ادب کی بنیادی تعریف کرنا شاید اب ضروری نہیں رہا کیوں کہ اس ترقی یافتہ دور میں ادبی ذوق رکھنے والا ہر انسان اس کی واقفیت رکھتا ہے اور بےشک ادب کی تخلیق ہر دور میں ہوتی رہی ہے کیوں کہ ادب انسان کے ذوق اور قوت متخیلہ اور جبلت تخلیق کی ضرورت ہے اور انسان جو کہ اس کائنات کی باشعور مخلوق ہے اس کے شعور کا تقاضہ ہے کہ وہ ہمیشہ ارتقاء پزیر رہے اور توجیہ و تدلیل کے ساتھ نئے امکانی حقائق کو دریافت کرتا رہے انسان نے اپنی اس جبلت کی تسکین کا سامان ہر دور میں ہی پیدا کیا ہے اور تا حال بھی اس جد و جہد میں ہمہ تن و من مصروف ہے
ایک ادیب جب اپنی تصوراتی قوت سے جمال و کمال کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے تو پھر زبان کے ذریعے قرطاس ادب پہ سجانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی یہ کوشش نسلوں کی تہذیب کو ادبی میراث بنا دیتی ہے ادب کی غیر معمولی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگانے کے لئے اب کسی پیمانے کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ ادب انسانی تہذیب و ثقافت سے سرشار ہوتا ہے اور اپنے ارتقائی عمل میں ہر دور کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتا ہے ۔
اور ادب جس کے اسلوب میں انفرادیت کا سکہ چلتا رہا ہے اس انفرادیت نے ادب کی بساط پہ غیر معمولی ادباء و شعراء کو جنم دیا ہے کیوں کہ حقیقی ادب شخصی تقلید سے نہیں بلکہ منفرد تخلیقی صلاحیتوں سے پروان چڑھتا ہے اور اس سے اس شخصیت کی مجتہدانہ صفت اور اقدار و افکار کا بھی پتہ چلتا ہے۔
آج میں ایک ایسی شخصیت کے ساتھ سوالات و جوابات کی بساط بچھائے بیٹھی ہوں جنھوں نے نہ صرف اردو ادب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ وہ انگریزی جیسی عالمگیر زبان کے ادب سے بھی واقفیت رکھتے ہیں ان کے ان دونوں زبانوں سے وابستہ نامور ادباء کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی سوچ میں گہرائی و گیرائی پیدا کر دی ہے اس کے ذریعے ان کی فکری و فنی صلاحیتوں کو مہمیز دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ انھوں نے خود انگریزی میں بھی نظمیں کہی ہیں جس کا مجموعہ قارئین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور اردو میں بھی انھوں نے کمال خوبی کے ساتھ اپنے احساسات کو شعروں میں ڈھالا ہے آپ اور ہم انھیں ڈاکٹر سرفراز نواز کہتے ہیں وہ انگریزی ادب کے لکچرار ہونے کے ساتھ اردو ادب کے شیدائیوں میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں آئیے ان سے ان کے خیالات و تجربات پہ بات کرتے ہیں اور یہ بھی کہ زندگی کے تئیں ان کے نظریات کیا ہیں اور انھوں نے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے کن کن ذرائع کا استعمال کیا اور یہ بھی کہ انسانی زندگی میں ادب نے کیسے اثرات مرتب کئے ہیں ۔علیزےنجف!
علیزےنجف: سب سے پہلے تو آپ ہمیں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں اور آپ کا بچپن کیسا رہا اور آپ کا تعلق کس خطے سے ہے؟
سرفراز نواز: ہمارا تعلق اتر پردیش کے مردم خیز علاقے اعظم گڈھ سے ہے۔ شہر سے گیارہ کلومیٹر کی دوری پر ایک گاؤں انجان شہید ہے جہاں ہماری پیدائش ہوئی۔ عمر کی چوتھی دہائی مکمل ہو چکی ہے۔ ہوش سنبھالنے کے ان تیس پینتیس برسوں میں بڑی تبدیلیاں ہماری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔ بچپن اچھا تھا۔ والد صاحب ہم بچوں سے دوستوں جیسا ہی رویہ رکھتے تھے۔ والدہ عربی زبان میں مہارت رکھتی تھیں۔ گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا۔والد صاحب کی طبیعت شاعرانہ تھی۔ علم کی روشنی گھر میں میسر تھی۔ ہمارے بڑوں نے دیوں کا زمانہ دیکھا اور ہم نے لالٹین کے گرد گھیرا بنا کر کتب بینی کا شوق پورا کیا۔
علیزےنجف: آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے اور اس سفر کی کوئ قابل ذکر یاد ہو ضرور بتائیں؟
سرفراز نواز: ہم نے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی سند جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ملازمت میں آنے کے بعد اور تقریباً دس سال تک درس و تدریس کے فرائض شبلی کالج میں انجام دینے کے بعد ہم نے ٹیچر فلو شپ کے تحت اعلی تعلیم مکمل کی۔ جامعہ میں دو سال کا عرصہ جو گزرا وہ ہمارے لیے بڑا سودمند رہا۔ یہاں ہماری ملاقات انگریزی ترجمہ نگاری کے میدان کی بڑی ہی معتبر اور مستند شخصیات، پروفیسر انیس الرحمن اور پروفیسر اسدالدین سے ہوئی۔ ان صاحبان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔جامعہ میں ہی ہم اسد صاحب کے زیر نگرانی پریم چند پروجکٹ کا حصہ بنے اور پریم چند کی کچھ کہانیوں کے انگریزی میں ترجمے بھی کیے۔ انیس الرحمن صاحب نے ہماری انگریزی نظموں کا دیباچہ لکھا اور یوں انگریزی زبان میں ہمارا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔
علیزےنجف: آپ کی طالب علمی کا زمانے میں اردو رسائل اور جرائد اور دوسری کتب آپ کو کس حد تک میسر تھی اور ادب کے مطالعہ کی پیاس بجھانے کے لئے آپ کیا کرتے تھے ؟
سرفراز نواز: جب ہم آٹھویں جماعت میں پہنچے اس وقت ہمارے والد کی تقرری ہمارے گاؤں میں ہی قائم مولانا آزاد انٹر کالج میں بحثیت اردو لکچرر کے ہوئی۔ مگر اس زمانے میں اساتذہ کی تنخواہیں زیادہ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ روپئے پیسے کی فراوانی تو نہیں تھی۔ مگر جو کچھ بھی میسر تھا اس میں اپنی دلچسپی کے لئے سامان فراہم کر لیتے تھے۔ اردو کا ایک اخبار گھر پر آتا تھا۔ رسالہ نور جو رام پور سے شائع ہوتا تھا وہ بھی دستیاب تھا۔ اس کے علاوہ جو سب سے دلچسپ بات ہے وہ یہ کہ ہمارے والد صاحب کے خالہ زاد بھائی بمبئی میں مقیم تھے۔ اُنکے والد اس زمانے کے نامی گرامی بزنس مین تھے۔ دولت مند لوگ تھے۔ انکے گھر میں اردو رسائل اور ناولوں کا انبار تھا۔ والد صاحب کو گھر کی بیٹھک کے ایک کمرے کو کتب خانہ کی شکل دینے کا خیال ہوا۔ جب ان کے خالہ زاد کو اس کا علم ہوا تو اُنھو ں نے بمبئی سے اچھی خاصی کتابیں بھجوا دیں اور یوں گھر میں ہی ایک چھوٹی لائبریری اردو کی قائم ہو گئی۔ گو کہ ہماری عمر ابھی کم تھی مگر کتابوں کے معاملے میں کوئی پابندی نہیں تھی۔ ابن صفی کے تمام ناول، مجرم سیریز کے تمام ناول، خاتون مشرق، شبستاں، ہزار رنگ، چہار رنگ، بیسویں صدی، وغیرہ کے شمارے۔ گویا ایک خزانہ ہاتھ آ گیا۔آپ تصور کیجئے کہ دور دراز گاؤں میں آسانی سے ان کتابوں کا دستیاب ہو جانا کس قدر خوش قسمتی کی بات تھی۔ زیادہ تر وقت مطالعہ میں ہی صرف ہوتا۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ کھیل کود کی طرف دلچسپی ختم ہو گئی۔ مگر پسندیدہ کھیل بیڈ منٹن رہا۔ اور جب کبھی موقع ملا اس کے لیے وقت نکالا۔
علیزےنجف: اردو ادب کی طرف آپ کو کس چیز نے متوجہ کیا اور اس کے پیچھے کیا خاص وجہ تھی؟
سرفراز نواز: اس سے پہلے سوال کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ ہمیں تو باقاعدہ ایک کتب خانہ گھر میں ہی دستیاب تھا۔ بلا شبہ اس آسانی نے ہمارے ادبی سفر کی ابتدا میں بڑا کردار ادا کیا۔جو عمر کھیل کود اور لہو لعب کی ہوتی ہے اس میں ہم علم و ادب کی اس وادی میں آ نکلے جہاں سے نئے جہانوں کی سرحدیں ہمیں دکھائی دینے لگیں۔ ابن صفی کے ناول جہاں ایک طرف زبان کی تربیت کا وسیلہ بنے وہیں دوسری طرف ایک ایسے تخیلاتی جہان کی تعمیر کرنے میں بھی معاون ہوئے جو زندگی کی اعلی قدروں کا بہترین ترجمان اور اصلاح معاشرہ کا پیغام بر بن کر سامنے آیا۔
علیزےنجف: آپ نے اردو ادب کی کس کس صنف میں طبع آزمائی کی ہے ؟
سرفرازنواز: ہم نے آغاز تو شاعری سے ہی کیا۔ ٹوٹے پھوٹے اشعار انٹر میڈیٹ کے زمانے سے کہنے شروع کر دیے تھے۔ مگر اس وقت کے معاشرے میں شاعر بڑی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے تھے۔ اور اب بھی کم و بش صورت حال یہی ہے جب تک کہ آپ مقبولیت نہ حاصل کر لیں۔ ہم نے بھی شاعری کو خیر آباد کہنے کا ارادہ کر لیا مگر جب گورکھپور یونیورسٹی سے ایم اے کے بعد ہماری واپسی اپنے ہی شبلی کالج میں بحیثیت استاد ہوئی تو ہمارے اردو کے استاد نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اپنی شاعرانہ حس کا گلا نہ گھونٹ دیں بلکہ اُسے از سرِ نو دریافت کریں۔ اس ترغیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نظموں کی طرف رخ کیا۔ کیونکہ اب تک کے انگریزی ادب کے سفر کے نتیجے میں طبعیت نظموں کی طرف مائل ہو چکی تھی۔
اس کے علاوہ ترجمہ بھی ہماری دلچسپی کا میدان ہے ۔ سو اس حوالے سے بھی کچھ کام کیا ہے۔ غزلیں بھی خوب کہی ہیں۔ مگر ابھی ان کو اشاعت کے مرحلے سے گزرنا ہے۔
علیزےنجف: آپ کے کتنے شعری مجموعے منظرِ عام پہ آچکے ہیں ؟
آپ کے passion اور profession میں کس حد تک مطابقت رہی؟
سرفراز نواز: اب تک اردو زبان میں یوپی اردو اکیڈمی سے انعام یافتہ نظموں کا مجموعہ ” اس چھوٹے سے لمحے میں” اور انگریزی نظموں کا مجموعہ "Poems at Work”
شائع ہو چکے ہیں۔ جہاں تک Passion اور Profession کی بات آپ نے کی تو اس حوالے سے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہمارا شمار اُن خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جن کی ملازمت اُن کا passion ہے۔ وہ یوں کہ انگیزی ادب کی درس و تدریس نے ہمارے ادبی کینوس کو اور بڑا کیا۔ مزید یہ کہ ترجمے کی طرف رخ کیا تو مختلف تہذیبوں کے نقوش تک رسائی ہوئی۔ ریاستی اور علاقائی زبانوں کی ادبی روایت پر بھی نظر پڑی اور فکر و فن کو وسعت عطا ہوئی۔ تخلیقی سفر میں ہماری ملازمت ہر اعتبار سے معاون ہوئی۔
علیزےنجف: آپ اردو ادب کی ترویج و ارتقاء کے ضمن میں کن کن شخصیات سے متاثر ہوئے اور ان میں وہ کیا خاص خوبی آپ نے محسوس کی جو اب خال خال ہی نظر آتی ہے؟
سرفراز نواز: چونکہ ہمارا تعلق اعظم گڈھ سے ہے تو ہم علامہ شبلی نعمانی کے نام سے ہی ابتدا کریں گے۔ شبلی آسمانِ علم و ادب کا ایک ایسا ستارہ ہے جس کی ضیاپاشیوں سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورا عالمِ ادب روشنی میں نہا گیا۔ شبلی نے ایسے چراغ روشن کیے ہیں جو آنے والے ہر زمانے میں شبِ تاریک سے آنکھیں ملاتے رہیں گے اور اس کے غلبے کو ناکام کرتے رہیں گے۔ شبلی نے نہ صرف یہ کہ متعدد علمی و ادبی کتابیں لکھیں بلکہ ایسے اداروں کی بنیاد بھی رکھی جو علم اور زبان کی ترویج و اشاعت میں اپنا اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ شبلی کے ہی عزیز مولانا حمید الدین فراہی صاحب کی بھی خدمات ناگزیر ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اہم شخصیت سر سید علیہ الرحمہ کی ہے جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام کر کے قوم کو بیدار کرنے کا کام کیا ۔یہ وہ دیوانے لوگ تھے جنہوں نے اپنے آپ کو زبان و ادب کے لئے وقف کردیا انھوں نے ہمیشہ ادب کے افادی اور اصلاحی پہلو پر نظر رکھی اور بلاشبہ انکی کوششوں کا ہی ثمرہ ہے کہ آج لوگوں کے اندر تھوڑی بہت زبان کی شد بد باقی ہے۔ ورنہ آج کل تو حالات یہ ہیں کہ لوگ اردو زبان سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔
اردو زبان و ادب کے ارتقاء ، ترویج و ترقی میں اُن تمام ادبا و شعراء کا حصہ ہے جو اس کی طویل تارخ کا حصّہ رہے ہیں۔ بچپن سے لے کر اب تک جن ادبی شخصیات نے ہمارے ذہن و دل پر اپنے نقش مرتب کیے وہ عوامی مقبولیت کے حامل رہے ہیں۔ امیر خسرو سے لے کر ولی، میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، نظیر، مولانا حالی، شبلی ڈپٹی نذیر احمد، سر سید، انیس، دبیر، جیسے بہت سے نام ہیں جو ادب سے بہت دلچسپی نہ رکھنے والوں نے بھی سن رکھے ہیں۔ ترقی پسند مصنفین نے بھی اپنی سطح پر زبان و ادب کو مالا مال کیا اور ادبی روایت کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کے علاوہ بچوں کے ادب کے حوالے سے کچھ اہم نام بشمول علامہ اقبال کے، مائل خیر آبادی اور اسماعیل میرٹھی کے ہیں جنہوں نے سادہ سلیس زبان میں بچوں کے لیے تعمیری ادب لکھا۔ ان کی نظمیں ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔
ہمارے شہر کے ہی ایک نہایت اہم شاعر اقبال سہیل بھی تھے جنکی لکھی ہوئی ایک نعت بہت مقبول ہوئی جسے مدارس میں طلباء آج بھی بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ لیkحسنِ اتفاق دیکھیے کہ اردو ادب کی ایک بڑی ہی بلند پایہ ہم عصر شخصیت شمس الرحمان فاروقی صاحب کی ہے جن کا تعلق بھی اعظم گڈھ سے ہے۔ انکی خدمات بھی اردو زبان و ادب کے حوالے سے کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ ایک اور بڑا نام میرے ذہن میں جو آتا ہے وہ ملک زادہ منظور صاحب کا ہے۔ اُن کا بھی اعظم گڈھ سے ایک رشتہ ان معنوں میں رہا کہ کچھ دنوں تک شبلی کالج میں اُنھیں نے انگریزی ادب پڑھایا۔ بعد میں وہ لکھنئو یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے۔ اُن کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مشاعروں کی نظامت کی داغ بیل ڈالی اور اس فن کا لوہا بین الاقوامی سطح پر منوایا۔
ان تمام شخصیات کا ہمارے اوپر بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر کسی نہ کسی طرح سے دیر پا اثر رہا۔
اور بھی کئی نام جیسے نسیم حجازی، ابن صفی، مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، پروفیسر عبدالحق وغیرہ شامل کئے جا سکتے ہیں اور اُن کے حوالے سے بات بھی ہو سکتی ہے مگر فہرست طویل ہو جائے گی اور اُن سب كا احاطہ مختصر گفتگو میں کرنا ممکن نہیں۔
علیزےنجف: زبان کی سطح پر جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اس کو روکنے کے لئے کونسی ترکیبیں استعمال کی جا سکتی ہیں ؟
سرفراز نواز: یہ بڑا اہم سوال ہے۔ آج انٹرنیٹ کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف سوشل میڈیا ویب سائیٹ پر اردو زبان بلکہ یوں کہیں کہ کسی بھی زبان کی ظاہری و باطنی شکل میں کافی رد و بدل نظر آتی ہے۔ نئی نسل زبان کے بنیادی اصولوں سے سے ناواقف ہے۔ اس کو صرف و نحو کا بھی کوئی علم نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ عجلت کا شکار ہے اور محنت و مشقت کرنا نہیں چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ جیسی زبان لوگ روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں ٹھیک ویسی ہی بگڑی شکل اپنی تحریروں میں بھی لا تے ہیں۔ ہمیں بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ماہرین سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے اساتذہ جو لسانیات کا علم رکھتے ہوں اور زبان پر گہری نظر رکھتے ہوں، ان سے براہ راست استفادہ کرنا چاہیے ۔ جرائد و رسائل کا مطالعہ کرنا چاہئے، اخبارات پڑھنا چاہیے تاکہ زبان کے رکھ رکھاؤ کی حفاظت کی جا سکے اور اسے مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے۔سہل پسندی زبان کے حوالے سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لوگوں کو رسم الخط بھی ضرور سیکھنا چاہیے تاکہ وہ زبان کی روح تک پہنچ سکیں۔
علیزےنجف: کیا کلاسیکیت جدیدیت وغیرہ پر گفتگو سے زبان کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟
سرفراز نواز: ہم کلاسیکیت اور جدیدیت کو ادبی رجحانات اور میلانات کے زمرے میں رکھتے ہیں اور اسی مناسبت سے ان پر نگاہ ڈالتے ہیں۔جوادب آج جدید ہے ، ہم عصر ہے وہ ایک مدت کے بعد، وقت کے معیار پر اپنی شناخت قائم کرنے کے بعد کلاسیکی ہو جاتا ہے ۔کلاسیکی ادب سے مراد ہم ایسے ادب سے لیتے ہیں جس کے فکری اور فنی محاسن اُسے آفاقی بنا دیتے ہیں اور وہ ہر زمانے اور ہر وقت کے لیے میعاری ادب تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس پر گفتگو ہونی چاہیئے تاکہ ہماری نظر اس قدیم ادبی روایت پر رہے جس کا ہم حصّہ ہیں۔ T.S. Eliot نے اپنے مشہور تنقیدی مضمون ” روایت اور انفرادی صلاحیت ” میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کوئی بھی تخلیق کار خلا میں نہیں لکھتا بلکہ اس کی تخلیق میں بیک وقت اس کا عہد اور ماضی کی روایت سانس لیتی ہے۔ اس ” تاریخی شعور” کی شناخت بہرحال زبان و ادب کے حوالے سے سود مند ہے۔
علیزےنجف: آپ مقامی سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کیا کوششیں کررہے ہیں ؟
سرفراز نواز: اردو ادب میں ہماری دلچسپی ہے گو کہ ہم انگریزی زبان و ادب سے وابستہ ہیں اور شعبہ انگریزی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں مگر اردو کی ترویج و اشاعت اور اس کے فروغ کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ہیں ۔مختلف شہروں میں ہونے والی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اردو نشستوں اور مشاعروں کے علاوہ تخلیقی سطح پر بھی فعال ہیں۔ ایک خوشی کی خبر جو ہم آپ کے توسط سے قارئین تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں ہم نے بچوں کے لئے اردو میں نظمیں کہی ہیں۔ یہ نظمیں عالمی ادب میں معروف و مقبول کہانیوں پر مبنی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ہم نے جو کہانیاں اپنے بڑوں سے سنی ہیں اُنھیں نظموں کے پیرائے میں بیان کردیا ہے ۔ امید ہے کہ عنقریب یہ کتاب اشاعت کے مرحلے سے گزر کر آپ کے ہاتھوں میں ہو گی۔
علیزےنجف: اردو ادب کے تئیں آپ کے گھر والوں کا کیا نظریہ ہے کیا آپ کی اگلی دو نسلوں میں اردو ادب کا مستقبل روشن ہے؟
سرفراز نواز: اردو زبان و ادب کے حوالے سے اگر ہم اپنے گھر کا ذکر کریں تو ہمیں یہ کہنے میں خوشی کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہے کہ ہمارے گھر میں ایک علمی اور ادبی ماحول شروع سے رہا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے بھی اسے پروان چڑھانے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اس بات کا خیال رکھا کہ اپنے بچوں کو بھی اردو ادب اور زبان کی چاشنی سے روشناس کرائیں، انہیں رسم الخط سکھائیں، اُن کے اندر کتب بینی کا شوق پیدا کریں تاکہ وہ اپنے آگے آنے والی نسلوں تک اس روایت کو منتقل کر سکیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہ ہو بلکہ عام طور پر اردو کی ترویج و اشاعت میں لوگوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے اور اس کی شروعات اپنے گھر سے کرنی چاہیے۔
علیزےنجف: کیا موجودہ وقت میں اسکولز و کالجز میں اردو ادب کی بقاء کے لئے خاطر خواہ کوششیں کی جارہی ہیں ؟
سرفراز نواز: ہمیں افسوس ہے کہ آپ کے اس سوال کے جواب میں ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں۔ بالخصوص اسکولوں اور کالجوں میں جو تعلیمی نظام ہے اس میں کہیں نہ کہیں اردو کی تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے ۔ اردو زبان و ادب کو نصاب تک محدود کر کے اسے ترقی کی منزل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ جب تک ہم زبان کو عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کریں گے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور ہم اردو کی بقا کو لے کر مطمئن نہیں ہو سکیں گے۔
علیزےنجف: موجودہ دور میں اردو زبان کو کیا چیز متاثر کررہی ہے اور اس کی بقاء کے لئے مستقبل میں خطرہ ثابت ہوسکتی ہے ؟
سرفراز نواز: موجودہ دور میں زبان و ادب کو بڑا خطرہ لاحق ہے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں اور سب سے بڑی وجہ تو یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگوں میں اردو زبان و ادب کو لے کر عدم دلچسپی کا رویہ ہے اور دوسری طرف حکومت بھی اس سلسلے میں جانبدارانہ اور سیاسی رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کے فروغ میں رخنہ ڈالتی نظر آتی ہے۔ لیکن مادری زبان ہونے کے ناطے ہمیں خود آگے آنا ہوگا اور ان تمام ذرائع اور وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا، خواہ وہ کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں، جن سے زبان کو استقامت اور پائیداری حاصل ہو سکے۔
علیزےنجف: – لکھنے پڑھنے کے علاوہ آپ کے اور کیا مشاغل ہیں اور ان کی تکمیل کے لئے آپ کیسے وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں؟
سرفراز نواز: کالج میں درس و تدریس کے اوقات مکمل ہو جانے کے بعد گھر پر بھی زیادہ تر وقت مطالعہ میں ہی صرف ہوتا ہے. پھر تخلیقی عمل کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ وقت اکثر شب کے آخری حصّہ سے کشید کیا جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی تڑکے ہی تخیل کی وادی کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اس کے لیے کوئی مخصوص وقت متعین نہیں ہے۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت بتانا بہت پسند ہے۔ اُن سے بات چیت کر کے فکر کے نئے در وا ہوتے ہیں اور ہمیشہ علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ پرانے فلمی نغمے سننا پسند ہے۔ مگر تنگئی وقت کے سبب کبھی کبھار ہی یہ شوق پورا ہوتا ہے۔ دوست احباب اور رشتہِ داروں سے ملاقات کے لیے ضرور وقت نکالتے ہیں۔
علیزےنجف: یوں تو زندگی میں نشیب و فراز کا پیش آنا فطری ہے انسان اس کو مینیج کرنے کا ہنر وقت کے ساتھ سیکھ ہی لیتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ زندگی کے نشیب و فراز کو کن خاص اصولوں کے ساتھ ہینڈل کرتے ہیں اور ہمارے قارئین کو اس ضمن میں کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
سرفراز نواز: دیکھیے۔ خوش رہنے کی کوئی ترکیب نہیں ہوتی ہے۔ ہاں سلیقہ ضرور ہوتا ہے۔ اور اسے اپنے اندر ہی دریافت کرنا ہوتا ہے۔ زندگی کے پیچ و خم اور نشیب و فراز سے ہوتے ہوئے اپنی راہ بنا کر گزرنے کا ہنر اُسے ہی ملتا ہے جو اپنے اندر جھانک پاتا۔ جو اس دوڑتی بھاگتی زندگی میں اپنے آپ سے ملاقات کا وقت طے کرتا ہے۔ وسیم بریلوی کا ایک شعر یاد آتا ہے
دنیا کی ہر جنگ وہی لڑ جاتا ہے
جس کو اپنے آپ سے لڑنا آتا ہے
خوش مزاجی داخلی کیفیت ہے۔ ذرائع اور اسباب یقینی طور پر وہ کیفیت نہیں پیدا کر سکتے جو آپ کو الجھنوں اور ذہنی تناؤ سے باہر نکال سکیں۔ اس کے لیے زندگی کے تئیں آپ کو مثبت رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کہیں گم مسرت کے لمحات کو کشید کرنے کا فن آپکو دریافت کرنا ہوگا۔ یقین جانیے ہم سب اس فن سے واقف ہیں بس ہم نے اس طرف نگاہ کرنے کی زحمت اٹھانا بند کر دیا ہے۔
علیزےنجف: عصر حاضر میں ہر صنف میں نمایاں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ غزل کے روایتی منظرنامے بھی اس سے مبرا نہیں میرا سوال یہ ہے کہ آپ اس تبدیلی کو کس طرح دیکھتے ہیں کیا اس تبدیلی میں کوئی منفی پہلو بھی ہے جس پہ کام کرنے کی ضرورت ہے؟
سرفراز نواز: جی ہاں۔ شاعری میں زبان، موضوع اور تکنیک کی سطح پر تجربات ہو رہے ہیں۔ روایتی شاعری اور جدید شاعری کے حوالے سے خوب بحثیں ہوئی ہیں۔ کچھ تبدیلیوں کے حامی ہیں تو کچھ قدیم طرز کو ہی اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں اور اس سے احتراز کو تسلیم نہیں کرتے۔ جہاں تک ہماری ذاتی رائے کا سوال ہے تو ہم اس تبدیلی کو خوش آئند سمجھتے ہیں۔ مگر یہ تبدیلی تجربہ برائے تجربہ نہیں ہونی چائیے۔ اور جدیدیت کے نام پر فن مجروح نہیں ہونا چاہئے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل اردو اشعار میں دیگر زبانوں کے الفاظ شامل کرنے کا بھی چلن ہے۔ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں مگر جو لفظ چاہے وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس سلیقے سے برتا جائے کہ وہ قاری کے ادبی ذوق پر گراں نہ گزرے۔ ہر لفظ فصاحت اور بلاغت کے پیمانے پر کھرا اُترے اور بھرتی کا بالکل نہ معلوم ہو۔ اپنے دو شعر حاضر ہیں۔
آنکھو ں میں اُبھر آتے ترے دھندلے پڑے نقش
یہ کیمرہ کچھ اور ذرا زوم بھی ہوتا
اب تو سند دی جائے عاشق ہونے کی
تھیسس میں نے لکھ دی اسکی آنکھوں پر
علیزےنجف: شاعری میں ہر طرح کے موضوعات پر قلم اٹھایا جاتا ہے لیکن موضوع ہے محبت جس کی اہمیت ہر دور میں کم و بیش یکساں رہی ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ شاعری میں بیان کی جانے والی محبت کو کس طرح دیکھتے ہیں کیا آپ کو نہیں لگتا کہ کہیں نہ کہیں اس میں مصنوعیت کا بھی گمان ہوتا ہے؟
سرفراز نواز: دیکھیے۔ شاعری میں مضمون کو برتنے کے اعتبار سے دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک انگریز ناقد کا قول ہے کہ شاعری تضاد کی زبان ہے۔ کسی نہ کسی سطح پر تضاد موجود ہوتا ہے اور اس سے بیان میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مبالغہ بھی اس کا حسن ہے۔ اس سے بڑا لطف حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور پر عشق و محبت کے مضامین کے حوالے سے مبالغہ شعراء کا پسندیدہ میدان رہا ہے۔
منور رانا کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
تری آنکھوں کے میخانے میں تھوڑی دیر بیٹھا تھا
مجھے دنیا نشے کا آج تک عادی بتاتی ہے
اب جہاں تک سوال محبت کے حقیقی یا مصنوعی ہونے کا ہے تو اس سلسلے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بالکل ضروری نہیں کہ شاعر عشقیہ اشعار میں وارداتِ قلبی ہی بیان کر رہا ہو یا وہ اُن تجربات سے دوچار ہی ہوا ہو۔ یہ سب روایت کی پاسداری میں ہوتا ہے۔ چونکہ شاعر اُسی معاشرے کا حصّہ ہے جس کا اپنا ایک ماضی ہے اور شاعر کے تار بھی ماضی کی روایتوں سے جڑے ہیں تو وہ اپنے کو اس تانے بانے سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ شاعری کے لیے دل کا گداز ناگزیر ہے۔ محبت چاہے وہ محبوب کی ہو یا مالکِ حقیقی کی ہو دونوں میں تڑپ اور سوز ہوناچاہئے۔ شاعر کی روح ہمہ جہت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کے درد میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور اپنے آس پاس کی الگ الگ کہانیوں کا کردار خود بن جاتا ہے۔ یہ کرشمہ دل کا وہ گداز ، محبت کی وہ کسک، وہ تڑپ کرواتی ہے جو خدا کی طرف سے اسکو خاص عطا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے وہ کسی اور کی محبت کے درد کو لفظ دے رہا ہو اس کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ اُنھیں شدت احساس سے بھر دیتا ہے اور انفرادی تجربے کو اپنے ہنر سے آفاقی بنا دیتا ہے۔ محبت کی اہمیت شعر و ادب میں بھی ہر دور میں یکساں یوں بھی ہے کہ ازل تا ابد محبت ایک مرکزی جذبہ ہے۔
علیزےنجف: آپ نے اپنی اب تک کی زندگی سے کیا سیکھا کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان اسباق نے آپ کی زندگی کو کس قدر تبدیل کیا ہے اور مستقبل میں یہ آپ کے لئے کس قدر معاون ثابت ہوں گے؟
سرفراز نواز: زندگی سے بڑا کوئی استاد نہیں۔ اور زندگی سے بڑا کوئی معمّہ بھی نہیں۔ فانی کا شعر یاد آتا ہے
اِک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کا ہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
زندگی کی درسگاہ میں ہم سب طالب علم ہیں۔ یہ روز ہمیں نئے پاٹھ پڑھاتی ہے۔ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم زندگی کے ساتھ مفاہمت کا رویہ اختیار کریں۔ ہم نے بھی زندگی کے اس سفر میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ جیسے جیسے عمر کی سیڑھیوں پر چڑھتے گئے زاویہ نظر میں تبدیلیاں بھی آئیں۔ ٹھہراؤ بھی آیا -اور خوشی کی بات ہے کہ یہ سفر بتدریج مثبت ہی رہا۔ غیر ضروری اور لایعنی چیزوں سے گریز اور ادرک و آگہی کی طرف پیش قدمی کا شوق پیدا ہوا۔ یہ زینہ طے کرتے ہوئے جب بام تک رسائی ہوگی تو وہ لمحہ یقیناً ذات کے عرفان کا ہوگا۔
علیزےنجف: نئے شاعروں و قلمکاروں کو ادبی تخلیقات بہتر بنانے کے لئے کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
سرفراز نواز: شاعری یا کوئی بھی تخلیقی عمل ریاضت طلب ہے۔ شاعری جہاں خدا کا خاص عطیہ ہے وہیں فن بھی ہے۔ سخن کی بالیدگی کے لیے مشقِ سخن شرط ہے۔ شاعر کی اپنے اندر کی آواز کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کے فنی محاسن تک رسائی ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے مجھے انگریزی زبان کے شاعر Nissim Ezekiel کی نظم کی ایک سطر یاد آتی ہے
Best poets wait for words
اچھے شاعر الفظ کا انتظار کرتے ہیں
۔ شعراء کو عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے۔ جب تک احساس کی ترسیل کے لیے موزوں لفظ نہ مل جائیں قلم کو حرکت نہ دینی چاہیے۔ اور جب لفظ سرِ تسلیم خم کر دیں تو اُنھیں سپردِ روشنائی کر نے میں تاخیر بھی نہ کرنی چاہیئے۔ شاعر جمالی کے شعر پر بات ختم کرتا ہوں
اِک نئے شعر کی تخلیق کوئی کھیل نہیں
یوں سمجھ لیجیے مٹی کو بشر کرنا ہے
انٹرویو نگار : علیزے نجف
سرائے میر اعظم گڈھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

