رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ/ نوشاد منظر – عابد سہیل
علم دو چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے،ایک متعلقہ موضوع کے ایک ایک پہلو سے گہری واقفیت اور اس کے رگ و ریشے پر مکمل گرفت اور دوسرے یہ کہ یہ ساری معلومات کہاں سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔یوں تو یہ علم اور واقفیت ظاہری کتابوں اور موضوع کے ماہرین کے افکار کے مطالعے سے ہی حاصل ہوگی لیکن مسئلہ کتابوں اور مقالات کی تلاش اور ان کے انتخاب کا بھی ہوتا ہے،اس کام میں انسائیکلو پیڈیا،توضیحی اور حوالے کی کتب اور اہم رسائل و جرائد کے اشاریے خاص طور سے معاون ہوتے ہیں۔
زیر نظر کتاب دہلی کے مشہور ادبی رسالے ’شاہراہ‘ کے اشاریے اور اس کے اہم مضامین نظم و نثر کے کسی قدر گہرے تعارف پر مشتمل ہے۔یہ ماہنامہ چونکہ ترقی پسند نظریات کا حامی تھا اس لیے ترقی پسند ادبی تحریک کے ایک دور کو سمجھنے اور اس دور کی تخلیقات کے بار ے میں کم سے کم عمومی رائے قائم کرنے کے لیے زیر نظر اشاریے کا مطالعہ ضروری ہے۔اس مطالعہ سے اہم تخلیقات،مقالات اور انجمن کے عمومی رویے تک رسائی ممکن ہوگی۔توضیحی اشاریے کا یہ اہم کام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر نوشاد منظر نے کیا ہے۔اصناف ادب کی بنیاد پر مشمولات کی تفہیم اور تجزیے نے اس کام کی افادیت میں اضافہ کردیا ہے۔قارئین کے خطوط کی بھی نشاندہی کردی گئی ہوتی تو یہ کام مزید وقیع ہوجاتا۔
ترقی پسندی بیسویں صدی کے ایک بڑے حصے میں اردو ادب کی سب سے بڑی تحریک تھی اور اس نے ہندوستان کی تقریباََ ساری زبانوں کے ادب اور خاص طور سے اردو ادب کو ایک سمت و رفتار دی تھی جس کے ڈانڈے سیاست اور سماجی اصلاح سے ملتے تھے۔انجمن ترقی پسند مصنفین کی تنظیم تو دوسری ساری ادبی قسطوں کی طرح شروع ہی سے ڈھیلی ڈھالی رہی لیکن انجمن کے قیام(۱۹۳۶) کے چودہ پندرہ سال بعد تحریک میں بھی کمزور کے آثار نظر آنے لگے۔اسے عام طور سے ترقی پسند فکر کی کمزوری پر محمول کیا گیا،اگرچہ ایسا شاید تھا نہیں۔تحریک و تنظیم دراصل فکر کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور فکر کے بڑی حد تک قبولیت حاصل کرلینے اورذہنی منظر نامے کا حصہ بن جانے کے بعد ظاہرہے تحریک و تنظیم کی اہمیت ثانوی ہوجاتی ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام ۱۹۳۶ میں عمل میں آیا۔انجمن کے نقطۂ نظر کی تشہیر اور اس سے متاثر ادیبوں کی تخلیقات کی اشاعت کے لیے رسائل و جرائد شائع کرنے کا فیصلہ تاسیسی اجلاس ہی میں کیا گیا تھا لیکن حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ New Indian Literature کے علاوہ جو انگریزی دو ماہی تھا اور کوئی ایسا رسالہ شائع نہ ہو سکا جسے باقاعدہ طور سے انجمن کا ترجمان کہا جاسکے۔اس دو ماہی انگریزی جریدے کا بھی صرف ایک شمارہ ستمبر ۱۹۳۹ میں شائع ہوسکا کیونکہ فوراََ ہی اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ان دنوں ترقی پسند ادب بہت تیزی سے مقبول ہورہا تھا اور اس کے زیر اثر تخلیق کی جانے والی تحریروں کی اشاعت کے لیے کوئی باقاعدہ رسالہ نہ ہونے کے سبب یہ کام دوسرے رسائل و جرائد نے انجام دیا۔اسی زمانے یعنی ۱۹۳۷ میں لکھنؤ سے پنڈت نہرو اور رفیع احمد قدوائی کے اردو ہفت روزہ ’ہندستان‘ کا اجرا ہوا۔یہ ہفت روزہ بنیادی طور سے تو کانگریس میں بائیں بازو کے خیالات کا ہمنوا تھا لیکن اس میں ترقی پسند ادیبوں کی تخلیقات بھی تقریباََ پابندی سے شائع ہوتی تھیں۔مجاز کی نظم ’ آوارہ‘ پہلی بار ’ہندستان‘ ہی میں شائع ہوئی تھی۔دو سال بعد یعنی ۱۹۳۹ میں مجاز،سردار جعفری اور سبط حسن نے لکھنؤ سے ’نیا ادب‘ کی اشاعت کا ڈول ڈالا اور یہ رسالہ بہت جلد ادبی منظر نامے پر چھاگیا۔نیا ادب ۱۹۴۲ میں بمبئی منتقل ہوگیا تو اس کی جگہ پُر کرنے کے لیے رضا انصاری نے دو ماہی ’منزل‘ کا اجرا کیا لیکن اس کی اشاعت کا سلسلہ آزادی ہند کے قبل ہی ختم ہوگیا۔آزادی کے بعد لکھنؤ سے ’مندر‘ کا اجرا عمل میں آیا لیکن اس کا سلسلہ اشاعت بھی چند شماروں کے ختم ہوگیا۔ (یہ بھی پڑھیں رسالہ ’شاہراہ‘ کا ناولٹ نمبر- ڈاکٹر نوشاد منظر )
ملک کے اس حصے سے جو اب پاکستان میں ہے ترقی پسند نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے ’نقوش‘،’ادب لطیف‘ اور ’سویرا‘ شائع ہوئے لیکن اول الذکر دونوں رسائل نے بعد میں تمام ادبی جرائد کی شکل اختیار کرلی اور ’سویرا‘ کی اشاعت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔
آزادی ہند اپنے ساتھ ملک کی تقسیم ،تقریباََ سوا کروڑ کی نقل مکانی،بھیانک فسادات اور ہندوستان میں اردو کی بے قدری کے دور کاآغاز ساتھ لے کر آئی۔ان حالات نے بھی ترقی پسندتحریک و تنظیم کو متاثر کیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تقسیم ہند نے جو زخم لگائے تھے ان پر پھاہا رکھنے کا کام سب سے زیادہ ترقی پسند ادیبوں نے ہی انجام دیا۔
یہ تھا وہ پس منظر جس میں شاہراہ نے ۱۹۴۹ میں اپنا سفر شروع کیا۔اس وقت سرکاری ملازمین کو انجمن میں دلچسپی لینے سے باز رکھنے کے لیے اسے سیاسی تنظیم قرار دے دیا گیا تھا،شاید اس لیے ’’شاہراہ‘‘ کے سرورق پر ’’انجمن‘‘ کے بجائے ’’ترقی پسنداردو مصنفین کا ترجمان‘‘ درج کیا گیا۔آزادی ہند کے جلو میں پیش آنے والے واقعات اور سیاسی بحران نے جس میں کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی بھی شامل تھی۔ ’’شاہراہ‘‘ کے لیے عملی اور نظریاتی سطح پر مشکلیں ضرور کھڑی کی ہوں گی لیکن وہ ان سب سے بہ سلامت گزرگیا۔ ’’شاہراہ‘‘ کے آغاز کے چند ہی ماہ بعد بھیمڑی کانفرنس ہوئی جس نے انجمن کی انتہا پسندی پر مہر ثبت کردی،لیکن چند شعری کاوشوں سے قطع نظر اردو ادب پر اس فیصلہ کا کوئی خاص اثر نہ پڑا اور تنظیمی سطح پر انجمن کی ٹوٹ پھوٹ کے با وجود ’’شاہراہ‘‘ ملک کا سب سے باوقار اور مقبول ادبی جریدہ بن گیا۔اس کی اس مقبولیت میں ساحر لدھیانوی،پرکاش پنڈت، ظ۔ انصاری،فکر تونسوی،محمد یوسف، مخمور جالندھری اور وامق جونپوری کی ادارت کے یوگ دان کا حصہ کچھ کم نہ تھا۔
۱۹۵۵ کے آس پاس ’جدیدیت‘ نے ہندوستان میں سر اٹھایا اور متعدد ترقی پسند مصنفین نے بھی اس میں کشش محسوس کی،لیکن ’’شاہراہ‘‘ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑا۔
یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے لیکن سچ ہے کہ ’’شاہراہ‘‘ کی مقبولیت ہی اس کے لیے وبال جان بن گئی،کیونکہ تعداد اشاعت میں اضافہ کے سبب اخراجات برابر بڑھ رہے تھے اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اشتہارات کی حمایت اسے حاصل نہ تھی اور اردو کی بے قدری نے بھی مکتبہ شاہراہ سے کتابوں کی فروخت کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔غرض اشاعت کے بارہ سال مکمل کرنے کے بعد ’’شاہراہ‘‘ ۱۹۶۰ میں ادبی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
’’شاہراہ‘‘ ادبی جرائد و رسائل کی تعداد میں مزید ایک ماہنامہ کا اضافہ نہ تھا بلکہ اس نے اپنے دور کے ادب کی صورت گری میں ایک نہایت اہم کردارنبھایا تھا اور ترقی پسند فکر کو انتہا پسندی سے بڑی حد تک محفوظ بھی رکھا تھا۔یہ بذات خود ایک بڑا کارنامہ تھا۔اشاعت کا سلسلہ بند ہونے کے پچاس پچپن برس بعد اس کا موضوعِ مطالعہ بننا ہی اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔
مشہور و ممتاز شاعر مظہر امام ’’شاہراہ‘‘ کی اہمیت سے واقف تھے اور انہوں نے چند دوسرے ادبی جرائد کے ساتھ اس کے تقریباََ سارے شماروں کو فائل کی شکل میں محفوظ کرلیا تھا۔بعد میں علم و ادب کی جانب ڈاکٹر سرورالہدی کے ذوق و شوق سے متاثر ہو کر انہوں نے یہ فائل انہیں دے دیا تھا۔کچھ دنوں تک’’شاہراہ‘‘ کی یہ فائل پروفیسر قمر رئیس کے پاس بھی رہی۔
مظہر امام کی خواہش اور ’’ شاہراہ‘‘ کی ادبی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر سرورالہدی نے اس کام کے لیے نوشاد منظر کا انتخاب کیا اور یہ کام اپنی نگرانی میں کرایا۔نوشاد منظر ادب کے ایک سنجیدہ طالب علم ہیں۔انہوں نے ’’شاہراہ‘‘ کا توضیحی اشاریہ جس دقت نظر سے تیار کیا ہے اس کے لیے وہ یقینا مبارکباد اور تعریف کے مستحق ہیں۔
امید ہے کہ نوشاد منظر کے اس کام کو پیش نظر رکھ کر دوسرے ادبی رسائل کی بھی چھان پھٹک کی جائے گی۔
۱۰ نومبر ۲۰۱۳ عابد سہیل لکھنؤ
نوٹ۔ یہ مضمون ’’سر سخن ‘‘ کے عنوان سے کتاب ’’ رسالہ شاہراہ: تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ‘‘ میں شامل ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ماشاء اللہ
الف مبروک نوشاد بھائی