ڈھنڈورا کچھ اس انداز سے پیٹا کہ اساطیر کی موت ہوگئی۔ فرانس بیکن (1526-1561) نے اعلان کیا تھا کہ:
"Made a declaration of independence to emanicipate science from the shackles of Mythology” (1)
گویا انیسویں صدی کے یووپ میں اساطیر کو، مذہب کو نقصان پہنچانے والی شے قرار دیا گیا۔ اس طرح کارل مارکس (1818-1883):
"He saw religions as symptom of sick society. Ana indeed mythological religionn of thhe period could create an unhealthy confilicts.” (2)
اس طرح چارس ڈارون ، نیطشے نے بھی اساطیر کو رد کیا لین پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے جان لیا کہ اسی تعقل پسندی ے کس طرح دو بڑی انسانیت کش جنگوں کی طرف ہمیں دھکیل دیا اور پتہ چلا کہ ہماری غیر اساطیری سماج والی دنیا نیز بیکنؔ اور لاکؔ کی تخلیقی جنت سے بہتر تو ہماری گمشدہ جنت کی تلاش والی دنیا تھی۔ ترقی پسند ادب میں اساطیر سے لاکھ کوشش کے باوجود اجتناب نہیں کیا جاسکا۔ گویا انگریزوں کی سیاست پوری طرح سے کامیاب ہوسکی۔ انگریز اساطیر، داستان او زبانی بیانیہ سے ہمیں کیوں دور کردینا چاہتے تھے شمس الرحمن فاروقی سے سنیے:
’’اصل بات یہی تھی کہ داستان امیر حمزہ میں ہند مسلم تصورات کائنات غیر معمولی قوت اور تحرک کے ستاھ جاری تھا اور یہ بات انگریزوں کی جدید پالیسی کے خلاف جاتی تھی۔ جدید زمانے کا تقاضا یہ تھا کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ہندوستانیوں کی تہذیبی اور دانشورانہ میراث اور خاص کر ہندو مسلم میراث کو معرض سوال میں لایا جائے۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہندوستانیوں کو یقین دلایا جائے کہ اپنی تہذیب کو پڑھنے ، سمجھنے اور سمجھانے کے لیے انھیں مغرب کی عینک استعمال کرنی چاہیے۔‘‘ (3)
جدیدیت کے بنیاد گزاروں کو آخر زبانی بیانیہ اور کہانی کی طاقت کا احساس اس وقت ہوا جب انھوں نے باقاعدہ داستانوں کا غیر روایتی مطالعہ کیا۔ ورنہ موصوف نے بھی افسانے کی حمایت بہ شکل مخالفت میں مغرب کو ہی پیش نظر رکھا تھا۔ بہرکیف عصر حاضر کے افسانہ نگاروں نے اساطیر ، دیومالا اورداستان نیز لوک ادب اور زبانی بیانیہ کی طاقت کو سمجھ لیا ہے اس لیے معاصر افسانہ نگاروں ، جن میں انتظار حسین ، سریندر پرکاش، جوگند پال اور ان کے بعد کی نسل میں انور خاں، انور قمر ، سلام بن رزاق، محسن خاں ، اقبال مجید، گلزار، الیاس احمد گدی، عبدالصمد، سید محمد اشرف، علی امام نقوی، غضنفر، پیغام آفاقی، مشرف عالم ذوقی، طارق چھتاری، شموئیل احمد، شفق، بیگ احساس ، انجم عثمانی، نیر مسعود، مظہرالزماںخاں، شوکت حیات، حسین الحق، جابر حسین کے علاوہ معین الدین جینا بڑے، ذکیہ مشہدی، ترنم ریاض، غزال ضیغم، نگار عظیم ، ثروت خان، ساجد رشید، احمد صغیرم نور پرکار، صغیر رحمانی، جتیندر بلو ، شین حیات، دیوندر اسّر، اکرام باگ، انیس رفیع ، خورشید اکرم، فیروز عابد،نورالحسنین، حسن جمال، حمید سہروردی، زیب اختر، سہیل وحید، م۔ق۔ خاں، عبید قمر، مشتاق احمد نوری، قاسم خورشید، اسرار گاندھی اور حسن جمال کے علاوہ اور بھی نام لیے جاسکتے ہیں جن کے متون کا مطالعہ کریں تو ان میں سے اکثر و بیشتر افسانہ نگارووں کے یاہں افسانے کی بنت میں اساطیری متون، زبانی بیانیہ، داستان اور لوگ کتھا نیز دیومالائوں کی رد تشکیل کا رجحان ایک طاقت ور رجحان بن کرہمارے سامنے آتا ہے کیوں کہ متھ ماضی کی پر اسرار خاموشیوں اور سناٹوں میں جھانکنے کا عمل ہے۔ اساطیر محض کہانی نہیں ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ ہم کیسے زندگی کرتے ہیں اور اتنا ہی نہیں اساطیر ہمیں زندگی کرنے کا روحانی وسیلہ بھی فراہم کرتی ہے۔
اساطیر بے کار کب ہوتا ہے جب بقول کیرین:
It however does not give is new insight into the deeper meaning of life, it has failed.
اساطیر کو متن میں کبھی کبھی مصنف بالکل چھپا دیتے ہیں ایسا منٹو کرتا ہے جب کہ راجندر سنگھ بیدی عصری زندگی کوپیش ہی کچھ اس طرح کرتے ہیں اور کرداروں کے نام جیسے ’’اندو‘‘ اور ’’مدن‘‘ وغیرہ اس طرح سے دیتے ہیں کہ عہد قدیم اور عہد جدید کی کشمکش تخلیقی سطح پر ابھرنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی اساطیر کو کھلے طور پر متن سے متن کے مکالنے کے طور پر برتا جاتا ہے۔ انتظار حسین ، سریندر پرکاش ، بلراج منیرا اور جوگندر پال کا نام اس ضمن میں اہم تو ہے ہی آج کے مذکورہ بالا فنکاروں کے یہاں بھی متذکرہ بالا جملہ اقسام کی Devices کا سراغ ملتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں باغ و بہار میں اساطیری اور دیومالائی عناصر – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
دراصل اسطورہ یا اسطارہ یا اساطیر جس جس شکل میں سامنے آئی ہے وہ ایک طرح کی زبن ہی ہے اور جب زبان کی کرنیں کسی خیال کو چھو نہیں پاتیں یعنی ضابطۂ بیان میں نہیں لاسکتیں تب خیال اور زبان کے تصادم سے دراصل ایک طرح کی خمیدگی یا علامتی رخ خلق ہوجاتا ہے یا طنز آمیز اشارے خلق ہوجاتے ہیں اور یہی اساطیر کی تخلیق کی وجہ بنتی ہے جیسے پہیلی ہے ’ایک تھال موتی سے بھرا۔۔۔۔۔ سب کے سر پہ اوندھا دھرا‘ یہ آسمان کو سمجھنے کی ابتدائی کوشش ہے۔ اسی طرح کہاوتیں اور امثال وغیرہ یا محاوروں مں یا تلمیحوں میں زبان اور خیال کا رشتہ اساطیری رشتہ ہوتا ہے۔ ان میں زبان اور خیال کے تصادم سے اس طرح کا علامتی رخ پیدا ہوجاتا ہے جسے ہم کئی سیاق میں ازروئے تقاضا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح استعارہ، اساطیر اور زبان کو جوڑنے والی ایک شے ہے جیسے جب ہم کسی لفظ کے اشتقاق پر نظر نہ رکھتے ہوئے اس کا استعمال کریں گے تو اساطیر خلق ہوتی ہے۔
چوں کہ اس خیا ل کو عملی روپ میں سمجھانا بہت مشکل ہے اس لیے رولاں بارتھ نے اپنی کتاب Semio Logy میں زبان اور اساطیر دونوں کو الگ الگ ہیئت قرار دیا اور ایک طرح کا نشان یعنی (Sign) بھی ۔ نارتھ فرائی نے اساطیر اور ادب کو متراد لفظ گردانا اس لیے اس نے کاہ کہ ادب کی ہیئت بھی اساطیر پسند ہوتی ہے لہٰذا ادب کی تنقید بھی اساطیری نقطۂ نظر سے ہی کی جانی چاہیے۔
اساطیر اور حقیقت ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ ادیب ان کا استعمال عصری ضرورتوں کے پیش نظر کرتے ہیں اور قدیم اسطورہ کو دجدید بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اگر وہ جدید نہ بنا پائیں تو ان کی تخلیقات میں اساطیر بے عمل ہو کر رہ جاتا ہے۔ گویا مصنفین کا اپنے متن کی تشکیل میں اساطیری متن کا استعمال کرنا ایک طرح کا تخلیقی استفادہ ہے۔ جدیدیت سے ایجنڈے کے تحت لکھے گئے بپ شب والے افسانے میں اساطیر کا بے عمل ہوکر سامنے آنا عام بات تھی۔ حقیقت کو اساطیر کی ضرورت ہوتی ہے ، اساطیر کو حقیقت کی نہیں۔ جب فن کار کے ذہن میں حال کے مسئلے کو لے کر کچھ اس طرح کا کرب ہو کہ اسے اس کا حل زمانۂ حال میں نظر نہ آئے، تب وہ ماضی کا کوئی سیاق حال کے آگے رکھتا ہے جو حال کے شدید انتشار کے مساوی دکھائی دیت اہے پھر ان کی شدت کی اوسطیت اور رشتہ جاتی عناصر جو جوڑتا ہوا ایک راستہ منتخب کرتا ہے جو اس انتشار کو Resolveکرنے کا ایک ممکنہ راستہ بن جاتاہے جسے شاید کل حل کیا جاسکے۔
آج کی کہانی کاروں کو اساطیر کے قلب ماہیت کااحساس ہے۔ آئیے آج کے کہانی کاروں کے متون پر ایک نگاہ ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ اساطیری استعاریت کی کون کون سی جہتیں انکے یہاں تخلیقی شان بن کر ابھری ہیں۔
جوگندر پال کی کئی کہانیوں میں اساطیر ، دیومالائی اور داستانی اساطیریت کے ذریعے انسان اور اس کی نفسیات نیز موجودہ دور کے مسائل کی تفہیم کی بلیغ کوشش نظر ااتی ہے۔ بالخصوص ’کھودو بابا کا مقبرہ‘ ،’مہابھارت‘، ’چہاردرویش‘، ’مہاجر‘ اور ’عفریت‘ میں جوگندر پل نے اساطیری تمن کی رد تشکیل کے فنی نمونے پیش کیے ہیں۔ طوالت کے خوف سے یہاں ان کی ہر کہانی پر بحث ممکن نہیں۔
’دھودو بابا کا مقبرہ‘ مشرقی ثقافت کی کہانی ہے ۔ مشرق میں پیر فقیر ایک اساطیری شخصیت کا نام ہے۔ کھودو بابا ایک پیر فقیر ہے اس کہانی میں ایک انتہائی پر اسرار قسم کا کتا بھی ہے۔کتا شریعت کی رو سے نجس ہے لیکن اپنی وفاداری کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی مقبول رہا ہے۔ اصحاب کہف کے کتے سے لے کر سگ لیلیٰ تک کتا یاک اساطیری کردار بن گیا ہے۔ کہانی کار نے اس کہانی میں بھی کتے کا نام بندھو رکھا ہے جس کے معنی دوست کے ہوتے ہیں۔
کھودوبابا چوہدری سے تھوڑی زمین لیتا ہے اور وہیں چبوترا بنا کر بیٹھ جاتا ہے اور عوام کی خدمت کرتا ہے، مرنے کے بعد وہیں پران کا مقبرہ بن جاتا ہے اور پھر وہ مشرقی ۳ثقافت کا نشان بن جاتا ہے۔
پیر فقیری بھی اساطیر کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ باب اکے وصال کے بعد ان کے ساتھ رہنے والا بے ایمن چوہدری بھی اب پیروں کے طریقے پر چلنے والا بن جاتا ہے ۔ لوگ بابا کے مرنے کے بعد ان کے آنے کی امید بھی کررہے تھے کہ کہیں سے ہنسی کی آواز آئی ۔ بقول راوی:
’’نہیں چوہدری‘‘ پنڈت نے اپنی بات پر زور دینے کے لیے آواز کو دبا کر کہا۔ میرا مطلب اُدھر والوں سے نہیں۔۔۔۔۔ سنو پھرکوئی ہنسا ہے۔ اِدھر والوں سے‘‘۔ اس نے قبرستان کی طرف اشارہ کیا۔
تو کیا ہوا؟ چوہندری نے بابا کا لہجہ اختیار کرکے کہا۔
کوئ ادھر کاں ہوں یا ادھر کاں خدا کی ساری مخلوق برابر ہے۔‘‘
یہ ہے وہ سینہ درسینہ منتقل ہونے والا فسلفہ زندگی ، جسے ہم ایک بدمعاش اور بے ایمان انسان میں زندگی کی شان بنتے دیکھ رہے ہیں۔ اسی کو اساطیر میں ہم Perennial Philosophy یعنی ہمیشہ چلنے والا بہائو کا فلسفہ کہتے ہیں۔
آپ جب جوگندر پال کا افسناہ ’عفریت‘ پڑھیں گے تو یہ احساس ہوگا کہ اب انسانوں کا ریموٹ خدا کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ عورت اور مرد اس ریموٹ سے آزاد معلوم ہوتے ہیں۔ چور لٹیروں کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو ہے اور ایک طرح کی روحانی خلا Spritual Vaccum پیدا ہوگیا ہے۔ روحانیت شہروں سے ہجرت کرچکی ہے جنھیں اب ہم اساطیر اور مذہبی رواداری کے ذریعے ہی ایک نئی زندگی دے سکتے ہیں۔ جوگندر پال کے اس افسانے کا ہیرو برائے نام ہیرو ہے اس کی بیوی اس کے سمانے ہی اپنے عاشق کے ساتھ گھومتی پھرتی ہے۔ ہیرو اپنے ہوٹل کا حساب کتاب دیکھنے میں مصروف ہے ۔ اسی اثنا میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اسی عاشق کا بیٹا ہے۔ اسے دکھ تو ہوتاہے لیکن آخر کار وہ اسے اپنا لخت جگر مان لیتا ہے۔ رام لیلا گرائونڈ میں جب یہ بچہ ’’راون‘‘ کو جالنے کا منظر اپنے باپ کے ہمراہ دیکھنے جاتا ہے ، اس وقت اس کا باپ ہوٹل کا ملاک ہی نہیں بلکہ ہتھیار سپلائی کرنے والا ایجنٹ بن چکا ہے۔
یہاں ٹھہرنے کی بات پر غور کرلیں کہ ادیبوں کو ایسی اساطیر کا استعمال کرنا چاہیے جو ان کے عہد کے تناقضات پر روشنی ڈالے نہیں تو اس کی یہ محنت رائیگاں ہوجائے گی۔ جیسے راجنددر سنگھ بیسی پرش اور پراکرتی اور متھن یاان اساطیر روایات کو اپناتے ہیں جو عورعت اور مرد کے رشتوں کی نزاکت کو سمجھنے میں مدد دے۔ اسی طرح جوگندر پال نے موجودہ دور کے سیاسی و اقتصادی صورت حال سے دو چار انسانوں کو سمجھنے کے راون کی اساطیری کا انتخاب کیا ہے۔
ڈاکٹر وجیندر راسنا تک کا کہنا ہے:
’’اساطیر میں ماضی کا عنصر تو رہتا ہی ہے ۔۔۔۔۔ نئے زمانے کے تضادات میں بھی اساطیر جھانکتا ہے اور اپنہی ماضیت کو حال کے لباس میں پیش کرتا ہے ۔‘‘
اگئے نے کہا ہے:
’’جب جب ہماری ریلیٹی کی پیچان مخمصے کا شکارہوئی ہے تبھی ہم اساطیر کا سہارا لیتے ہیں کیوں کہ اساطیر ریلیٹی کی پہچان کا ہمارا پرانا ذریعہ ہی ہے۔‘‘
جب ہم جوگندر پال کا افسانہ ’عفریت‘ (جس کے معنی بھوت پریت اورع دیو کے ہیں) پڑھتے ہیں تو منددرجہ بالا اقوال کی صداقت کا احساس ہوتا ہے۔
جوگندر پال نے اساطیری کردارں میں سے اس کردار کو منتخب کیا ہے جس کی ضد از خود ہمارے ذۃن میں آجاتی ہے یعنی ’راون‘ جس کی ضد رام ہیں۔ گویا دونوں کو ایک نشان بنادیا۔ یہ نشان ہماری تہذیبی زندگی میں ہر فرد کی سائیکی اور اجتماعی حافظے کا حصہ بن چکا ہے جسے ہم آرکی ٹائپی پیکر یعنی اجتماعی لاشعور بھی کہہ سکتے ہیں۔
راون کو جلایا جاتا ہے ۔ ہیرو کا چھوٹاسا بیٹا جسے سوال کرنے کی کچھ زیادہ ہ عادت ہے وہ بار بار راون کے دس سرکیوں ہیں اور پاپا آپ کو ایک ہی سرکیوں ہے؟ جیسے سوالات کر کے پریشان کر رکھا ہے۔ بھلا اس کا کوئی منطقی جواب یا ایک جواب تو ہے نہیں اس کا باپ اس کا جواب دے کر اپنے ننھے سے بچے سے چھٹکارا پالے۔ اس لیے اس کی ہر تشریح بے کار ہوجاتی ہے اور بچے کا سوال ایک حقیقت اور باپ کا جواب ہر دفعہ ایک نئے اسطور گڑھنے کی مثال بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ افسانہ کا اختتام بھی اس سول پر ہوتا ہے اور وہاں بھی باپ کا جواب ایک نیااسطور خلق کردیتا ہے لیکن آپ کہہ نہیں سکتے کہ بچے کو اس کاجواب مل گیا ہے۔
’’رام لیلا گرائونڈ میں بکھری بکھری چیخ و پکار اب شادماں نعروں کی منظم گونج میں ڈوبنے لگی تھی۔
’’پیا‘‘ ہماری گاڑی نے جو حرکت کی تو موہت نے منھ میں رکا ہوا سوال اگل ہی دیا۔
’’کیا راون کاغز کا بنا ہوا تھا۔‘‘
نہیں کیوں؟ میں اسے پھر ڈانٹ کر چپ رہنے کو کہنا چاہتا تھا مگر پوچھ بیٹھا ’’تو پھر یہ لوگ ہر سال کاغذ کا راون کیوں جلاتے ہیں؟‘‘
’’چپ‘‘ میں اسے کیابتاتا؟۔۔۔۔۔ کیوںکہ اصلی راون ہر سال بچ کر نکل جاتا ہے۔‘‘
’’بچہ‘‘ بجائے خود ایک اساطیری موقف ہے کیوںکہ:
"The Child motif is vestigial memory at one’s childhood.” ….. The child motif is a picture of certain forgotten things in our childhood… the child motif represents the preconscious childhood aspect of the collective psyche.” (5)
بچہ آثاری یاد، گمشدہ اشیائ اور اجتماعی سائیکی کے مقابل شعور بچپن کو پیش کرنے والا موتف ہے جو بجائے خود مذکورہ افانے کے اخیر میںکسی حد کت جواب تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ فن کار نے اس جواب کے ذریعے سب کچھ کہہ دیا ہے اور وہ یہ کہ ’’راون‘‘ ہماری زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے اور سچ یہ بھیی ہے کہ اسے ہر عہد موت کے گھاٹ بھی اتارتا ہے اور یہ بچہ بھی یعنی Nature یا آتما کی طرح ہر عہد کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے جس کا دو ٹوک جواب ممکن نہیں۔ یہ راون کہاں کہاں ہماری زندگی میں آتا رہتا ہے۔ فن کار جوگندر پال کے بیانیے اور مکالنے میں دیکھیے بقول راوی جو اس افسانے کا کردار بھی ہے:
’’پچھلے سال ہوٹل میں ۔۔۔۔۔ میرا ملنا مغرب کے ایک ایسے صنعت کار سے ہوگیا تھا جو تیسری دنیا کے ممالک میں افیون او رکوکین کے عوض ہتھار سپلائی کرتا تھا۔ میرا اس سے معاملہ پٹ گیا تو میرا بیشتر وقت اس کاروبر میں صرف ہونے لگا۔ ہوٹل وٹل تو دکھاوئے کا پیشہ ہو کر رہ گیا۔۔۔۔۔ مغرب اپنی طاقت سے اتنا خوفزدہ ہے کہ ہوش و حواس کھو کر جینا چاہتا ہے اور مشرق لڑتا بھڑتا نہ رہے تو اسے اپنی آزادی کا تعین نہیںہوتا۔ سو میں دونوں طرف کی ضرورتیں سمگل کرنے میں جٹ گیا۔‘‘(6)
یہ تضاد دیکھیے راوی یعنی بچے کا باپ خود راون سے بڑا راون ہے جو راون کو جلانے کا تماشا ہیر بن کر دیکھ رہا ہے ۔ بھال یہ بچے کا جواب کیا دے سکتا تھا ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس شخص کی بیوی اپنے عاشق کے ساتھ کھلے عام گھومتی ہے بلکہ وہ بچہ بھی اس عاشق کا ہی ہے۔ بیٹا باپ کو یاد دلاتا ہے کہ:
’’پپا۔۔۔ پپا۔۔۔ موہت پھر مجھے بلا رہا تھا’’اماں کو بھی ساتھ نہیں لائے۔‘‘
’’اماں نے بہت راون دیکھے ہیں بیٹے۔‘‘ (7)
اب یہاں راون کا سیتا کر ہر لے جانے کاواقعہ اور بیوی کا خد اپنے شوہر کو چھوڑ کر عاشقکے ساتھ گھومنا کس طرح کا تضاد سامنے التا ہے، بتانے کی ضرورت نہیں۔ راوی عینی اس بچے کا باپ جلتے ہوئے راون کو دیکھ کر سوچتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں راوی کا یہ بیانیہ:
’’موہت اور میں راون کے بھائی کے پتلے سے اٹھتے شعلے دیکھنے لگے۔ اس کے پہلو میں راون کے دسیوں چہرے آگ کی روشنی میں اتنے حواس باختہ دکھ رہے تھے کہ مجھے اس پر ترس آنے لگا۔ اسے کیا پڑی تھی کہ اپنے سے طاقتور کی جورو کو اڑا لے آئے۔اپنی لنکا میں ہی سیتا پر نظر ٹھہرا لیتا اور اس کے رام کی تنخواہ باندھ کر بڑے آرام سے اسی کو گھر میں ڈال لیتا۔ اس پر رام راضی نہ ہوتا تو اسے دودھ کے پیسے تنخواہ کے علاوہ ادا کردیتا۔دسوں مونچھوں کی تائو تو وہی ممکن ہے جہاں اپنا سکہ چلتا ہو اپنی حکومت سے باہر تو سچ مش کا راون بھی کاغذ کا ہو کے رہ جاتا ہے۔‘‘ (8)
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اسطور کو مصنف/راوی/یعنی کردار نے اسی طرح سے دیکھا جس طرح کہ اس کی زندگی تھی۔ اس نے ایک نوکرانی کو اپنے گھر میں رکھا تھا بلکہ گھیر لیا تھا جو اس کے بچے کو دودھ بھی پلاتی تھی اور بیوی کا رول بھی اداکرتی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اخیر کے جملوں میں اس محاورے کو کہ اپنی گلی میں کتابھی شیر ہوجاتا ہے یعنی کاغذکے راون کو جلانا بہت آسان ہے ۔ اصلی راون سے لڑنے کی طاقت ہر کس و ناکس میں کہاں ہے؟اسی طنز نے اس افسانے کو ایک اہم اور قابل ذکر افسانہ بنا دیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو افسانوں میں ہندو اساطیر – ڈاکٹر ابوبکر عباد)
اندازہ ہو ا کہ متھ ایک ارتقا پذیر متن ہے اور تصنیف بے مصنف ہے لیکن اسے برتنے والے کو یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ اگر متھ ارتقا پذیر ہے تو کس سطح پر ؟ کتنا اور کیوں؟ میتھلی شرن گپت کے رزمیے میں رام ایک جمہوری دور کے لیڈن بن گئے ہیں۔ عوام اس حد تک رام کو برادشت کرسکتی ہے لیکن انھیں اگرکوئی مریاد اور آدرش سے عاری سیاست داں بنا کر پیش کرے تو قاری اسے رد کردے گا۔ رام کے برعکس راون کے بارے میں جوگندر پال کے افسانے کے کردار نے جو قیاس آرائیاں کی ہیں وہ اس لیے قابل بول ہیں کہ راون ہمارے لیے مریاد اپرشوتم نہیں ہے۔ جوگنددر پال ان باریکیوں کے سمجھتے تھے۔
مائیکل اینجلو میں گلزار نے ایک مصور کا قصہ بیان کیا ہے جسے پوپ جولیئس نے اینجلو سینٹ پیٹرزکے اسٹین چیپل کے گنبد اور دیواروں پر پرانے اور نئے عہد نامے کے اہم واقعات نقش کرنے کا کام سونپا تھا اور اسے ایک زدہ ماڈل یعنی انسان کی تلاش تھی جسے وہ یہیودی کی شکل میں پیش کرسکے۔
گویا افسانے میں اس کردار کو نوجوان کی تلاش میں دکھانے کا مقصد ہی اس اساطیری کردار یسوع اور پیغمبر کے زمانے اور حال کے زمانے کے تضادات کو پیش کرنا ہے۔ موجودہ دورمیں انسانوں کی خباثت اور پرانے دور کا پیغمبر اخلاق اور کردار کی سطح پر کتنے دور ہیں اس کا اندازہ مندرجہ ذیل جملے سے لگائیے:
’’مریم کا ماڈل اینجلو نے اپنی مں سے چنا تھا۔۔۔۔۔ اس رات اس نے چولھے کے پاس بیٹؑھی ماں سے کہا بھی تھا’’تو نے یسوع کو جنم کیوں نہیں دیا؟‘‘
’’اس لیے کہ تیرا باپ مل گیا تھا۔ وہ دیکھ شراب پی کے دھت پڑا ہے۔ جا سنبھال اسے ‘‘۔اپنے باپ کو دکھانے کے لیے اس نے اسی وقت ایک کتے پر بڑا سا اسکیچ بنا کر پلنگ پر لٹکا دیا تاکہ وہ دیکھ لے کہ پینے کے بعد وہ کیا لگتا ہے۔ نیچے لکھا تھا:
’’باپ اگر تو یہ نہ ہوتا تو ماں مریم ہوتی۔‘‘
گویا طنز کی لہر شدید کرنے کلے لیے ’’یسوع‘‘ کی عظمت اور عقیدت کو سامنے ررکھا گیا ہے۔ مرد ہی عورت کے سارے امکانات کو ختم کردیتا ہے ورنہ وہ تو پیغمبر بھی پیدا کرسکتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ماں کومریم بننا کہاں نصیب ہے۔ اس اسطور اور موجودہ دور کی حقیقت میں جسے ایک ہی رشتہ رہ گیا ہے اور وہ یہ طنز کا رشتہ۔یعنی آرٹسٹ جب ماڈل کے نام پر ایک نوجوان کو اپنے تصویر خانے میں لاتا ہے تو پتہ چلت ہے کہ جسے اس نے بچپن میں یسوع کی شکل میں پیش کیا تھا اب اسے ہی وہ یہودہ کی شکل میں پیش کرنے کے لیے اپنے گھر لایا ہے۔
یعنی جس کو یسوع کی شکل میں فن کار بچپن میں پیش کرچکا ہے اسی شخص کو یہیودہ (عیسیٰ کا تیرہواں شاگرد جس نے سونے کے تین ٹکڑوں کے لیے اپنے پیرو مرشد کو رومیوں کے حوالے کردیاتھا) کی شکل میں پیش کیا۔
اس عمل سے اور ان اساطیری آرکی ٹائپی پیکروں کے ذریعے افسانہ نگار نے یہ بتانا چا ہا ہے کہ مذہب ایک ڈھونگ بن چکا ہے ورنہ کیا بات ہے جسے یسوع کی صورت میں پیش کیا جاچکا ہواسے پھر یہودہ کی شکل میں بھی پیش کرنے میں کوئی قباحت ہی محسوس نہیں ہوتی۔
’’ایک شہر جو کبھی آباد تھا‘‘ میں مظہر الزماں خاں نے داستانی بیانیہ اور اسلوب کے سہارے مسلمانوں بلکہ بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے زوال کی کتھا کہنے کی کوشش کی ہے ۔ داستانی طرز کے جملوں میں جابجا مظہر نے استعاراتی معنی خلق کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً:
’’مختلف ممالک کے سیاحوں کا قافلہ شیخ سعدی کا مرثیہ پڑھتا ہوا جب باب شہر میں داخل ہوارہا تھا تو ایکسیاہ کتا شہر کے اندر سے دوڑتا ہوا آیا اور ہم سیاحوں کے پانو کے درمیان سے ہوتا ہو شہر سے باہر نکل گیا تھا اور جب ہم شہر معدوم میں داخل ہوئے تو فصیل جسم سے پشت لگائے ایک ہزار سالہ بوڑھا بیٹھا ہوا تھا۔‘‘
کتا دراصل لالچ اور رذالت کا ستعارہ ہے اور ایک ہزار سالہ بوڑھا ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ تاریخ اور وقت کا استعارہ ہے۔
اس طرح زمین کے آرکی ٹائپی پیکر، بود و نابود کے فلسفیانہ نکتے سب کچھ اس افسانے میں ایک اسطوری فضا خلق کرتے ہیں لیکن ان کے باوجود افسانے کو پڑھتے ہوئے یہ افسانہ ایک فلسفیانہ قسم کی گفتگو یا زوال کا مرثیہ لگتا تو ہے مگر افسانے کے بجائے افسانہ انشائیہ بھی معلوم ہوتا ہے۔
م۔ ق۔ خان کا افسانہ ’’ان کہی کہانی‘‘ ایک عجیب و غریب افسانہ ہے جس میں رامائن کو بالکل الٹ پلٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ دراصل اس کہانی میں دسرتھ اور ان کی دوسعری پتنی کیکئی کو رام اور ان کی بیوی سیتانے گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ اپنی اس بپتا کوکہانی میں ڈھالنا چاہتے ہیں اس لیے رشی کیپاس جاتے ہیں۔ رشی پوچھتا ہے آپ یہ بتلائی ں کہ آپ کون ہیں؟:
’’مہاراج! آپ نے بھی ہمیں اس دیش میں نہیں پہچانا؟ سب کال کا چکر ہے۔ ہم دسرتھ اور کیکئی ہیں۔ جنگل کی خاک چھانتے چھانتے اس دشا کو پہنچ گئے ہیں کہ آپ نے پہچا نا بھی نہیں۔‘‘
خیر رشی جو بالمیکی ہیں یہ بتاتے ہیں کہ میں تو اس دھرتی پر صرف رام لیلا لکھنے کیل لیے پیدا ہوا تھا اس کے سوا میں کچھ نہیں لکھوں گا۔ یہ لوگ پھر تلسی داس سے جا کر کہنے لگے کہ اب آپ میر کتھا لکھیے کہ اس کتھا میں رام اور سیتا نے دسرتھ اور کیکئی کو بن واس دیا ہے۔ تلسی خوش ہوتے ہیں کہ پلاٹ بہت اچھا ہے ۔ آپ یہیں رہیے میں ادھین کرووں گا اور آپ کی کہانی لکھوں گا۔ رہنے کی شرط دسرتھ کو قبول نہیں ہوا ، وہ وہاں سے چلے گئے۔ راستے میں تلسی داس کی بیوی ملیں جس نے کیکئی کو دیکھا اور جب معلوم ہوا کہ وہ لوگ کہاں سے لوٹ کر آرہے ہیں تو تلسی کی بیوی نے سوچا کہ اب سمجھ میں یہ بات آئی کہ کیوں تلسی داس مجھے چھوڑ کر اس بیابان میں رہتے ہں۔ وہ کٹیا میں گئی اور تلسی داس کا کاغذ قلم ندی میں پھینک کر تلسی کو کھینچ کر ند میں اتر گئی۔
کہانی میں تویسٹ تب پید اہوت ہے جب دسرتھ کو پریم چنند ک اگئودان اور پریم چند یا آتے ہیں جنھیں دسرتھ نے پڑھا تھا۔ ان سے دسرتھائن لکھنے کی فرمائش جب دسرتھ کرتے ہیں تو پریم چند حیران ہو کر کہتے ہیں:
’’کہاراج بات دراصل یہ ہے کہ اب لوگ دسرتھ اور کیکئی یعنی کسی راجہ، رانی کا نام ہی سن اور دیکھ کر بدک جائیں گے۔ میں نے راجپوتوں کی شان اور مریادا کی کاہنی لکھی تھی لیکن آج اسے کوئی نہیں پڑھتا۔ ہاں آپ کسان ہوتے تو شاید لوگ آپ کی کہانی دکچسپی سے سنتے۔ گھیسو اور مادھو کی طرح آزاد خیال ہوتے اور کفن کے پیسے سے ددرو خیرید کر پی جاتے تو بھی میں اپنی کاہنی کا آپ کو کردر بناتا۔۔۔۔ آپ کے بیٹے اور بہو نے آپ کو گھر سے نکال دیا ہے ، اب اس بات سے نئی پیڑھی کوکیا دلچسپی ہے۔ مجھے چھما کریں آپ نئی کہانی کے لیکھک وزند کے پاس چلے جائیں۔‘‘
کتنی خوبورتی سے م۔ق۔ خان نے اس اسطور کے بہانے پرانی قدروں کو ملیامیٹ کرتی نئی نسل اور نئی تگہذیب کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔
بہرکیف حد اس جدید اسطور کی اس طرح ہوتی ہے کہ فلمی دنیا میں جاکر کہیں دسرتھ اپنی کہانی لکھواتے خود کیکئی ہیروئن بن جاتی ہے اور ایک دن ایسا ٓتا ہے کہ کیکیئ بمبئی کا فلیٹ چپکے سے بیچ کر بدیس چلی جاتیہے۔ دسرتھ سمندرکے کانرے ہنومان کی راہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ انھیں سیتا کی طرح کیکئی کوبدیس سے لا کر دے دیں گے۔
گویا اب پتہ چلتا ہے کہ دراصل یہ دسرتھ اور یہ کیکئی کنلگ کے لوگ ہیں۔ کہانی پڑھتے ہوئے ہمارے سماج کی ہر موجودہ برائی آنکھوں میں گھوم جاتی ہے۔ اس کہانی کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں آج سب کچھ ہوتے ہوئے بھی Compassionاور Keenness کی سخت ضرورت ہے۔
’’سن اے کاتب‘‘جابر حسین کی ٹائٹل اسدٹوری ہی اساطیری اسعاریت کی مثال بنتی ہے۔ راوی اس بات پر پریشان ہے کہ ہر۴ آدمی کی تقدیر ایک ایسا کائب لکھت اہے جس سے اس کی مالقات اور بات بھی نہیں ہوسکتی اسے یہ فکر ستا رہا ہے کہ کاش یہ پتہ چل جاتاکہ وہ کب مرے گا، اس کی موت کے ابھی کتنے دن باقی ہیں، جب موجودہ سائنس اس کے سوال کو حل نہیں کرپاتی تو وہ اپنے اجتماعی حافظے، اساطیر اور دیومالا کی جانب ذہن کو راجع کرتا ہے جہاں ان سولوں سے عہد قدیم کا انسان بھی جوجھتا نظر آتا ہے۔ پھر ایک راجہ کی کہانی سامنے آتی ہے جس میں رشی نے اسے اس کی عمر کی حد بتائی اور آنے والی پورنیما کو راجہ کے لیے خطرناک پرنیما بتایا تب راجہ کے مصاحب نے رشی سے پوچھا تمھارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے اس نے خود کو لمبی عمر والا بتایا ۔مصاحب نے اسے اسی ووقت قتل کردیا۔ راجہ خوش ہوا لیکن اگلے ہی مہینے فتح حاصل کرنے کے بعد جب وہ کہیں سے لوٹ رہا تھا کہ کسی خندق میں گر کر مر گیا۔
راوی پھر حال میں واپس آتا ہے اور فطرت اسے سمجھاتی ہے کہ تم پریشان کیوں ہو۔ دراصل تمھارے آنگن میں کھلنے والا یہ پھول بھی تمھارا ہی روپ ہے۔ گویا یہاں نیچر اور آدمی کے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افسانہ نگار نے یہ بتانا چاہا ہے کہ زندگی ختم کہاں ہوتی ہے کہ اس کی ابتدا اور حد کی فکر کی جائے۔
حسین الحق کا افسانہ ’’گمشدہ استعارہ‘‘ دراصل آرکی ٹائپی پیکروں یعنی عہد عتیق کی۹ تلاش اور عہد جدید سے اسے جوڑ کر دیکھنے کی ایک فنکارانہ کوشش ہے۔ بین المتنیت کے ذریعے باغ و بہار کے کرداروں کو موجوہ دور کے سیاق میں پیش کرتے ہوئے انسان کی حالت و حیثیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یعنی وجودیت کو گمشدہ استعارہ ثابت کیا گیا ہے اور اجنبیت اور بے گانگی کے فلسفے پر تنقید کی گئی ہے۔ گمشدہ استعارہ ہر تہذیب میں گمشدہ جنت کے اسطوری عقائد کی بازیافت کی ایک کوشش ہے۔
پیغام آفاقی نے ’’شکاری اور شکار کا منظر‘‘ نامی افسانے کے عنوان کو اساطیری موقف بنایاہے۔ نظر جیسے ہی افسانے کے عنوان پر ُڑتی ہے ذہن شکار ناموں کی طرف جاتا ہے۔ ماضٰ بعید میں جب انسان اپنی بھوک شکار سے مٹاتا تھا تب جنگل تھا، پیڑ تھے جس پر چڑھ کر لوگ خدا سے قریب ہونے کا عقیدہ ذہنوں میں رکھتے تھے ایک دن آیا کہ درخت کٹ گئے، پہاڑ بکھر گئے، نتیجتاً جنت میں پہنچنا مشکل ہوگیا۔ شکاری سماج میں جانور بے وقعت مخلوق نہیں تھا بلکہ انسان ان سے گفتگو کرتا تھا۔ جانور انسانوں کی کہانیاں کہتے تھے۔ اس سے متعلق اساطیر یہ بتاتی ہے کہ جانوروں کو مارے وقت انسان کو یہ خیال تھا کہ ہمیں جانوروں کی ہڈیاں جوں کا توں رکھنا چاہیے تاکہ یہ پھر سے زندہ ہوسکیں لیکن آج کاشکاری ہمارا استحصالی طبقہ ہے جو ہڈیوں کو بھی چباتا ہے۔
افسانہ نگار کی نگاہ اس افتراق پر ہے تبھی تو وہ کہتا ہے:
’’جب انسانوں پر تاریخ حملہ آور ہوتی ہے تو انسان بالکل بکرے کا پٹھا معلوم ہوتا ہے۔‘‘
انجم عثمانی کے افسانے ’’برزخ‘‘ اور ’’ایک ہاتھ کا آدمی‘‘ میں اساطیر ، مذہبی عقائد اور عوامی عقائد کو بنیادی متن بنایا گیا ہے لیکن کی بالائی سطح ہمعصر زندگی ہے۔ برزخ میں ایک کلرک کی زندگی پیش کی گئی ہے جو ہمعصر حالات سے حد درجہ پریشان ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات پر پریشان ہوجاتا ہے۔ یہ آدمی اپنے فلیٹ کے آگے ایک لاوارث کار کو دیکھ کر حددرجہ خوفزدہ ہوجاتاہے۔ ظاہر ہے یہ کار اس کے لیے دہشت کا نشان بن جاتا ہے۔ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ ہوسکتا ہے اس کے کسی دوست کی کار ہو۔ ان دونوں تصورات کے درمیان یا کشکمش میں مبتلا انسان دراصل معاصر زنددگی کے ہر عام آدمی کا خوف بن جاتا ہے۔ ’’برزخ‘‘ یعنی عنوان کو اساطیری استعاریت کا موتف بنایا گیا ہے کہ برزخ یعنی آڑ، پردہ، مرنے کے بعد قیامت تک کا زمانہ، دو مخالف چیزوں کے درمیان کی چیز آج کے عام آدمی کی کھوپڑی میں سمائی ہوئی دہشت اور خوف کی نوعیت کا اثر قاری پر واضح کیا جاسکے۔
’’ایک ہاتھ کا آدمی‘‘ عنوان دو طرح کے معنی کو ذۃن میں لاتا ہے۔ پہلا یہ کہ جیسا کہ تصوف میں ایک گروہ کا خٰال انسان کو مجبور محض حقیر ثابت کرنا ہے۔ دوسرا معنی ی کہ آج کے آدمی کے پاس ہاتھ کے نام پر صرف ایک ہاتھ رہ گیا ہے کوئی دائیں بازو ووالا ہے یا کوئی بائیں بازو کا۔ اساطیری اور مذہبی نقطۂ نظر سے بقول راوی اس کی توضیح یہ ہے:
1: ’’مفاد پرست لوگ یمین ویسار کاقضیہ کھڑا کر کے جان بوجھ کر بستی میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں تاکہ ایک خاص گروہ کے لوگوں کو ان کے مقام سے گرایا جاسکے۔‘‘ (ایک ہاتھ کا آدمی
2: ’’ایک دن وہ آئے گا جب برے کام کا انجام دینے والے اپنے اعمال کی تفصیل دائیں ہاتھ میں لیے دوسری طرف۔۔۔ اور تب سورج بائیں ہاتھ والوں کے عین سر پر سوا نیزے کے اوپر ہوگا، دماغ کھولتی ہنڈیا کی طرح گرم ہوں گے ، نفوس ایک دوسرے سے اس طرح بے پروا ہوں گے کہ ماں باپ اولاد کو ، اولاد ماں باپ کو پہچاننے سے انکار کردیں گے۔‘‘
گویا افسانہ نگار نے ’’زبانی بیانیہ‘‘ نیز مذہبی عقدیے کی فنی نقل سے ایک نیا اسطور خلق کیا ہے تاکہ ہم جدید زندگی کی تہہ داریوں اور ابہام کو سمجھ سکیں۔ نئی نسل دائیں بائیں کے چکر سے نکلے ۔ میڈیا کے چکر میں نہ پھنسے جسے افسانہ نگار نے ’’گونجتے نقاروں‘‘ اور ’’سب ٹھیک ٹھیک ہے‘‘ جیسے طنزیہ فقرے کے ذریعے کیا ہے۔
انجم عثمانی کے اس افسانے کے تحت متن حکایت پیر تسمہ ہے جسے یقینا انھوں نے ایک فنی رخ عطا کردیا ہے۔
ابن کنول کے افسانوں میں داستانی طرز کا بھرپور استعمال نظر آتا ہے جس کے مرد میداں انتظار حسین ہیں لیکن ابن کنول نے خود کو انتظار حسین سے منفرد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کئی کہانیاں پیش کی جاسکتی ہیں۔ بالخصوص ’’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘‘ جیسے عنوان سے ان کے مذہبی اور دینی جذبات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’صرف ایک شب کا فاصلہ‘‘ نامی افسانے میں اصحاب کہف کی اساطیر شہنشاہیت اور جمہوریت جیسے قدیم و جدید ادوار کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔اس طرح یہاں ایک شب کا فاصلہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ شہنشاہیت اور جمہوریت میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہے ۔ لیکن تاریخٰ وقت کے مطابق شہنشاہیت سے اس جمہوریت تک پہنچنے میں نہ جانے کتنی صدیاں لگ گئی ہیں۔
شوکت حیات نے اساطیر استعاریت سے دلچسپی کا بھر پور ثبوت تو نہیں دیا ہے البتہ ان کی کہانی ’’گنبد کے کبوتر‘‘ او ’’بلی کے بچے‘‘ میں حیوانیہ Animal Storyکی چھوٹ پڑ گئی ہے او ریہ کہانیاں ان کی اہم کہانیوں میں شمار کی گئی ہیں۔
عبدالصمد کی کہانی ’’میرے کہ تیرے ہاتھ میں‘‘ میں زبانی بیانیہ یعنی داستانوی اسطور سے بھر پور کام لیا گیا ہے۔ اس کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’او پھر ویں ہوا کہ زمین کھو دی جانے لگی اور وہ چیزیں جو زمین نے کبھی مستعار لی تھیں ایک ایک کر کے واپس کرنے لگی۔۔۔۔۔ لیکن ہوا یہ تھا کہ زمین نے تمام چیزوں میں سے ایک ایک چیز نکال کر رکھ لی تھی۔ اچھی لگی ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام چیزیں نمائش کے کام آنے لگیں۔‘‘
مظہر الزماں خاں داستان، اساطیر اور زبانی بیانیہ کو ہی اکثر و بیشتر اپنا موضوع بناتے ہیں۔ ان کے یہاں ’’آخری‘‘ لفظ بطور سابقہ بہت استعمال ہوا ہے مثلاً آخری داستان گو، آخری مقدمہ، آخری تماشہ، آخری نسل کی کہانی۔ یہ سابقہ ’آخری‘ کہانی کے متن میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے جن کے یاں ادب، تسوف اور فلسفے کی تثلیث نے ایک انوکھے تجربے کا روپ دھار لیا ہے۔
افسانہ ’’پہلے دن کی تلاش میں‘‘ اساطیر رمزیت کے ذریعے گہرے انسانی سوالات کو معرض بحث میں لایا گیا ہے کہ کسی بھی شے کی ابتد کب ہوتی ہے ؟یعنی Origin کیا ہے؟ اور کیا ہم کسی بھی شے کی اصل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسے اس افسانے کے ایک بیانیہ عبارت کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’اجنبی نے کہا۔۔۔۔۔ جنگل میں اسٹیشن کے قریب ایک پاگل اور عراں عورت کو دیکھا تھا جس کی گود میں ایک دودھ کا بچہ تھا اور جس کی دائیں ران یاشاید بائیں ران پر ایک بڑا گہرا زخم تھا، جس پر ان گنت مکھیاں بھنک رہی تھیں جب میں نے اس عورت سے پوچھا کہ تمھیں یہ زخم کب اور کیسے لگا تو وہ ہنسی تھی اور دیر تک ہنستے رہنے کے بعد بولی تھی۔ یہ زخم نہیں ایک شہر ہے یا پھر زمین۔‘‘
اساطیر میں زمین کو عورت قرار دیا گیا ہے ۔ انسانوں نے عہد حجر کے آخری دور میں کاشت کرنی شروع کی تھی اور یہ دیکھا تھا کہ کیسے زمین میں بیج سڑ جاتا ہے اور پودا نکل آتا ہے۔ اساطیر میں Demeterاناج کی ماں ہے (گریک فلسفہ) جو زمین کو بنجر ہونے سے بچاتی ہے۔ اساطیر میں موت خوفناک ضرور ہے لیکن یہ زندگی کا خاتمہ نہیں ہے ۔عبدالصمد کے افسانے کی عبارت اور مظہر الزماں کی عبارتیں انھیں اساطیری حیثیتوں کے استعارے ہیں۔
الیاس احمد گدی کا افسانہ ’’نام جیفرسن کے پنجرے‘‘ کو پڑھتے ہوئے ماقبل داستانوی کہانیاں جن میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے طوطے موجود ہیں ، کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اس افسانے میں ایک نوجوان طوطے کو گالی سکھا رہا ہے۔
’’بول مٹھو ۔۔سالا۔۔سالا۔۔سالا
طوطا یہاں دلت طبقے کا نشان (Sign)ہے۔
بچے کا ذخر جوگندرپال کے افسانے میں کیا گیا تھا۔ یہ بچہ سید محمد اشرف کے ایک افسانے میں اس طرح کے سوالات سے اپنے نانا کو پریشان کر رہا ہے ۔ اس افسانے کا عنوان ہے ’’لکڑ بگھا چپ ہوگیا‘‘۔
سید محمد اشرف کو اگر ہم Best epicکا فن کار کہیں تو مضائقہ نہیں۔ یقینا سید محمد اشرف ہمیں گیٹے کے حیوانی رزمیے Reineke Finks اور جارج آرویل کے Animal Form کی یاد ہی نہیں دلاتے یہ بھی احساس دلاتے ہیں کہ آج کا فن کار ماقبل متن کو زیادہ بااثر بنا کر پیش کرسکتا ہے۔
حیوانیہ کا مقصد اخلاقی تربیت اور خدا ترسی کی تعلیم ہے۔ اردو میں ابوالفضل صدیقی اور دیگر لوگوں نے جو کچھ لکھا وہ بہت خوب ہے لیکن اس کی حیثیت جاحظ کی کتاب ’’الحیوان‘‘ سے زیادہ نہیں کہ آپ جس میں مختلف جانوروں کی فطرت اور ساخت کے بارے میں جان سکیں۔ اشرف حیوانیہ کو رزمیہ میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں اور اس کی مثال ان کی جکئی کہانیوں میں موجود ہے ۔ سردست ذکر لکڑ بگھا چپ ہوگیا کا ہو رہا تھا جس کی کہانی ایک بچہ، اس کے نانا اور ایک نیلی قمیص والے آدمی کے گرد گھومتی ہے ۔ بچہ اور اس کے نانا ٹرین میں بیٹھے کہیں جارہے ہیں۔ ٹرین کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے رک گئی ہے ۔ بارش ہو رہی ہے۔ کھڑکی سے دور ایک لکڑ بگھا دکھائی دے رہا ہے جو کبھی ہنس رہا ہے کبھی رو رہا ہے ، نیلی قمیص والا کہیں سے دوڑتا ہوا آکر ترین پر سوار ہونا چاہتا ہے ۔ دروازہ بند ہے ۔ وہ بڑی مشکل میں ہے لیکن لوگ اس پر ترس نہیں کھاتے ۔ وہ چلا چلا کر دم بخود ہوجاتا ہے۔ آخر کار بچے کی کوشش سے وہ اندر آخر کھڑکی کے قریب بیٹھ جاتا ہے رہ رہ کر لکڑ بگھا کی صورت اور اس کی آنکھیں بچے کو دکھائی دیت ہیں۔ بچہ کبھی لکڑ بگھا تو کبھی ٹرین کے رکے رہنے کی وجہیں اپنے نانا سے دریافت رکرتا رہتا ہے۔دراصل بچہ لکڑ بگھا سے حدر درجہ ڈرا ہوا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اساطیر کی جمالیات – پروفیسر شکیل الرحمن )
دریں اثنا ایک اور نیلی قمیص والے انسان کی طرح مصیبت زدہ انسان چلا چلا کر دروازہ کھولنے کی گزراش کرتا ہے اور تھک جاتا ہے لیکن کوئی بھی آدمی اس کی مدد نہیں کرتا، حتیٰ ک وہ بھی جس پر ابھی ابھی ایسی مصیبت ٹوٹ پڑی تھی، یعنی نیلی قمیص والا آدمی اونگھ رہا تھا اور بچے نے اس کو غور سے دیکھا ۔ بقول افسانہ نگار:
’’جو اتنی دیر سے سب کچھ سن رہا تھا، سب کچھ دیکھ رہا تھا، اس نے اپنے نانا کی کمر مضبوطی سے پکڑ کر نیلی قمیص والے کی آنکھوں میں دیکھا۔ نیلی قمیص والے کی آنکھیں اس کی آنکھوں سے چار ہوئیں اور ڈبے کے نیم تاریک سناٹے میں اس نے بہت واضح طو رپر محسوس کیا کہ نیلی قمیص والے کی آنکھیں پہلے سے چھوٹی ہوگئی ہیں اور جبڑے آپس میں بھینچ گئے ہیں۔‘‘
گویا لکڑ بگھا کا ہنسنا اور چپ ہوجانا دراصل دو صورت حال ہے جو بچے کے اندر حیرت اور تعجب پید اکرتا ہے۔ نیلی قمیص والے کی خصوصیت یا فطرت کچھ اسی قسم کی ثابت ہوتی ہے۔ بچے کے اندر اخیر میں یہ حیرت پیدا ہوئی ہے ، اب بتانے کی ضرورت ہیں کہ دراصل اشرف حیوانوں کی کھال میں چھپے انسانوں اور انسانوں کی کھال میں چھپے حیوانوں کی کہانی کہتے نظرآتے ہیں۔ ان کو معلوم تھا کہ بچے کا کردار ہی انھیں کہانی کو ایک اساطیر استعاریت کی جہت عطاکرسکتا ہے اس لیے انھوں نے جان بوجھ کر اس کردار کو فطری ماحول کا حصہ نباید اہے، جسے اس ریل کے اسی ڈبے میں زدنگی کو بہت قریب سے دیکھنے اور زندگی سے متعلق اس کے زاویۂ نظر کو ٹوٹنے بکھرنے کا منظر بھی دیکھنا پڑا اور آخر کار نیلی قمیص والے نے جانوروں کی طرح بہرے پن، بے حسی اور خود غرضی ، عیاری اور مکاری کا وہ منظر پیش کیا کہ بچے کولگنے لگا کہ جولکڑ بگھا بہت دور دکھائی دے رہا تھا اب اس کے بالکل قریب بیٹھا ہے۔ غرض اشرف کو ہم حیوانی اساطیر تصوف اور مذہبی عقائد کی بازیافت کا افسانہ نگار قرار دے سکتے ہیں۔
سید محمد اشرف کے معاصرین میں غضنفر ایک ایسے ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں کہ جنھوں نے اساطیر کی کئی قسموں کو اپنے متن کا حصہ بنایا ہے اور رد تشکیل عناصر کے ذریعے معنی ریزی کی جہتیں پیدا کی ہیں۔ ناول ’پانی‘ میں آب حیات کااسطور ہے، ’وش منتھن‘ میں بھی سمنر منتھن اور آب حیات کا اسطور ہے، ’دویہ بانی‘ میں سرشٹی کی ابتدا انسان کی تخلیق کا اسطور ہے ، کینچلی کی زیریں سطح پر ساوتری اور سیتہ وان کی پورانک کتھا موجود ہے اور ان کے افسانے مثلاًسانڈ ، کڑوا تیل ، قفس ، نیز تخت سلیمانی کو Best Storyاور حیرت فروش کو داستانی طرز اظہار کی رد تشکیل سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ کہنا ہوگا کہ غضنفر ایک اسطور ساز فن کار ہیں۔ انھوں نے جس اسطور کو افسانے یا ناول میں بطور بنیادی مواد استعمال کیا ہے اسے بین المتنیت کے قریب رکھا ہے کیوں کہ جدیدیت کے دور میں اسطور کو برتتے وقت اس کی اصل میں اضافہ کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے ۔افسانہ نگاروں کو اس کا علم نہ تھا نتیجتاً ہر دور یکساں ہے کا پیغام سامنے آتا تھا اور ابہام اس قدر کا تھا کہ افسانہ انشائیہ قسم کی شے بن جاتا تھا جب کہ بین المتنیت سے پہلے اور آج کے انسانوں کے رویوں کا فرق، سوچ اور فکر کا فرق زمانے کے بدلنے کا احساس ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیر ی جڑیں – گوپی چند نارنگ )
غضنفر کبھی کبھی ایک ماقبل تمن کے چھوٹے سے خیال یا کسی قسم کی معلومات یا کسی قسم کے عقیدہ کو ایک طویل رزمیے کی صورت میں تبدیل کرنے کاہنر بھی جانتے ہیں۔ اس صورت میں انھیں ہم جدید اسطور ساز بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً قفس کو ہی سامنے رکھیے یہ ایک پرندہ ہے جس کو عنقا بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ہزاروں سال تک زندہ رہتا ہے ۔ مرنے کے بعد خود زندہ ہوجاتا ہے ۔ اس کی چونچ کی سوراخوں سے آگ نکلتی ہے۔ اس قسم کی معلومات کو سامنے رکھ کر غضنفر نے دو کہانیاں لکھی ہیں۔ اول ایک اور ققنس اور دوئم تصویر تخت سلیمانی۔ یہاں طوالت کے خوف سے صرف تصویر تخت سلیمانی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے گی۔
اس کہانی کا معمر شخص جو سفید ریش ہے سفید عمارت میں رہتاہے ، کو ققنس بنانے کی خبر دی جاتی ہے جس کا حکم اس نے دیا تھا۔ پڑھ اس کے حکم سے ققنس کو سرسبز خطے میں چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے بعد وہاں اس کی چونچ یس نکلنے والی چنگاریوں اور شعلوں سے آگل لگ جاتی ہے۔ خطہ جل کر راکھ ہوجاتا ہے ۔ اس پر کنٹرول کرنے کے لیے ماہر شکاری کی تلاش کی جاتی ہے۔ لوگ اس شخص کے بارے میں بتاتے ہیں جس نے ققنس بنوایا ہے۔ کچھ شرطوں پر شکاری ققنس کا خاتمہ کردیتا ہے لین کچھ دنوں بعد ایک اور ققنس دوسرے علاقے میں از خود پیدا ہوجاتا ہے ۔ پھر شکاری اسے ختم کرتا ہے اور اس جگہ آبادکاری کا کام شروع ہوتا ہے ۔ پھر تیسری پھر چوتھی پھر پانچویں جگہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ققنس کے مرنے جینے کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے۔ آخرکار معمر شخص جس کے کرمے میں اس کی نگاہوں کے سامنے تصویر تخت سلیمانی ہے اور پشت کی دیوا پر نیلگوں فضا میں اڑے ہوئے کبوتروں کی تصویر ہے ، انھیں کارندوں کو اخیر میں ایسی تخلیق کی فرمائش کرتا ہے جس کے ندر کن فیکون کا اثر ہو۔ لوگ سمجھاتے ہیں سر یہ تو خدا کا کرشمہ ہے انسان بھلا۔ کچھ نہیں سننا مجھے آپ لوگ بس حکم کی تعمیل کریں اور پھر اس کی نگاہ تخت پر مرکوز ہوجاتی ہے۔
راوی نے کہانی میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی نگاہ تخت پر تو ہے لیکن تخت کے پایوں کے نیچے نقطوں اور دائروں کی شکل میں حد نگاہ تک پھیلے ہوئے لوگ اسے کبھی دکھائی نہ دے سکے اور شاید یہی لوگ اس کی اصل طاقت تھے۔
اس اسطور میں صاف صاف ہمارے عہدکے مسائل اور عالمی سیاست کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ یہاں تفصیل میں جانے کاموقع نہیں ہے۔ جس نے ققنس بنایا ہے وہی اس کے قہر سے بھی نجات دلاتا ہے ۔ گویا اسطور میں اکثر ایک نجات دہندہ ہوتا ہے لیکن یہاں نجات ہندہ ایک ہی شخص کا نام ہے ۔ اساطیر میں موت کامنظر نہیں ہوتا۔ ققنس بھی لاکھ کوش کے بعد نہیں مرتا اور یہی کہانی میں حیرت ناکی اور تجسس پیدا کرتا ہے۔
کچھ دہائیوں سے Dis armamentکی تحریک چلائی جارہی ہے ۔ نیوکلیر ہتھیاروں کے خلاف مہم جاری ہوگئی ہے جس پر طنز کا زور دار طمانچہ یہ افسانہ رسید کرتا ہے ۔ یہ افسانہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں جہاں گائوں کے مکھیا سے لے کر ملکوں کے مکھیا نے ہمیں دنیاوی ترقی کے راستے پر لے جانے کے بجائے بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب مسائل آفت ناگہانی کی پدا وار نہیں ہیں بلکہ اب مسائل پیدا کرنے کے تجارت شروع کردی گئی ہے۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ققنس کیا ہے اور معمر شخص کون ہے؟
اس طرح غضنفر نے اپنی کانی سانڈ ، کڑوا تیل او رحیرت فروش میں ایک نیا اسطو خلق کرنے کی فنکارانہ کوشش کی ہے۔
غضنفر کے ہم عصر افسانہ نگار طارق چھتاری کے یاہں بھی اسطور بڑے پیمانے پر نہ سہی لیکن ایک اہماسلوبیاتی ڈیزائن اور عصر حاضر کی تشریح کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے کے ٹائٹل اسٹوری ’’باغ کا دروازہ‘‘ ہیئ ایک دلچسپ اسطوری استعاریت کی روشن مثال ہے۔
باغ کے دروازہ کا تجزیہ تفصیل سے میں نے کیا ہے ۔ تجزیہ یہاں ممکن نہیں البتہ راقم نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ تنیجہ اخذ کیا تھا کہ اس افسانے میں قاری کی توجہ بیانیہ پر غور و فکر کرننے کی طرف دلائی گئی ہے۔ اس افسانے کا پہلا سنسنی خیز واقعہ بادشاہ کے پانچ بیٹوں کا باغ کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوجانا ہے ۔ دوسرا واقعہ سب سے چھوٹے بیٹے کا باغ کی حفاظت کے لیے بادشاہ کی اجازت لینا ہے اور کامیابی حاصل کرنا ہے ۔ تیسرا واقعہ کامیابی کے بعد ایک نئی مصیبت میں اس کا گرفتار ہوجانا ہے یعنی شہزادی گلشن آرا سے شادی کے بعد اپنی وراثت سے ہاتھ دھونا اور اپنی ایک نئی دنیا بسانا ہے۔ ہر واقعہ باغ کے تحفظ کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ واقعات کا بیان کسی ایک شخص کے نقطہ نظر سے نہیں ہوا ہے۔ دادی جو کچھ بتاتی ہیں کہانی کا ہیرو نو روز اس پر تبصرہ کرتا جاتا ہے۔
اس افسانے میں نوروز ایک تمثیلی کردار ہے جو وقت اور تاریخ کا استعارہ بن گیا ہے۔افسانے کے مندرجہ ذیل جملوں پر غور کریں ، انھیں جملوں میںپورا افسانہ سمٹ آیا ہے:
1: نگہداشت کی تمام کوششیں جاری ہیں ، پھر آخر یہ باغ روز بہ روز ویران کیوں ہوتا جارہا ہے؟
2: چبوترے پر کھڑا شخص بولا۔ یوں تو ہم نے صدیوں سے اس باغ میں کسی گل ریز کسی گلشن آرا کو نئی قسم کا پودا لگانے نہیں دیا ہے کیوں کہ ہر نیا پودا پرانے پودے کو غارت کردیتا ہے۔
3: نئے پودوں کی آمد پر بندش؟ کہیں باغ کے ویران ہونے کی یہی وجہ تو نہیں۔
دراصل باغ، دنیا، کسی ملک، کسی گاؤں، کسی قوم کا Code بن گیا ہے اور اس سے بڑھ کر تہذیب کا نشان۔ دروازہ دراصل کھلے ڈلے ماحول ، ہر مذہب اور کلچر کے لیے دل کے دروازے کھلے رکھنے کا استعارہ ہے۔ ہندوستان کیا کسی بھی ملک کی تباہی تب ہوتی ہے جب تہذیب اور زبان کے معاملیی میں کوئی قوم Rigidہوجاتی ہے۔
بیگ احساس نے بھی اساطیری استعاروں سے حددرجہ دلچسپی کے ثبوت پیش کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے افسانے مثلاً ’’برزخ‘‘ پڑھ کر ویدانت میں مذکور مایا کا فلسفہ اور اصحاب کہف کا واقعہ ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ بذات خود ٹائٹل استوری حنظل میں جن ساختیوں کو استعمال کیا گیا ہے وہ اساطیری ساختیے ہیں مثلاً زمین ، جڑ ، مزدور، درخت ۔ اس افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری کا خوبصورت استعمال نظر آتا ہے۔
’’آسماں بھی تماشائی ‘‘ والی کہانی میں انھوں نے خواجہ خضر کو پیش کیا ہے۔ جن کی ایک رپوٹر سے ملاقات ہوتی ہے ۔خواجہ اپنے ساتھ سفر کرنے کی اجازت اسے اس شرط پر دیتے ہیں کہ وہ سوال نہ کرے۔یہ واقعہ بھی اساطیری واقعہ ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا اسطور بتایا جاتا ہے۔ خضر کے ساتھ چلتے ہوئے ہر جگہ ہر مقام پر کچھ پریشان کردیتے والا واقعہ یکے بعد دیگرے سامنے آتا ہے کہ وہ پریشان ہو کر خضر سے سوال کر بیٹھتا ہے اور خواجہ اسے اپنی شرط کو یاد دلاتے رہتے ہیں۔
اس ایک اسطور میں بیگ احساس نے بہت سے اساطیری واقعے کو تلمیح کی صورت میں پیش کیا ہے جیسے علا الدین کا چراغ، قرآن میں مذکور ابابیل کا ابرہہ کی فوج پر حملے کی تلمیح۔ اس کے بعد کچھ جدید دور کے مہابیانیوں مثلاً ترقی پسندی بادشاہت کا نظریہ اور ان سے پیدا شدہ مسائل نے ہزاروں سوالات آج کے عام انسانوں کے ذہن میں پیدا کردیے ہیں جن کا جوا بطلب کرتے ہی خضر غائب ہوجانا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان اب بے یارومددگار ہوگیا ہے۔ اس کا رشتہ نہ ماضٰ سے ہے نہ حال سے اور نہ وہ اپنی نجات کا صحیح راستہ تلاش کرنے کا اہل رہ گیا ہے۔
اسلم جمیشد پوری کی کہانی ’’ترکیب‘‘ تو اساطیر کی افادیت پسندی اور اساطیر کی طاقت یا مذہب اور عقیدے کی طاقت کا احساس دلاتی ہے۔ ہمارے سماج میں عدم مساوات اس قدر ہے ، بے روزگاری اور غربت کی وہ مار ہے کہ ایک معمولی درجے کا پان بیچنے والا شیام پرساد اساطیر سے لوگوں سے ٹھگنے کا ارادہ بنالیتا ہے۔اس کام کی طرف ایک وکیل مدن اسے راغب کرتا ہے۔ ایک دن وہ پان کی دوکان کے نیچے کی زمین کھودنے لگتا ہے۔ یہ آئیڈیا اسے مدن وکیل نے دیا ہے جس میں سے بھگوان جسے خود اس نے چھپا دیا تھا نکل آتے ہیں ، بقول افسانہ نگار:
’’اگلے دن شیام کھدائی کے اوزار لے کر آیا اور صبح ہی سے دوکان کی جگہ کھدائی کرنے لگا۔ کچھ لوگوں نے اسے ٹوکا۔‘‘
’’ارے بھئی شیام کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’دھرتی برابر کر رہا ہوں۔ یہاں بہت اونچ نیچ ہے۔ ‘‘ دوپہر تک وہ اس طرح کھدائی کرتا رہا۔ سہ پہر کے وقت جب اس نے کورٹ کی اندرونی دیوار کے پاس لوگوں کو گزرتے دیکھا تو اچانک چلا پڑا۔‘‘
’’ارے بھگان رام۔۔۔۔۔!‘‘
وہ کچھ اس زور سے چلایا کہ دیوار کی دوسری طرف چلنے والوں کے قدم رک گئے۔
پھر وہ خاموش نہیں ہوا۔
مذکورہ عبارت کے ایک مکالمے میںپورے افسانے کی آئرنی بند کردی گئی ہے اور وہ یہ کہ دھرتی برابر کررہا ہوں یہاں بہت اونچ نیچ ہے۔ ہمار ایہ سماج واقعی انتہائی اونچ نیچ، ذات پات، مذہب نسل کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا ہے اور یہ سماج مجبور کر رہا ہے کہ لوگ چوری، ڈکیتی اور ٹگلی بن جائیں۔ آج کا شیام کل کے ’’رام‘‘ کے ام پر جھوٹ بول کر، ڈھونگ کر کے ، امیر بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ہمارے عہد کا ابڑا المیہ ہے۔
نئی نسل کا ایک افسانہ نگار پرویز شہر یار جو ابھی قارئین کی نگاہوںسے اوجھل ہے نے بھی اپنے افسانوی مجموعے میں کچھ ایسی کہانیاں لکھی ہیں جن میں اساطیری رویے نظر آتے ہیں۔ ہر چند کے اسطیر کے استعمال کا وہ ہنر جو راجندر سنگھ بیدی یا سریندر پرکاش یا جوگندر پال کے یہاں دکھائی دیتا ہے وہ بلاغت یہاں نہیں ہے تاہم پرویز کی کہانی میں اساطیر سے لوگوں کو جذباتی بنا کر اپنا مقصد حل کرنے کا کام نہیں لیا گیا ہے جیسے اسلم جمشید پوری کے افسانے ’’ترکیب‘‘ کا کدردار شیام پر ساد کرتا ہے یا جیسے آج ایک مخصوص قومی پارٹی کر رہی ہے۔ یہاں زمانۂ حال کے ایک کردار میں ماضی بعید کی جانب مراجعت کی شدید آرزو ملتی ہے جو بذات خود ایک اساطیر رویہ بن جاتی ہے۔ اس افسانے کا عنوان ہی ’’کھوئے یگ کی جستجو ہے‘‘ بچپن کے زمانے کو بھی انسان اسی طرح یاد کرتا ہے۔ ایک عاشق کی یہ آرزو اس افسانے میں ماضی اور حال کے دوراہے پر کھڑی نظر آتی ہے اور آخرکار بقول افسانہ نگار:
’’آؤ کرشن چلو! اپنی بانسری کی سریلی آوازوں سے زندگی میں رنگ بھردو، جہاں محؓت ہی محبت ہو، جہاں پریت ہی پریت ہو۔‘‘ (ص:99)
گویا ماضی اورع حال کے تضادات نے عاشق کو اس قدر مجبور کردیا ہے کہ وہ اساطیری دنیا میں ہی واپس چلے جانے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ یہ ماضی پرستی نہیں ہے بلکہ کسی اہم شے کے کھو جانے کے بعد بے چینی ہے۔ کہانی کار کے اس فیصلیی نے قاری پر موجودہ دور کی گھٹن کو واضح کردیا ہے۔ یہ دراصل محبت کے کھو جانے کی کہانی ہے۔
ان افسانہ نگاروں کے علاوہ ابھی اور بھی ایسے افسانہ نگار نکل آئیں گے جن کے یہاں اساطیری استعاریت ایک اہم رجحان کی شکل میں ظاہ رہوئی ہے کیوں کہ اساطیر یا داستان یا دیومالا زبانی ، بیانیہ کا خزانہ ہے۔ گویا بیانیہ اور زبانی بیانیہ ہماری تہذیبی جڑیں ہیں۔
کیا ہوا؟ اگر کسی کہانی میں نہیں تو گویا اسطور بھی نہیں ۔ یہ فقرہ ہماری تہذٰبی شعور سے جڑا ہوا فقرہ ہے۔
آج کے فن پاروں میں بین المتنیت یعنی متن سے یا متن بنانے کا عمل ایک رجحان کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ متن کی تعمیر میں مختلف متون کی شرکت مشرقی ادب کا مزاج رہا ہے۔ آج کے افسانے میں اساطیری استعاریت اسی حقیقت کی ترجمانی کا نام ہے۔ ترقی بسند ادب نے قدیم متون کو اور جدیدیت نے ترقی پسندمتون کو زندگی کے متوازی نہیں سمجھا۔ آج کا افسانہ نگار کلاسیکی، ترقی پسند اور جدیدمتن سے اخذ و استفادہ کر رہا ہے۔سریندر پرکاش کے افسانوں مثلاًپیاسا سمندر، گاڑی بھر رسد، باز گوئی، بن باس اکاسی، میں اساطیری استعاریت کی بلیغ مثالیں ملتی ہیں جن پر گفتگو کرنے کا یہاں موقع نہیں۔
مشرف عالم ذوقی کی کہانی ’’دابۃ الارض‘‘ وغیرہ میں اسطور سازی کا خوبصورت پیرایہ ملتا ہے حالاں کہ پیغام آفاقی اور مشرف عالم ذوقی نے اسطور سازی سے ناکے برابر رشتہ رکھا ہے۔ یہ ان کا عیب نہیں بلکہ ان کا عمل انتخاب ہوسکتا ہے۔ اقبال مجید کے افسانوں میں اساطیری اور تمثیلی استعارے تخلیقی جوہر بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ حکایت ایک نیزے کی پڑھیے تو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کیوں کر باغ و بہار کی نثر کا حسن چرالیا ہے۔ اس طرح ان کے افسانے ’’شہر بدنصیب حاتم طائی‘‘ کو نئے زمانے میں نئے تقاضے کی رو سے پیش کیا گیا ہے۔ان ادیبوں نے اساطیر کو جدید یوں کی طرح نہں اپنایا بلکہ بین المتنیت کی Devicesکے تحت اپنایا تاکہ وقت کے بہاؤ اور زمانے کے بدلنے کا شدید احسا س قاری کے اندر پیدا ہوجائے۔ حتیٰ کہ ممتاز شریں کا افسانہ ’’میگھ ملہار‘‘ میں بھی اسطور کو بطور استعمال کرنے کی مثال نہیںہے بلکہ یہاں بین المتونی انداز ہی ایک قدر بن کر ابھرتا ہے۔
آج کے افسانہ نگاروں کو اساطیری متن کے استعمال کو جوا زمعلوم ہوگیا ہے۔ وہ انھیں برتنے سے پہلے بھلی بھانتی واقف ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہمیں کن اساطیر کردار یا واقعے کو کہانی میں استعمال کرنا چاہیے اور کن کو چھوڑدینا چاہیے ۔ اس لیے وہ ایسی اساطیر کا استعمال کرتے ہیں جن سے ان کے عہد کے تناقضات کا تجزیہ کیا جاسکے۔
آج کے ادیب اساطیر کے استمال کے ذریعے زندگی کی نئی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی کبھی کوئی زمانہ اس قدر حقیقت کی پرتوں میں چھپا ہوتا ہے کہ جسے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے جیسے آج دہشت گردی کے سمئلے سے پوری دنیا دو چار ہے جس کا حل دور دور نظر نہیں آرہا ہے ۔ ایسے ہی وقت میں تخلیق کے سوتے جیسے خشک ہونے لگتے ہیں ایسے ہی وقت میں اساطیر کا استعمال کرتے ہوئے فن کار اپنی تخلیقی نگار شات کو پیچیدہ صورت حال کے تجزیے کا ایک طریق کار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭٭٭
حواشی:
(A short history of Myth, Karen Armstrong. First published in India by Arrangement with Canongate Books Ltd. Edinburg 2005 see Cahpter-6 The Post anial period C200 BCE to C-1500 CE, P. 108)
2: (Ibid)
3: ساحری شاہی صاحب قرانی، داستان امیر حمزہ کا مطالعہ ، جلد اول ، نظری مباحث ، شمس الرحمن فارقی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی۔ 1999، پہلا ایڈیشن ، عرض مصنف، صفحہ: 35
4: (ہندی میں ہے کسی اور سے ٹائپ کروا لیجیے)
5: The science of Mythology, C.G.Tang and Kereny; Translated by R.F.C.Hall London, and New York, Englisgh Edition first published in the U.K. 1995, resived edition 1995 (P.95)
6: جوگندر پال کے افسانوں کا انتخاب ، تخلیق کا ر پبلشرز، نئی دہلی، 1996، ص:12
7: ایضاً، ص:15
8: ایضاً، ص: 15-16
…………………
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

