حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کی سرزمین بہرائچ جو اسلامی تاریخ اور اردو ادب میں اپنا ایک الگ مقام رکتھی ہے اس کی شناخت ادب میں جن شخصیات کے نام سے ہوتی ہے ان میں قدیم مصنفین اورشعرائے ضلع بہرائچ، مصنف معمولات مظہریہ، بشارات مظہریہ حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ (خلیفہ مجاز حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ)،مصنف بزم پیغمبری راجہ جنگ بہادر خاں جاہؔ (ریاست نانپارہ) ،حضرت سید ریاست حسین شوقؔ بہرائچی، حضرت بابا جمالؔ بہرائچی، حضرت عبد الرحمٰن خاں وصفیؔ بہرائچی، صاحب عزم وایثارحضرت واصفؔ القادری نانپاروی،ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خاں خیالیؔ وغیرہ اہم ہیں جبکہ موجودہ دور میں جن ناموں سے بہرائچ کی شناخت ہے ان میں حضرت اظہارؔ وارثی، انجمؔ صدیقی، اثرؔ بہرائچی، عنبرؔ بہرائچی اور فرحت ؔ احساس کے نام نامی قابل ذکر ہیں اسی سلسلے میں ایک اہم نام فراقؔ گورکھپوری کے ایکشاگرد کا بھی ہے جسے دنیائے ادب محسنؔ زیدی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔
سید محسن رضا زیدی تخلص محسنؔ زیدی۱۰؍جولائی۱۹۳۵ء شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے۔ والدین کا نام سید علی رضا زیدی اور صغری بیگم تھا۔ محسن زیدی نے ضلع پرتاپ گڑھ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامیہ اسکول(۱۹۴۰ء-۱۹۴۲ء) کے۔پی۔ہندوہائی اسکول(۱۹۴۳ء-۱۹۴۸ء) گورنمنٹ ہائی اسکول(۱۹۴۹ء-۱۹۵۰ء)،مہاراج سنگھ انٹر کالج، بہرائچ (۱۹۵۱ء- ۱۹۵۲ء)سے تعلیم حاصل کرنے بعد آپ نے انگریزی ادب، تاریخ اور معاشیات (۱۹۵۳ء-۱۹۵۴ء) میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نےآلہ آباد یونیورسٹی (۱۹۵۵ء-۱۹۵۶ء)سے معاشیات میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی۔ محسنؔ زیدی صاحب نے ۱۹۵۶ءمیں بھارتی اقتصادی سروس میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۹۳ء میں ریٹائرمنٹ تک متعدد حکومتی عہدوں پر تعینات رہے۔
آپ محکمہ کیمیکلس اور فرٹیلائجر،محکمہ مزدور،محکمہ زراعت، اور منصوبہ بندی کمیشن میں بھی رہے۔محسن زیدی صاحب جوائنٹ سکریٹری کے درجہ کے برابر انتظامی جماعت میں’’ سینئر اکانومسٹ‘‘کے طور پر ریٹائر ہوئے۔آپ نے کئی ممالک جن میں جاپان، سنگا پور، ہانگکانگ، تائیوان،انڈونیشیا،ملیشیا،تھائی لینڈ وغیرہ شامل ہیں کا سرکاری دورہ کیا۔
محسن ؔصاحب کا۳؍ ستمبر ۲۰۰۳ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔تدفین لکھنؤ میں عمل آئی۔
محسن ؔ زیدی صاحب اپنے ایک انٹرویومیں بتاتے ہیں کہ میں نے شاعری بہت کم عمری میں شروع کی۔۱۹۵۰ءکی بات ہے ۔اس زمانے میں پرتاپ گڑھ میں تعلیم حاصل کررہا تھا اور وہاں کے ادبی منظر نامہ میں نازشؔ پرتاپ گڑھی ادب میں نمایاں شخصیت کے طور پر ابھر کر آ گئے تھے ان سے بڑا متاثر ہوا۔(جنبش نوک قلم ص۶۵)
محسن ؔزیدی غزل کے شاعر تھے۔ بعض ناقدین محسنؔ زیدی کو اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کے قریب سمجھتے ہیں، کچھ ان کو ترقی پسند تحریک کے لکھنے والوں کی طرف سے متاثر محسوس کرتے ہیں۔فراقؔ گورکھپوری آپ کے بارے میں اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں:
’’محسن ؔزیدی کئی برس الہ آباد یونیورسٹی میں میرے شاگرد رہے ہیں۔وہ اپنے ذوقِ سخن کو کافی جتن سے پالتے اور پروان چڑھاتے رہے ہیں۔ ’’شہر دل ‘‘کے نام سے اپنی پہلی غزلوں کا یہ انتخاب پیش کر رہے ہیں۔شہرِدل میں جوکلام شائع ہو رہا ہے،وہ میں کْل کا کْل تو نہیں دیکھ سکا ہوں لیکن بادی النظر میں کم از کم پچاس اشعار ایسے گزرے جو کافی جاذب قلب و نظرتھے۔عموماً ان کے اشعار میں لہجے کی نرمی ،الفاظ کا ترنم اور بیان کی روانی ملتی ہے۔اس انتخاب کو حاصل کرکے ہزار ہاآدمی انکے اشعار کو گنگنا نا چاہیں گے۔مجھے امید ہے کہ وہ ادب اور زندگی کا غائزمطالع کرتے رہیں گے اور جیسے جیسے ان کی شاعری ترقی کرے گی،انکی شاعری میں فکری عناصر کا اضافہ ہوتا ر ہے گا،اور ان کے وجدان کو نئی گہرائیاں ملتی رہیں گی۔‘‘
فراقؔ
نئی دہلی
۳۱؍مارچ۱۹۶۱ء
(آنجہانی فراقؔ گورکھپوری کییہ تحریر محسنؔ زیدی مرحوم کے صاحبزادے جناب سید ارشد رضا زیدی صاحب مقیم حال کینڈا نے فراہم فرمائی۔)
سید احتشام حسین آپ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔
”محسنؔ زیدی کی غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے محسوسات اور خیالات خود ان کے ہیں جنھیں انھوں نے اپنے ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔یہی ایک بات ان کے اشعار میں اثرانگیزی کی ضامن بن جاتی ہے۔محسنؔ زیدی کے لہجے میں ایک دھیماپن ،ہلکی ہلکی آنچ سے گرمی پیدا کرنے والیایک کیفیت ہوتی ہے جو ان کے گدازِدل سے آشنا کرتی ہے۔ان کے حساس دل اور سوچنے والے دماغ نے اپنے گردو پیش کی دنیا کو غور سے دیکھا اس لئے عصری زندگی کے اثرات بھی مترنم ہو کر آپ کے خیالات کا جز بن گئے۔ “(شہر دل، محسن ؔزیدی،۱۹۶۱ء،ص۱۲-۱۳)
پروفیسر شاربؔ ردولوی لکھتے ہیں:۔
”محسن ؔ زیدی اردو کے جدید شاعروں میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔آپ نے اپنی ساری توجہ غزل پر صرف کیاا ور بڑے خلوص کے ساتھ اس میں اظہار کے نئے زوایے تلاش کرتے رہے۔محسن ؔ زیدی کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے غلام ہندوستان سے لے کرآزاد ہندوستان کی نصف صدی سے زائد دیکھی۔ “(جنبش نوک قلم ،محسن ؔزیدی۲۰۰۵ء ،ص۱۱)
محسن ؔصاحب کی شاعری میں کربلا کے تلازمات کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے کربلا ہر ظلم وجبر،نا انصافی اور حق تلفی کے خلاف احتجاج کی علامت ہے ،کربلاآج بھی مظلوم و مجبور کی طاقت ہے وہ ان واقعات سے ظلم و انصافی کے خلاف صف آرا ہو نے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔محسنؔ زیدیکربلا کے استعارے اور تلازمات کو اپنے عہد سنگ دلی اور مظالم کے اظہارکے لئے بڑی خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں۔( جنبش نوک قلم ،محسن زیدی،۲۰۰۵ء،ص۱۶)
نعمتؔ بہرائچی آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
”محسن صاحب کے کلام میں آپ کی تہذیب او متانت کا آئینہ دار ہے۔اس میں سادگی کے ساتھ جوش ہے اور اکڑو بیشتر جذبات کی صحیح اور پر اثر تاثیر کی مصوری ہے۔ “(تذکرۂ شعرائے ضلع بہرائچ ،نعمتؔ بہرائچی۱۹۹۴ء، ص۸۲)
محسن صاحب میرے نانا محمد شمیم اللہ صاحب ابن حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کے کلاس فیلو تھے۔جب بھی دہلییالکھنؤ سے بہرائچ آتے تو آپ سے ملاقات ضرور کرتے تھے۔آپ کی کتاب ’’متاع آخر شب‘‘ کو میں نے نانا کے یہاں دیکھا ہے ۔
محسن ؔ زیدی ایک کامیاب شاعر تھے آپ کے کئی مجموعہ کلام منظرعام پر آئے۔ آپ کے مجموعہ کلام اس طرح ہے:۔
شہردل(۱۹۶۱ء)،رشتۂ کلام(۱۹۷۸ء)،متاع آخر شب(۱۹۹۰ء)،باب سخن(۲۰۰۰ء)،جنبش نوک قلم(۲۰۰۵ء) کلیات محسن ؔزیدی(۲۰۱۴ء)
نمونۂ کلام
کتابِ دین کی تکمیل ہوچکی محسنؔ
زمیں پہ بھیج چکا آخری پیمبر وہ
٭٭٭
مشعلیں سری سجائی گئیں طشت زر میں
کب سے مقتل میں چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا
٭٭٭
ساری تیغیں ہیں اک گلو لے لئے
سارے تیروں کا ہے نشانہ ایک
٭٭٭
جُنبشِ نوکِ قلم ہی سہی خنجر کے خلاف
کوئی میدان میں آئے تو ستمگر کے خلاف
غزل
| ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں |
| یہ میں کہاں ہوں کیسی پریشانیوں میں ہوں |
| اک پل کو بھی سکون سے جینا محال ہے |
| کن دشمنان جاں کی نگہبانیوں میں ہوں |
| یوں جل کے راکھ خواب کے پیکر ہوئے کہ بس |
| اک آئینہ بنا ہوا حیرانیوں میں ہوں |
| جب راہ سہل تھی تو بڑی مشکلوں میں تھا |
| اب راہ ہے کٹھن تو کچھ آسانیوں میں ہوں |
| آساں نہیں ہے اتنا کہ بک جاؤں اس کے ہاتھ |
| ارزاں نہیں ہوں خواہ فراوانیوں میں ہوں |
| مجھ کو بھی علم خوب ہے سب مد و جزر کا |
| میں بھی تو سب کے ساتھ انہیں پانیوں میں ہوں |
| محسنؔ تمام تر سر و ساماں کے باوجود |
| پوچھو نہ کتنی بے سر و سامانیوں میں ہوں |

