لال بہادر ۲؍اکتوبر۱۹۰۴کو بنارس میں پیدا ہوئے۔ڈیڑھ سال کی عمر ہی میں باپ کے سایہ سے محروم ہوگئے۔ماں کے زیر سایہ پرورش و تعلیم پائی۔ لال بہادر نے ابتدائی بچپن اپنے نانا کے گھر گزارا۔اگر چہ ان کا انتقال بھی جلد ہی ہوگیا لیکن ان کے سب ماموں اور ممانیاں ان کا بہت خیال رکھتے اور ان سے پیار کرتے تھے۔ ابتدائی عمر ہی میں گاندھی جی کی آواز پر لبیک کہا اور جنگ آزادی میں شامل ہوگئے۔کاشی ودیا پیٹھ سے شاستری کی ڈگری حاصل کی اور پھر وہ لال بہادر سے لال بہادر شاستری ہوگئے۔
۹؍ اگست ۱۹۴۲ء وہ دن تھا جب گاندھی جی نے بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز کیا تھا۔انھوں نے ممبئی سے اس آندولن کی شروعات کی۔لیکن جلد ہی یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی اور ملک کے سبھی شہریوں نے اس جدو جہد میں گاندھی جی کا ساتھ دیا۔بعد میں اس تحریک سے لال بہادر شاستری بھی جڑے اور ان کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور کسانوں نے بھی اس تحریک میں اہم رول ادا کیا۔ گاندھی جی اور شاستری جی دونوں کا اس تحریک میں اہم کردار رہا۔ دونوں ہی انگریزوں کے عتاب کا شکار ہوئے اور گرفتار کئے گئے۔یہی وہ تحریک تھی جس میں پہلی دفعہ نوجوانوں نے اپنی طاقت کا کھل کر مظاہرہ کیا تھا اور لاکھوں نوجوانوں نے کالج اور تعلیم چھوڑ کر اس تحریک کا حصہ بننا قبول کیا۔گاندھی جی کے ’کرو یا مرو‘ ،لال بہادر شاستری کے ’جے جوان جے کسان‘ اور یوسف مہرعلی کے ’بھارت چھوڑو‘ جیسے نعروں نے ملک کے ہر شہری میں آزادی کی جوت جگانے کا کام کیا اور آخر کار ۱۹۴۷ ء میں انگریزوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ شاستری جی نے اپنی پوری زندگی انسانیت اور قوم کے نام کردی تھی۔وہ گاندھی جی کے عدم تشدد اور امن کے اصولوں پر ساری زندگی سختی سے عمل کرتے رہے۔ ایک بے حد عام سے خاندان میںپیدا ہونے والے اس خاص شخص نے ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار اداکیا۔
۲۶ ۱۹ میں لال بہادر شاستری صوبائی کانگریس کے سرگرم رکن ہوگئے اور مختلف عہدوں پرفائز رہے اور ۱۹۳۵میں اس کے سکریٹری ہوگئے۔اس طرح ترقی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ۱۹۳۷میں کانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے دوبارہ ۱۹۴۶میں چنے گئے اور وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔شاستری جی جنگ آزادی کے سلسلے میں متعدد بار جیل گئے اور تقریباً نو سال جیل میں رہے۔ملک کی آزادی کے بعد مرکزی حکومت میں متعدد وزارتوں کی ذمہ داری بخوبی انجام دی۔ریل ،ڈاک،تار،تجارت و صنعت کے وزیر کے علاوہ ۱۹۴۷میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے یو۔پی کابینہ میں شامل ہوگئے۔۱۹۵۱میں کانگریس کے سکریٹری ہوئے۔۱۹۵۲ میں کانگریس پارٹی کی مشینری کو عام انتخابات کے لئے کامیابی سے چلایا۔ریلوے کے مرکزی وزیر کے عہدے پر بھی کام کیا لیکن ۱۹۵۶ میں ریلوے کا ایک بڑا حادثہ جس میں بہت سی زندگیاں تلف ہوگئی تھیں،خود کو ذمہ دار محسوس کیا اوراس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس غیر معمولی قدم کو پارلیمنٹ اور ملک نے بڑی ستائش کی نظر سے دیکھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس واقعے کے سلسلے میں پالیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے لال بہادر شاستری کی دیانتداری اور بلند خیالات کی بڑی تعریف کی۔ریلوے کے اس حادثے پر منعقد ہوئے طویل مباحثے کا جواب دیتے ہوئے لال بہادر شاستری نے کہا کہ’’ شاید میرے پستہ قد اور نرم گو ہونے کی وجہ سے لوگوں کو لگتا ہے کہ میں کسی معاملے میں مستحکم ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتا۔اگر چہ میں جسمانی طور پر مضبوط نہیں ہوں تاہم میرے خیال سے میں داخلی طور پر اتنا کمزور بھی نہیں ہوں‘‘۔
لال بہادر شاستری کے نمایاں رول کی ابتدا جواہر لال نہرو کے سایے میں ہوئی۔ملک میں اور ملک کے باہر بھی لوگوں کو ان کی صلاحیت کے بارے میں شبہ تھالیکن ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں لوگوں کو اپنی رائے کو بدلنا پڑا۔لوگوں نے انھیں زبردست توانائی ،کردار اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی شخصیت اور امن کا ایک سچا حامی انسان پایا۔وہ ملک کی تقدیر بنانے والے کی حیثیت سے ابھرے۔ لوگ ان کے نعرے’’ جے جوان جے کسان‘‘ میں یقین رکھتے تھے۔انھوں نے قوم میں پھر سے اعتماد قائم کیا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ ہندوستان کو عملی سوشلزم کی ضرورت ہے۔اہم چیز یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو کھانے پینے کی چیزوں،لباس،مکان،دوا علاج اور روزگار کے معاملوں میں اپنی ضرورتیں خود ہی پوری کرنے والا بنا دیں۔ہم ان چیزوں کو جتنا لوگوں کے لیے مہیا کر سکتے ہیں اتنا ہی ہم اپنی سوشلزم کی منزل سے قریب پہنچیں گے۔امیر اور غریب کے حالات میں جو فرق ہے اسے ختم کرنا ہوگا۔عام آدمی کے معیار زندگی کو اونچا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔‘‘
جواہر لال نہرو کے انتقال کے بعد ۱۹۶۵ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور ملک کو اقتصادی اور معاشرتی بلندی کی طرف گامزن کیا اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی عظمت کو اونچا اٹھایا۔۱۹۶۵میں پاکستان نے ہندوستان پر حملہ کیا جس کا مقابلہ پوری خود اعتمادی کے ساتھ شاستری جی نے کیا بعد ازاں تحتی بر اعظم میں امن اور اچھے تعلقات ہمسایگی بحال کرنے کے لئے جدوجہد کی اور روس کا سفر اختیار کیا۔اسی مقصد کے لئے ۱۹۶۶ میں تاشقند میں دونوں ملکوں کے سربراہوں نے صلح نامہ پر دستخط کئے اسی رات میں شاستری جی پر دل کا شدید دورہ پڑا اور ۵؍جنوری ۱۹۶۶کو رات ڈیڑھ بجے وہ دنیا سے رخصت ہوئے۔ (یہ بھی پڑھیں گاندھی جی اور ہندی اردو کا مسئلہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
سابق وزیر اعظم آنجہانی لال بہادر شاستری سادگی،خلوص اور اخلاقیات کا پیکر تھے ۔نرم گوئی،رواداری اور ہندوستانی تہذیب ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی۔وہ ایک عوامی شخصیت تھے انھیں عوام کی زبان اچھی طرح سمجھ میں آتی تھی ۔وہ ایک صاحب بصیرت رہنما تھے جنھوں نے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کیا۔لال بہادر شاستری مہاتما گاندھی کی سیاسی تعلیمات سے بہت متاثر تھے۔ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ’’ سخت محنت عبادت کے برابر ہے‘‘۔اس میں ان کے سرپرست کے خیالات کی جھلک ملتی ہے۔مہاتما گاندھی کے سمت میں ہی لال بہادر شاستری نے ہندوستانی ثقافت میں بہترین نمائندگی کی مثال پیش کی۔ وزیر اعظم کے عہدے پر برسرکار رہتے ہوئے بھی انھوں نے خود کو کبھی حاکم نہیں بلکہ عوام کا خادم سمجھا ۔حالانکہ وہ بہت کم مدت اس عہدے پر فائز رہے،لیکن اس مختصر مدت میں بھی وہ اپنے مخصوص طریقۂ کار کا لازوال نقش تمام ہندوستانیوں کے دلوں پر نقش کر گئے۔وہ غریبوں میں ایک غریب ہی رہے ’’میں حاکم نہیں ایک خادم ہوں‘‘ بلا شبہ وہ چھوٹے قد کے بہت بڑے انسان تھے۔
شعبۂ اردو،فخر الدین علی احمدگورنمنٹ پی۔جی کالج محمودآباد،سیتا پور
موبائل : 8423961475
ای میل :daudahmad786.gdc@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

