سعودی عرب میں حرمین شریفین کے واقع ہونے اور اس کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ جہاں مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ نیز مدینہ منورہ جہاں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا کے سارے مسلمانوں کو اس ملک سے روحانی اور قلبی لگاؤ ہے۔ کیونکہ اسی مقدس سرزمین یعنی مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ موجود ہے جو تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ جس کی طرف دنیا کے سارے مسلمان رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔ جہاں شعائر اسلام ہیں۔ جہاں کی مقدس اور روحانی سرزمین پر ارکان اسلام کا اہم رکن حج کی ادائیگی مکمل ہوتی ہے۔ جو دنیا کے کسی بھی ملک اور شہر میں نہیں ہوسکتی۔
رفیق احمد بخشی نے لکھا ہے۔۔
سعودی عرب عالم اسلام کا فخر ہے ۔مسلمانوں کے دو مقدس ترین شہروں کے یہاں وقوع ہونے کی وجہ سے پورے عالم کے مسلمانوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
قبلہ اور شہر نبی نہ صرف سعودی عرب کی پہچان ہیں بلکہ ہر عام وخاص مسلمان کو کچھ ایسی انسیت سی ہوگئی ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ رہتے ہوں ،جیسے ہی سعودی عرب کے حوالے سے کوئی خبر سماعت یا بصیرت سے گزرے تو ایسی دلچسپی اور اپنائیت کے جذبات ہوتے ہیں جیسے اپنے مادر وطن کے لئے ہوں۔
جس طرح تمام ممالک کے لوگ اپنا ایک قومی اور وطنی دن مناتے ہیں۔ اور اس یادگار موقع پر اس ملک کی آزادی اور ترقی کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور مجاہدین کو یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے لوگ اپنا قومی دن ہرسال 23 ستمبر کو مناتے اور خوشیاں لٹاتے ہیں۔
اس موقع پر سعودی عرب سے روحانی رشتہ مضبوط ہونے کی بنا پر مسلمان اسے اہمیت اور مسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور تمنا کرتے ہیں کہ الله تعالٰی اس ملک کو تا قیامت سلامت رکھے۔ اور اسے یوں ہی خوشحال اور پھلتا پھولتا اور شاد و آباد رکھے۔
بخشی صاحب نے تحریر کیا ہے۔۔
جب 23 ستمبر کو سعودی عرب کا قومی دن منایا گیا تو دل کچھ اسی طرح کے جذبات سے لبریز تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ ہر اس مسلمان کا قومی دن ہے جو سعودی عرب سے محبت کرتا ہے۔ ایک امت ہونے کے ناتے سعودی عرب میں بسنے والےاپنےسعودی بھائیوں کو دل کی گہرائیوں سے یو م الوطنی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ سعودی عرب تا قیامت آباد رہے۔ یہ مملکت پورے عالم اسلام کا فخر ہے۔
آئیے پہلے سعودی عرب کا اجمالی تعارف اور اس کے جغرافیائی حدود دیکھتے ہیں۔ تاکہ اس کا صحیح جاۓ وقوع معلوم ہو جائے۔
وکی پیڈیا نے لکھا ہے۔۔(یہ بھی پڑھیں ماہ صفر منحوس نہیں – انصار احمد معروفی )
مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔۔۔
اس ملک کی آبادی کے متعلق مذکورہ میڈیا نے لکھا ہے۔
سعودی عرب کی آبادی تین کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
عرب میڈیا العریبیہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے آخری تین ماہ تک سعودی عرب کی آبادی تین کروڑ 50 لاکھ کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تین سال قبل تک سعودی عرب میں ایک کروڑ 26 لاکھ غیر ملکی آباد تھے اور یہ کل آبادی کا 38 فی صد بنتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2016 کی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر وسط سال 2020 تک 40 سال سے کم افراد کی تعداد 24،188،384 تک پہنچ گئی ہے جو کہ کل آبادی کا مجموعی طور پر 69.1 فی صد ہے۔
سال 2019 کے وسط کے مقابلے میں اس میں 523،429 افراد کا اضافہ ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 15 سال سے کم عمر کے افراد کی تعداد میں 166،530 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پندرہ سے 34 سال کی عمر کے افراد کی تعداد میں 255,501 کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس عمر کے افراد کی مجموعی تعداد سال 2020 کے دوران 11,823,262 ہوگئی۔ جو کہ کل آبادی کا 38 فی صد ہے۔
رقبہ کی وسعت کے اعتبار سے یہ ملک دیگر عرب ممالک میں ممتاز ہے۔ جس میں بڑے بڑے شہر آباد ہیں۔
اس کے مرکزی علاقہ سے متعلق وکی پیڈیا نے لکھا ہے۔۔
شہر کا مرکزی علاقہ
جدہ مغربی سعودی عرب میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک شہر اور بندرگاہ ہے جو ریاض کے بعد سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر کی موجودہ آبادی 34 لاکھ سے زائد ہے۔ اسے سعودی عرب کا تجارتی دارالحکومت اور مشرق وسطی اور مغربی ایشیا کا امیر ترین شہر قرار دیا جاتا ہے۔
جدہ حج بیت اللہ کرنے والے عازمین کی مکہ مکرمہ روانگی کے لئے داخلی راستہ فراہم کرتا ہے کیونکہ حجاج کرام کے ہوائی جہاز اسی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترتے ہیں جبکہ اس کی بندرگاہ بحری راستے سے آنے والے حجاج کو خوش آمدید کہتی ہے۔
شہر کا ہوائی اڈہ شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ایئرپورٹ 20 لاکھ سے زائد حجاج کرام کے لئے بنایا گیا ہے جو ہر سال سعودی عرب آتے ہیں۔ جدہ کی بندرگاہ دنیا کی 30 ویں سب سے بڑی بندرگاہ ہے جہاں سے سعودی عرب کی بیشتر تجارت ہوتی ہے۔
سعودی عرب میں قائم ریاستہائے متحدہ امریکا کے تین قونصلیٹ میں سے ایک جدہ میں قائم ہے اس کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، روس اور چین کے ساتھ ساتھ موتمر عالم اسلامی اور عرب لیگ کے قونصلیٹ و دفاتر بھی یہاں واقع ہیں۔
ہرسال 23 ستمبر کو سعودی عرب میں قومی دن کیوں منایا جاتا ہے؟ اس سلسلے میں تاریخی حوالے سے یہ بات لکھی جاتی ہے کہ موجودہ سعودی عرب حکومت کے بانی شاہ عبد العزیز ابن عبدالرحمن ہیں۔
وکی پیڈیا میں تحریر ہے۔
قومی یوم سعودی عرب (عربی: اليوم الوطني للمملكة العربية السعودية) سعودی عرب میں ہر سال 23 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1932 میں عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے ذریعے سعودی عرب کے یوم تاسیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس یوم کی مناسبت سے تمام سرکاری ادارے بند رہتے ہیں۔
سعودی عرب میں اس قومی دن پر لوک گیتوں کے رقص ، گانوں اور روایتی تہواروں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سڑکوں اور عمارتوں کو سعودی پرچموں سے سجایا جاتا ہے اور لوگ سبز اور سفید لباس زیب تن کرتے ہیں ، مملکت میں چاروں طرف سبز اور سفید سعودی غبارے لگائے جاتے ہیں۔
آل سعود سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے۔ جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ء میں پڑی تاہم جزیرہ نما عرب میں آل سعود کا اثر و رسوخ چند صدیاں قبل شروع ہو گیا تھا۔ مملکت کے بانی عبد العزیز ولد سعود سے قبل یہ خاندان نجد میں حکمران تھا اور کئی مواقع پر عثمانی سلطنت اور مکہ کے راشدیوں سے ان کا ٹکراؤ ہوا جس میں انگریزوں نے انہیں ترکی خلافت کے خلاف استعمال کیا۔ آل سعود تین مرتبہ حکومتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جن میں پہلی سعودی ریاست، دوسری سعودی ریاست اور جدید سعودی عرب شامل ہیں۔ (اختر انصاری کا افادی ادب – ڈاکٹر عادل حیات )
موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے جن میں شہزادوں کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ خاندان کے موجودہ سربراہ اور سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود ہیں۔بانئ سلطنت عبد العزیز ولد سعود کی اولاد ہی سعودی ریاست کا شاہ یا ولی عہد قرار دی جا سکتی ہے۔ وکی پیڈیا۔
اس وقت شاہ عبدالعزیز آل سعود کے لڑکے شاہ سلمان خادم الحرمین الشریفین کے طور پر سعودی عرب کے حکمران ہیں۔
انصار احمد معروفی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

