۸۰کے بعد شعری ا فق پر اپنی موجودگی کا احساس کرانے والے شعرا میں شاہد اختر ایک سنجیدہ اور معتبر نا م ہے ۔’’ رنگ طلسمات‘‘ شاہداختر کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو ان کے سفر شاعری سے تقریبا ۳۳ سال بعد منظر عام پر آیا ہے ۔تین دہائی سے زائد عرصہ گزنے کے بعد ایک کثیر الاشاعت شاعر کا شعری مجموعہ منظر عام پر آنا خود شاعر کی بے اعتنائی ، بے پروائی یا عدم دلچسپی سے ہوتا ہے۔ جس کا اعتراف انہوں نے خود اپنے انٹرویو میںکیا ہے۔ ’’ عام طور سے شعرائ کی طرح میں اپنی چیزیں یا تخلیقا ت محفوظ کر کے نہیں رکھتا تھا ۔ اس زمانے میں مجھے اپنے حافظے پر پورا بھروسہ تھا اسی وجہ سے میں نے اپنی تخلیقات کوبہت حفاظت سے نہیں رکھا ۔ ( ’’ رنگ طلسمات ‘‘ ص ۱۷۱) اس بیان سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ مجموعے میں شامل ۱۶۳ غزلوں کے علاوہ بھی کئی اہم غزلیں ان کی بے توجہی کے سبب ضائع ہو گئی ہوں ۔بہر حال جو شعری سرمایہ انہوں نے ’’ رنگ طلسمات ‘‘ کی شکل میں پیش کیا ہے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے ان کے شعری سفر پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں ۔شاہد اختر کا تعلق تاریخی عظمت اور علمی و ادبی شہرت والے شہر سہسرام سے ہے ۔جس نے ملک و ملت کو بڑے بڑے علما ئ ، فضلائ ، حکمائ ، ادبا ، شعرائ ،اور صوفیائ عطا کیے جن کی علمی ، دینی اور ادبی فضا سے ایک جہاں نے استفادہ کیا ۔شاہد اختر نے اسی گہوارئہ علم و ادب میں ایک سادہ اور دین دار گھرانے میں آنکھیں کھولیں اور اسی شہر کی سحر انگیز علمی اور ادبی فضانے ا ن کے اندر شعر فہمی اور شعر گفتنی کا ذوق پیدا کیا ۔اور سفر در سفر ان کی تخلیقات ملک اور بیرون ملک کے موقر جریدوں مثلاً ’’ پاسبان ‘‘ تعمیر ہریانہ ‘‘ شب خون‘‘ مباحثہ ‘‘ شاعر ‘’’سب رس‘‘ آج کل ‘‘ ذہن جدید‘‘ شعرو حکمت ‘‘ مکالمہ‘‘ تشکیل اور آئندہ وغیر ہ کی زینت بننے کے بعد قارئین پر اپنا تاثر قائم کرنے لگیں۔ان رسائل کا حصہ بننے کے بعد ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ سفر شاعری کے آغازسے ہی شاہد اختر نے اپنا شعری رجحان سنجیدہ اور فکری شاعری کی طرف ملحوظ رکھا ہے ۔اور اپنے پیچیدہ تخلیقی تجربے کو بیان کرنے کی ایک کامیاب کوشش کرتے ہوئے اپنے تخلیقی سفر کے مدارج بڑی تیزی سے طے کر لیے ہیں۔
شاہد اختر ایک دلنواز شخصیت کے مالک ہیں ،طبیعت میں نفاست ،خودداری اور وضع داری کے ساتھ خلوص و محبت اور سادہ لوحی ان کے کردار کا اہم جز ہیں ۔ اور جہاں تک فنی مہارتوں کا تقاضہ ہے وہ ایک نابغہ فنکار ہیں جوصرف اردو غزل ہی نہیں بلکہ اردو شاعری کی آبرو اور فن کی برگزیدگی کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں ۔نئی غزل کے نئے ناموں کے ساتھ انہوں نے اپنے انداز میں اپنا حق ادا کیا ہے ۔اشعار دیکھتے ہیں ۔ْ
اور بھی موسم سفاک برہنہ ہوگا
دھوپ میں سایہ اشجار غنیمت جانو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کا رقص سیہ جنگلوں میں جاری ہے
ہر ایک شاخ شجر خوف سے جھکی ہوئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بھی شہر کی آب و ہوا نے آن لیا
جو کھینچتا تھا بہت انتظار میرے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے خواب کی جن کی نہیں کوئی تعبیر
مگر وہ راز کسی پر عیاں کسی کا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھنے آتے تو بہت ہیں کوئی رہتا ہی نہیں
کیسے آباد ہو ویران کھنڈ ر آنکھوں کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہونے دے مجھے وصل کی ساعت سے بغلگیر
لڑنے کے لیے ہجر کا میدان پڑاہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آسمان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں
زمین سے تو نئی فصل کی امید نہیں
مختلف غزلوں سے نقل کیے گئے ان اشعار پر غور کریں تو دھوپ ، شجر ، شہر ، خواب ، کھنڈر ،زمین ا ور بغلگیر جیسے الفاظ جدید غزل گویوں کو زیادہ مرغوب رہے ہیں ۔شاہد اختر نے ان الفاظ کی جو صورتیں استعمال کی ہیں وہ روایتی غزل سے خاصی مختلف نظر آتی ہیں ۔ اور بعض الفاظ کو برتنے کا عمل شاہد اختر کے لہجے سے ہی مخصوص نظر آتا ہے وہیں عام اور پاپولرقسم کے الفاظ بھی شاہد اختر کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں غبار ،ہنر ، صحرا ، شام ، دیوار ، لہو ، عکس ، چہرہ،دشت ، ہوا ، خاک ، بادل ،پانی، حصار، تصویر ، چراغ ، صدا ، منظر، سحر ، دھواں ، تنہائی ، آسمان ، زمین ،انا، ذائقہ ، خدا، ریت ، قہقہہ وغیرہ الفاظ معنیاتی سطح پر نئی غزل کے نئے لب و لہجے میں مختلف زاویے لے کر ابھر تے ہیں ۔جہاں تک ترکیباتی انصرام کا تعلق ہے وہا ں بھی شاہد اختر نے قاری کو انبساط سے ہمکنار کیا ہے۔(اس کی مثالیں بزرگ شاعر سلطان اختر اور ظفر اقبال کے یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں )مثلاًعرصئہ دالان ، فتنئہ محشر نما ، رنگ طلسمات، دامان چشم تر، ریگ بیابان، تہہ آسماں ، خمار دید ، غزال دشت ، گنج عمر رواں ، عکس لایعنی ، رقص طائوس ہنر، طلسم خانہ دنیا ، رنگ سیہ فام ، موج آب رواں ، عہد بے یقیں ، خوئے آدم زاد ، کوہ دشت ، رقص موج آب رواں ، رنگ انا ، عدوئے آدم زاد ، آغوش مہر و ماہ ، کاسئہ گناہ، صدائے موج ہنر ، سبیل کشتئی عمر رواں ، پس خیال ہنر، درون صحن چمن، عندلیب خوش گلو، عر صئہ نان جویں ، سیلاب بلا خیز ، درون خانۂ دل ، شاخ طلب ، وغیرہ علاوہ ازیں یادوں کی خانقاہ ، لہو کی موج ، ریت کی دیوار ، غنیم کی فوجیں ، مشین کا دل ، طلب کی شاخ ،لہوکی شاخ ، برہنہ دھوپ ، گمرہی کا نمک ، ہجر کی دیمک، اور زمانے کی دھول کا رچائو اور برتائو احساسات کی سطح پر قاری سے گفتگو کرنے کو آمادہ کرتا ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں بارہ قباؤں کی سہیلی: عذرا پروین – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
شاعری میں عصری حسیت پر بڑا زور دیا جاتا رہا ہے ۔یعنی شاعر جس عہد میں زندگی بسر کر رہاہے اس کو در پیش مسائل و مصائب کی عکاسی اس کی تخلیقات کا حصہ ہیں یا نہیں ، یہ وہ اہم پہلوہے جو زندگی کی تعمیرو تزئین میں ایک شاعر کے فکری شعور کو عیاں کرتا ہے ۔ظاہر ہے اس شغل کے لیے اصناف سخن میں غزل سب سے موضوع اور اثر آفریں صنف ہے ۔جہا ں رمز وایما کے پیرائے میں بڑی سے بڑی بات کہی جا سکتی ہے ۔شاہد اختر غزل کے اس مزاج سے بخوبی واقف بھی ہیں اور اس کے ادا شناس بھی ۔اشعار دیکھتے ہیں ۔
گرتی دیواریں ، لرزتے در، شکستہ جسم وجاں
بوجھ اپنی لاش کا تنہا لیے پھرتا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ صحن دشت ہی روشن نہ کوئے آدم زاد
بکھر چکی ہے بہت جستجوئے آدم زاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی سمت سفر ہے نہ منزلوں کا سراغ
کہاں تو ڈھونڈ نے نکلا ہے خوئے آدم زاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اک بار ڈالی ہے تو اب بار دگر ڈالے
یہا ں ہر آدمی کو چاہیے خود پر نظر ڈالے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدائے موسم گل دیدنی تو ہے لیکن
چمن میں بکھرے پڑے ہیں خزاں کے نقش ونگار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادل وہی ہیں چاند ستارے بھی ہیں و ہی
بدلا نہیں ہے رنگ ابھی آسمان کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طلب کی شاخ پہ چاہت کے پھل نہیں آئے
یہ کیسا روگ لگا دل لگی کے دامن میں
موضوعاتی اعتبار سے بھی شاہد اختر کے یہاں زندگی کے مختلف شیڈس نظر آتے ہیں ۔اپنوں اور بیگانوں کی دکھ درد کی کہانیاں، نفرت ، فریب ، اخلاقی پسماندگی ، رشتوں کی کمزور ہوتی ڈوریں ، قدروں کا زوال ، خوابوں کا انتشار ، ذات پر خوف کی یلغار ، بزم آرائیوں میں مصنوعی اخلاص کا دخل اور مشینی زندگی پر شکنجہ کستی مصروفیات جیسے متعدد مسائل جا بجا نظر آتے ہیں ۔
ہر ایک شخص مجھے پہچانتا ہے پھر بھی یہاں
کبھی کسی سے مری دوستی نہیں نکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام رشتہ لب ذائقے سے خالی ہیں
نہ دوستی کی شکر ہے نہ دشمنی کا نمک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلٹ کے دیکھ کسی کو نہ اب صدا ہی دے
بدن سے جھاڑ چکے لوگ بوئے آدم زاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس سفر کی کہانی کسی سے کیا کہیے
یہاں کسی کا بھلا کون سننے والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ انتظار بھری ساعتوں کا دور گیا
اب انتظار کسی کو یہا ں کسی کا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم ہو جس پہ سر دست صداقت کا نزول
وہ چمکتے ہوئے کردار نہیں ملتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنائی دیتے ہیں لوگوں کے قہقہے دن رات
سرائے جاں میں کوئی نو حہ خواں کسی کا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکستہ او ر نا ہموار منظر
نظر کے درمیاں خالی پڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گماں کچھ اور ہوتا ہے مگر دل
برائے دوستا ں خالی پڑاہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی کسی کو مڑ کے یہاں دیکھتا نہیں
پھر بھی ہمیں صدا تو لگانی ہے مہرباں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لرز رہی ہے نگاہوں میں گھر کی ویرانی
میں ایک شب تو گزاروں کسی کے دامن میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقیں کی ڈور سے چاہے گماں کے دھاگے سے
تعلقات کو باندھے رہو جدھر سے بندھے
موضوعات کی سطح سے درکنار شاہد اختر کے فنی محاسن پر غور کریں تو یہ محسوس ہوگا کہ ان کی لفظیات اور لفظوں کو برتنے کا عمل جگانے اور مسحور کر دینے والا ہے، لہجے میں خود اعتمادی ہے ، تراکیب کی ندرت ،تشبیہوں کا حسن ، استعاروں کی جمالیات اور ردیف و قافیے کا تال میل انوکھا اور نرالا ہے ، بوجھل تراکیب ،ذہن کو ستانے والی علامتیں ،اور غیر ضروری فارسی زدہ لفظیات سے کنارہ کشی ہے ، اسلوب ،طرز اظہار ،طرز احساس اور انداز بیان کی کشش میں انفرادیت ہے ،تفکر کی ہمہ رنگی ہے اورطلسماتی رنگ کی خوشبو ہے جو ’’رنگ طلسمات‘‘ کی طرف مائل بہ سفر کرنے کو آمادہ ہے۔ ۔مختلف نوعیت کے یہ اشعار دیکھیں ۔
کسے یقیں یہاں جانیے گماں کس کو
وصال و ہجر کے مابین بھی تضاد رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بستی کا اندھیر ا ہی بہت ہے ہم کو
شہر کی روشنی ہم کو نہ د کھائو صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خمار دید سے آنکھیں ہماری سوج گئیں
لگی تھی کب سے تماشائے روزگار کے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روز چلتی ہیں اگر تازہ ہوائیں دن رات
دل کے آئینے پہ کیوں گرد جمی رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنے کو بہار آئی کھلے پھول بھی ہر سمت
گلشن سے مگر باد خزاں کا نہ گیا ر نگ
صحر ا بہ صحرا ، دشت و جبل ، کو بہ کو خدا
پھیلی ہوئی ہے کیسی یہاں ہائو ہو خدا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا ہی خد ا ہو گا چاروں طرف
کہ ہم ہو ر ہیں گے فنا ایک د ن
کہیں کہیں نئی تہذیب کے ہالوں کی جھلک متحیر کن لہجے میں نظر آتی ہے ۔اور تلخ بھی ، ایسے میں کسی بھی فنکار یا شاعر کے احساسات، اظہار و بیان کے تیکھے انداز اور تیور لے کر جلوہ گر ہوتے ہیں ۔اس نوعیت کے اشعار بھی شاہد اختر کے یہا ں نظر آتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )
ذر ا سی فتح پہ ہونے لگے ہوا پہ سوار
اتر نہ جاؤ کہیں وقت کی سواری سے
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ڈرتا ہی نہیں ہوں اب کسی سفاک موسم سے
میں اپنی ٹھوکروں میں روز ایک طوفان رکھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی بھی ہم نے تجھے دیوتا نہیں مانا
ابھی بھی کون سا ہم تجھ کو پوجے بیٹھے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری بے بسی کا ا ب تماشہ دیکھنے والے
فقط آنکھیں لیے پھرتے ہیں ،بینائی نہیں رکھتے
زندگی میں حرارتیں پیدا کرنے والا فن پارہ اپنا تعارف آپ ہوتا ہے ۔دعوی اور دلیلیں اسے سہارا نہیں دیتیں ۔مگر معروضی مطالعہ ،ذاتی اور تاثراتی نظریات سے ما ورا ہوتا ہے ۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مثالیں ،قیاس اور حقائق کو استدلال کی کڑیوں سے جوڑ کر جو بھی صور ت بر آورد ہو
اسے بلاکم و کاست شفاف ڈھنگ سے پیش کر دیتی ہیں ۔شاہد اختر کے یہا ں بعض ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جو سننے اور پڑھنے والوں کو متوجہ ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں گہرائی سے سوچنے پر بھی آمادہ کرتے ہیں۔
اپنے بندوں پر عنایت کی نظر ہوتی بھی کیا
ایک لمحہ بھی زمینوں پر خدا اترا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کہیں ہم کو ضرورت نہ ہماری پڑ جائے
شام ڈھلتی ہے نہ آنکھوں میں نمی رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قائم ہے وہی آنکھ کی راتوں میں سیاہی
او ر صبح کے آثا ر بھی لگتے ہیں فنا رنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کڑی ہے دھوپ مگر حوصلوں کی نرمی سے
نگاہ میں تھا جو منظر بدل کے رہ گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تا حد نظر گریہ خونیں کی چمک ہے
ابھرا نہ کبھی ڈوب کے وہ شمس تعلق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر غنیم کی فوجیں ادھر ہوس کے غلام
قدم قدم پہ ہیں روشن عدوئے آدم زاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود سے ملنے کی ہوس میں خود بھی ہم سمٹے رہے
ہم سے لوگوں پہ کسی کا نقش پا اترا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرتی دیواریں ،لرزتے در، شکستہ جسم و جاں
لاش اپنی بوجھ کا تنہا لیے پھرتا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھلس کے رہ گئے تہذیب کے لب و رخسار
یہاں سے کوئی بھی منزل نشیں نہیں گزرا
شاہد اختر کی غزلیں وقت اور حالات کی تبدیلیوں کااحترام کرتی ہیں جہاں ادب کے خالص اور بنیادی میلانات تخلیقی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تنا ظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔معاصر اردو غزل کے آنگن میں ان کا شعری ڈکشن روشن اور تابناک ہے ۔ ان کا لہجہ غزل کی عقیدت میں رنگا ہوا ہے جو یقیناً نئی غزل کے لیے حوالے کی حیثیت رکھتا ہے ۔اپنی گفتگو سمیٹنے سے قبل شاہد اختر کے اس پختہ ارادے کو آپ کے حوالے کیے جاتا ہوں ۔
ہر طرف اڑتی بکھرتی ساعتوں کے درمیاں
عمر بھر رکھنا ہے اخترؔ یہ سفر جاری مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرفیضان حسن ضیائی
محلہ بارہدری ،سہسرام ، بہار
E-mail- faizanzeyai.ssm@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

