والد محترم سر عقیدت میں خم
تو نے ہر حال رکھا ہمارا بھرم
تیری قربانیوں کا نہ بدلہ کوئی
تو ہے رب کا وہ بے مثل چشم کرم
تو ہی مانند سایہ شجر دار ہے
دست شفقت اگر ہے تو پھر کیسا غم
تیری رس گھولتی ساری باتیں گئیں
سسکیاں ہیں بندھی اور آنکھیں ہیں نم
تیری بے باک جرأت کو کیا نام دوں
شیر رخصت ہوا دے کر رنج و الم
رحم کر ان پہ مولا تو غفار ہے
اور خلد بریں میں دے جاہ و حشم
زندگی کچھ نہیں بس تری آس ہے
رہ میں سومی کے ہیں ان گنت پیچ و خم
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ

