Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

قیصر صدیقی کی شاعری میں عرفان ذات – ڈاکٹر منصور خوشتر

by adbimiras ستمبر 6, 2021
by adbimiras ستمبر 6, 2021 0 comment

افتخار احمد تخلص قیصر صدیقی کی پیدائش  19 مارچ 1937 کو سمستی پور (بہار ) کے ایک گاؤں گوھر نوادہ میں ہوئی۔  والد کا نام مولوی عبدالغنی تھا۔ 11 نومبر  1964 کو ان کی شادی اپنے ماموں عبدالحفیظ کی دوسری صاحبزادی احمدی خاتون شبنم سے ہوئی۔ قیصر صدیقی کی مختصر علالت کے بعد سمستی پور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں 4 ستمبر 2018 بروز منگل کو ان کی وفات ہوگئی۔قیر صدیقی نہایت ہی کہنہ مشق، زود گو اور قادرالکلام شاعر تھے۔ قیصر صدیقی ایک کہنہ مشق، زود گو اور قادرالکلام شاعر تھے ۔ انہوں نے اس عرصے میں شاعری کی مختلف اصناف بلکہ بعض نہایت ہی مشکل اصناف میں بھی کامیابی کے ساتھ طبع آزمائی کی ہے تاہم وہ بنیادی طور پر غزل ہی کے شاعر مانے جاتے ہیں اور اب تک ان کے شعری کارنامے جو بصورت کتاب منظر عام پر آئے ہیں وہ غزل ہی سے متعلق ہیں۔ آج سے تقریباً  37 سال قبل اولین مجموعہ غزل” صحیفہ ” شائع ہوا تھا۔ دوسرا  اور قدرے ضخیم مجموعہ غزل ’’دوبتے سورج کا منظر‘‘ ،’’اجنبی خواب کا چہرہ‘‘ ، ’’بے چراغ آنکھیں‘‘ ،’’ درد کا چہرہ‘‘ ، ’’غزل چہرہ (ہندی )‘‘ نظموں پر مشتمل مجموعہ ’’سجدہ گاہ فلق ‘‘نعت پر مشتمل ’’روشنی کی بات ‘‘  زمبیلِ سحر تاب( ترانۂ سحر) شائع ہو چکا ہے۔

یہاں ایک بات عرض کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ  راقم الحروف (منصور خوشتر) بہار اردو اکیڈمی اور سمستی پور احمد اشفاق (قطر) کی رہائش گاہ پر ہونے والے مشاعرے میں قیصر صدیقی صاحب کے ساتھ شامل رہا۔ میرے اشعار سننے کے بعد انہوں نے داد و تحسین سے نوازا ساتھ ہی بہت ساری دعائیں دیں۔

قیصر صدیقی نثری تحریری معاملے میں کم سخن، مگر شعر گوئی کے معاملات میں زود گو تھے۔ ان کی شخصیت کا تضاد ان کی تحریر اور تقریر دونوں میں نظر آتا ہے۔ اسی طرح وہ باتیں تو لہک لہک کر کرتے تھے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی جس کے وہ حق دار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز الہامی طور سے چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہوا ۔ اگر ۱۹۵۰ کو ان کی شاعری کا سن آغاز مان لیا جائے تو ان کی شاعری کی عمر پینسٹھ سال رہی۔ اس دوران انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کے خزانہ میں کافی اضافہ کیا۔ سفر و سیاحت نے ان کے علوم سے عاری ہونے کی کمی کی بھرپائی کر دی اور بہزاد لکھنوی اور جمیل مظہری کی مصاحبت نے ان کی لسانی کسر پوری کردی۔ ان کے اساتذہ بالخصوص اور ان کے احباب بالعموم شعری لوازمات اور فنی رموز و نکات سے انہیں واقف کرانے میں بڑے معاون ثابت ہوئے۔ قیصر صدیقی نے اپنی پوری زندگی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ شاعری کے لئے وقف کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ کبھی نوکری کی اور نہ کوئی تجارت اختیار کی بلکہ صرف اور صرف شاعری کو ہی پیشہ بنالیا۔

قیصر صدیقی کے ابتدائی دو شعری مجموعے ’’صحیفہ ‘‘ اور ’’درد کا چہرہ‘‘ کے مرتب پروفیسر منظر اعجاز (صدر شعبۂ  اردو ، اے ۔این۔ کالج ، پٹنہ ) لکھتے ہیں :

’’قیصر صدیقی کے ساتھ سمستی پوری کا لاحقہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے جب کہ ان کا نام افتخار احمد ہے۔ وہ 19مارچ 1937 میں گوہر نوادہ ، سمستی پور میں پیدا ہوئے۔ والدین کی اولین اولاد اور زمین دارانہ پس منظر کی وجہ سے بچپن کسی حد تک لاابالی پن میں گزرا اور جوانی آئی تو آفت اور قیامت ساتھ لائی، نوبت شہر بدی تک پہنچی ۔ اس دوران وہ اجمیر پہنچے اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ میں حاضری دی۔ خاک شفا سے پاک ہوئے اور خواجہ کی عنایت و نوازش ہوئی۔ شاعری کا ملکہ ساتھ لائے۔ ‘‘

ڈاکٹر مشتاق احمد (رجسٹرار ، ایل ۔ این۔ ایم۔ یو ۔ دربھنگہ) قیصر صدیقی سے متعلق اپنے ایک مضمون میں تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’عالمی شہرت یافتہ امریکن دانشور وفلاسفر نیپولین ہِل نے لکھاہے کہ’’ نہ کوئی کل تھا ، نہ کوئی کل ہوگا، جو ہے وہ یہ حال ہے ‘‘۔غرض کہ حال اگرانصاف پسند نہیں ہے ،تو پھر ماضی اور مستقبل میں کیا ہوگا یہ طے کرنا مشکل ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مصنف کے ساتھ اگر حال میں یعنی اس کی زندگی میں انصاف نہیں ہوا، تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ مستقبل میں اسے عظمت بخش دی جائے۔ بلا شبہ فنکار کی عظمت کا اعتراف اس کی زندگی میں ہی ہونا چاہئے، جیسا کہ یورپ میں اس کی مستحکم روایت ہے؛ لیکن مشرق میں مردہ پرستی کی روایت عام رہی ہے، ہاں حالیہ دنوں میں اس کی طرف قدرے رجحان بڑھا ہے، اگر چہ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہورہا ہے کہ بونوں کو قد آوری بخشی جا رہی ہے؛لیکن اس چلن نے بہت سے گمشدہ فنکاروں کو افقِ ادب پر نمایاں بھی کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ظفر انصاری ظفر نے قیصر صدیقی جیسے ایک فراموش شدہ تخلیقی فنکار کو نہ صرف دنیائے ادب سے متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے؛ بلکہ ان کے فنّی جہات اور فکری امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔راقم الحروف ذاتی طورپر قیصر صدیقی مرحوم کو چار دہائیو ں سے جانتا ہے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1981 میں مدھوبنی کے ایک مشاعرے میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی ، ا ن دنو ں اردو معاشرے میں مشاعرے کو غیر معمولی ادبی اہمیت حاصل تھی ، اچھے شعر پرشعراکو خوب واہ واہی ملتی تھی اور سطحی شاعری کو ہوٹ کیا جاتا تھا، اس مشاعرہ میں مرحوم شہود عالم آفاقی ، وسیم بریلوی، ریحانہ نواب اور دیگر علاقائی شعراکی ایک لمبی قطار تھی؛ لیکن جب قیصر صدیقی اپنا کلام پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے ،تو چہار طرف سے آواز آنے لگی کہ وہ قوالی والی نظم’’اپنے ماں باپ کا تو دل نہ دۡکھا‘‘ پڑھئے ؛لیکن جناب صدیقی نے معذرت کرلی اور صرف غزل سنانے کو تیار ہوئے اور جب شعر پڑھنے لگے ،توایک عجیب سا سماں بندھ گیا۔ واضح ہو کہ ان دنوں مشاعرے میں تالیاں بجانے کی روایت پروان نہیں چڑھی تھی اور نہ حالیہ مشاعروں کی طرح شعراقلا بازیاں کھاتے تھے،ہر ایک شاعر کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنا تازہ کلام پڑھے اور سامعین کو محظوظ کرے،سامعین میں بھی اکثریت سنجیدہ ، باشعور لوگوں کی ہوتی تھی اورلوگ باگ بھی مشاعرے کی روایت کے پاسدار ہوا کرتے تھے۔‘‘

معروف نقاد پروفیسر وہاب اشرفی اپنے مضمون ’’کلاسیکی سج دھج کے شاعر :قیصر صدیقی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یوں تو تقریباً بس سال سے میں قیصر صدیقی کے بعض غزلوں کو ادھر ادھر پڑھتا رہا ہوں لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ایک صاحب نے مجھے ان کا مجموعہ کلام ’’صحیفہ‘‘ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے اس پر ایک سرسری نظر بھی نہیں ڈالی لیکن وہ مجموعہ کچھ دنوں میرے سرہانے پڑا رہا۔ ایک دن فرصت کے اوقات میں ، میں نے اسے جہاں تہاں سے دیکھنے کی کوشش کی ۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ ایک ذہن شاعر کا کلام میری لاتعلقی کا شکار ہے۔ تب میں نے بالاستیعاب اس کا مطالعہ کرنا چاہا اور ایک دو دن میں یہ کام تمام ہوا۔ مجھے احساس ہوا کہ قیصر صدیقی اردو شاعری کی روایات سے آگاہ ہیں۔ انہیں بلاغت کے نظام سے واقفیت ہے۔ عروض پر ان کی اچھی نگاہ ہے۔ روانی اور برجستگی کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی کسے کہتے ہیں، اس گر سے وہ واقف ہیں اور کلام میں کس طرح موسیقی کا پٹ پیدا کیا جاسکتا ہے ، اس رمز سے آگاہ ہیں۔ ‘‘ (یہ بھی پڑھیں عربی شاعری میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ – ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی )

ش اپنے مضمون بعنوان ’’زوال کے منظر سے الجھی ہوئی غزلیں‘‘میں لکھتے ہیں کہ سمستی پور، بہار سے تعلق رکھنے والے قیصر صدیقی کے ذہن میں اپنے گائوں، وہاں کے پیپل کے درخت ، بندی اور ایک شوخ صنف نازک کا نقش کچھ اس طرح ثبت ہے کہ ان کی غزلیں تو سٹلجیا بن کر ہمارے سامنے آتی ہیں ۔ ان غزلوں میں ایک ایسا راوی نظر آتا ہے جسے شہر نے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ پیٹ کی خاطر ایک عام انسان (فن کار) کی اونچائی سے اتر کر فن کو پیٹ پالنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یہ دیکھ کیسا ہوتاہے کسی اور سے نہیں قیصر صدیقی سے پوچھئے ۔ تاہم انہیں ہر لمحہ یاد رہتا ہے کہ وہ غزل لکھ رہے ہیں اور غزل اردو شاعری کی ایسی ظالم صنف سخن ہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس میں انفرادیت کا رنگ حاصل کرنا گل بکاولی کی تلاش میں کسی شہزادے کا گھر سے نکلنا ہے۔ انہوں نے بہت سے اشعار غزل کی Metamorphosisکے حوالے سے کہے ہیں۔

قیصر صدیقی غزل کے نقیب تھے۔ ان کا لہو بھی سرخی شام و سحر میں شامل تھا۔ ایک بات اور لازمی طور پر کہنا ضروری ہے کہ جن شعرا کا رنگ منفرد ہے وہ اپنے طرز اظہار ہی کی وجہ سے ہیں پہچانے جاتے بلہ طرز احساس کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں کہ طرز اظہار اہم نہیں کہ یہ بھی احساس جمال اور اندازِ فکر کا ایک پہلو ہے اور منطقی ، علامتی ، تمثیلی یا بیانیہ ہوسکتا ہے۔ قیصر صدیقی نئی شاعری کے مزاج سے بخوبی واقف تھے اور ان کی شاعری بہت حد تک احساس کی شاعری تھی۔ نئے انسان کے حسی تجربوں کا اظہار ہوا کرتا تھا۔ یہ شعر ملاحظہ کریں:

سجے ہوئے ہیں اتنے چہرے ، اک اک چہرے پر

آج کا ہر انسان مجھے بے چہرہ لگتا ہے

روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ، نئے عہد کے شعری ذوق کو اشعار میں ڈھال دینا بہت آسان کام نہیں ہوتا مگر حیات نو بھی جنہیں محترم سمجھتی ہے وہ کون سی روایات ہیں۔ کم از کم قیصر صدیقی اس بات کو سمجھتے تھے۔ تمثیل طور پر یہ اشعار ملاحظہ کریں:

ممنونِ چارہ گر نہ ہوا، جذبۂ خودی

میں نے خود اپنے درد کو درماں بنا لیا

ہمیں منظور ہے اپنی تمنا کا لہو ہونا

مگر ممکن نہیں، اب عشق کا بے آبرو ہونا

چلو اچھا ہوا ، بیمار کا دکھ دور ہوا

تم نہ آئے تو قضا آئے سحر سے پہلے

ہوگئی ہے مری دنیائے محبت روشن

روشنی اتنی کہاں تھی ترے غم سے پہلے

قیصر صدیقی کی شاعری میں جدید بندش الفاظ مثلاً درد کی خوشبو، زخم کا دریچہ، دھوپ کا لشکر، شہر تمنا، آگ کا دریا، بدن کا شجر، پتھریلی ہوا، بھیگا ہوا لہو ، پیراہن صدا، آواز کا پتھر ، احساس کی نبض وغیرہ سینکڑوں کی تعداد میں نظر آتے ہیں جو شاعری کی جدید ذہنیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جدیدیت کا نشہ ضرور ہے لیکن اس میں اعتدال و توازن، سنجیدگی و متانت اور سنبھلی ہوئی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بطور نمونہ ان کی چند خوبصورت غزلیں ملاحظہ کریں:

انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا

اگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتا

مری تلاش میں نکلی تھی آفتاب کی فوج

جو میں گپھا سے نکلتا تو آج مر جاتا

میں جان کر نظر انداز کر گیا ورنہ

ترا لباس سر انجمن اتر جاتا

کہیں سے کوئی کرن ہی نہ آ سکی ورنہ

یہ تیرگی کا کھنڈر روشنی سے بھر جاتا

زمین ہی مرا رستہ زمین ہی منزل

زمین چھوڑ کے جاتا تو میں کدھر جاتا

وہاں تو خود ہی چٹخنے لگی ہیں دیواریں

اگر وہ آئنہ بنتے تو میں سنور جاتا

کچھ اتنے زور کا آیا تھا زلزلہ کل رات

اگر میں جاگ نہ جاتا تو خواب مر جاتا

کسی کا قرض ہے مجھ پر یہ جانتا ہوں مگر

کوئی گواہ نہ ہوتا تو میں مکر جاتا

٭٭٭

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

اپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں

اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میں

ریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں

ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نے

میرا جو قاتل ہے اس کو بھی دعا دیتا ہوں میں

کیوں کسی کا نام لے کر عشق کو رسوا کروں

اپنے دل کی آگ کو خود ہی ہوا دیتا ہوں میں

ذکر یوں کرتا ہوں اپنے غم کا اپنے درد کا

ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہوں میں

کیا گزرتی ہے مرے دل پر خدارا کچھ نہ پوچھ

دشمنوں کو جب تلک گھر کا پتا دیتا ہوں میں

اپنی ہی آواز خود لگتی ہے مجھ کو اجنبی

جب اکیلے میں کبھی تجھ کو صدا دیتا ہوں میں

نشتر یاد غم جاناں سے قیصر ان دنوں

زخم جو سوتے ہیں ان کو پھر جگا دیتا ہوں میں

٭٭٭

تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

پھر خواب دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

تم کعبے کو ڈھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

دل توڑ کے جاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

جس خط میں ٹنکے تھے مرے اشکوں کے ستارے

وہ خط بھی جلاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

کچھ عکس مرے آئینہ خانے سے چرا کر

مجھ کو ہی دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

قد میرا گھٹاؤ گے مجھے اس کی خبر تھی

سائے کو بڑھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

یہ تو مجھے معلوم تھا تم جاؤ گے لیکن

اس طرح سے جاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

اک لمحہ کی آوارہ نگاہی کے سہارے

دل میں اتر آؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

تم ہولی بھی کھیلو گے مرے دل کے لہو سے

دامن بھی بچاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

حیرت میں ہیں احباب کہ اس عمر میں قیصر

یوں دھوم مچاؤ گے یہ معلوم نہیں تھا

٭٭٭

معروف ناقد اور مقالہ نگار انوارالحسن وسطوی قیصر صدیقی صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’مرحوم قیصرؔصدیقی صرف ایک بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ وہ اپنے ہم عمروں بلکہ خُردوں سے بھی نہایت خنداں پیشانی سے ملتے تھے۔ہرشخص ان سے مل کریک گونا خوشی محسوس کرتا تھا اوران کا گروید ہ ہوجاتا تھا۔مرحوم راقم السطورسے بھی بے حد محبت رکھتے تھے اوربڑی محبت سے ’’انواربھائی‘‘کہہ کر مخاطب کرتے ،ٹوٹ کرملتے،گلے لگا لیتے اورنہایت اپنائیت سے پیش آتے۔قیصرؔ صاحب سے میری آخری ملاقات ۸؍جولائی ۲۰۱۸؁ئ کو پھلواری شریف میں جناب قوسؔ صدیقی کے مکان پر ہوئی تھی۔میرے ہمراہ برادرم سیّد مصباح الدین احمد بھی تھے۔اس ملاقات میں میں نے موصوف سے کہا تھا کہ ’’کبھی ناچیز کو بھی میزبانی کا شرف عطا کیجئے تاکہ میں حاجی پورمیں آپ کے اعزاز میںایک شام کا انعقاد کرسکوں۔‘‘موصوف بہت خوش ہوئے اوروعدہ کیا کہ انشائ اللہ ضرور آپ کی خواہش پوری کروںگا۔مجھے بے حد افسوس ہے کہ میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار ایسے وقت میں کیا جب قیصرؔصاحب کی زندگی کی شام ہونے والی تھی،جس کا اندازہ نہ خود انھیں تھا نہ مجھے۔ ۳۰؍اگست ۲۰۱۸ کو اچانک ان کی علالت کی خبر بذریعہ اخبارات معلوم ہوئی۔وہ پہلے مظفرپور اور پھر سمستی پورکے نرسنگ ہوم میں زیرعلاج رہے۔پھر جلد ہی اپنے اہلِ خانہ ،اپنے قرابت داروں اوراپنے بے شمار چاہنے والوں اورقدردانوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر دارالفنا سے دارالبقاکو کوچ کرگئے۔قیصرؔصاحب کے انتقال کے بعد ان کے برادرِ خُرد جناب آشکار احمد نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بھیّا محترم قصص الانبیا کا منظوم ترجمہ کررہے تھے ۔تقریباً سولہ سو (۱۶۰۰) اشعار مکمل کرچکے تھے،مگرافسوس کہ یہ کام پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اوروہ چل بسے۔‘‘

قیصر صدیقی نے ہمیشہ بے نیازانہ زندگی بسر کی ۔ یہی بے نیازی انہوں نے اپنے فن کے ساتھ بھی برتی اور علمائے ادبیات و انتقادیات کے آگے بھی کبھی سرنیاز خم نہیں کیا۔ ان کا دوسری مجموعہ غزل ’’درد کا چہرہ‘‘ بھی ان کی بے نیازی کی نذر ہوگیا۔ دہلی قیام کے دوران ان کی ملاقات جواں سال شاعر وادیب اورجواہر لعل یونیورسیٹی کے ریسرچ اسکالر ظفر انصاری ظفر سے ہوئی۔ ظفر انصاری ظفری نے قیصر صدیقی کا نہایت ہی ضخیم غزل کا مجموعہ ’’ڈوبتے سورج کا منظر‘‘ ترتیب دے کر اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ اس مجموعے میں ’’درد کا چہرہ‘‘ اور ’’صحیفہ‘‘کی غزلوں کو شامل کیا گیا۔ اس طرح قیصر صدیقی کی بہت سی غزلیں محفوظ ہوگئیں۔ (یہ بھی پڑھیں منور رانا : ماں کا غزل میں پرچار کرنے والا شاعر – ایس معشوق احمد )

ظفر انصاری ظفر کی کاوشوں سے قیصر صدیقی کی نظموں کا ایک مجموعہ ’’سجدہ گاہ فلک‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ویسے تو قیصر صدیقی بنیادی طور پر غزلوں کے شاعر ہی رہے لیکن انہوں نے بہت سی نظمیں اور آزاد نظمیں بھی لکھیں۔ ان کی آزاد نظموں میں بھی پابند نظموں جیسی روانی پائی جاتی ہے۔ آزاد اور نثری نظموں کے اس دور میں پابند نظموں کا یہ مجموعہ کلاسیکی اور جدید آہنگ و اسلوب کے امتزاج سے مزین و مرتب ہیں اور شوق شاعری اور ذوق مطالعہ کی آبیاری اور آسودگی میں معاون معلوم ہوتی ہیں۔ یہ نظمیں رومانی، انقلابی اور وطنی شاعری کے تناظر میں مطالعے کا خصوصی جواز رکھتی ہیں۔ قیصر صدیقی کی ایک آزاد نظم ’’نیا سورج‘‘ ملاحظہ کریں:

صبح کی پو پھٹی

رات رخصت ہوئی

ایک سورج اگا

لیکن اے دوستو

یہ حسین صبح تو

شب گزیدہ سی ہے

اس کی کرنوںمیں کوئی نیاپن نہیں

اور ہو بھی تو کیوں؟

روشنی کے حجابوں میں لپٹی ہوئی تیرگی

اور کتنے دنوں دے سکے کا فریب

اورکتنے دنوں خواب دیکھیں گے ہم

خواب کو کوئی تعبیر کیسے کہے

ظلم کب تک سہے

اپنے ہی گھر میں کب تک کوئی بے سہارا رہے

یہ جو سورج ہے

یہ اپنا سورج نہیں

ہم کو وعدوں کا سورج نہیں چاہئے

ہم کو خوابوں کی کرنیں نہیں چاہئیں

چاند سورج جو ہیں بند گودام میں

کیوں مقفل ہیں ، وہ کس لئے بند ہیں؟

کاش ان کو بھی آزاد کردے کوئی!

قیصر صاحب کی زندگی عام آدمیوں کے ساتھ گزری ہے۔ سادہ اور ہر قسم کے چھل کپٹ سے دور آدمی کا جو چہرہ انہوں نے دیکھا تھا اس کے جو مسائل انہوں نے دیکھے وہ صرف دیکھی ہوئی چیزیں نہیں تھیں بلکہ انہیں کود بھی جھیلتے رہے۔ لہٰذا ان کا دل ایسے کربناک مناظر کو دیکھ کر لرز اٹھتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں ایک کسک ہے اور ایک ایسا احساس بھی پایا جاتا ہے جس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو عام آدمیوں کے مصائب و مسائل سن کر ترپ اٹھتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

ان پائوں کے چھالوں سے پوچھو، یہ بتائیں گے

طے کیسے کیا ہم نے شعلوں کا سفر تنہا

کیا جانئے کیوںمجھ پر یہ خاص عنایت ہے

کیا جانئے جلتا ہے کیوں میرا ہی گھر تنہا

اک شور قیامت ہے اور بھیڑ ہے چہروں کی

اس دور میں رہتا ہے ہر شخص مگر تنہا

تنہائی کا غم تم کو اس وقت مزا دے گا

میری ہی طرح تو بھی ہوجائو اگر تنہا

قیصرصدیقی کے چھوٹے بھائی آشکار احمد نے بتایا کہ قیصر صدیقی کو شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا لیکن باقاعدہ شاعری کا سلسلہ اجمیر شریف میں بارہ تیرہ سال کی عمر سے شروع ہوا۔  اس سلسلے میں مستند ثبوت ہیں کہ خود قیصر صدیقی ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔۔”زندگی نے اسی طرح آوارہ گردی کرتے ہوئے قریب تیرہ چودہ سال مکمل کر لی میں اس زمانے میں اجمیر شریف میں تھا۔۔۔۔ سید ایوب جمالی صاحب مرحوم کے حجرے کے پہلو میں ایک پھول کی دکان تھی اسی پر شعرا حضرات کی بیٹھک ہوا کرتی تھی جس میں جناب انیس نیازی مرحوم ، ساغر اجمیری مرحوم، اطہر اجمیری مرحوم رونق اجمیری مرحوم  اور بہت سے شعرا جن کا نام اب یاد نہیں رہا وہاں جمع ہوتے اور شعر و سخن کے تزکرے ہوا کرتے تھے ، میرے ذوقِ شعر گوئی کو  وہیں سے تحریک ملی اور میں نے جب کچھ منقبت کے  اشعار کہہ کے ان بزرگوں کے سامنے رکھے تو سب نے میرا بہت مزاق اڑایا اور ساتھ ہی مجھے میرے بہاری ہونے کا طعنہ بھی دیا ۔ میں بہت دل برداشتہ ہوا اور سرکار غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ میں رو رو کر دعا کی یا اللہ مجھے شاعری آجائے اور بس وہی ہوا۔  رات کو جب سویا تو کیا دیکھتا  ہوں کہ میں شعر کہہ رہا ہوں ، اور پھر دوسرے دن سے میں شعر کہنے لگا ،شعر جیسا بھی کہتا  مگر وزن و بحور کی خامی نہیں کہ برابر ہوتی تھی”۔

قیصر سمستی پوری اوریجنل شاعر تھے۔ انہوں نے جو کچھ دیکھا اورجو کچھ جھیلا اسے ہی غزل کے پیرائے میں ڈھال دیا۔ ان کی غزلوں میں بچپن، جوانی اور جوانی سے آگے کے تجربات بھی منعکس ہوئے ہیں۔ ان میں خوشیوں اور غموں کی دنیا آباد ہے۔ اپنے اور اپنے ہمسایے سے لے کر انسانوں کی بیکراں دنیا کے بے پناہ معاملات و مسائل پر انہوں نیا شعار کہے ہیں ۔ ان کے تجربات خالص ان کے اپنے تجربات ہیں۔ یہ خوشگوار اور ناخوشگوار دونوں ہیں۔ وہ وصال یار کے خیالات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کبھی یہ خیال انہیں خوفزدہ بھی کردیتا ہے۔ چند اشعار دیکھیں:

میں نے راستہ دیکھا آپ کا زمانے تک

آپ ہی نہیں آئے میری جان جانے تک

آپ ہی نہیں تو پھر روٹھنے سے کیا حاصل

لطف روٹھنے کا ہے آپ کے منانے تک

قیصر کے کلام میں موضوعات کی کثرت اور گونا گونی کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حیات انسانی کے تقریباً ہر پہلو کو موضوع سخن بنایا ہے۔ انسانی اقدار کی شکست و ریخت کے پس منظر میں وہ کہتے ہیں:

نفرت کی دیوار گرادے یا اللہ

انساں کو انسان بنا دے یا اللہ

کردے ایک اشارہ اپنی رحمت کا

دنیا سے دکھ درد مٹادے یا اللہ

مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قیصر صدیقی کی شاعری میں آج کے سماجی و سیاسی حالات و مسائل کی صورت گری نمایاں طور سے دکھائی دیتی ہے اور ان کی شاعری میں ہمہ گیریت کا حسن پیدا ہوجاتا ہے۔

٭٭٭

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

mansoor khushterقیصر صدیقیمنصور خوشتر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ہماری عمر یوں ہی بس – زیبا خان حنا
اگلی پوسٹ
میری نظروں میں وہ لڑکی – ڈاکٹر غلام مصطفےٰ ضیا

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں