ممتازناقدومحقق پروفیسرگوپی چندنارنگ کی وفات پرشعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کی جانب سے تعزیت
نئی دہلی:اردوکے معروف وممتازناقدومحقق اورشعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے پروفیسرایمریٹس گوپی چندنارنگ کے انتقال پرشعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی جانب سے تعزیتی بیان میں کہاگیاہے کہ ان کاانتقال اردوتنقیدوتحقیق کابڑاخسارہ ہے۔وہ اپنی ذات اورخدمات کے اعتبارسے ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے۔انھوں نے اپنی عملی زندگی میں اردوکے سفیرکے طورپرپوری دنیاکادورہ کیا اور اردو کو بیرون ممالک کے ساتھ غیراردوداں طبقے تک پہنچایا۔وہ شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے استاذ،صدرشعبہ اورپروفیسر ایمریٹس بھی رہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے دہلی یونیورسٹی کے موجودہ ذاکرحسین دلی کالج سے ہی اردومیں ایم اے بھی کیاتھا اوراسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کی تھی۔وہ یہاں کے طالب علم واستاذدونوں رہے۔ پروفیسرنارنگ کے مراسم وتعلقات شعبہ کے بانی پروفیسر خواجہ احمدفاروقی سے لے کراب تک شعبہ کے اساتذہ سے خوش گوارتھے۔ان کاانتقال نہ صرف اردودنیاکے لیے بلکہ دہلی یونیورسٹی بالخصوص شعبہ اردوکے لیے بڑاخسارہ ہے۔نارنگ صاحب نے بحیثیت طالب علم واستاذ پوری دنیاسے داد حاصل کی اورشعبہ کانام بھی روشن کیا۔
اس موقع پرشعبہ کی جانب سے تعزیت کرتے ہوئے شعبہ اردوکی صدراورآرٹس فیکلٹی کی ڈین پروفیسرنجمہ رحمانی نے مزیدکہاکہ پروفیسرنارنگ ہمہ جہت وہمہ گیرشخصیت کے مالک تھے۔وہ جہاں اردوتنقیدکے نظریہ سازناقد تھے وہیں وہ عمدہ مقرروخطیب اور استاذ بھی تھے۔شعبہ اردوکے موجودہ اساتذہ میں بہت سے ان کے شاگردہیں۔ہم سب کوان سے مستفیدہونے کابارہاموقع ملتارہا۔وہ دہلی یونیورسٹی کے طالب علم اوراستاذکی حیثیت سے بھی برسوں اپنی خدمات دیتے رہے۔نارنگ صاحب کی کتابیں،ان کی تقریریں اوران کے ادبی وتنقیدی نظریات اردوکے طلباوطالبات کے لیے ہمیشہ کارگرثابت ہوتے رہیں گے۔وہ شعبہ کے ان اساتذہ میں تھے،جوتمام طلباوطالبات کے لیے موثرثابت ہوتے ہیں۔
شعبہ کے بانی پروفیسرخواجہ احمدفاروقی نے بڑی محنت ومحبت سے ان کی شخصیت سازی میں اپناناقابل فراموش کرداراداکیاتھا۔ خواجہ صاحب کی شخصیت کے اثرات ان پرکافی تھے۔شعبہ سے ان کاانسلاک نہ صرف ان کے لیے بلکہ شعبہ کے لیے بھی باعث افتخارتھا۔ ان کے عروج اوران کی کامیابیوں کا عہد وہی تھا،جب وہ شعبہ سے منسلک تھے اورہم سب فخرسے انھیں، ان کی کامیابیوں اورمعرکہ آرائیوں کو دیکھتے تھے۔اب تک وہ پہلے اردوکے پروفیسر تھے،جنھیں ساہتیہ اکادمی کا چیئرمین ہونے کافخرحاصل ہے۔اردو ان کی مادری زبان نہیں تھی،اس کے باوجود انھوں نے اردو تنقید و تحقیق کی دنیاکے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ اردودنیانے بھی ہمیشہ ان کاپرخلوص استقبال کیااوران کی خدمات کودل وجان سے سراہا۔
ان کی وفات پوری اردودنیا،بالخصوص شعبہ اردو اورعمومی طورپردہلی یونیورسٹی کے لیے جانکاہ سانحہ ہے۔ان کی وفات کاغم ہم سب کوہے اور رہے گا۔ایسی عمدہ شخصیت کے افراداب اس دنیامیں خال خال ہی باقی بچے ہیں۔ان کے انتقال پرشعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی بصمیم قلب تعزیت پیش کرتا ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

