ایوان غالب میں سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز غالب سمینار جاری
14/ اکتوبر 2023
اردو کے عالمی شہرت یافتہ ادارے غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کا سلسلہ جاری ہے۔ سمینار کے دوسرے روز چار اجلاس میں ملک کی معروف دانش گاہوں سے آئے ریسرچ اسکالر نے مقالات پیش کیے۔ پہلے اجلاس کی صدارت شعبہئ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر شہزاد انجم نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ ریسرچ اسکالر سمینار میں مقالہ پڑھنا ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ ملازمت کے بعد تو اس طرح کے مواقع آتے رہتے ہیں لیکن اس سے پہلے موقع آسانی سے نہیں ملتا۔ یہ تربیت کا اچھا موقع ہوتا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب زماں طارق نے کی اور محترمہ شہلا پروین نے’اکیسویں صدی میں غیر افسانوی نثر کا تنقیدی جائزہ‘، محترمہ مبینہ بی نے ’عہد حاضر کے سماجی مسائل اور اردو افسانہ‘، جناب عبید اللہ نے ’متنبی اور غالب کی غزل گوئی کا تقابلی مطالعہ‘، جناب محمد عادل نے ’زینت اللہ جاوید کی شاعری کا تنقیدی جائزہ‘، جناب سعید الرحمٰن انصاری نے ’مجتبیٰ حسین کی طنزو مزاح نگاری /مرزا غالب کے حوالے سے‘، اور جناب شاہد اقبال انصاری نے ’بنگال میں اردو سفرنامے: چند تجزیاتی زاویے‘، کے موضوع پر مقالے پیش کیے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر عفت زریں نے کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ریسرچ اسکالر سمینار کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ملک کی مختلف دانش گاہوں میں ہونے والی تحقیق کے موضوعات اور تحقیق کی صورت حال سے ہم واقف ہو جاتے ہیں۔ یہ طلبا ہی نہیں اساتذہ کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب یوسف رضا نے کی اور محترمہ شگفتہ جہاں نے ’مغربی بنگال کے اردو ناولوں میں ہندوستانی تہذیب و معاشرت کی عکاسی‘، محترمہ ترنم آرا نے’اماوس میں خواب: مذہبی و تہذیبی شکست و انتشار کا بیانیہ‘، جناب محمد عطا اللہ نے ’آزادی کے بعد اردو کے تاریخی ناولوں کی معنویت و اہمیت‘، جناب عمران نے’ترقی پسند تنقید کے ادبی تصورات‘، اور جناب کفیل احمد نے’اردو تحقیق کی تاریخ‘ کے موضوع پر مقالات پیش کیے۔ تیسرے اجلاس کی صدارت شعبہئ فارسی دہلی یونیورسٹی کی استاد ڈاکٹر مہتاب جہاں نے فرمائی صدارتی تقریر میں انھوں نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کا امتیاز یہ ہے کہ اردو اسکالرس کے ساتھ فارسی کے اسکالرس بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پورا موقع دیتا ہے۔ اس طرح اردو اور فارسی کے اسکالرس کو ایک باہمی رابطے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ چوتھے اجلاس کی صدارت ذاکر حسین کالج کے استاد پروفیسر مظہر احمد نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ تحقیق میں تازگی اور اخذ نتائج ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ پرانی چیزوں کو دہرا ر ہیں تو وہ تحقیق نہیں ہو سکتی، اسی طرح اگر محض اطلاعات جمع کر دی ہیں تو وہ بھی تحقیق نہیں ہے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب محمد مدثر نے کی اور محترمہ تکمینہ حبیب نے ’کلیات انشا میں مستعمل تلمیحات و اصطلاحات‘ جناب محمد دانش نے ’نظمِ اقبال میں فطرت کے متعدد رنگ‘، جناب صدام حسین نے ’اردو اصناف سخن میں صنف ’قصیدہ‘کا مقام‘، جناب محمد عمران رضا نے ’موضوع: مکتوباتِ شاہ پیر محمد لکھنوی؛ ایک تجزیاتی مطالعہ‘ جناب محمد فیصل خاں نے ’قاضی عبدالستار کا ناول ’دارا شکوہ‘ ایک ناقدانہ جائزہ‘ جناب انصاری عبدالرحمٰن نے ’عمادالسعادت کا تنقیدی مطالعہ‘، اور جناب نور اللہ نیازمدنی نے ’مولانا عبدالسلام ندوی کی تاریخی سوانح عمریاں: ایک تنقیدی جائزہ‘، کے موضوعات پر مقالے پیش کیے۔ سمینار کے بقیہ اجلاس کل 15/ اکتوبر کو صبح 10 بجے سے شام 5/ بجے تک منعقد ہوں گے۔
تصویر میں دائیں سے: پروفیسرشہزاد انجم، جناب زماں طارق، جناب شاہد اقبال انصاری، جناب سعید الرحمٰن انصاری، جناب محمد عادل، جناب عبید اللہ، محترمہ مبینہ بی، اور محترمہ شہلا پروین
—
Ghalib Institute,
New Delhi -110002 (INDIA)
Ph. 91-11-23232583 , 23236518
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

