نا معلوم لاش/نجیب محفوظ – ترجمہ: فیصل نذیر

by adbimiras
0 comment

 

نوبیل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ کا ایک شاہکار افسانہ "حادثة” کا اردو ترجمہ.

وہ اجنبی دکان کے فون سے بآواز بلند گفتگو کر رہا تھا، بازار میں موجود شور و غوغا کے باوجود اس اجنبی کی آواز صاف سنی جاسکتی تھی. گاڑیوں کے شور سے بچنے کے لیے اس نے اپنے آدھے جسم کو دکان کے اندر کی طرف گھسا رکھا تھا. پھر اس نے یہ کہتے ہوئے ریسیور رکھ دیا کہ "میرا انتظار کیجئے، میں جلد ہی آنے والا ہوں”.

اس اجنبی نے فون رکھ کر پیسے ادا کیے اور سڑک کی طرف رخ کر کے چلنے لگا.

اس کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہوگی، طویل قامت، دبلا بدن، روشن چہرہ و پیشانی. سر کے بال نہیں تھے. چہرے پر ایک وجاہت تھی. ظاہر سے ایسا لگ رہا ہے تھا کہ یہ شخص زندگی کی پریشانیوں اور تنگیوں سے گذر کر راحت کی طرف بڑھ رہا تھا، اور اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی.

کچھ دیر کے لیے ایسا لگا جیسے وہ خود میں کھویا ہو، اور سڑک سے بے خبر ہو، اور اس کے بائیں جانب بہت سارے ٹرک کھڑے تھے. اس اجنبی کو سڑک عبور کر نے کے لیے ایک جگہ دکھی، جس سے وہ سڑک کی دوسری جانب جانا چاہتا تھا. وہ ٹرکوں سے تھوڑا سا آگے سڑک پر بڑھا تھا کہ اس نے اچانک دیکھا کہ ایک کار تیزی سے اس کی جانب آرہی ہے.

چشم دید گواہوں کا کہنا تھا کہ اس اجنبی کو چاہیے تھا کہ وہ جلدی سے پیچھے کی طرف پلٹ جائے، اگر وہ فوراً لوٹ گیا ہوتا تو کار کی تیزی کے باوجود بچ جاتا. لیکن بد حواسی اور بد قسمتی کی وجہ سے وہ آگے کی طرف بڑھنا چاہا اور حادثے کا شکار ہوگیا.

اس اجنبی نے ایک زور کیچیخ ماری، جسے وہاں موجود سبھی لوگوں نے سنی،دیگر مسافر اس شخص کی طرف دوڑے، اور کچھ ہی لمحوں میں اس کے ارد گرد لوگوں کی ایک دیوار بن گئی. اس اجنبی میں کوئی حرکت نہیں تھی، وہ منہ کے بل پڑا ہوا تھا،کوئی بھی اسے ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا، اس کا ایک پیر لمبا پھیلا ہوا تھا اور دوسرا سمٹا ہوا تھا، اور آس پاس جمع لوگوں کی اس پڑے ہوئے شخص کو کوئی خبر نہیں تھی.

وہ اجنبی کئی میٹر اوپر کی طرف اڑا تھا اور پھر زمین پر دھڑام سے گر گیا تھا، کار والے نے کار روکا اور اتر کر لوگوں سے کہنے لگا: میری کوئی غلطی نہیں ہے، وہ ہی ٹرک کے پیچھے سے اچانک سامنے آگیا. کار والے کی بات سن کر سب پر خاموش چھائی رہی.

تو اس نے پھر کہا: بریک مارنے اور گاڑی روکنے کی مہلت ہی نہیں ملی.

اس نے بے حس پڑے شخص سے کراہنے کی ایک آواز سنی اور پھر وہ خاموش ہوگیا.

بھیڑ سے آوازیں آ رہیں تھی.

"ارے، ابھییہ مرا نہیں ہے، شاید تھوڑا ہی لگا ہے”.

"لیکن یار! یہ بہت اوپر اڑا تھا، اور آواز بھی ایکدم دھماکے جیسی آئی تھی”.

"اللہ کا شکر ہے، کہیں سے خون بہتا نظر نہیں آرہا ہے”.

"ارے اس کا منہ کھول کر دیکھو”

"اس ہائوے پر تو اس طرح کے حادثے ہوتے رہتے ہیں”.

پولیس جلد ہی پہچ گئی، اس کو راستہ دیا گیا،پولیس لوگوں سے ہٹنے کو کہہ رہی تھی. پولیس آ کر خاموشی سے اس اجنبی کا جائزہ لینے لگی، پیچھے سے کسی نے کہا: اس کو جلدی سے اسپتال لے جایا جائے ورنہ مر جائے گا. پولیس نے سخت لہجے میں جواب دیا: ہم ہاتھ لگائیں گے تو اور جلدی مر جائے گا، میڈیکل ایکسپرٹ اور ایمبولینس اور پولیسبس پہنچنے ہی والے ہوں گے.

حادثہ سڑک کے بیچ و بیچ ہوا تھا، لہذا لوگوں نے ہجوم کی وجہ سے گاڑیوں کو دوسری طرف سے موڑنا شروع کر دیا. وہیں پر ٹرام (ٹرین) کی پٹری بھی تھی، کئی ٹرینیں آکر رک گئیں تھیں، اور انہیں بہت دھیرے دھیرے راستہ مل رہا تھا، اور بلا فائدہ گھنٹی بجا رہی تھی. اور ٹرام میں بیٹھے لوگ بھی اپنی پریشانیوں اور ٹرام کی مسلسل بج رہی گھنٹی کو نظر انداز کر کے اٹھ اٹھ کر کھڑکی سے اس زخمی شخص کو دیکھ رہے تھے.

پولیس کی گاڑی سائرن کے شور کے ساتھ آئی،  پولیس اسٹاف اس زخمی شخص کے پاس گئے، پولیس نے سختی کا استعمال کرتے ہوئے بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی. پولیس کے لوگوں نے اس شخص کا معائنہ کیا. پولیس آفیسر نے پوچھا: ایمبولینس کہاں رہ گئی؟یہ سوال کسی خاص شخص سے نہیںتھا اسی لیے جواب کی توقع کیے بغیر اس نے پوچھا: کوئی چشم دید گواہ ہے؟

جوتا پولش کرنے والے، ٹرک چلانے والے اور کباب بیچنے والے کے بچے کو حاضر کیا گیا. ان سب نے پورا واقعہ بیان کر دیا.

ایمبولینس پہچ گئی، اور میڈیکل اسٹاف نے اس شخص کو چاروں طرف سے گھیر لیا، ایک بڑے ڈاکٹر نے سڑک پر اوکڑو بیٹھ کر اس کا معائنہ کیا، پھر اٹھ کر پولیس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا: میرے خیال میں اسے جلدی سے ایمبولینس میں ڈال کر قریب کے "دمرداش” نامی ہاسپٹل میں منتقل کیا جائے.

جس لہجے میں ڈاکٹر نے کہا کہ "معاملہ نازک لگ رہا ہے”، پولیس آفیسر اس سے سمجھ گئے کہ شاید بچنے کی امید کم ہی ہے.ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں جائزہ لینے کے لیے اسے بستر پر لٹا دیا گیا، رات کافی تاریک ہوچکی تھی، ہاسپٹل کے ڈائریکٹر نے خود ہی جائزہ لیا، پھر وہ اپنے اسسٹنٹ سے بولے: اس کے بائیں پھیپھڑے میں گہری چوٹ آئی ہے، جس سے دل پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے.

آپریشن کی تیاریاں کی جائے؟

ڈاکٹر نے چپ چاپ سر ہلاتے ہوئے ناامیدی سے کہا: اس کی روح نکل رہی ہے.

ڈاکٹر کی بات بالکل درست ثابت ہوئی، اس اجنبی نے ایک حرکت کی، جیسے کہ کرنٹ لگنے پر انسان کرتا ہے، اور درد سے کراہتے ہوئے سینے کو اٹھایا اور پھر ایک ہلکی سی چیخ نکالی اور ٹھنڈا ہوگیا. وہ دونوں ڈاکٹر جو وہاں کھڑے تھے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: مر گیا.

پولیس والا داخل ہوا اور وہ اجنبی اپنے پورے لباس میں لیٹا ہوا تھا مگر ایک جوتا اب تک اس کے پیر میں نہیں تھا.

ڈاکٹر نے کہا :یہ روڈ ایکسیڈنٹ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے!. پولیس نے مرحوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گواہوں کی گواہی سے بھی اسی شخص کی لاپرواہی اور غلطی کا پتہ چلتا ہے. پھر وہ اس کے قریب آیا اور بولا: شاید اس کے جیب میں کچھ ایسا ہو جس سے اس کی پہچان کیجا سکے. پولیس نے اپنی کاروائی شروع کی اور پولیس کانسٹیبل رجسٹر کھول کر مرحوم کے کیس کی تفصیلات لکھنے لگا.

پولیس آفیسر نے نرمی سے اس کی جیکٹ میں ہاتھ ڈالا، اور کانسٹیبل کو بیچ بیچ میں لکھوا بھی رہا تھا.اس کی جیب سے ایک پرس نکلا، پولیس نے کانسٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: 45 روپیہ، اور کسی ڈاکٹر فوزی سلیمان کا پرسکرپشن ہے. پولیس نے دواؤں کے نام پر ایک سرسری نظر نظر ڈالی، پھر اس نے پرسکرپشن کو پلٹ کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا؛ انڈا اور تلا ہوا سامان منع ہے، کافی، چائے اور چاکلیٹ سے بھی احتیاط بہتر ہے. پولیس من ہی من میں مسکرانے لگا، کیونکہ اسی طرح کی ہدایات اسے بھی ڈاکٹر سے ملی ہوئی تھی.

پھر اس نے تلاش جاری رکھتے ہوئے پرس کا سامان نکالنا شروع کیا. قرآن مجید کے کچھ سورتوں کی ایک چھوٹی سی کتاب تھی، جب اسے پرس میں مزید کچھ نہیں ملا تو اس نے کانسٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: کوئی بھی شناختی کارڈ ID نہیں ہے. پھر اس نے اندر کے جیبوں کی تلاشی شروع کر دی، اور اچانک پر امید آواز میں بولا: ہاں!! ہے کچھ، چند سکے ہیں، چابھیوں کا ایک گچھہ ہے، گھڑی ہے، اور اخیر میں ایک صفحہ ملا جو مڑا ہوا تھا، جب پولیس نے اسے پھیلایا تو دیکھا کہ وہ ایک خط تھا، جسے ابھی لفافے میں ڈال کر پوسٹ کرنا باقی تھا.

پولیس نے اسے پڑھنا شروع کر دیا اس امید میں کہ شاید اس اجنبی شخص کے اہل خانہ اور اس کے گھرکا پتہ وغیرہ معلوم ہو سکے.سب سے پہلے اس نے خط کے نچلی طرف دیکھا، جہاں دستخط اور نام موجود ہوتا ہے، مگر وہاں صرف لکھا تھا "تمہارا بھائی عبد اللہ”. پھر اس نے اوپر کی جانب دیکھا، وہاں لکھا تھا "پیارے بھائی؛ اللہ تمہیں سلامت رکھے”. پولیس قدرے ناامید ہوئی، لیکن مزید امید میں اس نے خط پڑھنا شروع کیا.

"پیارے بھائی؛ اللہ تمہیں سلامت رکھے، آج کا دن میرے لیے نہایت ہی خوشی کا دن ہے، میری ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگئی”.

پولیس نے فوراً اوپر کی طرف لکھی تاریخ کو دیکھا، اسی دن کی تاریخ درج تھی، اس نے اجنبی کی طرف دیکھا جو مجسمے کی طرح ساکت و جامد پڑا ہوا تھا، جس کی آج ہی بڑی حسرت پوری ہوئی اور بڑی کامیابی ملی اور آج ہی چل بسا.

پھر اس نے ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر پوچھا: کیا اس بات کوئی سراغ ملتا ہے؟

پھر ایک ناکام مسکراہٹ کے ساتھ خط آگے پڑھنا شروع کردیا.

"میرے دل سے آج ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا، اللہ کا شکر ہے، اور آج میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں، میری بیٹیاں امینہ، بہیّہ اور زینب سب خوش و خرم اپنے سسرال ہیں، اور میرے بیٹے علیکی بہت اچھی نوکری لگ گئی ہے،اور جب میں پچھلے زمانے کی تنگدستی اور پریشانیوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو خدا کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں”.

پولیس نے پھر اس بے جان شخص کو دیکھا جو اپنی خاموشی اور پر اسراریت سے لوگوں کے دل میں دہشت ڈال رہا تھا،

” میری ساری الجھنیں، خدشات اور پریشانیاں ختم ہوگئیں اور بہت سوچنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اپنی نوکری چھوڑ کر گاؤں میں کچھ وقت گزاروں، تا کہ وہاں کی آب و ہوا میں میری صحت بھی اچھی رہے گی، اب میری تنخواہ اور پینشن میں زیادہ فرق نہیں ہے، اسی لیےمیں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں پینشن ہی لے لوں، بہت جلد میں گاؤں آرہا ہوں، اور پھر عبد التواب کے گھر قہقہوں کی محفل میں شرکت کی جائے گی، اور یہاں حالات بہت اچھے ہیں، میں بھی اچھا ہوں، اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے ".

پولیس نے خط کو موڑتے ہوئے کہا: یہ کوئی نوکری پیشہ انسان ہے. ڈاکٹر نے کہا: ضروری کارروائی کر لی جائے، اور اگر بر وقت کوئی گھر سے آجائے تو مردہ خانہ سے لاش ان کے حوالے کر دی جائے گی.

 

 

You may also like

Leave a Comment