غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز غالب سمینار 15 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوا۔ سمینار کے تیسرے اور آخری دن چار اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت معروف فکشن ناقد ڈاکٹر خالد اشرف نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ تنقیدی و تحقیقی بصیرت وقت کے ساتھ پروان چڑھتی ہے لیکن پہلی منزل زبان کی صحت ہے۔ میں نے اپنے اساتذہ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی تحریر اپنے ساتھیوں کو دکھاتے تھے حالانکہ انھیں اس کی خاص ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا اگر طلبا بھی اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کو اپنی تحریر دکھائیں تو وہ بہتر نثر لکھ سکیں گے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب چاند رضا نے کی اور جناب محمد افروز رضا، جناب ارشد علی، جناب عبدالقدوس، محترمہ عظمیٰ پروین، محترمہ سنیتا کماری، محترمہ زرینہ نے مقالات پیش کیے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت شعبہ ¿ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر سید کلیم اصغر نے کی۔ صدارتی تقریر میں انھوں نے کہا کہ فارسی زبان کی کم از کم مبادیات کا علم کلاسیکی ادب پر کام کرنے والوں کے لیے لازم ہے۔ اس طرح کے سمیناروں کی افادیت یہ بھی ہے کہ اس میں اردو اور فارسی اسکالرز اکٹھا ہوتے ہیں اور باہمی رابطے کی ایک صورت پیدا ہوتی ہے۔ فارسی میں ادب اطفال کی روایت بہت مستحکم ہے میرا خیال ہے کہ ادب اطفال پر کام کرنے والے اگر فارسی کے ادب اطفال کو سامنے رکھیں تو ان کا کام زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب محمد افضل زیدی نے کی اور محترمہ فاطمہ سادات میر حبیبی، محترمہ مریم علی زادہ (ایران) محترمہ کمالہ (ازبکستان)، جناب محمد مرجان علی، اور محترمہ یاسمین فردوس نے مقالات پیش کیے۔ تیسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر فیاض محمود ہاشمی نے فرمائی اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ طلبا نے اپنے اپنے موضوع پر بڑی محنت سے مقالے لکھے اور ان کی پیشکش بھی قابل تعریف تھی۔ تحقیق کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے اسلاف کی تحریروں کو بغور پڑھیں اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا موضوع سے متعلق تمام ضروری اطلاعات آپ کے پاس جمع ہو جائیں گی اور تحقیق کے طریقوں سے بھی آشنائی ہو جائے گی۔ اس اجلاس میں جناب محمد شکیل، جناب جسپریت سنگھ، جناب شاہنواز عالم اور جناب محمد حنبل رضا نے مقالے پیش کیے اور نظامت کا فریضہ جناب فیضان الحق نے ادا کیا۔ سمینار کے آخری اجلاس کی صدارت ڈاکٹر لئیق رضوی نے فرمائی۔ انھوں نے کہا کہ تحقیق کی افادیت اس وقت ہوتی ہے جب موضوع کے علاوہ اس کے متعلقات سے بہتر آگہی ہو۔ سندی تحقیق کے دوران اپنے موضوع کو تو آپ پڑھتے ہی ہیںلیکن موضوع کے متعلقات پر آپ جتنے حاوی ہوں گے تحقیق اتنی ہی مفید ہو گی۔ اس اجلاس کی نظامت جناب رئیس احمد فراہی نے کی اور جناب حشمت علی، جناب محمد انظر، جناب ٹیپو سلطان اور جناب طاہر حسین نے مقالے پیش کیے۔ سمینار کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں دور دراز دراز سے تشریف لائے اور دہلی کے تمام ریسرچ اسکالرز، صدور اور ناظم اجلاس کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کے روشن مستقبل کے لیے میری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔
تصویر میں دائیں سے: محترمہ فاطمہ سادات میرحبیبی، جناب محمد افضل زیدی، جناب محمد مرجان علی، پروفیسر سید کلیم اصغر، محترمہ مریم علی زادہ، محترمہ کمالہ،محترمہ یاسمین فردوس
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

