Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

منصور خوشتر اور سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز – ڈاکٹر آصف

by adbimiras جون 3, 2022
by adbimiras جون 3, 2022 0 comment

زمانہ قدیم سے ہی بہار کی دھرتی علوم و فنون کے موتی بکھیرتی رہی ہے۔اور ایک عالم اس مٹی کے دانشوری اور نابغئہ کا ممنون احسان رہا ہے۔نالندہ اور وکرم شلا جیسی جامعات سے فارغ التحصیل طلبائ نے دنیا کو فلسفہ ،مذہبیات اور فنون لطیفہ کا درس دیا ،جب کہ اس وقت مہذب دنیا جامعات کے نام سے نابلد تھی ایسے عہد میں نالندہ یونیورسٹی میں دس ہزار طلبہ و اساتذہ اقامت پذیر تھے اور درس و تدریس کی قندیل کو روشن کئے ہوئے تھے۔جن میں میگاس تھنیز، چانکیہ، فاہیان، ہیون سانگ قابل ذکر ہیں ۔جن کے افکار و نظریات کحل جواہر کے مثل چشم بینا کے لئے دیدہ بینا بنے،تو دوسری طرف مہاتما بدھ اور جین نے اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے اس خطہ ارض کو مرکزی حیثیت عطا کی۔ارتھ ساشتر کا مؤلف چانکیہ اپنی سیاسی ،سماجی اور اقتصادی بصیرت کے معاملے میں دنیا کے لئے بشارت کی حیثیت رکھتے ہیں۔جن کی خارجہ پالیسی پر سیاسی مبصرین اوراسکالر س آج بھی رشک کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں ۔بہار کا شمالی خطہ متھلانچل جس کا قدیم مذہبی گرنتھوں میں ذکر آیا ہے۔مخزن علم و ادب کا قدیم گہوارہ رہاہے۔اسی دھرتی کی کوکھ سے جنک دلاری سیتا کا جنم ہوا،ان کے جنم سے ہی بھارت ورش میں ادب و فنون لطیفہ کا ابتدائی سوتے پھوٹے،جسے بعد میں بالمیکی نے رامائن کے روپ میں رزمیہ بیانہ کی شکل دی۔جس سے آگے چل کر ایک یوٹوپیائی رام راجیہ کا حقیقی تصور ابھر کر دنیا کے سامنے آیا ،جس کی جوت سے عالم انسانیت ظلم و جور اور استحصال سے ماورائ فرحاں و شاداں زندگی گذار سکے ۔رامائن کے اشلوکوں  کے متن سے آج بھی امن و اشتی صدا گونجتی ہے جس سے عقیدت مند رشد و ہدایت کا سبق لیتے ہیں۔ دربھنگہ بھی متھلانچل کے میدانی علاقے کی ذرخیز و پر نم مٹی ہے جس کی آب و ہوا میں زبان و ادب کی کونپلیں پھوٹیں،موسیقی و مصوری کے ساتھ ساتھ شاعری میں ودیا پتی جیسا عالم گیر شہرت یافتہ مغنی شاعراپنے تخلیقی وجدان اور تخئیل کی اڑان سے دنیا کو مسحور کیا۔اردو ادب بھی ان محبت بھرے نغموں اور تخیلات سے اچھوتا نہیں رہا۔منشی بہاری لال فطرت ،منشی ایودھیا پرشاد بہاراور سعادت علی خاں پیغمبر پوری جن کا "دیوان سعادت” ۱۹۰۷ میں شائع ہوئی۔(۱) دربھنگہ کی مردم خیز مٹی نے کئی ادبی مشاہیرکو جنم دیا ۔جن میں محسن دربھنگوی ،مظہر امام ،منظر امام،ڈکٹر لطف الرحمن،منظر کاظمی،ڈاکٹر جاوید رحمانی افسانہ نگاری میں ثوبان فاروقی،عشرت صدیقی، مجیر احمد آزاد،قیام نیر،سہیل جامعی اور فیاض احمد وجیہہ قابل ذکر ہیں۔دربھنگہ کی ادبی و تخلیقی لیجنڈ کا ذکر کرتے ہوئے حقانی القاسمی رقم طراز ہیں ۔” کتنا زرخیز ہے یہ علاقہ،اتنی تخلیقی زرخیزی تو بہت کم زمینوں کا مقدر ہوتی ہے۔یہاں تخلیق ،تنقید کے اتنے مہر تاباں اور ماہ منور ہیں کہ رشک آتا ہے کہ خالق مطلق کے سارے انصاف و عنایات شاید اسی سر زمین پر ہوئے۔” (۲)

دربھنگہ کی ادبی صحافت کو موضوع بحث لانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے مشاہیر نثر نگاروں پر ایک نظر ڈالی جائے ۔کہ دربھنگہ کا اولین مطبوعہ نثر پارہ کون ہے،ڈاکٹر منصور خوشتر کی تحقیقی کتاب نثر نگاران دربھنگہ اس کا معتبر اور مستند حوالہ ہے ۔جس میں انھوں نے دربھنگہ کے نثار کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اقتباس ملاحظہ کریں۔” اجودھیا پرشاد کی’ ریاض ترہت’ دربھنگہ کی سب سے پہلی باضانطہ مطبوعہ نثر ہے۔اس کے بعد بہاری لال فطرت کے’ آئینہ ترہت ‘کو اولین نثر کا درجہ ملا۔فتاوی علم گیری کے مدونوں میں ملا ابوالحسن،عہد عالم گیری کے شیخ احمد بن شیخ ابو سعید معروف بہ ملا جیون کی تفسیر احمدی اور نور الانوار،مولانا ہدایت اللہ کی تصنیف’ شرح مسلم’ اور ‘حاشیہ رسالہ میر زاہد ،منیر الدین حسین برق کی’ منیر الفرائض ‘منیر الفتاوی’ اور’ فوائد رضویہ ‘مولوی عبد الاحد کی ‘المعراج ‘حافظ ظہور احمد کی ‘التضحیہ’ فرمان علی طیب کی ‘تفسیر قرآن پاک’ ‘دینیات ‘کتاب الصرف ‘کتاب النحو ‘اور ‘الولی ‘مولانا عبدالعزیز محدث رحیم آبادی کی ‘سوائ الطریق ‘اور ‘حسن البیان ‘شاہ سمرقندی کی ‘صبغۃالواسلین ‘مصباح العارفین ‘بحرالتوحید’ اور’ تبصرۃالاعمی فی التفرقۃ بین الضاد والظائ ‘مولانا بہرام شاہ آہ کے حاشیہ’ حمد اللہ ‘عبدالرحمن وصال کی ‘سیرت رسول ‘مرشد حسن کامل کی ‘مخزن التفہیم’ اصول کامل ‘اور ‘رحمت کامل ‘وغیرہ کا سلسلہ متھلانچل کی سر زمین سے جا ملتاہے۔” (۳)ان تصنیفات کی روشنی سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دربھنگہ کی خاک پاک میں کتنے گنج ہائے گراں مایہ دفن ہیں جن کی علمی بصیرت اور رشد و ہدایت کی مشعل سے نہ جانے کتنے بند دل نور حق سے جگمگا اٹھے۔

دربھنگہ کی علمی،تہذیبی اور نثری روایت کے احیائ کے اجمالی جائزے کے بعد وہاں کی ادبی صحافت ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں ۔دربھنگہ سے شائع ہونے والا اولین ادبی جریدہ "مسیحا ” حکیم ابوالحسنات ناصر دہلوی کی ادارت میں ۱۹۰۲ئ منظرعام پر آیا ۔(۴)اس کے بعد بہت سے ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے جن کے فہرست شماری کسی اور موقع پر کی جائی گی ۔ یہاں تو بس دربھنگہ سے شائع ہونے والے مؤقر اردو زبان و ادب کے رسالوں کا خاکہ پیش کرنا مقصود ہے تاکہ وہاں کی موجودہ ادبی صورت حال کا اندازہ کیا جا سکے ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کی ادارت میں شائع ہونے والا سہ ماہی ادبی رسالہ "جہان اردو” پچھلے پندرہ سالوں سے ادبی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس رسالے کی ادبی حیثیت اس وجہ سے مسلم ہے کہ اس نے مشاہیر ادب کے تنقیدی و تخلیقی نقوش کو اجاگر کرنے کے لئے خصوصی شمارے نکالے۔جن میں پریم چند،علامہ اقبال،فیض احمد فیض اور پروفیسر وہاب اشرفی نمبراپنی علمی ضخامت اور معیار کی وجہ سے مطالعہ کی چیز ہے۔اسی طرح بہار کی مٹی سے نمو پانے والے ادبی فن کاروں کی تخلیقی صلاحیت پرکھ کر انھیں سہی سمت میں گامزن کرنا اس رسالے کے مقصد کوواضح کرتا ہے۔رسالے کی پیشانی پر لکھی سرخی اس کی معتبریت کا اعلان کرتی ہے۔” اردو کے گم شدہ قاری کا متلاشی اور تعمیری ادب کا ترجمان” (۵) عصر حاضر کے ادبی رویے اور رجحان کے پارکھی ڈاکٹر امام اعظم کی ادارت میں شائع ہونے والا ماہ نامہ رسالہ ” تمثیل نو” کی مقبولیت و شہرت روز افزوں ادبی حلقوں میں بڑھتی جارہی ہے اس کی خاص وجہ اس کایک موضوعاتی ہونا ہے۔جو اردو ادب کے ہم عصر مسائل سے اپنے قاری کو رو برو کراتا ہے۔اس رسالے کے چندیک موضوعاتی شمارے یہ ہیں ۔اردو ادب کے رجحان ساز:فاروقی ،نارنگ اور مظہر امام،کیا ترقی پسندی زوال پذیر ہے،سات سمندر پار کا ہم عصر ادب،ہندستانی فلمیں اور اردو،اردو کا ہم عصر ادب ۱۹۸۵ کے بعد،ان موضوعات کو دیکھنے کے بعد مدیر کے سوچ سمندر کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔جس کی پیشانی پر یہ سلوگن لکھا ہوا ہے ” جدید تر شعری و ادبی رجحانات کا ترجمان”(۶)

ہندستان کے ادبی افق پر میعاری اور معتبر ادب کی ترویج و اشاعت کا امین اور ” ادب کی صحت مند روایات اور جدید رجحانات کا ترجمان "سہ ماہی دربھنگہ ٹائمزروز اول سے ہی عاشقان ادب کی توجہ کا مرکز رہاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مواد کی ترتیب و تنظیم میں فاضل مدیر نے رسالے کے میعارسے سمجھوتہ نہیں کیا ،اس مجلے میں مستند لکھاریوں کے

ساتھ نو آموز تخلیق کاروں اورمتن کی سہی پرکھ رکھنے والے ادبی دیوانوں کو ان صحیح مقام ملاجو اردو کے ادبی گلوب پر تازہ مدینے کی جستجو میں پانبجولاں نکل پڑے تھے ۔دربھنگہ ٹائمز کے مدیر با تدبیر ڈاکٹر منصور خوشتر نو زائدہ قلم کے سپاہیوں کو ادبی سمت عطا کی جن کی تخلیقی بصیرت اور تنقیدی ذہانت نے ادبی افق پر اپنا نام و مقام پیدا کیا۔ سہ ماہی دربھنگہ ٹائمزنے عالمی قارئین کے حلقے میں یہ شناخت قلیل مدت میں قائم کر لی ہے کہ یہ ادبی مجلہ ہم عصر ادبی رجحان کانبض شناسی کرتا ہے۔جومعنیاتی اور موضوعاتی اعتبار سے اپنے اندر تفہیم و تعبیر کے کئی ابعاد لئے ہوئے ہے۔عہد حاضر کے ادبی میلانات اور رجحانات کے گمبھیر مسائل کواجاگر کرنا اور تخلیقی و تنقیدی مذاکرے اور مباحثے کی نت نئے وسیلے اختیار کرنا ،سخت جانی اور جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔موجودہ ادبی منظر نامے میں تخلیق و تنقیدکی پرکھ اور انتخاب و ترتیب تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے۔اس مشکل عمل کے کرب سے ڈاکٹر منصور بارہا گزرے ہیں۔ اس غم و اندوہ احساس کو اپنے قاری سے بھی شئیر کیا ہے ۔

زبانیں اظہار و ابلاغ کی ترسیل کے ساتھ تہذیبی شعور و آگہی کے سروکار کا بڑا میڈیم رہیں ہیں۔اس عالمی منڈی میںوہیں زبان سروایو کر سکتی ہیں جو معیشت کی اصطلاحات کو وضع کرنے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتی ہو۔اردو زبان کے مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کلاسیکی روایت اور ثقافتی ورثے پر قائم رہتے ہوئے عالمی مزاج میں رچ بس گئی اور ہر طرح کے موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹ کر کشادہ قلبی کا ثبوت دیا۔کبھی تنگ دامنی کا شکوہ زبان تک آنے نہیں دیا ۔ہمارا ملک ہندستان ایک کثیر لسانی ملک ہے جہاں ایک زبان اپنی مد مقابل زبان سے خطرہ محسوس کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں لسانی فرقہ واریت اور لسانی سامراجیت کا خطرہ بنا رہتا ہے۔لیکن اردو زبان و ادب نے اپنے خوبصورت اور معطر لب و لہجے سے قند دہن اور زہر ہلاہل میں ڈوبے ہوئے لفظوں کے تیر کو اپنی مٹھاس سے شیریں دہن میں تبدیل کر دیاہے۔لیکن اردو کا مسئلہ اس سے علٰحیدہ ہے کیونکہ اپنے کو اہل زبان کہنے والے ہی اس کی قواعد ،صرف و نحو اور رسم الخط پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے اس کو تبدیل کرنے کی مانگ کرتے رہے ہیں۔وہ اس بات سے نابلد ہیں کہ اردو کہ اصل روح اس کی رسم الخط ہے اگر اس کو رومن اور دیوناگری میں تبدیل کیا گیا تو محض جسم رہ جائے گا ۔ڈاکٹر منصور خوشتر اپنے اداریہ میں اکیڈمک پرسن سے کلام کرتے ہوئے موجودہ اردو ادب کی ناگفتہ بہ حالت کا بیان کیا ہے ۔اور یہ سوال کھڑاکیا ہے کہ کیا ایک اسکالر کو اپنے ثقافتی سرمائے اور لسانی شعورپر صرف اور صرف تحقیقی مقالہ لکھنا چاہیے ؟ اور اس کے کھرے اور کھوٹے پر فیصلہ صادر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔اب صورت حال بدل چکی ہے ہمارے اسکالر کو اپنے نام نہاد دانشورانہ دبدھے سے باہر آنا ہوگا اور مصلحت کے گرد کھینچے حصار کو توڑنا کر اپنے ثقافتی اور لسانی ورثے کو محفوظ کرنا ہوگا ۔کیونکہ یہاں مسئلہ محض اردو زبان میں دوسری زبان کے الفاظ کی آمیزش اور شمولیت کا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اردوزبان کے صدیوں کے تہذیبی و تمدنی شعور سے ہے۔اپنے اس درد کو ڈاکٹر منصور اداریے میں یوں بیان کرتے ہیں۔

”  دربھنگہ ٹائمز‘‘ کو ترتیب دیتے ہوئے مجھے اس کا احساس کم و بیش رہتا ہی ہے۔ اندر ہی اندر کوئی چیز ٹوٹتی ہی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود قلمی نگارشات کی ترتیب و تہذیب کے لئے اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں کہ یہی ایک ہمارا ثقافتی سرمایہ ہے اور اسی شے کی ترتیب و تہذیب سے انسانی تاریخ کا ایک باب و منور ہوتا ہے۔ جدید دور میں فن کاروں کے اندر پہلے جیسا لسانی شعور نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقات کے اندر اُردو پن غائب ہوتا جارہا ہے۔ اُردو محاوروں کا بے محل استعمال عام سی بات بنتی جارہی ہے۔ اُردو کی لسانی ساخت میں غیرضروری طور پر ہندی کی آمیزش ہوتی جارہی ہے۔غزل میں ردیف اور قافیہ کا شعور، کلاسیکی شعور اور رچاؤ عنقاہوتے چلے جارہے ہیں۔ غزل گوشعرائ ردیف اور قافئے کے انتخاب میں اتنے غیرمحتاط ہوگئے ہیں۔ غزلوں میں تیزی کے ساتھ نامانوس ہندی الفاظ کی کثرت ہونے لگی ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے زمانے میں غزلیہ شاعری پوری طرح مفلوج ہوجائے گی۔ غزل کہنے والوں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ـ”

” نئے قلم کاروں کی کتابیں جلد بازی میں تیار کی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ بعض احباب نے تنقید میں عجیب سا اسلوب اپنا رکھا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تنقید لکھ رہے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں محسوس کرپارہے ہیں کہ تنقید مطالعہ کے ساتھ ادبی بصیرت بھی چاہتی ہے۔ پھر تنقید کا انداز بیان پروقار ہوتا ہے۔ چلتا پھرتا بازاری انداز یادشنام طرازی  والا اسلوب تنقید کو نقصان پہنچاتا ہے۔” (۷)

دربھنگہ ٹائمز کا دوسرا شمارہ اپنی بوقلمونی اور مختلف النوع فکری مشمولات کے سبب قارئین کی توجہ مرتکز کیے ہوئے تھا ۔جس میں منٹو کا مضمون ”  ہندوستانی فلم سازی پر ایک نظر ” منٹو کا بے رحم اور بے باک قلم ہندستان کے فلم ساز وں کی ذہنیت پر نشتر زنی کرتا نظر آتاہے۔عروس البلاد بمبئی انھیں اس قدر راس آیا کہ یہی جذب ہو کر رہ گئے ۔اور اسی شہر نگاراں بمبئی میں رہ کرمعمولی منشی سے فلمی ادیب بن کر ابھرے،اچھے اور برے مکالموں کے ساتھ ساتھ فلمی کہانیاں بھی لکھیں۔یہی وجہ ہے کہ منٹو کو فلم انڈسٹری کی تکنیک،ہدایت کا ری اور فلمی کہانیوںکے بارے میں پورا علم تھا ۔یہ مضمون اسی تجرنے اور مشاہدے کا ماحصل ہے۔منٹو فلم کی تکنیک کے باریک رموز سے واقف تھے۔اور فلم کے سلسلے میں ان کے مطالعے اور مشاہدے کے لوگ قائل بھی تھے ۔لیکن فلم انڈسٹری کے ارباب و اختیار فلموں سے صرف دولت پیدا کرنا چاہتے تھے اور اسے اللہ دین کا چراغ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے ،فن نام کی شئے سے وہ لا تعلق تھے۔ عصمت چغتائی کا مضمون ” جنس اور ادب” ان کی بے باک شخصیت اور جدید ذہن کا تخلیقی وظیفہ ہے۔عصمت کے یہاں جنس پردے میں رہنے والی گٹھے ہو ماحول کی پروردا بی بییوں کی عکاسی ہے۔بقول فیض احمد فیض عصمت کے بیانیہ میں "جنسیاتی کشش” (۸)پائی جاتی ہے۔ ممتاز شریں کا مضمون” طویل مختصر افسانہ:ایک الگ ادبی صنف” میں انھوں فن افسانہ کی ہیئیت،مواداور تکنیک پر بڑی عالمانہ بحث کی ہے۔ مضمون کا مطالعہ افسانے کے ضمن میں ایک اضافہ ہے ۔اور افسانے کے فنی رموز کے کئی جہات کو وا کرتا ہے۔افسانوی شعریات میںاس مضمون کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ڈاکٹر ابو بکر عباد نے اپنے مضمون میں منٹو کے فکری اور فنی جہات کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرائی اور منٹو کے شاہ کار افسانے کا لی شلوار،جانکی،شاردا،بو اور ٹھنڈا گوشت پر نئے مباحثے و مذاکرے کا آغاز کیا ہے۔جو منٹو فہمی کے باب میں ایک اضافہ کی حیثیت اکھتا ہے۔احمد اشفاق کے مجموعے کلام” دسترس” پرحقانی القاسمی کا تبصراتی تأثر مطالعہ سے تعلق رکھتا ہے۔احمد اشفاق کی شاعری صوتی آلودگی میں اپنا ایک الگ شعری آواز و آہنگ لئے ہوئے ہے۔ پرفیسر کوثر مظہری کا مضمون ” قرأت اور مکالمہ” کافی معلوماتی اور اہمیت کا حامل ہے جو متن کی تکثیریت اور لفظ کے معنیاتی تنوع کے باب میں ایک اضافہ ہے۔ناصر عباس نیر اردو کے ان نظریہ ساز نقادوں میں سے ہیں جو نہایت خاموشی سے تحقیقی و تنقیدی کام کئے جاتے ہیں ۔ان کا شمار اردو کے اولین نقادوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی محنت و لگن سے نوآبادیاتی تناظر میں اردو ادب کی تفہیم و تعبیر کی ۔اور اردو تنقید کو نئی زبان اور اصطلاحات سے متعارف کرایا ۔ان کا مضمون ” ساختیات کی اہم اصطلاحات” ادب کے ساختیاتی نظریات اور اصطلاحات پر سیر حاصل بحث ہے۔ان کے علاوہ رسالے میں سید زبیر شاہ،خورشید حیات،شمیم قاسمی،یاسمین رشیدی،دانیال طریر،نور الہدی،ڈاکٹر احسان عالم اور بدر الدجی کے مضامین شامل ہیں ۔گوشہ منظومات میں زہرا نگاہ،عالم خورشید،مرزااطہر ضیائ،ندیم ماہر،پرویز شہریار،ابن اعظم،احمد سہیل،ساجد حمیداور عزیز بلگامی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر منصور کا اداریہ ہم عصر ادب کے سماجی،سیاسی اور ثقافتی متون کی حسیت کو موضوع بحث لاتا ہے۔اس کے علاوہ موجودہ ادب میں رو نما ہونے والے ادبی مسائل پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ وہ اپنے اداریہ میں ادب اور معاشرے سے متعلق واجب اور سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں کہ ادب اپنے عہد کا نباض اور گواہ ہوتا ہے ،ارد گرد وقوع پذیر سانحات کا ادراک اور آگہی سے اپنے قاری کو مطلع کرتا ہے۔معاشرے کی سڑانڈ اور تعفن جس تلخ انداز میں ایک آرٹسٹ بیان کر سکتا ہے وہ کسی اور سے ممکن نہیں،ہمارا ادب ایک زمانے تک بر صغیرکی تقسیم کے المیے سے ہی ابھر نہیں پا رہا تھالیکن ادھر دوتین دہائیوںسے ادب میں عام زندگی کے تلخ حقائق کی عکاسی دیکھنے کو ملی ہے چچا سام اور ان کے حواریوں کے ذریعے انسانی اذہان میں خوف کی سائیکی کو پروان چڑھانے کا ایک رجحان عالمی سطح پر ڈپریشن کی طرف لے جا رہاہے ہماری نوجوان نسل خاص طور پر اس کا شکار ہورہی ہے۔ اس ڈپریشن کی بنیادی وجہ مارکیٹ،میڈیا اور معیشت ہے جس کے زرق برق طلسمی اشتہار کے سحر میں آ کر ایسے مستقبل کا خواب دیکھنے لگتے ہیں جو اسکرین پر ہی ممکن ہے ،اور حقیقت سے اس کا دور دور تک واسطہ نہیں ہوتا ۔دوسری طرف خوف کی سائیکی ،عرانیت اور بیہودہ قسم کے مزاح کو الیکٹرانک میڈیا پر بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے کا چلن عام ہو چلا ہے۔جرنلزم میں یہ کہاوت عام ہے” جو بکتا ہے وہی دیکھتا ہے ” صارفی ذہنیت والی دنیا میں صارف کی مانگ کے اعتبار سے اشیائ منڈی میں آتی ہیں۔ادب کے ایک سنجیدہ قاری کی یہ جھنجھلاہٹ واجب ہے جس کا اظہار فاضل مدیر نے اپنے اداریے میں کیا ہے ،ملاحظہ کریں ۔

"ادب کو اظہار کی آزادی کا وسیلہ سمجھنے والوں نے جس طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ کررکھا ہے کیا اس سے ادب کی طہارت اور عظمت کو خطرہ نہیں ہے؟ غلط قسم کے سائنسی و علمی تصورات کی بنیاد پرجو معاشرہ ظہورپذیر ہونا چاہئے وہ ظہورپذیر ہوچکا ہے۔ ہمارا ملک بھی اشرافی تہذیب و تمدن کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ بہت سی تبدیلیاں ہمارے یہاں بھی رونما ہوچکی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سے ایک بڑی تبدیلی حال ہی میں ظاہر ہوئی ہے۔ اہنسا کے پجاری کے قاتل کا مندربنانے کی شکل میں۔ سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ہم لوگ ایک ملک بھارت کے باشندگان ہیں۔ ہندوستان ہماری سائیکی کا حصہ ہے اور بھارت گیروے رنگ کا نمائندہ۔ ہمارے کچھ نام تاریخ کے اُفق پر ابھی تو جھلملارہے ہیں۔ مستقبل میں ان کی تابانی کی کوئی ضمانت نہیںدی جاسکتی۔ اعلان کیا جاچکاہے کہ اب تاریخ بدلنی ہے۔ اگلا مرحلہ ہمارے ناموں کی تبدیلی کا ہوگا۔ ان سب تبدیلیوں میں کیا ہماری خاموش رضامندی نہیں ہے؟ ہمیں تماشہ بہت مرغوب ہے۔”

"آج ہماری سماجی، تعلیمی، سیاسی، معاشرتی زندگی کئی طرح کے کج مج خیالات کی زائیدہ ہے۔ وہ تصورات جو ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں، اگر ان کو کھنگالنا شروع کیا جائے تو بہت سے باطل تصورات ہمارے جسم و جاں سے چمٹے نظر آئیں گے۔ مغرب نے اور بعض مغربی افکار نے عالمی سطح پر جن سائنسی اور مذہبی بلکہ سیاسی تصورات کو عام کیا ان پر تکیہ کرکے اخلاق و تمدن کی عمارتیں بلند کی گئیں۔ انسان کا  نظریہ ارتقائ ان باطل تصورات میں سب سے اوپر تھا۔ ڈارون کے پیش کردہ نظریہ کو بنیاد بناکر مغرب نے انسانی ثقافت اور تہذیب کی بنیاد ڈال دی تھی۔ یہ ایک انسان کا خلق کردہ ایسا تصور تھا جس نے فطری نظام کی نفی کرتے ہوئے اس Mster Plan کی مکمل نفی کردی جس کا سمجھنا اشد ضروری تھا۔ حیات اور کائنات کے مربوط رشتے کو ایک نیم پختہ سائنسی تجربہ کے حوالے سے سمجھنا کتنا خطرناک ہوتا ہے یہ بات آج ثابت بھی ہوچکی ہے۔ ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے بعد فرائڈین تھیوری نے انسان کے تعلق سے من گھڑت نفسیاتی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔ چوں کہ فرائڈین تھیوری کا سارا دارومدارجنس (Sex) اور انسانی لاشعور تھا اس لئے ہر طرح کی بات انہی دو چیزوں کے اِرد گردرقص کرنے لگی۔ چنانچہ سائنسی اور اخلاقی علوم کا تانابانا  ڈارون اور فرائڈ کے فلسفہ ہائے انسان کے تعلق سے بنا یاگیا اور آج جدید دور کی معاشرتی و سیاسی زندگی ان تصورات کی ترقی یافتہ شکل ہے جس میں نئے مسائل ثقافت، صارفین، تانیثیت وغیرہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہوا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر سے جہاں تک ممکن ہوسکا تھا اس مغربی سیلاب کے خطرناک نتائج سے ہمیں آگاہ کیا تھا لیکن اب یہ عالم ہے کہ ہم کسی بھی موضوع پر گرما گرم بحث کرتے وقت اس کی بنیاد اور اصل کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ ہم اُردو والے بھی حسی، عقلی اور اشرافی تہذیب و تمدن کا حصہ غیرمحسوس طریقہ سے بنتے جارہے ہیں، ہمارے اندر تفریق و تمیز کرنے کی صلاحیت ہی کا فقدان ہوگیا ہے کیوں کہ ہم نے اپنی اصل سے رشتہ توڑ کر نام نہاد عالمی ثقافت کا حصہ بننے میں فخر محسوس کیا ہے۔ ہمیں اپنی ایک مخصوص آئیڈنٹیٹی پر اصرار تو ہے لیکن ہماری علمی شخصیت غیاب میں چلی گئی ہے۔ "(۹)

سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کا افسانہ نمبر ادبی دنیا میں بڑے تزک و احتشام سے داخل ہوا۔ادب میں اظہار خیال کی آزادی کے ساتھ ادب کی عظمت و حمیت کا وسیلہ بھی بنا ۔ناول اور داستانوں سے قطع نظر افسانے کی اپنی سائیکی و مزاج ہوتا ہے۔اس کو موضوعات اکہرے اورکل کے بجائے جز پر مشتمل ہوتے ہیں۔افسانے صنعتی اور مہاجنی سماج کی کوکھ سے جنم لیا اور جدید عہد کی دوڑتی بھاگتی زندگی کی علامت بن گیا ۔آج کے نیو کلیر اور میٹرو پولیٹن ایرا کے الام روزگار اوراس مسرتوں اور سنگینیوں سمیت ہمیں سونپ رہا ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا ادیب اپنے عہد کی ڈھڑکنوں کو زبان و بیان کے پیکر میں سمو کر تخلیقی جبرسے گذرتا ہے۔ پریم چند نے دیہی سماج کے مسائل کو اہمیت دی ۔زمین داروں اور ساہوکاروں کے ظلم و جبر کو اپنا تخلیقی وسیلہ بنایا ۔منٹو نے زندہ معاشرے کے مردہ ضمیر کو اپنے افسانوں میں جھنجھوڑا۔قرۃالعیں حیدر نے تاریخ کے جبر کو اپنے فن میں استعارے کے طور پر برتا۔انتظار حسین نے اپنے فکشن میں ہندی،سامی اور عجمی روایات کو سمویا تو انھیں ماضی پرست ، رجعت پرست سے موسوم کیا گیا ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا فکشن تشکیلی خصوصیات رکھتا ہے ۔جو نوآبادیاتی فکشن کی شعریات کا بغاوتی استعارہ ہے۔افسانہ نمبرکے اس خاص شمارے کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے پہلا حصہ افسانوں پر مشتمل ہے جن میں  گھر واپسی ،شموئل احمد۔ڈائن ،پیغام آفاقی ۔ رات کا منظر،مجیب ابرار ۔آخری معرکہ ،نعیم بیگ ۔یہ افسانے علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلی دہشت ، خوف ،نسلی عصبیت ،اندھی قومیت اور مذہبی مجذوبیت کے شکار لوگوں کا المیہ بیانیہ ہے ۔اس انتہا پسندی کا حل مکالمہ ہے جس کی کوشش معروضی انداز میں ہونی چاہیے۔ایسا ہی ایک افسانہ سلمی جیلانی کا” عشق پیچاں "ہے جو پاکستان کی اندرون خانہ دہشتگردی،نسلی،لسانی اور علاقائی تعصبات کے علاوہ مسلکی تشدد کی عکاسی بڑے عمدہ لب و لہجے میں کرتا ہے۔اپنے افسانے” میری سہیلی "میں مجیر آزاد نے ہندستان کے مہذب معاشرے کی جہیز جیسی رسم و رواج کی سچائی سے پردہ اٹھایا ہے۔اور اس طرح کی فرسودہ روایت کی سبب نہ جانے کتنی معصوم لڑکیاں عورت پن کا ادھورہ خواب لئے پرلوک سدھار جاتیں ہیں۔مشتاق احمد نوری کا افسانہ” لمبی ریس کا گھوڑا”گلوبلائزیشن کے سبب سکڑتی سمٹتی اورانسانی مٹھی میں بند ہوتی دنیا کالفظی استعارہ ہے۔آج کا انسان خواہشات اور اشتہارات کے جنگل میں زندگی گذار رہا ہے اور کم وقت میں بہت اونچی اڑان بھرنا چاہتا ہے ۔صارفیت کی عالمی منڈی میں انسان کی حیثیت ایک کموڈٹی، ایک شئے کی ہے۔جس کا سودا ہوتا ہے ۔جو بیچی اور خریدی جاتی ہے۔یہ افسانہ انھیں مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔مناظر عاشق ہرگانوی کا افسانہ” گذرتی عمر کی کنواری لڑکی "ورکنگ کلاس کی ازدواجی زندگی کے بدنی شور کا داخلی المیہ ہے۔ جہاں دنیا کی نعمتوں کے الوان و اقسام موجود ہیں لیکن ذہنی و جسمانی تسکین و اطمینان حاصل نہیں ہے۔افسانہ نمبر کا دوسرا گوشہ اردو افسانے پر اجتماعی مکالمے،مباحثے اور محاکمے پر مبنی ہے۔دیپک بدکی نے کرشن چندر کی رومانی حقیقت نگاری میں عالم گیر مسائل و مصائب  پوری سنگینیوں سمیت صفحہ قرطاس کی زینت بنایا کرشن چندر نے جن موضوعات پرقلم اٹھایا اس کا اطلاق کسی ایک خطہ ارض سے نہیں ہوتا تھا بل کہ وہ عالمی حسیت میں ڈوب کر انسانی کرب کو بیان کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج ان کی حیثیت اردو ادب میں لیجینڈ کی ہے۔ عہد حاضرکے ممتازفکشن نقادوں میں ابو بکر عباد ،حقانی القاسمی اور خورشید حیات کو اعتباریت کی نظر دیکھا جاتا ہے۔ان کی تنقید متن کے ساختیے اور اس کے وقوعی اور موضوعی منطقے سے بحث کرتی ہے۔ان کے یہاں ادب کے پرکھ کا وسیلہ تنقید برائے تفہیم و تعبیر ہوتا ہے یہ قاری کو مرعوب کرنے کے لئے فن تنقیدکو پیشے کے طور پر نہیں اپنایا بل کہ ایک مشن کی طرح عقیدت و محبت سے جڑے رہے۔ان  کے تنقیدی مضامین تخلیقی ابعاد کو اپنے اندر سموے ہوئے ہوتے ہیں۔جو سماعتوں کو بوجھل نہیں کرتے بل کہ کانوں میں رس گھولتیں ہیں۔اور قاری کو متن کی سمجھ و پرکھ میں آسانی ہوتی ہے۔ان کی تخلیقی تنقید کو پڑھ کرذہن مکدر نہیں ہوتا بل کہ ایک طرح کی فرحت و مسرت اور ہلکے پن کا احساس ہوتا ہے۔افسانے نمبر میں شامل ڈاکٹر ابو بکر عباد کا مضمون رشید جہاں کے فکر وفن اور زبان و بیان کے بہت سے پوشیدہ جہات کو طشت از بام کرتا ہے ۔اور اس بات کی بھی یقین دہانی کراتا ہے کہ کہانی کے حسن محل کی تعمیر میں رشید جہاں کی خدمات میل کے پتھر کی سی ہے۔حقانی القاسمی نے نغمہ ضیائ الدیں  کے تخلیقی سوچ کے کینوس سے کلام کیا ہے کہ ان کے فکشن کی اساس شرق و غرب کے ما بین قطبین کا تہذیبی و تمدنی بعد ہے۔جو مہاجرین کی ذہنی سائیکی میں اضطراب کی وجہ ہے۔خورشید حیات کی تنقید اپنے اندر تخلیقی شرینی و مٹھاس لئے ہوتی ہے۔ان کے تنقیدی مضامین پڑھنے سے باطنی آنند کا خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ان کا مضمون” کہانی مشک سے پھوٹتی خوشبو "پروفیسر اسلم جمشید پوری کے تخلیقی وژن کا بھر پور محاکمہ ہے۔اس کی قرأت سے قاری کو ادبی لذتیت کا خوش نما احساس ہوتا ہے۔ڈاکٹر ظفر شہاب اعظمی نے مغرب کے تانیثی نظریات و مبادیات کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے ہم عصرمشرقی خواتین لکھاریوں کی جرأت اظہار کو داد وتحسین سے نوازاہے کہ انھوں لکھے لفظوں میں مرد حاوی سوچ کو اپنی تخلیقات میں نشانہ بنایا۔یاسمین رشیدی نے عصر حاضر کے نسائی ڈسکورس پر بحث کی ہے جو آج اپنی پہچان و شناخت کی پر زور وکالت کرتی ہیں۔موجودہ دور کا تانیثی ادب ذکر اساس نظام کے ہر ظلم و جور و استحصال پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔ جوان سال اسکالر شاہد الرحمن کا مضمون ان کے تحقیقی بصیرت کا عطیہ خا وندی ہے جس کے لئے انھوں نے ضیغم غزال کی تخلیقات کا وظیفہ پڑھا تھا۔ضیغم غزال کے یہاں تانیثی نظام حیات اور نسائی فکر کی آنچ بہت دھیمی ہے جو قاری کے اندر حباب کی مثل پھوٹتی رہتی ہے۔نئی نسل میںاردو لسانیات کے رموز سے شغف رکھنے والے شہنواز فیاض کا مضمون” اختر اورینوی کی افسانوی کائنات” کا موضوعی مطالعہ ہے۔جس میں انھوں نے اپنے موضوع کے معروف افسانوں کاتجزیاتی مطالعہ کیا ہے۔ان کی یہ کھوج غور و خوض کی دعوت دیتی ہے کہ بہار کی دیہی زندگی اور وہاں کے کسانوں مزدورں کے مسائل کو پہلی مرتبہ اختر اورینوی نے اپنے افسانوں میں جگہ دی۔اس کے علاوہ دیہاتوں سے رزق کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرنے والے مزدورں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔

افسانہ نمبر کی مقبولیت اور شہرت کی ایک وجہ معروف فکشن رائٹر مشرف عالم ذوقی کا انٹرویو بھی ہے ۔ جو اپنی بے باکی ،آزاد خیالی اور اردو فکشن میں نت نئے موضوعات اور اچھوتے خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ یہ انٹرویو اردو کے نو آموز اور نو خیز لکھاریوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔جو تخلیق کی دنیا  کی صحرا نوردی کا عزم کر چکے ہیں ۔لائق صد تحسین ہیں صدف اقبال جنھوں نے اپنی جرأت و ہمت سے ذوقی کے اندرون سے موجودہ ادبی سمت و رفتار کے رطب و یابس کو باہر نکالا۔جو آج کی دنیا کے ہنگاموں اور تماشوں سے مکالمہ کرتے ہیں۔میں اس انٹرویو سے دو اقتباس آپ کی نظر کرنا چاہتا ہوں ملاحظہ کریں۔” مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بغیر کسی بڑے نظریہ کے آپ ادب ٹخلیق نہیں کر سکتے۔اتفاق کرنا ضروری نہیں ۔اسی لئے ناول ہو یا کہانیاں ،یہ نظریہ سے چھن کر آتی ہیں۔میں اس معاملے میں وکٹر ہیو گو اور تالستائی کے ساتھ ہوں جہاں ادب واقعات و حادثات کے جبر سے گھبرا کر انسانیت کی آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔اور اسی لئے بڑے بڑے حادثے کے دوران کسی بچے کی مسکراہٹ مجھے پسند آجاتی ہے۔مجھے گھبرایا ہوا نور محمد اچھا لگتا ہے۔مجھے زخمی شیرنی جیسی ناہید میں اپنے عہد کی باغی عورتوں کی جھلک نظر آتی ہے۔مجھے اسامہ پاشا میں اپنا بچہ نظر آتا ہے۔مجھے غلام بخش میں لہو لہو تقسیم کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔دوسرا اقتباس ملاحظہ کریں۔ "جو فکشن کے نظام حیات میں اپنی طرف سے،نئے فلسفوں کا اضافہ کرنے کے لئے بے چین ہیں،اور اسی لئے ان کی کہانیاں فکشن کی کسی لکیر پر نہیں چلتیں۔اچھے فکشن کو کئی مصالحے چاہئیں،مثال کے لئے فنتاسی،موہوم حقیقت نگاری،جادوئی حقیقت نگاری،ابہام کی حسین پرت بھی ان کی کہانیوں میں شامل ہو۔دراصل اس مکمل عہد کو میں کنفیوژن کا عہد کہتا ہوں ۔موت پرفتح پانے کی کوشش بھی اور اموات میں اضافہ بھی،مریخ پر کمند بھی اور امریکہ یورپ کی غربت بھی ۔ایک بڑا ایلیٹ کلاس اور اکانومی سے لڑتا ایک کلاس ۔مذہب بھی اور مذہب بیزاری بھی ۔سائنس اور ٹکنالوجی بھی اور ان کی کا میابیاں انسانوں کو پسپا کرنے اور بونسائی بنانے کے لئے کافی ۔ظاہر ہو ایسے عہد میں فکشن کو آپ سپاٹ بیانیہ کے سہارے نہیں گزار سکتے ۔موضوع آپ سے مکالمہ کرے گا تو کئے جہات،کئی شیڈ،کئی ڈایمنشن پیدا ہوں گے۔اور انہیں کہانی یا ناول میں پیش کرنے کے لئے جب تک آپ کا مطالعہ وسیع نہیں ہو گا۔جب تک آپ اپنے عہد کی سائنسی وفکری تمام حقیقتوں سے قریب نہیں ہوں گے،فکشن پر آپ کی مضبوط پکڑ یا دسترس نہیں ہوگی ۔اور اسی کئے فکشن کو اب نئے مکالموں کی ضرورت ہے۔” (۱۰)

محولہ بالا اقتباس میں مشرف عالم ذوقی نے اپنے فنکارانہ جرأت کا مظاہرہ کیا ،اور اس بات پر زور دیا کہ ہمارے عہد کا ادب کواپنے فنی و اسلوبیاتی رموز و نکات کے ساتھ وقت کے بدلتے نظام حیات کے فلسفوں سے بھی سیکھ لینا چاہیے ۔سچ ہے کہ جب تک ہم اپنے عہد کے نت نئے سائنسی اختراعات کی حقیقتوں سے رو برو نہیں ہوگے ۔موضوع ہم سے کلام کرتا رہے گا ۔مستعد رہنا ہوگا کہ جدید سائنس و ٹکنالوجی مکمل طور پر کنفیوژ کرنے والی ہیں ۔اس کی مثال ویسی ہے کہ” وہی قتل بھی کرے ہے ،وہی لے ثواب الٹا” اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کی آج اردو فکشن کو نئے مذاکرے اور مباحثے کی ضرورت ہے۔

اردو ادب کے عصری منظر نامے پر دربھنگہ کی علمی و ادبی خاک سے ابھرنے والا نام ڈاکٹر منصور خوشتر ہے۔جنھوں نے بہت کم عرصے میں اپنے تخلیقی وژن اور ادارتی صلاحیت سے عشاق ادب کی محفلوں کے سر مور بن گئے۔ آج اردو کو ایسے ہی فعال صحافی ،دور اندیش مدیر اور متحرک نوجوان کی ضرورت ہے جو اردو کو جنون کی حد تک ٹوٹ کر چاہے۔جس کا جیتا جاگتا ثبوت مؤقر سہ ماہی ادبی رسالہ” دربھنگہ ٹائمز "ہے ۔جس کے متعدد شمارے زیور طبع سے آراستہ ہو کر دادو تحسین حاصل کر چکے ہیں۔جس کی ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی خوب ہوئی ۔”ادب کے صحت مندروایات اور جدید رجحانات کا ترجمان” دربھنگہ ٹائمز کا ناول نمبر دستاویزی حیثیت کاحامل  ہے کیونکہ جب کبھی ناول کے ہیئت ،مواد اور لسانیات پر ڈسکورس ہوگا تو یہ رسالے حوالے کے طور پر پیش کیا جائے گا ۔رسالے میں شامل مضامین اور مکالمہ و مباحثہ ناول کے بیانیے اور کلامیے قارئین کو نئے انداز سے پرکھنے اور غور خوض کی دعوت دیتے ہیں۔اس سلسلے میں رسالے کے مدیر ڈاکٹر منصور خوشتراداریہ میں لکھتے ہیں ”   چونکہ فکشن /افسانہ کے مقابلے ناول میںمسائل و مباحث کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس میں معاشرہ کی زبان الگ ہوتی ہے۔ فنی اورتکنیکی سروکار کا انداز جداگانہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پہلو بھی پیش نظر تھا کہ اکیسویں صدی میں متواتر ناول شائع ہورہے ہیں۔ لہذا ناول نگاری میں آنے والی تیزی پر مکالمے ضروری ہے ، تاکہ ناول کے نام پر سامنے آنے والی رطب ویابس تمام تحریروں کو ناول کہنے یا نہ کہنے کا کوئی معیار قائم ہوسکے۔ چنانچہ اس شمارہ کی ترتیب وتہذیب میںاس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ مکالمے اور تلازمے کاباب کھلے ، تاکہ اردو ناول کو معتبریت کی سند مل سکے ۔(۷)

"اگر ہم ناول کے موضوعات پر ایک نظر ڈالیں تو محسوس ہو گا کہ ایڈیٹر موصوف نے کتنی جانفشانی اور لگن سے ناول نمبر کو ترتیب دیا ہے۔عصر حاضر کے مشاہیر لکھاریوں کے ساتھ ساتھ نئے ذہنوں کی تنقیدی سمجھ کو بھی منظر عام پر لانے کی جرأت کی ہے تاکہ اردو کا قاری نئی نسل کی ناقدنہ صلاحیت اور بصیرت کا اعتراف کرے۔جوان سال اسکالروں کے مضامین کی فہرست کچھ اس طرح ہے۔”آئی کنفیس "ڈاکٹر فیاض احمد وجیہ "سید محمد اشرف کا ناول:نمردار کا نیلا "ڈاکٹر شاہد الرحمن اور سلمان فیصل کا مضمون” کہانی کوئی سناؤ متاشا” قابل ذکر ہیں۔ اس خاص نمبر کی مقبولیت معتبریت کا اندازہ اس با ت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں عہد حاضر کے معروف و مقبول فکشن رائٹر اور ناقدیں کے انٹرویوز شامل کئے گئے ہیں ۔اور اسی کے ساتھ موجودہ دور میں ناول کی سمت و رفتار کے تعین قدر کے لئے ان معلومات افزا مضامیں کو اس خاص نمبر کی زینت بنایا گیا ہے۔جس کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔”اردو ناول کے ساتھ دو چار قدم” عبدالصمد”اردوناول کی کم ہوتی دنیا”مشرف عالم ذوقی "اردو ناول کی تجدید اور غضنفر”پیغام آفاقی”ہم عصر اہم ناولوں کے تنقیدی شذرات”پروفیسر عاشق ہر گانوی”ناول برستے نہیں”جمال اویسی” پلیتہ”حقانی القاسمی”اردو ناول ارتقا سے ترقی پسند تحریک تک”ڈاکٹر ابو بکر عباد”اکیسویں صدی میں اردو ناول "ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی”ناول کا فن اور ناول کی تنقیدکا المیہ”رحمان عباس”ایوانوس کے خوبیدہ چراغ پر ایک نظر”سلیم انصاری”پارسا بی بی کا بگھار”ڈاکٹر قمر جہاں”سرور جہاں کا ناول دوسری ہجرت”ڈاکٹر سید احمد قادری”قصہ اردو ناول کے ایک درویش کا "خورشید حیات”عباس خاں کی ناول نگاری”ڈاکٹر پرویز شہریار”بہار میں اردو ناول نگاری کا ابتدائی مرحلہ”ڈاکٹر قیام نیر”حسین الحق کے ناول فرات کا ساختیاتی مطالعہ”ڈاکٹر اقبال واجد "جرأت اظہار بنام زخم گواہ”ڈاکٹر مجیر آزاد”گمشدہ زمینوں کی لکھاوٹ”یاسمین رشیدی۔رسالے کے اس خاص نمبر میں التزام بھر یہ سعی کی گئی ہے کہ اردو فکشن کے سلسلے میں جو سوالات ادبی منظر نامے پر کسی بھی روکاوٹ یا سبب سے نہیں اجاگر ہو سکے تھے ان سوالوں کو مرکزی حیثیت دی گئی اور ان مکالمہ،محاکمہ اور مباحثہ ہوا اور نیک نیتی سے ان کو جوابات دیے گئے۔اس سلسلے ڈاکٹر منصور خوشتر اداریہ میں لکھتے ہیں م۔”  چنانچہ چند ایسے سوالات پر توجہ دلانے کی کوشش ضرورکروں گا ، جن پر ہمیں سنجیدگی سے غوروفکرکرنی چاہئے ۔ معاصر اردو ناول کے پس منظر میں کئی سوالات ومسائل سامنے آتے ہیں۔ مثلا ً ، ناول کی تفہیم ، ناول میں تاریخی حسیت وعناصر کی شمولیت ، صحافت اور ادب کا انسلاکات ، ناول پرسنجیدہ مکالمے ، بڑھتی ضخامت اور گم ہوتے قارئین، زبان میں تخلیقیت کے نام پر سیاست، نقادوں اور قاریوں کے درمیان ناول کا معلق ہونا ، فلسفہ اور ادب ، یہ سب وہ موضوعات اور سوالات ہیں ، جن پر سنجیدہ ہونا لازمی ہے ۔کیوں کہ آج ایسے ناول بھی منظر عام پر آرہے ہیں ، جن کی تفہیم میں نہ صرف عام بلکہ بیدار مغز قاریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے یہ سوال فطر ی ہے کہ تفہیم وترسیل کے معاملا ت سے عاری ناول ، ناول کے مین فریم میں سما سکتے ہیں ؟ کیانا سمجھ میں آنے والے ناولوں کو ہی معتبریت کی سند عطاکردی جائے ؟اسی طرح ناول میں تاریخی سروکار کا معاملہ بھی اتنا آسان نہیںہے، جتنا کہ سمجھ لیا گیا ہے۔کیوں کہ ناول کے لیے صفحات در صفحات مواد، تاریخی مآخذ سے حاصل کیے جارہے ہیں۔ناول پر گفتگو کرتے وقت آج دو باتیں بڑی شدت سے اٹھائی جاتی ہیں ، تاہم ان پر بیدار مغزی اور توسع پسندانہ ذہنیت سے بات نہیںہو تی۔ وہ ہیں ، زبان میں تخلیقیت اور ناولوں میں فلسفہ کی شمولیت۔ بیشتر ایسا دیکھا گیا کہ زبان کی تخلیقیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تردید کا بازار گرم ہے۔ناولوں کی تمام تر اچھائیوں کو قبول کرلینے کے بعد بڑی آسانی سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ زبان تخلیقی نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ رد وکد کے لیے زبان کے تخلیقی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ، جس کے جی میں جب آئے ، سنادے ؟ رہی بات فلسفہ کی تو یہ بہت پرپیچ مسئلہ اور مختلف فیہ معاملہ ہے ۔ کیوں کہ کبھی فلسفہ کے نمک کے بغیر ناول حلق سے نہیں اترتا تو کبھی یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ آج ناول نگاری نارِ فلسفہ سے آگے بڑھ چکی ہے۔ فلسفیانہ مباحث کا التزا م ضروری نہیں۔موجودہ عہد میں ادبی سیاست کا گرماگرم موضوع یہ بھی ہے کہ کسی کو کوئی پسند نہ آئے توفوراً ناول پر صحافت ہونے کا فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت یا جدید معاشرے کی جو سچائیاں ہیں ، ان کو پیش کرنے کے لیے فلسفہ کی کس میڈیم کی ضرورت ہے ؟ یا پھر تخلیق کو صحافت کے رنگ سے کیسے بچایا جاسکتا ہے ؟ کیا آج ایسے مکالمے کی ضرورت نہیں جو صحافت اور تخلیق کے انسلاکات پر روشنی ڈالے؟ موجودہ ادبی منظر نامہ پر متعدد سوالات موجود ہیں ، لیکن گروہ بندی کی ایسی روش کہ ہم سنجیدہ ہوہی نہیں پاتے۔ ” (۱۱)

یہ وہ سوالات ہیں جن کو مدیر موصوف نے بڑی سنجدگی سے ادب کے قارئین کے سامنے رکھاکیونکہ اکیسویں صدی میں منظر عام پر آنے والے ناولوں پر معروضیت کے ساتھ اجتماعی مکالمہ ضروری تھا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے عہد کا صحت مند قاری گم ہوتا جارہا ہے جو بچا کھچا قاری ہے وہ ہمارے ناقد حضرات کے متنی منطقے میں معلق ہے ۔ادب کی تفہیم کی راہیں مسدود ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ ہمارے ناقدین ادب کی تعبیر کے بجائے متن کو ایسا گنجلک اور فلسفیانہ منطق کی پیچیدگی کے ساتھ توضیح کرتے ہیں کہ قاری بے چارے کی سانسیں اکھڑ اکھڑ جاتی ہیں ۔ ایسے میں دربھنگہ ٹائمز کا ناول نمبر قاری اور تخلیقی شاہکار کے ما بین وسیلے کی کڑی کا کا م کرے گا۔

شمالی بہار کے ادبی مرکز دربھنگہ سے ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادارت میں نکلنے والا سہ ماہی ادبی رسالہ دربھنگہ ٹائمز اپنے معیاری مشمولات اور حیرت انگیز بوقلمونی ،تنوع اور رنگا رنگی کے سبب قارئین کے توجہ کا مر کز بنا ہوا ہے۔تخلیقی مکالمے ،مباحثے اور مذاکرے کی نئی راہ ہموار کرنے اور ادبی شعور کی نئی جوت جگانے میں اس مجلہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ رسالہ مدیر موصوف کے جنون ادب کا معتبر و مستند استعارہ ہے۔ اردو کے بہت کم جریدے و رسائل ہیں جو اردو ادب کی بقا اور ترویج و اشاعت میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ دربھنگہ ٹائمز نے اتنے قلیل مدت میں عالمی ادب میں پذیرائی کی ایک عمدہ مثال قائم کی ،اور صحت مند ادب کے علم کو بلند رکھا ۔جس کی ظاہری و معنوی شناخت گلوبل سطح پر ہے۔دربھنگہ ٹائمز کے افسانہ اور ناول کے خاص نمبر منصئہ شہود پر آ کر شہرت دوام حاصل کر چکے ہیں۔ جس کے تحریروں کی بازگشت ادبی حلقوں میں دیر پا ثابت ہو گی۔

٭٭٭

 

ڈاکٹر آصف

شعبہ اردو،گوتم بدھ یونیورسٹی،گریٹر نوئیڈا

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی: مبصّر کی حیثیت سے – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
کلیہ التربیہ السلفیہ للبنات: ایک تعارف – اظہر الدین فیضی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں