by adbimiras
1 comment
قرۃ العین حیدر کی غیر افسانوی نثر/ ڈاکٹر انوار الحق –  عبدالمالک بلندشہری
____اردو زبان و ادب ہمیشہ سے صنفی مساوات سے ماورا رہا ہے… اس کی زلف گرہ گیر کو سنوارنے اور اس کے قیمتی خزانہ میں بیش بہا اضافہ کرنے کے سلسلہ میں دونوں صنفوں نے یکساں طور پر تگ و دو کی ہے. اردو ادب کی ترویج و اشاعت میں مردوں کے شانے بہ شانے خواتین نے بھی انتھک کاوشیں کی ہیں – جن عظیم خواتین نے اردو ادب کے سرمایہ میں قیمتی اضافہ کیا ہے ان میں قرۃ العین حیدر بہت ہی نمایاں ہیں….عینی آپا نے اردو ادب کی مختلف اصناف فکشن، رپورتاژ، ناول نویسی ، ترجمہ نگاری، البم نگاری اور مکتوب نگاری میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں..
عینی آپا ایک بہترین افسانہ نویس، باکمال ترجمہ نگار، ناولسٹ اور عظیم فنکار تھیں..وہ اردو کے پہلے باکمال افسانہ نگار سجاد حیدر یلدرم(١٨٨٠-١٩٤٣) سابق رجسٹرار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی باکمال صاحبزادی تھیں..ان کی ولادت ١٩٢٦ میں اترپردیش کے مشہور و تاریخی خطہ علی گڑھ میں ہوئی – جب کہ وفات ٢٠٠٧ میں نوئیڈا یوپی میں ہوئی….وہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتی تھیں ان کی والد ماجدہ نذر سجاد بھی ایک بہترین افسانہ نویس تھیں….علمی گھرانہ سے وابستگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عینی آپا کم عمری سے ہی لکھنے پڑھنے کی طرف مائل ہوگئیں جس کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا.. ان کا تخلیفی سفر سات دہائیوں کو محیط ہے. اس درمیان آپ نے بے شمار کہانیاں، مضامین تخلیق کئے. آپ نے درجن بھر ناولز بھی لکھے جن میں آگ کا دریا،آخر شب کے ہم سفر، ہمیں چراغ ہمیں پروانے،چاندنی پیگم، گردش رنگ چمن، سفینہ غم دل قابل ذکر ہیں.. عینی آپا بنیادی طور پر ایک افسانہ نویس اور ناول نگار تھیں.. اس کے باوجود انہوں نے دیگر اصناف ادب میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان اصناف کی ثروت مندی میں بھی اضافہ کیا…ان کی تخلیقات کا بیش تر حصہ یوں تو صنف افسانہ نگاری سے تعلق رکھتا ہے اور انہیں اسی جہت کے حوالہ سے ناقدین اور تبصرہ نگاروں نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی غیر افسانوی نگارشات کا بھی ایک طویل سلسلہ رہا ہے..رپورتاژ،سوانحی ناولز، ناولٹ وغیرہ اصناف ادب کی فصیلوں پر بھی آپ نے اپنے ریاض کے دیپ جلائے ہیں ….اپنی تخلیقی قابلیت کی بناء پر آپ نے پدم بھوشن، پدم شری سمیت درجنوں اعزازات و ایوارڈز بھی حاصل کئے….
ڈاکٹر انوار الحق ہمارے مشفق استاذ ہیں.. بڑے خلیق، متواضع اور باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں.. بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی میں اپنی مثال آپ ہیں.. ایک بہترین استاذ میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں..وہ مختلف مقامات پر طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت کے لئے متعدد ادارے چلا رہے ہیں اور درجنوں علمی انسٹیٹیوٹ کی سرپرستی بھی فرمارہے ہیں… وہ متعدد کتابوں کے مصنف اور بہترین نثر نگار بھی ہیں. ترجمہ نگاری کے فن سے بہ خوبی آگاہ ہیں.. انہوں نے عینی آپا کی شخصیت و کمال کے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے جس پر ناقدین کی نگاہ نہیں پڑی ہے. انہوں نے اپنی اس کتاب میں عینی آپا کے غیر افسانوی مضامین کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور ان کی غیر فکشنی نثر کے محاسن و ممیزات سے قارئین کو باخبر کیا ہے… میرا خیال یہ ہے کہ عینی شناسی کی راہ میں ان کی یہ کوشش ایک قابل قدر پیش قدمی ہے… اس کتاب سے ایک عظیم فنکار کی شخصیت کے مخفی گوشے واضح ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں..
میں استاذ گرامی قدر کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے آٹو گراف کے ساتھ اپنی اس اہم کتاب سے عاجز کو سرفراز فرما کر عزت افزائی فرمائی اور میرے لئے عینی آپا کو روایت سے ہٹ کر سمجھنے کی راہ فراہم کی…..

 

(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کا ان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

1 comment

Tarif Saleem دسمبر 25, 2020 - 3:21 شام

قلم کے جادوگر برادر عبدالمالک بلندشہری

Reply

Leave a Comment