گزشتہ دنوں ۶جولائ کو علمی مجلس پٹنہ کے زیر اہتمام نوشابہ خاتون کی کتاب یہ سرحدیں (ناولٹ)کا اجراء گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ میں ہوا جس کی ترتیب و پیشکش کی ذمہ داری قطر میں مقیم شاعر و ادیب احمد اشفاق نے لی تھی اور اشاعت کا بیڑا ممبئ میں مقیم معروف صحافی ندیم صدیقی نے اٹھایا۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے بہار اردو اکیڈمی کے سابق سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کہا کہ نوشابہ خاتون کے اس ناولٹ میں تقسیم کا درد پنہاں ہے جو ۱۹۴۷ء سے آج تک جاری ہے،تقسیم کے بعد مسلمانوں نے پایا تو کچھ نہیں لیکن کھویا بہت زیادہ،انہوں نے ہجرت کے کرب کو سلیقے سے بیان کیا ہے۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین ارشد فیروز نے کہا کہ یہ سرحدیں ہندوستان کی جد وجہد آزادی ، ملک کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات و واقعات بشمول مذہبی اقلیتوں کی ہجرت،نقل مکانی اور دربدری کے پس منظر میں لکھا گیا ہے،یہ ناولٹ اس لحاظ سے بھی قابل مطالعہ ہے کہ اس میں جن حالات و واقعات کی نشاندہی کی گئ ہے وہ تاریخی حقائق سے بھی نزدیک تر ہیں۔
مہمان اعزازی کی حیثیت سے شامل سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اکبر رضا جمشید نے کہا کہ نوشابہ خاتون نے حصول آزادی کے بعد سرحدوں پر پھوٹ پڑنے والے فسادات اور خوف ودہشت کی حقیقی تصویر کشی نہایت ہی عمدہ اور تخلیقی انداز سے کی ہے۔
یہ سرحدیں(ناولٹ) کے مرتب اور مہمان اعزازی قطر سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر و ادیب نے اس موقع پر کہا کہ نوشابہ خاتون نے حقیقت سے یہ ناولٹ کشید کیا ہے اور اس عمل میں انہوں نے انسانی قدروں کو پامال نہیں ہونے دیا بلکہ اس ناولٹ کی بنیاد ہی اسی پر قائم ہے۔
اس موقع پر شاعر وادیب شمیم قاسمی نے کہا کہ محترمہ نوشابہ خاتون نے انسانوں کے درمیان ایک دوسرے سے محبت و یگانگت کا درس دیا ہے جس کی ہمیں داد ہی نہیں دینی چاہئے بلکہ اس جذبے اور اس عمل کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، اس موقع سے اظہر الحق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
نظامت کی ذمہ داری علمی مجلس بہار کے بے حد فعال سکریٹری پرویز عالم نے بخوبی انجام دی۔
تقریب رسم اجراء کے پہلے حصہ کے آخر میں مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شامل مصنفہ کے صاحبزادہ سرمد احمد نے تقریب کے انعقاد پر منتظمین اوربطور خاص پرویز عالم کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کا دوسرا حصہ شعری نشست پر مشتمل تھا، شعراء و شاعرات کے منتخب اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
اب فضاؤں میں صیاد اڑنے تو دے
میرے پر نہ کتر جو ہوا سو ہوا۔
(افتخار عاکف)
گردن پکڑ رہے ہیں ممولے عقاب کی
غدار پوچھتے ہیں کہ غدار کون ہے۔
(یاور راشد یاور)
شوق شیشہ گری کا ہے سب کو
کام آسان کون کرتا ہے۔
(مشتاق سیوانی)
ترا گھر مقفل ہوا ہے تو جانا
ترے گھر سے آگے کماں اور بھی ہیں۔
(نشاط فاطمہ)
یاد اس کی آگئ جب درمیان گفتگو
چشم نازاں میں اسی دم آگئ برسات ہے۔
(ڈاکٹر شمع یاسمین نازاں)
جلی تھی جو بستی وہ بجھ بھی گئ
فضاؤں میں اڑتا دھواں رہ گیا۔
(طلعت پروین)
ضبط کی آخری منزل کا پتہ پوچھا تھا
آئینہ چیخ اٹھا مجھ میں سماؤ آؤ۔
(کامران غنی صبا)
ہنستے ہوئے دیوانے زنجیر سے ملتے ہیں
یہ عشق کے تمغے ہیں تقدیر سے ملتے ہیں۔
(کاظم رضا)
تقسیم گھر کو کرنے سے پہلے یہ سوچ لو
ایسا نہ ہو بڑھاپے میں بیٹا نکال دے ۔
(معین گریڈیہوی)
گٹھلیاں گن گن کے نہ گھبرائیے
جتنا ملتا جائے کھاتے جائیے۔
(عرفان احمد بلہاروی)
لبوں کی دل خراشیاں جگر کی جاں گدازیاں
نفس نفس میں ہے تری ہی زندگی ہے میری جاں ۔
(راشد اعظم)
صدا حسان بن ثابت کا جو مداح ہو جائے
وہی سعدی، وہی اشرف،وہی خیام ہوتا ہے۔
(م۔اشرف)
شاعری میں زبان کا جادو
اور تاثیر ہے موسم کی اپج۔
(شمیم قاسمی)
عیب جوئ جو کیا کرتے ہیں اوروں کی یہاں
ہے حقیقت یہ شمع ان میں ادب کچھ بھی نہیں۔
(شمع کوثر شمع)
سودا رکھا ہے سر میں نگہ میں جنوں لئے
لفظوں کا نیا زاویہ سحر و فسوں لئے۔
(ڈاکٹر اویناش امن)
رنگ ہلکا بھی اسے شوخ بنا دیتا ہے
تجربہ میرا بھی ہے آپ بتائیں پہلے۔
(ڈاکٹر بسمل عارفی)
تکتا رہتا ہوں میں اچھوں کی طرح اچھوں کو
اس کا مطلب ہے کوئ شخص ہے اچھا مجھ میں۔
(احمد اشفاق)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

