سفر کی خوشبو / ڈاکٹر شکیل احمد – شبانہ مجیب
سفر کی خوشبو ڈاکٹر شکیل احمد کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ اس کے قبل علمی موضوعات پر ان کی کئی اہم کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ’ اردو انسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی ‘،سمٹتا سائبان، بادل چھاؤں،بادل چھاؤں،نشاط قلم اور حساب جاں (خود نوشت ) وغیرہ بے حد اہم ہیں۔ ڈاکٹر شکیل ایک خاموش قلم کار ہیں۔ تقریباً 35 برس سے وہ اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ اور وہ بھی بالکل بے نیاز ہوکر نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔
زیر نظرکتاب ان کا سفر نامہ ہے۔ سفر نامہ ایک بیانیہ ادب کی صنف ہے۔ دوران سفر یا سفر سے واپسی پر سیاح جب اپنے سفر کی تمام کارگزاریوں کو صفحہ قرطاس پر لاتا ہے تو یہ سفر نامہ بن جاتا ہے۔ ذاتی تجربات و مشاہدات، تاثرات اور احساسات کو ترتیب دینا ہی سفر نامہ کہلاتا ہے۔سفرنامہ نگار اپنے سفر کے دوران جن چیزوں کو دیکھتا ہے اور جن چیزوں سے متاثر ہوتا ہے انھیں چیزوں کو وہ صفحہ قرطاس پر لاتا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں کو بھی اپنے سفر میں شریک کرلیتا ہے۔
ڈاکٹر شکیل احمد نے ’’سفر کی خوشبو‘‘ کے ذریعہ ہمیں ملک کے مختلف شہروں، قصبوں اور گاؤں کی سیر کرائی ہے۔ راقم سطور نے بہت سے سفر ناموں کا مطالعہ کیا ہے ان میں کچھ بڑے علمی و ادبی اور تہذیبی شہر اور زیادہ تر چھوٹے چھوٹے قصبات اور گاؤں ہیں لیکن مصنف نے انھیں اپنے جادونگار قلم سے نہایت دلچسپ اور یادگار بنا دیا ہے۔ اس کا دلکش اسلوب قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس میں غیر معروف جگہوں کا سفر نامہ بھی ہے لیکن دو تین صفحہ کے سفری سرگذشت میں بھی انھوں نے اتنی معلومات فراہم کردی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی جگہوں اور وہاں سے متعلق معلومات کو اس طرح قلمبند کرنا کہ اس میں پند و نصیحت، عبرت، تعلیم و تعلم، درس و تدریس ، تاریخ ، تہذیب ، مذہب اور سیاست سب کچھ سمٹ کر آجائے، یہ انھیں کا حصہ ہے۔
کتاب میں پہلا عنوان ’’گھوسی کا سفر‘‘ ہے جو صرف ساڑھے چار صفحات پر مشتمل ہے۔ لیکن اس چار صفحے میں تاریخ، تہذیب، علم و ادب، تعلیم ، سیاست سب کچھ ہے۔ اس میں شیر شاہ سوری کا تعمیر کردہ پل، اس کی بیٹی بانو کا مقبرہ، ٹونس ندی ، مدرسہ شمس العلوم، اجودھیا کے سوریہ ونشی راجاؤں کے خاندان کا راجہ نہش، سمینار، مشاعرہ اور کچھ علمی و ادبی شخصیات کا ذکر ہے۔ اس سے قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب 4-5 صفحات میں اتنا کچھ ہے تو 208 صفحات کیا کچھ خزانہ ہوگا۔
اسی طرح پھر مبارک پور کا سفر، پٹنہ کا سفر، اعظم گڑھ ، الہ آباد، دہلی، رام پور، کانپور، لکھنوکا سفر، دہلی کا مسلسل سفر، بلیا، جلال پور، ذرمریا گنج، کوتا گنج، بنارس، غازی پور اور گورکھپور کا سفر وغیرہ کی سرگذشت کو موصوف نے بڑے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ان تمام اسفار میں فروغ تعلیم کا پہلو غالب ہے۔ تعلیم اور فروغ تعلیم ہی کی غرض سے اکثر ان کے اسفار ہوئے ہیں۔ یوپی رابطی کمیٹی کے سکریٹری (شاخ مئو) حیثیت سے تعلیمی، سماجی اور ادبی سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ ان سفر ناموں میں رام پور، لکھنو، دہلی، جہانگیر آباد وغیرہ کا سفر علمی و ادبی اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ گورکھپور سے تو مصنف کو والہانہ لگاؤ ہے۔ چنانچہ گورکھپور کا ذکر بڑے محبت اور احترام سے کرتے ہیں۔ اس وقت ان کے قلم میں بڑی روانی اور جوش پیدا ہوجاتا ہے۔ جزیات نگاری سے کام لیتے ہوئے وہ ’’ذکر گورکھپور‘‘ کو بہت پر لطف بنا دیتے ہیں۔ برجستگی بے ساختگی اور کہیں کہیں مغفی و مسجع عبارتیں ان سے ہمیں خوب محفوظ کرتے ہیں۔ ذکر گورکھپور سے چند سطریں ملاحظہ ہو:
nمیرے لیے گورکھپور بڑا مہربان شہر نکلا۔ برس گذرتے گھر سے اپنی پرانی سائیکل بھی گورکھپور لے گیا۔ پھر کیا تھا جن علاقوں بازاروں اور محلوں میں اب تک قدم نہیں پہنچے تھے وہاں میری سائیکل دوڑنے لگی۔ کیا یونیورسٹی کیا مبارک خان شہید، کیا کارمل اسکول، ٹرانسپورٹ نگر اور ستم پور ڈھالا اس سائیکل سے ہمایوں پور اتّری، گورکھ ناتھ، جعفرا بازار، سورج کنڈ اور محی الدین پور تک دوڑ لگائی۔ کیا مہربان شہر اور کیا ہی محفوظ راستے، نہ پیدل کبھی ٹھوکر کھائی نہ سائیکل کبھی کسی سے ٹکرائی۔ نہ دوڈھائی برس کے دوران کبھی جوتا چپل چوری ہوا ، نہ سائیکل پر کوئی آنچ آئی۔ کبھی راستہ پہچاننے میں دشواری ہوئی تو ہر کسی نے رہبری فرمائی۔ کمال ہے اجنبی محلے اور گلیوں میں کبھی دیر سویر پہنچنے پر نہ تو آواز سگاں نے پیچھا کیا اور نہ نالی کھڑنجے پر سائیکل نے ٹھوکر کھائی۔ کبھی ڈاکٹر سلام سندیلوی، کبھی ڈاکٹر احمد لاری، کبھی دفتر، ’’اشتراک‘‘کبھی عمر قریشی یہاں تک اشفاق حسین انصاری کے دولت کدوں پر حاضری دی۔ہر ایک نے خوش آمدید کے ساتھ شفقت سے نوازا۔ پروفیسر محمد الٰہی تو استاد اور مربی ٹھہرے یاد نہیں کہ جب تک وہ گورکھپور میں قیام فرما رہے، پروفیسر کالونی کتنی بار آپ کے دولت کدے پر حاضری دی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شکیل احمد کی زبان سادہ سلیس اور عام فہم ہے۔ اسلوب نہایت دلکش ہے۔ متانت، سنجیدگی اور اعتدال و توازن ان کی شخصیت کی طرح ان کی تحریروں میں ہر جگہ نمایا ںہے۔ تحریر میں کسی طرح کی بے ربطی اور الجھاؤ کا کہیں گذر نہیں ہے۔ ان کی تحریروں میں شگفتگی پائی جاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ان کا خلوص، سچائی اور پیار شامل ہے۔ ’’سفر کی خوشبو‘‘ اردو سفر ناموں میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے چھپی ہے قیمت بہت مناسب رکھی گئی ہے۔ ڈاکٹر شکیل احمد اس تخلیق کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

