شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں ادبی محفل کا انعقاد
میرٹھ16؍جون 2022ء
نورالحسنین اچھے اور منجھے ہو ئے افسا نہ نگار اور بہترین ناول نگار ہیں’گڑھی میں اترتی شام‘ کے حوالے سے ان کی شہرت سے سب واقف ہیں۔ ان کے دوسرے افسانوی مجموعے سمٹتے دائرے،مور رقص اور تماشائی،فقط بیان تک،جاگو بھور بھئی،کی اشاعت نے نور الحسنین کو مستحکم و معتبر کیا۔ ان کے ناول ’آہنکار‘ اور’ایوانوں کے خوابیدہ چراغ‘ اور تازہ ترین ناول ’ تلک الایام ‘ نے نور الحسنین کو بہتر ناول نگار ثابت کیا ہے۔ نور الحسنین کا وصف ہے کہ وہ تاریخ کی سنگلاخ زمینوں پر محبت کے پھول کھلا تے ہیں۔یہ الفاظ تھے پرو فیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد ایک ادبی محفل کے دوران آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی ناول لکھنا یا تاریخی پس منظر میں کہانی بننا کوئی کھیل نہیں، ہماری نسل میں نور الحسنین نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے۔’ایوا نوں کے خوابیدہ چراغ‘ میں بھی نو ر الحسنین نے1857ء کے واقعات و حادثات اور عشق و معاشقے پر قلم اٹھا کر لائق تحسین اور قابل تقلید کام کیا ہے۔
پروگرام کی صدارت فرما رہیں ڈاکٹر ریشما پروین نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آیوسا کا یہ پروگرام آج بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے، میں مزید ترقی کے لئے دعا گو ہوں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسیدہ مریم الہٰی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں عظمیٰ پروین نے نعت پاک پیش کی۔پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف فکشن نگار محترم نور الحسنین(مہاراشٹر)نے شر کت کی ۔آپ نے ناولوں اور افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہانی ترقی کرتی ہے اور ترقی کرتی رہے گی۔ جس دن کہانی خود کو لکھوانا شروع کرتی ہے وہیں سے اس میں اسلوب بھی آجاتا ہے۔ ہر افسانہ نگار ماحول کے مطابق کہانی لکھتا ہے اور ہر افسانہ نگار اپنے ماحول کے مطابق کہانیوں میں موضوع و مسائل کو پیش کرتا ہے۔ مہمانوں کا تعارف ڈا کٹر شاداب علیم ، استقبالیہ کلمات ڈا کٹر آصف علی،نظا مت ڈاکٹرارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے ادا کی۔اس مو قع پرنورالحسنین نے اپنی معروف کہانی’’غالب‘‘ کی قرأت کی جسے سامعین نے خوب پسند فر مایا۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آیوسا کے سر پرست محترم عارف نقوی ،جرمنی نے کہا کہ ویسے تو بہت سے ناقد افسانہ نگاروں نے ناول اور افسانے تحریر کئے ہیں مگر بہت کم ایسے فکشن نگار ہیں جن کی باتیں دل میں اتر جاتی ہیں۔ نورالحسنین کا نظریہ وسیع ہے جس میں عالمی پس منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس مو قع پر سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد، شہا ب الدین، فیضان ظفر، عبدلواحد اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

