پروفیسر گوپی چند نارنگ کی رحلت پر مدھیہ پردیش اردو اکادمی میں تعزیتی نشست کا انعقاد
ممتاز ادیب، ناقد اور دانشور پروفیسر گوپی چند گزشتہ کل بتاریخ 15 جون، 2022 کو امریکہ میں انتقال کر گئے. ان کی رحلت پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج مدھیہ پردیش اردو اکادمی میں دوپہر 3 بجے تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے ادبا و شعراء کے ساتھ سماجی شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار فرمایا.
اس موقع پر مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اردو ادب کی عظیم شخصیت عہد حاضر کے صف اول کے اردو نقاد، محقق اور ادیب گوپی چند نارنگ کا جانا یقیناً اردو زبان و ادب کا بڑا خسارہ ہے۔ ان کی ادبی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا. انھیں سن 2004 میں حکومت ہند نے پدم بھوشن اور اس سے قبل سن 1990 میں پدم شری اعزاز سے سرفراز کیا. اس کے علاوہ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1995 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 1985 میں غالب ایوارڈ اور 2010 میں دہلی اردو اکادمی کا بہادر شاہ ظفر ایوارڈ کے علاوہ مدھیہ پردیش حکومت کے اقبال سمان سے بھی نوازا گیا. مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے بھی سال 17-2016 میں انھیں میر تقی میر کل ہند اعزاز سے نوازا. ان کا جانا اردو ادب کا عظیم خسارہ ہے. نصرت مہدی نے وزیر ثقافت محترمہ اوشا ٹھاکر، پرنسپل سیکریٹری شیو شیکھر شکلا اور ڈائریکٹر سنسکرتی ادیتی کمار ترپاٹھی کی جانب سے بھی پروفیسر نارنگ کو خراج عقیدت پیش کیا. بھوپال کے سینیئر شاعر ظفر صہبائی نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے جانے سے ایوان اردو کا اہم ستون گرگیا. انھوں نے اردو تنقید کو نئے موضوعات سے روشناس کرایا. اقبال مسعود نے کہا کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا گزر جانا اردو کے عہد زریں کا خاتمہ ہے. وہ ہمیشہ نئے لکھنے والوں کو آگے بڑھاتے تھے اور ان کی ہمت افزائی کرتے تھے، انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے اردو میں اتنی استعداد پیدا کی تھی کہ ان کی زبان سرائیکی ہونے کے باوجود وہ اردو ایسی بولتے تھے جس سے اہل بان سند حاصل کرتے.
ڈاکٹر مہتاب عالم نے کہا کہ نارنگ کے جانے سے اردو دنیا بے رنگ ہوگئی ہے. پروفیسر گوپی چند نارنگ نہ صرف یہ کہ اردو کے ممتاز ادیب و نقاد تھے بلکہ وہ ہندوستانی تہذیب کے علمبردار بھی تھے. انھوں نے اپنی تحریروں کے ساتھ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو جس طرح فروغ دیا اسے پروان چڑھانا وقت کی ضرورت ہے. ڈاکٹر اعظم نے کہا کہ گلزار نے گوپی چند نارنگ کے لیے کہا تھا کہ
دو پاؤں سے بہتا ہوا دریا اور ایک پاؤں پر کھڑی جھیل،
جھیل کی ناف پر رکھی ہوئی ہے، اردو کی روشن قندیل
افسوس آج اردو کی وہ روشن قندیل بجھ گئی. قاضی ملک نوید نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کو سچی خراج عقیدت یہ ہے کہ ہم ان کے بنائے ہوئے ادبی راستے پر خلوص کے ساتھ گامزن ہوں. نفیسہ سلطانہ انا نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنی پوری زندگی جس طرح ادب کی خدمت کی اور انسانیت کو محبت کا پیغام دیتے ہوئے اپنا فرض نبھایا. اب ہمارا فرض ہے کہ جو چراغ وہ روشن کر کے گئے ہیں اسے روشن رکھیں.
اس تعزیتی نشست میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر قمر علی شاہ، صدیق احمد، ڈاکٹر احسان اعظمی، تسنیم راجا، ساجد پریمی، شعیب علی خان، ڈاکٹر مبارک شاہین،قمر غوث و اہلیہ قمر غوث اور اکادمی کا اسٹاف وغیرہ شامل رہے. تعزیتی نشست کی نظامت کے فرائض رضوان الدین فاروقی نے انجام دیے.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

