وہ مہر وفا صدق صفا اور سخنور
اخلاص کا پیکر ہے وہ ماہ منور
خمدار ہوں گیسو کہ ہو ابر میں مہتاب
رخسار کی تابانی ہو اور مشک معنبر
ہو لب پہ صداقت کی مہک دل میں سخاوت
مسکان ہو ایسی کہ ہو دشمن بھی محیر
قرآن ہو ناطق یہی اعزاز نبی ہے
رب جس کی کرامت کو کرے ایسے اجاگر
شمشیر صفت آہنی ہو عزم بصیرت
اخلاق کی خوشبو سے ہو ہر شخص معطر
نرمی ہو کہ ایسی کہ بیباک عدو ہوں
توحید کے میدان میں ہو مثل غضنفر
سومی تو کہاں جرأت اظہار کرے ہے
وہ مرد مجاہد جو ہو رب کا مطہر
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

