عشرت ظہیر
’ملاذ‘، نیوکالونی، نیوکریم گنج، گیا 823001 (بہار)، موبائل: 9801527481
مشرف عالم ذوقی کا افسانہ’پانی‘دراصل سچی،کھری اورلمحہ بہ لمحہ بدلتی زندگی کی تفسیرہے۔جسے ابتداء میں بائیبل کی ایک آیت:
’’…اورخداکی روح پانی کی سطح پرجنبش کرتی تھی…‘‘
کے ذریعہ افسانہ نگار نے خدا، پانی اورجنبش کولطیف اورعمیق معنی میں استعمال کیا ہے۔
افسانہ اس طرح شروع ہوتاہے:
’’ایک برہمن تھا،ایک مسلمان،ایک دلت تھا۔‘‘
یہ افسانہ دلت طبقے کے تئیں سماج کے تنفر آمیز برتاؤ کے ساتھ ہی ساتھ دلت فرد کے ذہنی رویے کی انوکھی اور دلفریب داستان رقم کرتا ہے۔ لیکن یہ نام نہاد دلت کہانی نہیں ہے بلکہ یہ اس رجحان، اس ذہنیت کی گویا متحرک اور واضح تصویر ہے، جسے مذہب کے نگارخانے کو سجانے اور سنوارنے کے لیے کبھی سینچا گیا تھا۔ یہاں پر جا پتی شکلا، اس کی بیٹی تاراشکلا اور چیت ڈومر کے کرداروں کی ذہنی کیفیتوں کے سہارے عہد بہ عہد بدلتی سوچ اور رویے کی عکاسی کا فنی اور سحرانگیز نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ عموماً دلت تخلیق میں اس طبقے اور اس کے استحصال اور درد اور المناکی کو محور بنا کر ابھارنے کی ازحد کوششیں ہوتی ہیں، لیکن ذوقی کے اس افسانے میں بندھا ٹکا یہ فامولا نہیں ہے۔ یہاں ذہنی ارتقا اور ذہنی قلابازیوں کی عکاسی کے حقیقی اور کھرے نقوش بطریق احسن ابھارے گئے ہیں۔ دلت کردار چیت ڈومر کے ذہن میں جھانکنے کی کوشش میں تاراشکلا اور حسن فرخ کے یہ مکالمے اپنے انوکھے اور کھرے پن میں سحرانگیز بھی ہیں اور اثرانگیز بھی:
’’تارا کا لہجہ سپاٹ تھا۔ آپ کی دلچسپی مجھ میں ہے یا میرے برہمن ہونے میں۔‘‘
………
’’حسن نے ٹھہر کر کہا— اچھا، مان لیں، میں آپ کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں۔ سوچ کر بتائیے۔ یہ شادی معاہدہ ہوگا یا انتقام—؟‘‘
افسانے کے ارتقامیں پرجاپتی شکلا،اس کی بیٹی تاراشکلا اورچیت ڈومر ایک مستحکم تثلیث بن کرابھرتے ہیں لیکن مسلمان کاکردار ، کہانی میں گویاحاشیائی ہے۔
یوں تو’پانی‘بذات خودایک مکمل زندگی ہے۔جہاں پانی کاجماؤہوتاہے۔ کائی جم جاتی ہے ،اوریہ مصدقہ امر ہے کہ کائی میںزندگی کے عناصر موجودہیں…
یوں بھی زندگی کی شروعات پانی سے ہوتی ہے۔ پانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔
سورہ انبیاء میں ذکر ہوا ہے:
’’اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی—‘‘
سائنس بھی اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ زمین پر رہنے والے مخلوق کے Cell پانی سے بنے ہیں۔ کسی بھی جاندار کے Cell ستر (70) فیصد پانی سے بنے ہیں۔
…اورخداکی روح پانی کی سطح پرجنبش کرتی تھی…
خداازل سے قائم ہے۔
پانی زندگی ہے۔
اورجنبش…یاحرکت،بدلاؤ اورحالات کے الٹنے پلٹنے کے اشارئیے ہوسکتے ہیں …گویا یہ طے ہے کہ زندگی ازل سے متحرک اورجاری وساری ہے۔ مگر کس روپ میں؟ہماری یہ زندگی خط مستقیم میں چلنے والی سہل اورسہج شاہراہ تو نہیں۔ یہ پرپیچ،اسرارورموزسے بھری ہوئی اورحالات بدلنے اورپلٹنے والی مستحکم اورناقابلِ تسخیر ہے۔کیونکہ خدا خودکہتاہے:
’’میں ہی زمانہ(کاخالق اورمالک)ہوں ۔دن رات کومیں ہی تبدیل کرتا ہوں ۔‘‘
تومسئلہ یہ ہے کہ المیہ کس کا ہے؟
انارکلی کایااکبراعظم کا…
یعنی یہ کہ خلق شدہ تثلیث میںیہ پرجاپتی شکلاکاالمیہ ہے،یاتاراشکلاکا؟
(اور چیت ڈومر تو تماشائی ہے…یعنی اس المیہ سے حظ اٹھانے والاایک جاندارکردار…)
یہاں‘یہ افسانہ ایک بڑا سوال کھڑا کرتاہے ۔اوریہ سوال افسانہ کوشاہکار کادرجہ عطاکرتاہے،اورافسانوی ادب میں بقائے دوام کی دعا سے سرفرازکرتاہے۔
مسئلہ کیاہے؟
وقت کے تندوتیزاوربلاخیزتھپیڑے کے سہارے پرجاپتی شکلاکی سرشت میں رچے بسے منہج کو، اس کے دھرم کونشانہ بناکر، اس کے غرورکو ضرب پہنچاکر ،دبے کچلے فراموش شدہ افراد/طبقہ کے اٹھنے اوربرابری میں کھڑے ہونے کے عہدنوکاآغازہے یہ؟
عہدنوکاآغاز…یاایک رعونت آمیزفکر کازوال …لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ مذہب اوراعتقاد کی بجائے آزادخیالی اور تشکیک نے پرجاپتی شکلاکو’’بارودکے ڈھیر پرلاکھڑاکردیاتھا‘‘…
اورتاراشکلا؟اوراس کی محبت…؟
کیامحبت کی قسمت میں قربانی،ایثار اورتاراج ہوناہی لکھاہے؟
لیکن یہ بھی سچ تھاکہ’’پوشیدہ پرچھائیوں نے اس بار تاراشکلاکونگل لیا،تیززلزلہ آیااورگزرگیا۔‘‘
افسانے کے موضوع پرباتیں کریں تو بہت سارے معنی خیز اور بلیغ اشارے،مکالمے اور عبارتیں ہیں جوہمیں دور تک لے جائیں گے۔مثلاً
’’پرجاپتی شکلا کو پورابھروسہ تھا،اپنی بیٹی پر۔میرے اوپر گئی ہے ۔بالکل اپنے باپ جیسی خالصتاً پانی میں رچی بسی۔‘‘
’’اب جب دیکھوپانی کی مالاجپتے رہتے ہیں۔گنگامیلی ہوگئی ،جمناکے پانی میں گندگی آگئی… بنارس کے گھاٹوں کا برا حال ہے۔‘‘
’’مگراندربیٹھا برہمن معاشرے سے سیاست کی آلودگی پرآنسو بہاتارہتا ۔کبھی کبھی تارا ٹوک دیتی…یہ کیااونچی ذات اونچی ذات میں الجھے رہتے ہوبابا…‘‘
’’میلاڈھونے والا کیشو اوراس کی عورت یاد آگئی۔باباان دونوں کو پشاج کی اولاد کہتے تھے۔ جہنم برادری ۔ڈیوڑھی تک چھونے کی اجازت نہیں تھی۔باباکی نظر میلاڈھوتے پڑجاتی تو دوبارہ غسل کرناپڑتا۔‘‘
’’اس دن بالکنی سے باہر گدھ منڈراتے ہوئے دیکھ کرمحسوس ہوا،کچھ انہونی ہونے والی ہے۔ دیوتا غائب تھے۔منتھن سے نکلاہوازہر سامنے تھا۔‘‘
آج کاافسانہ موضوع کے ساتھ اظہار بیان کے کرب کو لئے ہوئے ہے۔ اس لحاظ سے اس افسانہ کے اظہار بیان یااسلوب کودیکھیں تو یہ ایک ایسے مستحکم اورمضبوط فریم میں جڑی خوبصورت اورانوکھی تصویرہے، جوگویامونالیزا کی سی مبہم مسکراہٹ کی سنہری دھند اوردبی دبی سی آنچ دیتی سحرانگیزفضاخلق کررہی ہے۔
اسی طرح افسانہ ’پانی‘کی بندش میں جوطرزبیان یااسلوب اختیار کیاگیاہے وہ افسانے کوفن کے اعلی مقام پر متمکن کرتاہے۔
کسی بھی تخلیق کوصناعی سے آگے فنکاری کی سطح تک لانے میں تخلیق کار گویاپل صراط سے گزرنے سے قبل کی ذہنی کشمکش اورتذبذب کا شکار ہوتا ہے۔
فنون لطیفہ کے سبھی اصناف کے خالق،اس درداوراس تموج اورجھٹکوں سے نبردآزماہونے کے بعد ہی اپنی تخلیق کوفنی رفعت عطاکرپاتے ہیں۔
اب سنگ تراشی ہویامصوری،اداکاری ہویاادب کی تخلیق،سبھی راستے سنگریزوں سے بھرے پڑے ہیں۔
ان سنگریزوں کی چبھن تخلیق کاروں کے لئے چھوڑیںاورتخلیق کی آبداری سے دل کوروشن اوراس کے انبساط سے اپنے وجودکی آبیاری کریں۔
تودیکھتے ہیں،افسانہ’’پانی‘‘میںایسی فنکاری کے عروج کامنظر:
تاراشکلااورحسن فرخ،آپس میں محبت کے اسیرتھے،ان کی محبتیں پرجاپتی شکلااورچیت ڈومر دونوں کی راہ میں حائل ہوتی دکھائی دے رہی تھیں۔لیکن ان کی محبت کواجاگرکرنے کے لئے افسانہ نگار نے نہ کوئی منصوبہ بند منظر کشی کی،نہ انہیں گھاٹیوں وادیوں کے سیرسپاٹے میں مبتلادکھلایا،اورنہ ہی لونگ ڈرائیو کے ذریعے اس محبت کوظاہرکیاگیا۔نہ ہی رومان سے لبریزڈائیلاگ (آئی لو یو،آئی لویوٹو) کااہتمام کیا۔ایک مسلمان،ایک پنڈت کی بیٹی،ایسے میں چھپ چھپ کے ملنے کی ضرورت ہوئی اورنہ افشائے رازمحبت کاخوف…
افسانہ نگارنے کمال ہنرمندی کے ساتھ ان کی محبت کوگویابین السطور میں محفوظ رکھا اور قاری کے لئے بغیر کسی وضاحت کے محض ایک سادہ اور معصوم اور بے ضررجملے کے ذریعے محبت کی طویل اورلازوال داستان رقم کردی۔ دیکھیں یہ جملہ اپنے اندرکتنی قوت اورکس قدر طوالت سموے ہے:
’’تاراشکلانے ایم اے کیا۔پھر ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرنے لگی وہیں تاراکی ملاقات ،حسن سے ہوئی۔ حسن فرخ۔‘‘
افسانہ نگارکی اس جادوئی بندش نے مجھے ایک لمحہ میں کئی خوبصورت فنّی نمونے کی یادتازہ کرادی یعنی ان کے مقابل ذوقی کے فنکاری کومیں بلاجھجھک رکھناچاہتاہوں:
شوکت صدیقی کے ناول’’خداکی بستی‘‘میں ایک کردار نیازکباڑی کاہے۔جس کی نظر نوشہ کی بہن پرہے۔لیکن نوشہ کی ماںنے خود کے لئے نیازکواتنی برجستگی اوراتنے فنکارانہ طورپر پرپوزکیاکہ یہ اپنے آپ میں ایک لازوال اورغیرفانی لمحہ کے روپ میں اجاگر ہوگیا۔
اسی طرح ایک فلاپ فلم بیراگ کاذکر بھی بے جانہ ہوگا ۔دلیپ کمار نے اس میں تین مختلف رول اداکئے تھے۔ اس فلم کاوہ منظر جس میں دلیپ کمار(بیٹا)،دلیپ کمار (باپ)کے قدموں میں جھکتاہے…یہاں دلیپ کمار (بیٹا) کے چہرے کااتار چڑھاؤ اور باڈی لینگویج نے اس منظرکولافانی بنادیا۔
اس طرح کے جادوئی فنکارانہ نمونے ہمارے ادب میں کم نہیں……یہاں ہمارا مقصد مشرف عالم ذوقی کے افسانہ ’پانی‘کے متعلقہ طلسمی فنّی پہلو کی وضاحت مقصودہے۔
لیکن یہ طے ہے کہ دلیپ کماکی باڈی لینگویج کی کرشمہ سازی ہوکہ شوکت صدیقی کاصورت حال پردسترس اورقدرت کاکمال یا ذوقی کے بین السطور کے ذریعے ان کہی کوکہی کی جادوئی ہنرمندی۔سبھوں کو سیپ میں موتی بننے کی صعوبت اوراذیت تو جھیلنی ہی ہوتی ہے۔
فکروفن کی بے پناہ قوت اورمنفرد و متنوع ڈکشن سے مزین ،یہ افسانہ بین السطور میں کئی اہم وضاحتیں سموئے ہوئے ہے۔ لہٰذامیں کہہ سکتا ہوں،افسانہ ’پانی‘دراصل وہ قطرۂ شبنم ہے جو موتی بننے کے پروسیس میں ’جنبش‘ کررہا ہے۔!
Mob: 9801527481
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

