پرویز شہریار کا اصلی نام سید پرویز احمد ہے۔ جمشید پور میں 10؍جنوری 1964کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جمشیدپور اور اعلیٰ تعلیم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں حاصل کی۔ فی الحال نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ نئی دہلی جیسے اہم بڑے نصابی تعلیمی ادارے میں ایڈیٹر ی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شاعری اور افسانہ نویسی میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان میں محنت، لگن، شرافت، دیانتداری، متانت اور ادب سے اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کا کام لینے کی للک ہے جو ایک مستحسن جذبہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں آج جبکہ منافقت نے کئی روپ دھارن کیے ہیں اور معاشرے میں دوستی کے نام پہ دشمنی اور شکم پروری کی خاطر ضمیر فروشی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے دور میں کسی ایسے شاعر و افسانہ نگار کی ادبی دنیا میں آمد مسرت آگہی ہی کہی جائے گی۔ پرویز شہریار نے اپنے فن پارے میں لفظ ومعانی کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے اس بات کی شعوری طور پر کوشش کی ہے کہ میری نوکِ قلم سے کوئی ایسا لفظ نہ لکھا جائے جو غیر موزوں ہو۔ در اصل ہر قلمکار قوم کی امانت ہوتا ہے۔ اس لیے تخلیقی وغیر تخلیقی ادبی عمل ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ پرویز شہریار کا مطالعہ اور مشاہدہ حیات وکائنات کسی حد تک تسلی بخش ہے۔ اپنے ادب پاروں میں اُنھوں نے نہ صرف اپنے ذاتی درد وکرب کو تخلیقی پیرائے میں بیان کیا ہے بلکہ وہ دروں بینی کے ساتھ جہاں بینی کا بھی ادراک رکھتے ہیں۔ پرویز شہریار چونکہ شعری مزاج کے ساتھ ساتھ کہانی مزاج کے بھی حامل ہیں چنانچہ اُن کے دو افسانوں کے مجموعے ’’بڑے شہر کا خواب‘‘ اور ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ چھپ چکے ہیں۔ ثانی الذکر مجموعہ میرے زیرنظر ہے۔ جس میں کل بارہ طویل افسانے ہیں جن کے نام اس طرح سے ہیں۔ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘، ’’لِوان ریلیشن سے پرے‘‘، ’’سہاگ کا خون‘‘،’’ ہم وحشی ہیں‘‘، ’’رشتوں کی بے اعتنائی‘‘، ’’ دس سروں والا بجوکا‘‘، ’’سیلوا جڈوم کہاں جائیں‘‘،’’ کتنا دلکش ہے فریب محبت‘‘،’’ شادی کے سات سال بعد‘‘،’’بتولن کیسے ڈائن بن گئی‘‘، ’’سونیا بوٹیک‘‘ اور ’’شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرم‘‘ یہ تمام افسانے طوالت میں ادبی لطافت لیے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں میں کچھ کے عنوانات اتنے تجسس آمیز ہیں کہ قاری پوری ذہنی آمادگی اور یکسوئی کے ساتھ ان افسانوں کو پڑھنا چاہتا ہے۔ زیر نظر افسانوں کا مجموعہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کا ظاہری حُسن نہایت دیدہ زیب اور پرُکشش ہے۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے2014 میں اسے چھاپا ہے۔
جہاں تک پرویز شہریار کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے تو میں نے اُن کے افسانے پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری سے کافی متاثر ہیں اور متاثر بھی کیوں نہ ہوتے جبکہ انھوں نے منٹو اور عصمت کے افسانوں میں عورت کا تصور کے موضوع پر ایم۔فل کا مقالہ لکھا ہے۔ عورت، مرد، جنس، سماجی اقدار، انسانیت، بھائی چارہ اور سائنسی وتکنیکی ترقی میں آج کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُن تمام اقدار و روایات کا جنازہ نکال رہے ہیں جن کے پاس ولحاظ سے معاشرے میں امن وسلامتی، شرم وحیا، احترام آدمیت اور ایک طرح کا خوشگوار ماحول قائم رہا کرتا تھا۔ پرویز شہریار نے ان موضوعات پہ اپنا تخلیقی بیانیہ اُستوار کیا ہے۔ مجھے یہ جان کر انتہائی مسرت ہورہی ہے کہ پرویز شہریار کے تازہ افسانوں کے مجموعہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘کے بارے میں نہ صرف ملکی سطح کے مقتدر تخلیق کاروں نے تحریری طور پر اظہار خیال کیا ہے بلکہ سبین علی (جدہ سعودی عربیہ) سلمیٰ جیلانی (نیوزی لینڈ) ناصر صدیقی (کراچی پاکستان) جاوید مرزا (کینیڈا) اور وحید قمر (برطانیہ) جیسے بیرونی ممالک میں رہائش پذیر اہل نقد ونظر نے بھی اپنے اپنے تاثرات سے مذکورہ مجموعہ کی زینت بڑھائی ہے۔ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ شامل افسانے ایک دو افسانوں کو چھوڑ کر بقیہ تمام افسانے کافی طویل ہیں۔ میرے نزدیک طویل یا مختصر افسانہ لکھنا یا پڑھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ میں تو دوران قرأت اس چاہ میں رہتا ہوں کہ کوئی کہانی (طویل یا مختصر) مجھے کس حد تک متاثر کرتی ہے، اُس میں فنی لوازمات کے التزام کے ساتھ کتنی صداقت و آفاقیت موجود ہے۔ مانا کہ عصری سماج ومعاشرت میں طویل کہانیاں لکھنے اور پڑھنے کا رواج بہت حد تک ختم ہوچکا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ در اصل کہانی طویل یا مختصر اپنے موضوع کی بنیاد پہ ہوتی ہے۔ موضوع جتنا اہم اور بڑا ہوگا کہانی اُسی کی بنیاد پر طویل ہوگی۔ یہی بات ناول نگاری پر بھی صادق آتی ہے۔ میں وثوق سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ پرویز شہریار اپنی طویل کہانیوں میں جھول پیدا نہیں ہونے دیتے۔ کہانی میں واقعاتی ربط وتسلسل برقرار رکھنا، کرداروں کی نقل وحرکت اور مکالماتی لمحوں میں محتاطی برتنا آغاز و انجام میں تحیر وتجسس یہ تمام عناصر وعوامل جب فنی ترتیب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتے ہیں تو یقیناً جاندار کہانی وجود میں آتی ہے جو قاری کے ذہن ودل کو جھنجھوڑتی ہے اور اُسے متاثر کرتی ہے۔ پرویز شہریار کے افسانوں کا ایک اختصاصی پہلو جس نے مجھ جیسے کم علم اور ادبی زبان کے رسیا کو بہت زیادہ متاثر کیا وہ اُن کے افسانوں کی لفظیات ہے۔ زبان وبیان کے معاملے میں اُنھوں نے نہایت سنجیدگی سے کام لیا ہے۔ ایک تخلیق کار کو زبان وبیان کے برتاؤ کے معاملے میں نہایت چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کس لفظ کے قاری کیا معانی نکالے گا اور اُس کی سائشتگی پر کیا اثر پڑے گا۔ دورانِ تحریر اس بات کا خاص دھیان رکھنا ایک سنجیدہ کہانی کا ر کا فرضِ اولیں ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں چونا شاہ کی ہرنیں اُداس ہیں! – پرویز شہریار (
’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ پرویز شہریار نے اُس مارڈرن سوسائٹی کو موضوع بنایا ہے جو انسانی رشتوں کے تقدس کے بدلے آزادانہ اور ناجائز جنسی تسکین کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ یعنی مغربی معاشرے کی طرح اب ہمارے ہندوستان کے بڑے شہروں میں بھی ایسے نائٹ کلب اور عیاشی کے اڈے قائم ہیں جہاں ایک شوہر خود اپنی بیوی کو دوسرے مردوں کی بانہوں میں دیکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اصل میں جب عیاش قسم کے مرد اپنے بے لگام جنسی گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف مذہبی وسماجی قدروں کو پامال کرتے ہیں بلکہ اپنی شریک حیات کو بھی کسی غیر کے ہاتھوں اُس کی عزت وعصمت لٹانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کی پوری کہانی اُس استحصال شدہ عورت کی زبانی بیان کروائی گئی ہے جو اپنے شوہر کو شراب نوشی اور نائٹ کلب جانے سے منع کرتی ہے۔ لیکن وہ نہ صرف خود بلکہ اپنی شریک زندگی کو بھی وہاں لے جاتا ہے کہ جہاں کا مایوس کُن ماحول وہ ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:
’’اول اول مرد وزن خوشنما پوشاکوں میں ملبوس یہاں وہاں گھوم ٹہل رہے تھے۔ لیکن جوں جوں موسیقی کی دھن میں تیزی آتی گئی، ان کے جسم کپڑوں سے بے نیاز ہوتے چلے جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، مادر زاد انسانوںکا وہاں ایک جمگٹھا سا نظرآنے لگاتھا۔ وہ سب کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہوئے دُم کٹے جانور معلوم ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عریانیت کو ئی معیوب چیز نہیںہے۔ جب خدا، گوڈ اور ایشور نے ہمیں اسی روپ میں بنایا ہے تو پھر اس پر سے یہ آورن کیوں اوڑھا جائے۔ ننگے رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب ہم دوسروں کی بیویوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر منفی توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا انخلا ضروری ہے۔ اس طرح سے آزادانہ رہ کر ہم جس استری سے جی چاہے سنبھوگ کر سکتے ہیں ۔بشرطیکہ وہ استری بھی آپ کے اندر کشش محسوس کرتی ہو۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص4-)
مندرجہ بالا اقتباس کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ فرائڈ کے نظریہ جنس میں جتنی بھی صداقت ہے وہ اپنی جگہ حق بجانب ہی سہی لیکن ہمارا اخلاقی ومذہبی نظام اُسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرتا ہے۔ ما بعد جدید معاشرہ اس قدر ترقی یافتہ ہوچکا ہے کہ اب تو شراب نوشی کو ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک مجرب نسخہ بتا یا جاتا ہے اور زنا کو نفسیاتی امراض سے نجات کا ذریعہ۔ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ ان تمام منفی خواہشات یا افعالِ بد کے بڑے بڑے فوائد بتائے جائیں جن کی تمام مذاہب عالم میں ممانعت آئی ہے۔ مغربی فکر وفلسفے نے جب تمام اخلاقی و رُوحانی اقدار سے ایک طرح کی انحرافی روش اختیار کی تو اُس کے نتیجے میں اب ہمارے ملک میں بھی بے حیائی، اخلاق سوزی اور فحاشی کا چلن عام ہورہا ہے۔ اس بیان کی توثیق کے لیے افسانہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ سے ماخوذ یہ اقتباس قابل ملاحظہ ہو:
’’ہم محبت کے رس میں بھیگے ہوئے تھے۔ہمیںغیر مرد کی آغوش میں خود سپردگی کے لیے خود ہمارے شوہر آمادہ کر رہے تھے۔ ان کی مدد سے ہم اپنے لباسوں کی قید سے انتہائی حساس طریقے سے دھیرے دھیرے آزاد ہورہی تھیں۔ ہمارے جسم کے تمام رونگٹے کانٹے دار گرگٹوں کی طرح کھڑے ہوتے جاتے تھے ،جوں جوں مردانہ ہاتھوں کے لمس سے ہماری حساس جلدیں مس ہوتی جاتی تھیں۔ اوپر سے نیچے تک ہمارے اعضا بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے تھے …کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون سا ہاتھ اپنے اور کون سا پرائے مرد کا ہے۔ پورے بدن میں کپکپاہٹ سی دوڑ رہی تھی۔ ہم پر بے خود ی اس قدر طاری تھی کہ کچھ بھی سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ ہر پل بلکہ ایک ایک پل کے ہزارویں حصے میں بھی احساس کی لاکھوں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ ہمارے جنسی غدودوں میں اس قدر ہلچل مچی ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ پراکرتی اور پرش کے اس ملن نے فطرت کے کاموں میں دخل در معقولات کرکے جوالا مکھی، طوفان اور سیلاب تینوں کے گیٹ بیک وقت کھول دیئے ہوں۔ ہم خس وخاشاک کی طرح جنسی ہیجان کے سیل رواں میں بہتے جارہے تھے۔ ‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص2-)
پرویز شہریار نے ایک مخصوص بیانیہ انداز میں دلکش افسانوی زبان کے ساتھ جس حیا سوز واقعے کی طرف قاری کی توجہ مبذول کروائی ہے وہ حیرت و تاسف سے تعلق رکھتا ہے۔ انھوں نے ہمارے بھونڈے معاشرتی نظام پہ طنز و رمز کے جو نشتر چلائے ہیں وہ بہت موثر معلوم ہورہے ہیں۔ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کا مجموعی تاثر عورت کے ایک نئے جنسی فارمولے کے تحت آسکے استحصال کی المناک داستان سے تعلق رکھتا ہے۔ مذکورہ افسانہ صیغۂ واحد متکلم میں بیان کیا گیا ہے اور فنی اعتبار سے بھی یہ افسانہ کسی حد تک بہتر ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں دس سروں والا بجوکا – پرویز شہریار )
مذکورہ افسانوی مجموعے میں شامل دوسرا افسانہ ’’لِو ان ریلیشن سے پرے‘‘ بھی کسی حد تک محبت و جنس سے مسرور مخمور کیفیات کو اپنے اندر کیے ہوئے ہے۔ اس افسانے میںصرف دو کردار اوّل سے آخر تک برقرار رہتے ہیں اور وہ ہیں سیاہ فام شنبھو ناتھ سنگھ اور نازک اندام پدمجا جو سیف دونوں اپنے اپنے عقیدے اور دھرم یا مذہب کے لحاظ سے مختلف ہیں۔بغیر کسی مذہبی یا قانونی بندش کے وہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے رہتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں میاں بیوی کچھ عرصے تک رہتے ہیں۔ افسانہ نگار نے قارئین کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ہے کہ لیجیے اب تو نئی نسل شادی بیاہ اور ازدواجی رشتے جوڑے کا کام خود کر رہی ہے اور بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ جیسے تشویشناک مسئلے پر والدین کا ناک بھوں چڑھانا ذہنی پسماندگی اور غیر مہذب تصور کیا جارہا ہے۔
ہمارے ہندوستان میں پاکھنڈی اور ڈھونگی باباؤں کی کمی نہیں ہے۔ مذہب اور دھرم کے نام پر یہ لوگ کیا کیا گل کھلاتے ہیں دوسری بات یہ کہ بانجھ پن سے نجات حاصل کرنے کے لیے نر ناری کہاں کہاں مارے مارے پھرتے ہیں۔ پرویز شہریار کا افسانہ ’’شہاگ کا خون‘‘ انہی دو مسائل کو منعکس کرتا ہے۔ زیر نظر افسانہ انتہائی دلچسپ اور حیران کر دینے والا ہے۔ دیویانی ایک ایسی بد نصیب عورت ہے جو بانجھ پن کا شکار ہے۔ شادی سے پہلے ہی اُس کے باپ نے اُس میں بانجھ پن کے آثار دیکھ لیے تھے۔ اسی لیے تو اُس نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دیویانی کبھی سہاگ کا سُکھ نہیں بھوگ پائے گی۔ اولاد کا ارمان دل میں بسائے وہ کیا کیا جتن کرتی ہے لیکن سب بیکار اور پھر جب وہ اپنے شوہر پردیپ پر اشر کے اصرار پر ایک تانترک بابا کے پاس اس اُمید کے ساتھ جاتی ہے کہ وہ اُس کے بانجھ پن کا علاج کرے گا لیکن تانترک بابا آدمی کے رُوپ میں شیطان ثابت ہوتا ہے ادھر جب وہ اپنے شوہر کو بھی تانترک کی بیوی کے ساتھ سویا دیکھتی ہے تو تب وہ غم وغصے کی حالت میں اپنے شوہر کو ہی تیز دھار خنجر سے قتل کر دیتی ہے کیونکہ اس کے شوہر نے اُسے دھوکے میں رکھا تھا۔ اس بھیانک واقعے کو پرویز شہریار نے ایک جگہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’گئی رات’ دیویانی ایک خاص انداز کے نرم گدّے دار بستر پر لپٹی ہوئی اپنے وجود کی کرچیاں بکھرتی دیکھ کر بار بار زہر خند ہنسی ہنس رہی تھی ۔اُس نے اتھا ہ درد سے شکتہ ہو کے پاش پاش ہو جانے کے بعد سوچا تھا ۔کاش !یہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سما جائے ۔مگر ایسا نہیں ہوسکتا تھا ۔اُسے اُس دم ۔بڑی شدت سے اپنی ماں یاد آرہی تھی ۔
گائوں میں جب گائے کو گابھن کرانا ہوتا ۔تو ماں راموسے کہتی تھی ۔’’جائو ،اِسے پال کھلا لائو اس کا دودھ سوکھنے لگا ہے ۔‘‘دیویانی سوچ رہی تھی ۔کیا وہ بھی ایک گائے ۔ایک جانور نہیں ہے جو کسی شکنجے میں میں جکڑدی گئی ہے جس کا نچلا حصہ پے درپے یلغار سے شل ہوتا چلا جا رہاہے ۔وہ اُس رات ٹوٹ کر بکھر جانا چاہتی تھی ۔۔۔رات بھر وہ گرم گرم کوئلوں کی آنچ پر درد سے تڑپتی رہی تھی اور جب ایک قیامت سے وہ گزر چکی تو تانترک با با نے یک لخت اُس کے ہاتھ پائوں کھول دئے تھے ۔
تبھی دیویانی نے گھنٹوں جمع ہونے والا بلغم نکال کے اُس کے منہ پر تھوک دیا تھا۔۔۔
اُس کے بعد بجلی کی سی سرعت سے وہ اُٹھ کر اپنے شوہر کے پاس گئی تھی جو ڈرائنگ روم میں تانترک کی کھوسٹ بیوی کے ساتھ گھوڑے بیچ کر اطمینان سے سورہا تھا ۔
تبھی دیویانی نے خنجر اٹھا یا اور اس کے ننگے جسم کو آن ِواحد میں گود کے رکھ دیا تھا ۔اُس پر اچانک ہذیانی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور اس کے دماغ میں بار بار ایک ہی جملہ مکرر ہتھوڑے برسارہا تھا ۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں،ص37-)
’’عورت‘‘ تو دھرتی کی مانند ہوتی ہے جو روندی جاتی ہے اور پھر دھرتی سے کیا کچھ نہیں اُگتا لیکن جب دھرتی گناہوں کے بوجھ سے لرزتی ہے تو ہر چیز کو اپنے اندر دھنسا لیتی ہے۔ عورت ابتدائے آفرینش سے ہی مرد کے دھوکے فریب میں آکر پچھتاتی رہی ہے۔ مرد کا عورت پہ ظلم وستم کے کئی واقعات عورت ذات ہی سے جڑے ملتے ہیں۔ دیویانی شاید تانترک بابا کا غیر اخلاقی رویہ بھی برداشت کر لیتی مگر اُس نے جب اپنے شوہر پردیپ پراشر کو تانترک کی بیوی کے ساتھ سویا دیکھا تو وہ اس مذموم حالت کو برداشت نہیں کرسکی اور اپنے شوہر کو ہمیشہ کے لیے سُلادیا۔
افسانہ ’’ہم وحشی ہیں‘‘ میں پرویز شہریار نے 1984کے اُس فرقہ وارانہ فساد کو کہانی بند کیا ہے جب اندرا گاندھی کو ایک سِکھ سیکورٹی آفیسر نے گولی مار کر قتل کردیاتھا۔ اس افسانے میں پرویز شہریار نے اُن تمام فسادات کو زیر بحث لایا ہے جو ہماری ہندوستانی تاریخ کا ایک المناک پہلو ہے۔ مذکورہ افسانے میں منٹو کے افسانہ’’ کھول دو‘‘اور’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے حوالے سے بھی فرقہ وارانہ فسادات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مکھن سنگھ نام کے ایک کردار کی زبانی پرویز نے بہت سی حقیقتوں کو بیان کروایا ہے۔ مذکورہ افسانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دھرم اور مذہب کے جنون میں ہی نہیں بلکہ ذات پات رنگ ونسل، علاقائیت اور گروہ بندی کی بنیاد پر بھی آدمی کبھی کبھی وحشیوں جیسی حرکتیں کرتا ہے۔
’’رشتوں کی بے اعتنائی‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نے تخلیقی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے۔ کبوتروں کی آشیانہ سازی اور ایک باپ کی اپنی بیٹی اور بیوی کے ہاتھوں تذلیل زندگی کے کئی پہلوؤں کو نشان زد کرتا ہے۔ کہانی کار نے جن حالات و واقعات کو اپنی آنکھوں رونما ہوتے دیکھا ہے وہ نہایت توجہ طلب اور متحیر کن ہیں۔ پوری کہانی صیغۂ واحد متکلم میں بیان کی گئی ہے۔ اس افسانے میں تخلیقی عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں ترقی پسند اردو افسانے – ڈاکٹر پرویز شہریار )
’’دس سروں والا بجوکا‘‘ میں منشی پریم چند کے شاہکار ناول ’’گئودان‘‘ کے مرکزی کردار ہوری، دھنیا اور گوبر جیسے کرداروں کے حوالے سے قدیم وجدید سماجی و اقتصادی نظام پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی اس افسانے سے اس امر کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سوچ اور عمل کے درمیان کتنا فرق آیا ہے۔
افسانہ’’ سیلوا جڈوم کہاں جائیں‘‘ پڑھتے ہوئے کشمیر میں گذشتہ 22برسوں کے دوران حُریت پسند اور ملکی محافظوں کے مابین تصادم، نہتے نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کے علاوہ یہاں کے انتشار زدہ ماحول کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ایک ذمہ دار ہندوستانی آفیسر کی حیثیت سے پرُامن ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں اور نکسیلیوں وغیرہ کے تصادم کو ختم کروانے میں افسانہ نگار اپنے آپ کو بھی ایک فعال کردار کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ پورے افسانے کی طوالت اگرچہ قاری کو صبر آزما ئی پہ لا کھڑا کرتی ہے مگر پھر بھی افسانہ کا موضوع اور پر اثر زبان وبیان مذکورہ افسانے کو جاندار بناگئے ہیں۔ اس افسانے کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ افسانہ نگار نے ان تمام حقائق کو زیر بحث لایا ہے جو سماجی اور تاریخی انقلاب کے لیے پلیٹ فارم تیار کرتے ہیں۔ کلیان اور اونگا افسانہ نگار کے لیے رفیق کار ثابت ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں افسانہ نگار کتنی کٹھینائیوں اور ذہنی اُلجھنوں بلکہ اُسے کتنے خطرات مول لینے پڑتے ہیں ان تمام باتوں کا ذکر راست بیانیہ انداز میں دَر آیا ہے۔آدی باسیوں اور ماؤنوازوں کی باہمی کشمکش کو افسانہ نگار نے ایک جگہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’وقت گزرتا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آدی باسیوں نے بھی جینے کے لیے مرنا سیکھ لیا ۔مائونواز گروپ نے ان کے اندر بیداری کی تحریک پیدا کردی تھی ۔انہوںنے بھی ایک جٹ ہو کر مافیائوں پر ہلّہ بولنا شروع کر دیا تھا ۔صنعت کا رجو اس ملک کے انتخابی مہموں میں بہت اہم کردار نبھاتے ہیں ۔اس ملک کی پارلیامانی نظام حکومت میں ان کی اہمیت سے کوئی سیاسی تنظیم انکار نہیں کر سکتی ۔جب انھیں جان و مال کا نقصان اور خسارہ ہونے لگا تو انتظامیہ نے ’’امن مشن‘‘کے نام پر آدی باسیوں کا ایک دستہ تیار کر لیا ۔انھیں سرکاری نوکری اور پولیس میں پرمانینٹ بھرتی کرنے کا جھانسہ دے کر مائونوازوں کے خلاف لڑائی میں صف اول میں کھڑا کیا جانے لگا ۔آدی باسیوں کے ہاتھوں آدی باسیوں کی موت کا کھلا کھیل کھیلا جانے لگا۔مائونوازوں اور نکسلیوں نے ہتھیار کی فراہمی اور آدی باسیوں کے تحفظ کے لیے صنعت کاروں اور زمینداروں و کسانوں سے خطیر رقم اینٹھنے شروع کردیتے تھے ۔نہ دینے پر گائوں اور کھیتوں میں موت کا ہولناک منظر کھینچ دیا انے لگا ۔جن کے پاس مال و دولت نہیں تھے ان گھروں سے افراداکٹھا کیے جانے لگے ۔مرد عورت اور نوعمر جوانوں کو ماؤواد کا سبق پڑھا کر صنعت کاروں اور انتظامیہ کے خلاف صف آرا کیا جانے لگا تھا ۔‘‘
(شجر ممنوعہ کی چاہ میں، ص77-)
در اصل کسی ملک یا ملک کے کسی خطے میں انتشار یا بد امنی تب پیدا ہوتی ہے، جب بے ایمانی رشوت خوری، نا انصافی اور ظلم وستم بڑھ جاتا ہے جموں وکشمیر کی میلی ٹینسی کا مسئلہ ہو یا چھتیس گڑھ کے نکسیلیوں کی بات ہو سب انا انصافی اور ظلم وزیادتی کے خلاف ایک طرح کا رد عمل ہے۔ پرویز شہر یار کا اس موضوع پر افسانہ ’’سیلوا جڈوم کہاں جائیں ‘‘ ایک معلوماتی اور تفکرانہ افسانہ ہے۔ ’’کتنا دلکش ہے یہ فریب محبت‘‘ پرویز شہریار کا ایک عاشقانہ افسانہ ہے ویسے یہ افسانہ کم اور حقیقت زیادہ معلوم ہوتاہے۔ چڑھتی جوانی میں کسی نوجوان لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے کی طرف مائل ہوجانا ایک فطری بات ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم پرویز شہریار کے عہد شباب سے جڑا یہ عاشقانہ قصہ جو کوئی بھی پڑھے گا وہ مرد ہو زن اُنھیں اپنا اپنا زمانہ عشق ومحبت یاد آئے گا۔ اس افسانے میں عاشق اپنے معشوق کو دل وجان سے چاہتا ہے مگر معشوق کسی اور کوبھی چاہتا ہے گویا بظاہر تو کچھ ہے اور باطن کچھ اور ۔ مذکورہ افسانہ عصری سماج میں بالخصوص کنوارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے اس نظریے پہ ایک گہرا طنز ہے کہ جس سے محبت کی جائے اُسی سے شادی بھی ہو یہ ضروری تو نہیں۔ ما بعد جدید عہد میں فریب محبت کے نتیجے میں خود کشی، لڑکی پہ عاشق تیزاب چھڑکنا اور اس کے کئی گھناؤنے واقعات اخبارات کی سُرخیاں بنتے ہیں۔
افسانہ ’’شادی کے سات سال بعد‘‘ کبیر اور اس کی بیوی پُوجا کی ازدواجی زندگی میں پڑی کچھ دراڑوں کو اُجاگر کرتاہے۔ افسانے کا مجموعی تاثر یہ ظاہر کرتا ہے کہ ازدواجی زندگی میاں بیوی کے لیے تب بوجھ بنتی ہے جب دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے ر ُخ موڑتے ہیں۔
’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ شامل دسویں افسانے کا عنوان ہے ’’بتولن کیسے ڈائن بن گئی‘‘ پرویز شہریار نے اس طویل افسانے میں سماج کے بد کردار اور خبیث ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ارہر بڑھیا پہ کس طرح یہ الزام لگایا جاتاہے کہ وہ ڈائن ہے اور اس کے مال واسباب کو ہتھیانے کے چکر میں کس طرح علائ الدین جیسے بد مزاج اور بد فطرت لوگ ایک اوجھے شخص سے بڑھیا پہ ڈائن کا الزام لگاتے ہیں یہ تمام باتیں قاری کو حیرت میں ڈالتی ہیں۔ ہمارے سماج میں سحر جادو ٹونا اور نامعلوم کتنے خرافات و توہمات میں لوگ اپنا اور دوسروں کا جینا حرام کرتے ہیں، یہ بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس پہ شہریار نے کہانی کا تانا بانا تیار کیا ہے۔
’’سونیا بوٹیک ‘‘ ایک مختصر افسانہ ہے جس میں سونیا نام کی لڑکی اپنے سوتیلے باپ کے ظلم وستم اور اسکی عیاری ومکاری کا مردانہ وار مقابلہ کرتی ہے اور اپنی ماں کی محبت اور اس کے تحفظ کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرتی ہے۔ اس افسانے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اولاد کے لیے چاہے ماں سوتیلی ہو یا باپ دونوں صورتوں میں وہ کسی ایک کی ممتا سے محروم رہتی ہے۔
’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ شامل آخری افسانہ ’’شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرم‘‘ ہے۔ اس افسانے میں مذہبی، تہذیبی وثقافتی پس منظر میں کلکتہ، لکھنو اور دوسرے شہروں کے حوالے سے شیعہ ، سنی لوگوں کا ذکر اور خاص کر شاہدہ نام کی لڑکی کی جو کاشی ڈیہہ کے خلیفہ کی چوتھی بیٹی ہے جسے گھوڑ سواری، تلوار بازی اور تقریباً بہادری کے تمام گُر سکھائے جاتے ہیں مگر بالآخر اُس کا پر اسرار حالت میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ماورائے ازدواج رفاقتوں کا بیانیہ (پرویز شہریار کے دو افسانوں کے حوالے سے) – حقانی القاسمی )
آخر میں اس بات کا ذکر کرنا لازمی معلوم ہوتا ہے کہ ’’شجر ممنوعہ کی چاہ میں‘‘ کردار نہایت فعال، احساسات وجذبات کا شعور رکھنے والے، مکالے چست اور ماحول ومعاشرتی نظام میں پھیلی برائیوں کا ذکر بڑی ہنر مندی سے کیا گیا ہے۔ زمینی حقائق سے جڑے کئی واقعات قاری کو فہم وفراست اور زندگی کو خوبصورت بنانے کا ایک خاموش پیغام دیتے ہیں۔ زبان و بیان کے بارے میں پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ پرویز کے پاس خوبصورت زبان یعنی خالص افسانوی زبان ہے۔ ہندی کے بہت سے الفاظ کا استعمال کئی جگہوں پہ بڑا پر لطف معلوم ہوا۔ پرویز شہریار میں کہانی تخلیق کرنے کا جوہر موجود ہے۔ اُن کے موضوعات روایتی بھی ہوتے ہیں اور غیر روایتی بھی۔ اُن کی افسانہ نگاری میں تخلیقی بیانیہ عصری معاشرے میں پنپ رہی فتنہ پرور ذہنیت اور بالخصوص رنگے سیار لوگوں پر طنزکے تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے۔
ختم شد
ڈاکٹر مشتا ق احمد وانی
صدر شعبہ اردو
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی،
راجوری (جموں و کشمیر)
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

