Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی: مبصّر کی حیثیت سے – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras جون 2, 2022
by adbimiras جون 2, 2022 0 comment

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی علماۓ  کرام کے اُس سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہیں جب مدارسِ اسلامیہ سے کثیر تعداد میں اصحابِ تصنیف وتالیف نکلتے تھے۔ اردو کی ادبی تاریخ بیسویں صدی کے ربعِ اوّل تک ایسے علماے کرام اور فارغینِ مدارس سے درخشاں ہے۔ گذشتہ سو برسوں میں جہاں ایک طرف یونی ور سٹی کی تعلیم عام ہوئی اور وہاں سے ہماری زبان کے شعرا و ادبا اور مصنفین آنے لگے؛ اِسی کے ساتھ یہ بھی ہواکہ زمانے کی گردش میں مدارسِ اسلامیہ سے اردو کے ادبی منظرنامے پر اُبھرنے والے اہالیانِ قلم نا پید ہونے لگے۔غالباً مدارس کے نصابِ تعلیم اور داخلی ماحول نے اِس رغبت کے لیے نرم مٹی تیّار کرنے کا کام کم کر دیا اور عربی نصاب یا مذہبی کاموں تک یہ مدارس خود کو محدود کرنے کے لیے آمادہ ہوتے چلے گئے۔شاید یہ بھی سبب ہو کہ بیسویں صدی میں اردو زبان کی کئی ایسی تحریکیں بھی اُبھر کر سامنے آئیں جن کی غیر مذہبیت اور بعض اوقات مذہب بے زاری یا لا مذہبیت عروج پر رہیں جس سے فطری طور پر علماے کرام بھی اردو ادب کے منظر نامے سے بے رُخ ہونے کے لیے مجبور ہوئے۔

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی فی الوقت صوبۂ  بہار میں تنہا ایسے عالمِ دین ہیں جس نے تصنیف و تالیف کے کام کو پورے استقلال کے ساتھ اپنی زندگی کا حصّہ بنا لیا ہے۔مذہبی موضوعات کے ساتھ ساتھ ادبی موضوعات اور صحافت کے نقطۂ نظر سے سماجی اور سیاسی موضوعات پر بھی تواتر کے ساتھ وہ تحریریں پیش کرتے رہتے ہیں۔مذہبی، تنظیمی اور تحریکی مشاغل سے وقت چرا کر تصنیفی کاموں کے لیے اتنی وسیع وعریض دنیا آباد کر لینا اُن کے انہماکِ علمی کے ساتھ ساتھ لفظ وبیان کے تئیں گہری وابستگی کا بھی مظہر ہے ورنہ آرام کرنے کے اور معمول کی نیند سے دو چار گھڑیاں اُدھارلے کر کوئی شخص اُسے اپنی تصنیفی زندگی کو سپرد کرتا ہے تو یہ بغیر جاں سوزی اورجگر کاوی کے کیسے ممکن ہے۔مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے اِس تصنیفی کمٹ مِنٹ کی قدر کی جانی چاہیے۔ اگر علماے کرام میں سے اُن کے جیسے افراد ادب اور سماج کے ہزاروں موضوعات پر لکھنے کی قدرت کے ساتھ میدان میں نہ آئیں تو ہماری زمین بنجر ہو جائے گی یا مدارس کی علمی زرخیزی پر سوالیہ نشان قائم  ہو جائے گا۔یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے بعض ضروری معاملات عام سماج کے سامنے آنے سے رہ جائیں۔

گذشتہ برسوں میں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی تصنیفات سلسلے وار طریقے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ ادبی اور علمی موضوعات کو اُنھوں نے مذہبی امور کے شانہ بہ شانہ قایم رکھا۔امارتِ شرعیہ کے ترجمان”نقیب“ کی ادارت سے بھی ان کے تصنیفی کاموں میں ایک با قاعدگی پیدا ہوئی۔اُن کی خدمات کے اعتراف کا بھی سلسلہ شروع ہوا اور مختلف یو نی ور سٹیوں میں اُن کے کارناموں کے حوالے سے تحقیقی مقالے لکھے گئے۔مولانا کی خدمات کے حوالے سے آزادانہ طورپر کئی کتابیں اِ س دوران منظرِ عام پر آئیں۔ اعترافاتِ خدمات سے بعض شخصیتوں کے کام کرنے کی رفتار میں رُکاوٹیں بھی آتی ہیں مگر مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی نے اِس شناخت نامے کو ترغیباتِ علمی کا ایک اضافی ذریعہ سمجھا اور لکھنے پڑھنے کی رفتار میں مزید جوش و جذبے کے ساتھ وہ آگے بڑھتے گئے۔ابھی حالت یہ ہے کہ اُن کی ایک کتاب منظرِ عام پر آ رہی ہے، دوسری کتاب تکنیکی معاونین کے ہاتھ میں ہے اور مولانا خود نئے مضامین پر کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ادبی اور علمی کاموں میں اِ س طرح وہی شخص مشغول ہو سکتا ہے جو بزرگوں کی اصطلاح میں فنا فی العلم ہو۔بے شک مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی اُسی راستے کے مسافر ہیں اور پوری مستعدی کے ساتھ اپنے علمی کاموں میں  چوبیس گھنٹے مصروف ِ کار ہیں۔ اُن کی یہ لگن اورمشقت قابلِ رشک ہے؛ بہ قولِ مخدوم محی الدین: الٰہی یہ بساط رقص، اور بھی بسیط ہو۔

”آوازۂ  لفظ وبیاں“ عنوان سے ایک سو سے زائد مختصر اور مختصر تر تبصروں اور تنقیدی تاثرات کی تازہ کتاب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے اپنی منتخب تحریروں سے مرتَب کی ہے۔چار ابواب میں مذہبی، ادبی، تاریخی اور تعلیمی عنوانات کے تحت یہ تحریریں جمع کی گئی ہیں۔کوئی مضمون اتنا طویل نہیں کہ پڑھنے والا اس کے لیے فرصت نہ نکال سکے۔موضوع پرارتکازاس طرح سے ہے کہ جو باتیں حقیقتاًگوش گزار کر دینی چاہییں، مولانا نے انھیں اجمالاً ایک سلسلے سے درج کر دیا ہے۔اہلِ علم کی تفصیلی گفتگو سے بعض افراد شاکی رہتے ہیں کہ لکھنے والے کو اپنے پڑھنے والوں کے علم پر اعتبار کرنا چاہیے اور ہر چیز کے لیے یہ لازم نہیں کہ آپ صراحت سے گفتگو کریں۔ اس معاملے میں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کی اِس کتاب میں شامل ایک بھی تحریر طول بیانی اور تفصیل نگاری سے گراں باری کا مظاہرہ نہیں کرتی۔نپے تلے انداز میں اور موضوعِ مخصوص پر مرتکز ہو کر چند جملوں میں ما فی الضمیر کی ادایگی کا انھیں وہ ہنر آتا ہے جسے محاورتاً دریا کوکوزے میں بند کرنا کہا جاتا ہے۔

مختلف علوم و فنون اور موضوعات کی کتابوں سے گزرتے ہوئے مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی کی وسعتِ نظر کا قائل ہونا پڑتا ہے۔وہ چار حصّوں میں اپنی تحریریں پیش کرتے ہوئے اوّلاً اِس بات کے لیے ہمیں متوجہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی، ادبی،تاریخی اور تعلیمی میدانوں میں ہم سے مخاطب ہیں مگر اِن ابواب کے داخل میں اتریئے تو سمجھ میں آئے گا کہ ہر باب اپنے اندر متعدد ذیلی شق اور دائرہئ علم میں بندھا ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مضامین کم از کم ایک درجن شعبہ ہاے علم سے متعلق ہیں اور مقامِ حیرت یہ ہے کہ ہر جگہ یکساں گہرائی اور کمال کے ساتھ مولانا زیرِ بحث موضوعات پر اپنی دلیلیں پیش کرتے ہوئے فیصلہ کن موڑ تک ہمیں لے آتے ہیں۔ وہ حسبِ ضرورت حذف و اضافہ، قطع و برید اور دیگر علمی مشاغل کے لیے اپنے مضامین میں اشارے بھی کرتے چلتے ہیں۔یہ تمام باتیں اُن کی اُس علمی مہارت کا ثبوت ہیں جن کی وجہ سے یہ کتاب ایک معقول خزینۂ  علم بن جاتی ہے۔

مصنف نے اکثر کتابوں پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کے مشتملات کو کچھ اِس طرح سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر کتاب اور اُس کتاب کے مصنف کو وہ موقع دیتے ہیں کہ اپنی بنیادی باتیں پیش کر سکے۔ اِسی سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مصنف اپنے گہرے علم کو کسی دوسرے مصنف پر کچھ اِس طرح سے تھوپنا بھی نہیں چاہتا جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ حقیقی مصنف معمولی آدمی ہے اور مبصر علم کا آخری وارث۔کتابوں اور مصنفین کے تئیں یہ خلوص اور اپنائیت کا مظہر ہے۔ تبصرہ نگاری کی یہ بنیادی شان ہے کہ مبصر چاہے جتنا بھی عالم و فاضل ہو مگر وہ تبصرے کے دوران مصنفِ کتاب کے سامنے اخلاص و محبت کے ساتھ ہی کھڑا رہے۔مفتی ثناء الہدیٰ نے اِس کتاب کی شاید ہی کسی تحریرمیں اصل مصنف کو ہیچ، بے علم اور کورا ثابت کرنے کی مہم جوئی کی ہو۔

اِس تفصیل سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے اپنے تبصروں،تاثرات یا تقریظوں میں خود کو تعارف تک ہی محدود رکھا ہے۔ اگر جلدی میں کوئی ایسا نتیجہ اخذ کر لے تو وہ مولانا کی تحریروں کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا۔یہی نہیں، ایسے نتائج اِس کتاب کے بڑے حصّے کو نظر انداز کر کے ہی پیش کیے جا سکتے ہیں۔ تعارف اِن مضامین کا ایک حصّہ ہے مگر اِس سے باہر نکلنے پر مصنف کی عالمانہ شان،تجزیے کی صلاحیت، تحقیقی توجہ اور مختلف علوم و فنون میں درک کے ثبوت اپنے آپ فراہم ہوتے جاتے ہیں۔بہت سارے تبصروں میں مولانا نے طباعت اور اشاعت کے تکنیکی پہلوؤ ں کی طرف جوخصوصی مشورے دیے ہیں، اُن سے یہ بات بھی کھُل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے عہد کے مولوی حضرات نئے شعبہئ ہائے علوم تک کس قدر پختہ اور ماہرِ فن بن کرپہنچتے ہیں۔

اِ س کتاب کا نام اگر چہ ’آوازۂ  لفظ و بیاں‘ متعین ہے جس سے ایرانی خوشبو اور عربی و فارسی کی زور آور زبان دانی چغلی کھاتی ہوئی ملتی ہے مگر مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی نے اپنے نثری اُسلوب کو عربیت و فارسیت سے اتنا پُر شور نہیں بنایا کہ عام پڑھنے والے کو کسی اضافی مشقت کے بغیر منزلِ مقصود حاصل نہ ہو پائے۔دارالعلوم دیو بند کے بڑے بڑے علما کے سامنے انھوں نے زانوے ادب تہہ کیا مگر اُن سے وہ کمال بھی پایا کہ مشکل باتوں کو سادہ اور آسان لفظوں میں کیسے عوام کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔کتابوں پر گفتگو کے دوران مصنفین کے اُسلوب پر بحث کرتے ہوئے زبان کے اِس پہلو پر اُن کی نگاہ رہی۔اُن مصنفین کو اُنھوں نے سراہا جو مشکل موضوعات کو عام فہم لفظوں میں آئینہ کر دیتے ہیں۔ اُن کی زبان کی بھی انھوں نے تعریف کی جو اپنے علم و فضل و کمال کے باوجود سادگی اور صراحت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔بہت مشکل سے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی نثر میں عربی و فارسی الفاظ رُعب قایم کرنے کے لیے یا علم کا بے جا زور واضح کرنے کے لیے استعمال میں آئے ہیں۔یہ ہنر بے حد قیمتی اور قابلِ توجہ ہے۔اس سلسلے سے مولانا کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

< ”اصطلاحوں کو سادہ اور سلیس زبان میں مولانا نے اس انداز سے سمجھا دیا کہ ہم جیسا اس راہ سے نا واقف اور کندہ فہم بھی آسانی سے سمجھ گیا۔“

< ”سید مصباح الدین احمد کا اسلوب سادہ اور صاف ہے۔وہ عربی اور فارسی آمیز اردو لکھنے سے پرہیز کرتے ہیں،تتابع اضافات اور لفظیات میں تنافر حروف اور غرابت الفاظ کا ان کے یہاں گزر نہیں ہے۔ان کی تحریر میں تسلسل،روانی اور معلومات کی فراوانی ہے جو مضمون شروع کرنے کے بعد قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور پورا مضمون پڑھوا کر ہی چھوڑتی ہے۔“

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی مرحلہ وار گفتگو کے قائل ہیں۔کتابوں پر تنقید و تبصرہ کے مرحلے میں بھی وہ شروع میں ہی اپنے نتائج بغیر مکمل جانچ پرکھ کے  نہیں پیش کرتے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھوں نے اپنا تنقیدی ڈسپلن ہی ایسا بنایاکہ جس انداز سے مصنف نے اپنی باتیں پیش کی ہیں، اسے صبر اور ضبط کے ساتھ سنا اور سمجھا جائے۔ایک ادبی اور علمی نقّاد کے طور پران کا یہ طور پذیرائی  کے لائق ہے ورنہ جس نقّاد کو اپنے علم کے اظہار کا شوقِ فراواں ہوتا ہے، اُسے اکثر بڑھ چڑھ کر کچھ کہہ گزرنے کی عادت ہوتی ہے۔مولانا ثناء الہدیٰ قاسمی کے یہا ں ترتیبِ مطالعہ اور مرحلہ وار نتائج کے اخذ کرنے کا معاملہ اِس قدر پختہ اور اُصول کے تابع ہے کہ وہ اپنے اِس طریقہئ کار سے یک سرِ مو تجاوز نہیں کرتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اِ س کتاب میں ایسی تحریریں بھری ہوتیں جہاں اصل مصنف کو زیر کرتے ہوئے مبصر نے اپنے علم کا بول بالا قایم کر دیا ہوتا؛بھلے تبصرہ نگاری کے پہلو سے وہ بات منصفانہ نہ ہوتی اور ماہرین کی نگاہ میں غیر مستحسن قرار دی جاتی۔

مفتی ثناء الہدیٰ صاحب تبصرے کی پچھلی روایت کے بہترین وارث ہیں۔ اُنھیں معلوم ہے کہ اچھے تبصروں سے کتاب کی جانب بڑھنے کا ایک شعور پیدا ہوتا ہے۔اچھے مبصرین کتاب کے ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر توجہ دیتے ہیں۔موضوع اور اُسلوب،صحتِ زبان اور تجزیے کے معیار پر تو ہرجگہ گفتگو ہے ہی،مولانا نے اکثر کتابوں کی پیش کش، کتابوں کی سِٹنگ، کمپیوٹر کمپوژنگ کے مسائل اور جلد بندی کے انداز و اطوار بھی اپنے دائرہئ کار میں شامل رکھے ہیں۔ فی زمانہ کوئی تبصرہ نگار اِن پہلوؤں سے کتابوں کو دیکھتا اور دکھاتا نہیں ہے۔یہ بات اِس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مولانا کتاب کی تعمیر و تشکیل کے ہر پہلو سے ماہرانہ واقفیت رکھتے ہیں اور اُسی شخص کو یہ زیب بھی دیتا ہے کہ وہ اِن اُمور پر گفتگو کرے اور ضرورت کے موقعے سے مشورے پیش کرے۔ذیل کے چند اقتباسات سے اِس بات کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے:

< ”ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی سے چھپی اس کتاب کی بائنڈنگ مضبوط ہے لیکن قاری کو پریشان کرتی ہے۔دونوں ہاتھ سے پکڑ کر رکھیے تبھی پڑھ سکتے ہیں۔اتنی ضخیم کتاب کی بائنڈنگ جز و بندی کے ساتھ ہوتی توقاری کھول کر پڑھتے اور مندر جات کو نوٹ کرنے کے لیے قلم کا بھی استعمال کرتے۔موجودہ بائنڈنگ کے ساتھ آپ یہ کام نہیں کر سکتے۔“

< ”جلد اور ٹائٹل خوبصورت اور دیدہ زیب ہے، البتہ کمپوزیٹر سِٹنگ کے فن سے بالکل ناواقف اور نا بلد ہے۔سِٹنگ کی اس کمی نے کتاب کے حسن کو خاصہ مجروح کیا ہے؛ اس لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ کمپوزنگ کوئی کرے،ایک اچھے سِٹنگ کرنے والے سے اس کے کاکل و گیسو کو سنوروانا چاہیے، چاہے اس کے لیے اضافی رقم کیوں نہ خرچ کرنی پڑے۔“

< ”اس میں مضامین کی درجہ بندی نہ تو حروف تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہے اور نہ ہی تاریخ وفات کا لحاظ،تقدیم و تاخیر میں رکھا گیاہے۔اگر درجہ بندی ان دونوں میں سے کسی طریقہ سے کر دی جاتی تو آج کے علمی انداز کے مطابق یہ کتاب ہو جاتی۔“

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی تبصرے کے دوران کام کی باتوں پر ارتکاز برتتے ہیں۔ایک بھی ایسی کتاب نہ ہوگی جس پر گفتگو کے دوران وہ کسی دوسری سَمت چلے گئے ہوں۔اپنے خاص موضوع پر ارتکاز اور اُسی دائرے میں رہ کر اپنے علمی فرائض کی ادایگی ایک صبر آزما کام ہے۔مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے اپنی تبصرہ نگاری میں اپنے اِس ہنر سے سب کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ اِس فن کے بہترین وارث ہیں۔”نقیب“ میں لکھتے ہوئے اُس ادارے اور اُس اخبار کی روایت کا تو اُنھیں پاس ہے ہی مگر دشوواری یہ ہے کہ وہ اُس دائرے کو حسبِ ضرورت کم کم توڑتے ہیں۔اختصار پسندی کی وجہ سے بڑی بڑی کتابوں پر اُنھیں ایسے عمومی تبصرے بھی پیش کرنے پڑے ہیں جن کے لیے انھیں چند اور صفحات مل جاتے تو وہ اُن کتابوں کے ساتھ مزید عالمانہ واسطہ قایم کرتے مگر اخبار کا جبر اور اُس کی روایت نے اُنھیں اِ س دائرے سے نکلنے نہیں دیا۔

یہ کتاب سینکڑوں کتابوں کا مغز ہے۔اِسے پڑھتے ہوئے اگر آپ رواروی سے گزر جائیں تو اُس لطفِ خاص سے بے ذائقہ رہ جائیں گے جس کے لیے یہ کتاب حقیقتاً سامنے آئی ہے۔یہاں لفظوں میں جو باتیں ہیں، اُس سے بڑھ کر اشاروں میں ہیں اور اُس سے بڑھ کر بین السطور میں۔ سرسری گزرتے ہوئے اگر آپ نے وہ سنجیدگی اور متانتِ علم قائم نہیں رکھی جس کا تقاضہ کتاب کے صفحات پکار پکار کر کرتے ہیں تو آپ دھوکا کھائیں گے اور اِسے محض تبصروں کی ایک عام کتاب سمجھ بیٹھیں گے۔ سو سے زائد دماغوں کی اصل مفتی ثناء الہدیٰ کے تبصروں میں یکجا ہو کر ہمیں دعوتِ مطالعہ اور فکر و فلسفہ کے لیے مجاہدہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ایسی کتابوں کو رُک رُک کر، ٹھہر کر اور فرانسس بیکن کے لفظوں میں چبا چبا کر پڑھنا چاہیے

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ادبِ اطفال اور ڈاکٹر شریف احمد قریشی – شہپر شریف
اگلی پوسٹ
منصور خوشتر اور سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز – ڈاکٹر آصف

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں