نہیں ہے ڈر ہمیں اب کسی بات کا
لگا لے زور جتنا چاہے میرے ہمدم
ہواؤں کو بہنے سے روک سکا ہے کوی
بہتے پانی کا کیا ہے بس ایک ہی منزل
پرندوں کو پرواز سے ہے کیسا ڈر
مت کر ہم پر ظلم درظلم تو اتنا ساتھی
کہ نہیں ہو خوف ہمیں تیری ذات سے
ہم نہیں جھکے گے، ہم نہیں جھکے گے
تیری غلامی کا پٹہ ہم نہ پہنے تھے، نہ پہنے گے
آزمانا ہے تو بارہا آزما کے دیکھ لے
ایک نہیں میرے یار ہزار بار دیکھ لے
بھوک، پیاس، روزی روٹی اور مکان
نہیں ہے ہمکو تجھ سے کبھی ان کا امکان
گر ہو ضرورت تو ہم بدل لینگے اپنا آشیانہ
مگر ہم لکھ کر رہینکے تیرے ظلم کا فسانہ
کہ لہو پکارتا ہے ہمکو کہ ہم تیرے ہیں
مگر افسوس تیری آنکھوں میں چھاے اب اندھیرے ہیں
از: افتخار زاہد
پتہ: فتح پور ویلیج روڈ، کولکاتا:24

