صاحب کتاب مترجم عظیم انصاری کی "دو گھنٹے کی محبت” نصراللہ نصر
عظیم انصاری مغربی بنگال کے ادبی منظر نامے پر اب اپنا عکس اور نقش سلیقے سے چھوڑ چکے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ عرصہ سے ادب نگاری کے میدان میں تماشائے اہل قلم کی طرح اپنی نگارشات کا مظاہرہ کر رہے ہیں، نیز شاعری کی دنیا میں بھی اپنا ایک مقام متعین کر چکے ہیں۔ عنقریب ان کا شعری مجموعہ”مدتوں بعد” منصہء شہود پر جلوہ افروز ہونے والا ہے جبکہ ان کا ترجمہ شدہ افسانوی مجموعہ "دو گھنٹے کی محبت” دنیائے ادب و فن کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ عظیم صاحب بڑے خاموش طبیعت کے انسان ہیں۔ کلکتے کے مضافات میں رہ کر خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور اچانک ادبی دھماکہ کرتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے کی ڈائریاں منتظر اشاعت ہیں۔ کچھ تو اگلی صف کی اگلی نشست میں پہلو نشیں ہیں۔ اس سے ان کی زود گوئی اور صبر آزمائی کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب وہ شعر وادب کی طرف سنجیدگی سے قدم رنجہ فرما رہے ہیں۔ جہاں تک ان کی ادبی لیاقت ، شعورسخن اور سوجھ بوجھ کا تعلق ہے تو مثل مسافرانِ ادب، وہ رہ گزارِ خار زار ادب سے دامن بچا کر گزرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اچھی رہنمائی اور حوصلہ افزائی انہیں دور تک لے جاسکتی ہے۔ اس لئے کہ ان کا ادبی شوق اب جنون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کلکتہ کے مضافات کے لکھنے والے بھی اب اپنی اہمیت کا لوہا منوا رہے ہیں بلکہ منوا چکے ہیں۔ انہیں میں عظیم انصاری بھی شامل ہیں۔
جہاں تک زیر مطالعہ کتاب "دو گھنٹے کی محبت’‘ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہی دیکھنا ہے کہ ان کی ترجمہ نگاری میں کتنا دم ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطالعہ قاری کو اس نتیجے پر لا کھڑا کرتا ہے کہ بچہ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے۔ چل بھی رہا ہے اور دوڑنے کوشش بھی کررہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادب کی بارہ دری ان کی منتظر ہے۔ بس حوصلہ چاہئے طوفانوں سے ٹکرانے کا۔ اس لئے ان کے حوصلے کو داد دینا لازمی ہے۔ ان کی پذیرائی بھی ضروری ہے۔
ترجمہ ادب نگاری کا بڑا مشکل فن ہے۔ دیکھنے میں تو لگتا ہے کہ دو زبانوں کا جاننے والا بہ آسانی ترجمہ کر سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فن ہے اور فن کو سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ شعری تک بندی نہیں۔ یہ ذہنی کاوش اور علمی لیاقت کا سلیقے سے مظاہرہ ہے۔ چونکہ ہر زبان اپنے مزاج ، مرتبہ اور ساخت کی منفرد شکل رکھتی ہے اس لئے دوسری زبان کے خیالات و معاملات کو آسانی سے ہر زبان میں پیش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کسی بھی زبان کے الفاظ و محاورے ،اسلوب و استعارے اپنی تہذیب کے ساتھ دوسری زبان میں داخل ہو کر کبھی کبھی تو معنوی اعتبار سے بہت بلند ہو جاتے ہیں لیکن اکثر نا تجربہ کاری اور ناسمجھی کے سبب اپنی تہذیب اور اپنے معنی بھی کھو دیتے ہیں۔ اس لئے ترجمے کا عمل بے شک مشکل کام ہے اور اسی مشکل کام کو عظیم انصاری نے اس کتاب میں خوش اسلوبی سے سر انجام دیا ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اس کتاب کی کئی خصوصیات ہیں۔ سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ انہوں نے جو کام کیا ہے یعنی جن بنگلہ ادیبوں کی کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا ہے۔ اس کی روداد بھی لکھ ڈالی ہے۔ دوسری بات یہ کہ متذکرہ کتاب میں ترجمے کے فن کے تعلق سے بھی اچھی خاصی بحث موجود ہے۔ بلکہ عظیم صاحب نےاس کی تاریخ بھی لکھ ڈالی ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا قابل ذکر معاملہ بھی طے کر دیا ہے۔ اردو زبان ترجمہ نگاری میں انگریزی ادب سے ایک صدی پیچھے ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے ترجمے کے فن اور اس کی روایت کو بمپہلے اچھی طرح سمجھا ہے پھر اس سلگتی آگ میں انگلی ڈالی ہے ، اس کی تپِش کو محسوس کیا ہے اور پھر خامہ فرسائی کی زحمت گوارہ کی ہے۔ اس لئے اب یہ سمجھانا کہ ترجمہ نگاری کا فن کیا ہے، تضیع اوقات سے زیادہ کچھ نہیں۔
تیسری خوبی یہ ہے کہ جن بنگلہ افسانہ نگاروں کے افسانوں کا ترجمہ پیش کیا ہے ان کا سوانحی خاکہ بھی خوب زینت قرطاس کیا ہے۔ یہ بڑا اور انفرادی کام ہے۔ اس سے بنگلہ ادب کے تاریخی منظر نامے سے بھی واقفیت ہوتی ہے اور اس کے ٹرینڈ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ افسانہ نگاروں کی زندگی ، شخصیت اور فنِ افسانہ نگاری سے واقفیت بھی ہو تی ہے۔ اس کے لئے وہ خصوصی مبارکباد کے حقدار ہیں۔
چوتھی بات ان کی ترجمہ نگاری کا محاسبہ ہے۔ اس سلسلے میں یہ کہہ دینا یا سند دینا مناسب نہیں کہ عظیم انصاری صاحب بہت بڑے ترجمہ نگار ہیں۔ لیکن یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ اچھے مترجم ہیں۔ کوششِ دلِ ناتواں نے خوب کی ہے۔ ممکن ہے اربابِ ادب و فن ڈھیروں داد و تحسین دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ان کی ترجمہ شدہ کہانیوں کو پڑھ کر قاری کو تخلیقیت کا احساس ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ہو بہو لفظی ترجمہ نہیں ہے۔ ہاں اسلوب میں ندرت اور جملوں کی پیکر تراشی میں مزید جدت کی ضرورت ضرور ہے مگر قاری لطف اٹھائے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ پروفیسر عبدالمنان نے لکھا ہے :
’’کسی سیچویشن یا منظر کی مناسبت سے لفظوں کی تزئین یا سیٹنگ کا عمل؛ خیال کو موثر اور دل نشیں بنانے کا ذریعہ ہے جو شعور زبان اور برمحل الفاظ کی تزئین اور ترتیب کا داعی ہوتا ہے اور اس کی خاطر دو زبانوں کے مزاج اور روح سے پوری طرح آشنائی ضروری ہے۔ ‘‘
اس حقیقت کی طرف اگر خصوصی توجہ دی جائے تو بیشک یہ کام بحسن و خوبی انجام پا سکتا ہے۔دونوں زبانوں پر عبور ہونا لازمی ہے۔ دونوں زبانوں کی تہذیب سے آشنائی بھی ضروری ہے۔ ان کے الفاظ و محاورات کے سرد و گرم تاثیر کا اندازہ بھی ہونا چاہئے۔ ان کی نازک مزاجی کا بھی خیال رہے تو بہتر ہے۔ نزاکتِ لفظی کا احساس تخلیق اور خالق دونوں کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ عظیم انصاری نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہوں اور ہوئے بھی ہیں۔ چونکہ یہ ان کی پہلی کوشش ہے اس لئے کچھ خراش یا چمک دمک میں کمی ہو سکتی ہے مگر میں ان کی اس کاوش کو سلام کرتا ہوں۔ اس لئے کہ ان کی نگارشات کو پڑھ کر ان کی علمی لیاقت اور شعور فن تراجم سے واقفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی اس کوشش کو نہ سراہنا ادب سے بے ادبی ہوگی۔ ہاں خوش آئند ہے کہ ان سے بڑے کام کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ یہ اور خوشی کی بات ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو۔دہلی نے ان کے مسودے (دو گھنٹے کی محبت )کو منظور کیا ہے اور اسے شائع کرنے کی اجازت بھی دی ، جس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ ان کی اہمیت اور افادیت کے ثبوت کے لئے اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ اعزاز محترم عظیم انصاری کے ادبی اعتراف کے لئے کافی ہے۔ بیشک ان کی دن رات کی محنت رنگ لائی ہے اور بنگال ہی نہیں بلکہ ملک کے اردو ادب کے سرمائے میں ایک خصوصی اضافے کی متحمل ہے۔ ان کی تحریر میں روانی ہے ، شگفتگی بھی ہے اور شائستگی بھی۔ نہایت ہی سادہ اور سلیس زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ کہیں جھول نہیں ہے۔ مزید کھردرے پن کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ترجمہ نہیں بلکہ تخلیق ہیں۔ قابل غور بات ہے کہ طبیعت کہیں بوجھل نہیں ہوتی۔ دلچسپ کہانیوں کا انتخاب ان کی ذہنی پختگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ جملوں کی برجستگی اور الفاظ کی مناسب نشست و برخاست سے ان کی ذہنی بالیدگی اجاگر ہوتی ہے۔ کچھ مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
’’کیا ہورہا ہے میاں صاحب ؟‘‘
بوڑھے نے پورے احترام کے ساتھ اٹھتے ہوئے مجھے سلام کیا
’’بیگم کی قبر تیار کرہا ہوں حضور !‘‘
’’قبر ؟‘‘
میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کچھ دیر کی بور کردینے والی خامشی کے بعد میں نے پوچھا۔ ’’تم کہاں رہتے ہو ؟‘‘
’’آگرے کے آس پاس گھوم کر بھیک مانگتا ہوں غریب پرور !‘‘
’’تم کو تو میں نے وہاں دیکھا ہی نہیں ،کیا نام ہے تمہارا ؟‘‘
’’فقیر شاہجہاں !‘‘
میں حیران سا کھڑا رہا۔(تاج محل۔ ص 45)
۰۰۰۰۰۰
میں اس غیر متوقع جملے کے لئے تیار نہیں تھا۔لہٰذا دم سادھے کھڑا رہا
’’آئیے‘‘ ، مجھے ہچکچاتے دیکھ کر بوڑھے نے پھر کہا
’’آپ ناحق ہچکچا رہے ہیں۔آپ تو برہمن ہیں۔ابھی آپ کے پیروں کی خاک ک ضرورت ہے۔آئیے اپنا جوتا کھول دیجیے اور اچھی طرح سے اپنے پیروں کی خاک اس کی پیشانی پر مل دیجیے۔آئیے۔‘‘ (تجربہ ۔ ص 50)
بنگال میں ترجمہ نگاری کا عمل جاری ہے۔ بنگلہ اور ہندی و انگریزی سے ادب پاروں کو اردو میں منتقل کیا جارہا ہے۔ یہ فن بھی بنگال میں شہرت کی منزلوں کو چھو رہا ہے۔ اسی کی ایک کڑی عظیم انصاری بھی ہیں جن کے لئے یہ دعا ہے کہ اللہ کرے جوش جنوں اور زیادہ۔ آمین!
تحریر: نصراللہ نصر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

