پریس ریلیز
ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام ’ساحر لدھیانوی : حیات اور خدمات‘ موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد
نئی دہلی، 12 دسمبر (پریس ریلیز)۔ ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام آج اکادمی آڈیٹوریم، رویندر بھون، نئی دہلی میں ’ساحر لدھیانوی : حیات اور خدمات‘ موضوع پر یک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت اردو کے ممتاز شاعر، ادیب و نقاد جناب شین کاف نظام (کنوینر، اردو مشاورتی بورڈ) نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ساحر وہ شاعر ہیں جو جنگ کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ مایوسی کے نہیں بلکہ اُداسی کے شاعر ہیں۔ وہ لڑتے ہیں ہار نہیں مانتے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ساحر امن و آشتی کے طرفدار ہیں۔ فیض اور ساحر کا موازنہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ساحر اظہار میں ہر چیز کو عیاں کردیتے ہیں جبکہ فیض چھپا کر بیان کرتے ہیں۔ سمپوزیم کا افتتاح کرتے ہوئے اردو کے ممتاز شاعر و مترجم پروفیسر بھوپندر عزیز پریہار نے کہا کہ شعر ساحر کی گھٹّی میں پڑا تھا۔ وہ ابتدا سے ہی ترقی پسند خیال کے تھے۔ اپنے باغیانہ تیور کی وجہ سے کالج میں بھی وہ کافی مقبول ہوگئے تھے۔ انھوں نے پہلا شعر کب کہا، انھیں یاد نہیں۔ پروفیسر پریہار نے اپنے مخصوص خطبہ میں کہا کہ ساحر نئی دنیا کی خواب دیکھا کرتے تھے۔ ساحر نے کبھی اپنی فکر کو نظریاتی نقطے سے نہیں باندھا۔ انھوں نے فلاح و ترقی کے گیت گائے۔ استحصال، لوٹ کھسوٹ کے خلاف انھوں نے آواز اٹھائی۔ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے ساحر کے ترقی پسند عناصر میں تصوف کی تلاش کرتے ہوئے ساحر کی فلمی گانوں کے حوالوں سے یہ ثابت کیا کہ انھوں نے فلم میں سیچوئیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیشہ قدیم اقدار اور بھکتی کے معاملات سے استفادہ کیا۔ انھوں نے تصوف اور بھکتی دونوں کا جو اظہار فلموں کے حوالے سے کیا ہے وہ ایک دم کلاسیکل ہے لیکن مشکل خیال کو آسان زبان میں اور وہ بھی فلم کے منظرنامے کے مطابق پیش کرنے کا ہنر کسی اور فلمی شاعر کو حاصل نہیں ہوا۔ اس اجلاس کے ابتدا میں ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے سری نواس راؤ نے شرکا اور مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اس سمپوزیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، ساتھ ہی انھوں شاعر لدھیانوی کی حیات و خدمات پر سرسری نظر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ساحر کا رنگ اپنے عہد کے شاعروں سے الگ تھا۔ ان کو تمام بڑے شاعروں کے کلام یاد تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ساحر نے 113 فلموں میں گیت لکھے نیز فلمی اور غیرفلمی شاعری میں اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔
افتتاحی اجلاس کے بعد پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ممتاز نقاد و صحافی جناب شمیم طارق نے کہا کہ ساحر اپنا محاسبہ بھی خود کرتا ہے۔ وہ ایک بہتر انسانی معاشرے کا خواب دیکھتے تھے۔ وہ اپنے فن میں ماہر تھے اور انھیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس اجلاس میں کوثر مظہری نے اپنا مقالہ بعنوان ’ساحر لدھیانوی کی نظم ’چکلے‘ کی آزاد قرأت‘ پیش کی اور کہا کہ ساحر نے ’چکلے‘ کی جو تصویرکشی کی ہے دراصل وہ ایک تانیثی تصر ہی کی ایک جہت ہے۔ ساحر کی یہ نظم اپنے زمانے اور ماحول کے اعتبار سے اپنا ایک افادی پہلو تو رکھتی ہی ہے، ساتھ ہی اس میں اثرانگیزی اور فنی رموز کی کارفرمائی بھی ہے۔ دوسرا مقالہ خالد اشرف نے ’ساحر اور بین الاقوامیت‘ کے عنوان سے پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ ساحر کی شاعری میں بین الاقوامی انسانی نظریہ اور ان کے سوشلسٹ تصورات صاف جھلکتے ہیں۔ سمپوزیم کے آخری اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم نے کی جبکہ شرد دتّ، حقانی القاسمی اور ڈاکٹر عالیہ نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس پروگرام میں دہلی و اطراف کی متقدر شخصیات نے شرکت کی جن میں خالد علوی، چندربھان خیال، عازم کوہلی، فریاد آزر، احمد علوی، جانکی پرشاد شرما، فرحت عثمانی، نارنگ ساقی، ابوظہیر ربانی، اسد رضا کے علاوہ طلبہ و طالبات شامل تھے۔
(کے سری نواس راؤ)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

