"شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات” – نجم الدین صدیقی

by adbimiras
0 comment

آج دنیا کی بہت سی قومیں اور ملک ترقی یافتہ ہیں اور ترقی کر رہے ہیں، جیسے یورپ،امریکہ،مشرق بعید وغیرہ اور ہم ان کے مقابلہ میں بہر حال پسماندہ ہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم تعداد میں،شجاعت ومحنت ایمانداری و ایثار میں کم ہیں۔بلکہ ہم کئی معاملوں میں دوسروں سے بہتر ہیں لیکن تعلیم کے معاملہ میں پچھڑ گئے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کو ایک خاص سمت دیکر اپنی قوم میں بیداری،جدوجہد، حوصلہ،دور اندیشی اور نظم وقت کی خاصیتں پیدا کیں اور نفع نقصان کی بنیاد پر مقصد کا تعین کر مادّی طور پر ہم سے آگے نکل گئے اور ہم کئی باتوں میں ان کے دست نگر ہو گئے۔

وہ غور وفکر اور تحقیق کرتے رہے۔اسپین(اندلس) کا کتب خانہ ’ابن رشد‘ ابن سینا، امام رازی وغیرہ کو کھنگال ڈالا اور ہم ان سب کو بھول گئے اور جس کتاب میں ہمیں کائنات میں غور و فکر و تحقیق کی تلقین کی گئی تھی اس کتاب کو ہم نے پس پشت ڈال دیا اور محض ناظرہ پر اکتفا کر لیا۔ نتیجتاً ہمیں دوسروں کی رہبری قبول کرنا پڑی۔حالانکہ اللہ کے رسولؐ نے ہمیں اوپر والا ہاتھ بننے کی تلقین کی تھی اور ہم اپنی پست ہمتی سے نیچے والا ہاتھ بن کے رہ گئے۔اب دوکاندار کو ئی اور ہے ہم گاہک ہیں روزگار کسی اور کے پاس ہے اور ہم لائن میں کھڑے نوکری مانگ رہے ہیں۔ہم جو انصاف کے علمبردار تھے اب ہم خود دوسروں سے اپنے فیصلے کروا رہے ہیں وغیرہ۔ یعنی موجودہ حالات میں اپنے غیر دانشمندانہ رویہ کی وجہ سے ہم مسکین بننے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ تہذیبی طور پر ہم پر دوسری تہذیبوں نے یلغار کر رکھی ہے اور ہم پست ہوتے جا رہے ہیں جبکہ ہمیں حکم ہے کہ سارے ادیان پر اس دین کو غالب کر دو لیکن بعد کے دور میں ہم ایسا نہیں کر سکے۔ ہم نے تو اس پر بھی غور نہیں کیا کہ وو کون سی اجتماعی برائیاں معاشرہ میں در آئیں جن کی وجہ سے ہم پر چنگیزو ہلاکو و یورپی اقوام مسلط ہو گئیں اور نہ ماحول کو اپنے تابع کیا اور ہر معاملہ میں سمجھوتہ کرتے ہوئے زمانے سے پیچھے چلے گئے اس پستی سے اٹھنے کا علاج ہے ”تعلیم“ تعلیم ہم حاصل کر رہے ہیں دینی و دنیوی دونوں طرح سے لیکن موجودہ تعلیم سے ہمیں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو دنیا میں ہمیں کسی کے سامنے شر مندہ نہ کرے اور آخرت میں رب العزت اور حضورؐ کے سامنے سر خرو کر دے۔اس لئے ہمیں پورے تعلیمی سسٹم پر اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرنا چاہیے کہ کس طرح حقیقت ِزندگی اور حقائقِ کائنات پر سوار ہر کر ہم مقصد حیات حاصل کریں۔ اس کے لئے علم ضروری ہے۔

علم کے دو دھارے ہیں:

۱۔ حقائق ِ زندگی

۲۔ مقصدِ زندگی

علم کے جو ہر کو اخد کرنے کا نام تعلیم ہے۔

مقصد تعلیم: بچہ کی جسمانی،روحانی، ذہنی نشو نما اور جرأت ایمان سے بھر پور اخلاقی و فلا حی شخصیت کی تعمیر جو مخلوق خدا کی رہبری کر سکے۔

رہبری کے مقام پر ہم جب ہی پہنچ سکتے ہیں جب ہم اپنی تعلیم کو قرآن پاک کے تابع کر دیں۔ ماضی میں ہمارا تعلیمی سسٹم قرآن پاک کے تابع تھا تو علوم کا منبع تھے جیسے حساب، سائنس،جغرافیہ، فلکیات وغیرہ اور بہت سی شریفانہ عادتوں سے بھر پور تھے جیسے جرأت و اخلاق وغیرہ۔ جب ہم نے تعلیم میں باطل کی رہبری قبول کی تو کائنات کے علوم کی رہبری سے بھی محروم ہوئے اور معاشرہ میں وہ قدریں بھی در آئیں جو پہلے پسند یدہ اور قابل قبول نہیں تھیں۔

ہمیں تو گائڈ لائن دے دی گئی ہے:

”اوران اچھی باتوں کی پیروی کروجو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہیں اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“۔(قرآن کریم)

پیروی جب ہی ممکن ہے جب ہم اس کو جانیں اور سمجھیں۔

علم کا مطلب ہے جاننا یہ کیسا علم ہے کہ ہم پڑھ بھی رہے ہیں اور جان بھی نہیں رہے ہیں۔ جیسے ہمارے بچے قرآن پاک پڑھنے کے نام پر ۴۔۲ سال لگاتے ہیں اور قرآن پاک کو جانتے اور سمجھتے نہیں۔

آجکل انگریزی میڈیم کا کریز ہے جس میں پرائمری سیکشن میں بچہ بجائے پانچ کے آٹھ سال پڑھتا ہے اور جس کی سالانہ فیس ہزاروں میں ہوتی ہے اور آٹھ سال میں لاکھوں پر پہنچتی ہے۔

اتنا وقت اور پیسہ خرچ کرنے کے بعد بچہ سے پوچھنے پر سوالوں کے جواب تو صحیح ملیں گے لیکن جب ہم سبق کانفس مضمون جاننا چاہیں گے تو مڈل کلاس تک کے بچے عام طور پر صحیح جواب نہیں دے پا ئیں گے یعنی بچہ کاوہ قیمتی وقت جو علم حاصل کرنے میں لگتا ہے وہ رٹنے میں لگا دیا گیا۔جبکہ مسقبل میں ان بچوں کو ان سے مقابلہ کرنا ہے جو نرسری سے ہی علم کو جان رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔شروع سے ہی انگریزی میڈیم سے یہ نقصان بھی ہے کہ اس سے بچہ پر اتنا بوجھ ہو جاتا ہے کہ اس کو دوسرے علوم سیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

ہمیں ایسا طریقۂ تعلیم وضع کرنا ہے جو پڑھیں وہ جانیں ہم غریب ہیں اور پچھڑے ہوئے ہیں اور مسابقت کے دور میں ہیں ہمیں کم خرچ کر کے کم وقت میں زیادہ محنت کرکے برابری میں آنا ہے۔

اس لئے حالات کی مناسبت کے مطابق مفید آسان اور سستی تعلیم چاہیے جو مناسب (عقیدہ) ماحول میں دی جائے اور معلم مشن اسپرٹ سے پڑھائیں۔

پروگرام:۔ 0سے چودہ سال تک کی آبادی ٹوٹل آباد ی کا تقریباََ ۸۲ فیصد ہو تی ہے اور مسلمانوں کی ۹۱ سال سے نیچے کی آبادی ۹۴ فیصدہے۔

ہمیں اس ۴۱ سال تک کی آبادی کی تعلیم و تربیت کی فکر کرتے ہوئے پر ائمری اور مڈل اسکول کھولنا چاہیے۔پوری تعلیم اسلامی ماحول میں ہو اور ہماری (انجمن) نگرانی میں ہو کیونکہ اس عمر تک بچہ کا عقیدہ قدریں و اچھی عادتیں بنتی ہیں۔ اسی دور میں صحت بنتی ہے۔

مڈل اسکول:۔ ۹ سالہ عرصہ میں تعلیم مادری زبان (اردو) میں مناسب ماحول میں تربیت کو دھیان میں رکھ کر دی جائے تاکہ جو پڑھیں اس کو جانیں اور سمجھیں اور عقیدہ کی بھی حفاظت ہو سکے۔(جدید طرز پر ایک پری اسکول کلاس ہو)

کورس:۔ تقریباً سرکاری ہو۔

زبان:۔ ارد و ہندی انگریری اور عربی و مقامی ہو۔

حساب،سائنس، سوشل سائنس، تاریخ وغیرہ

معاون مطالعہ:۔ قرآن پاک عربی میں سمجھنا، تاریخ اسلام، سیرت پاکؐ تاریخ صحابہ ؓ حدیث پاکؐ جاننا۔اسکے علاوہ دوسری اہم شخصیات ابن سینا،امام رازی، ابن رشد وغیرہ کو پڑھنا۔ مسلم حکمرانوں کے محاسن کو جاننا۔ ہر قسم کی مفید ایکسر سائز کرنا، کھانے کی مفید عادتیں بنانا،کھانے پینے کی مفید اور نقصان دہ چیزوں کا علم دینا۔

پرائمری اسکول میں کو ایجوکیشن ہو سکتا ہے لیکن مڈل سیکشن سے لڑکے و لڑکیاں الگ پڑھائی جائیں۔

داخلہ:۔ لڑکے اردو میڈیم کے نام پر کم داخل ہوں گے لڑکیاں مل سکتی ہیں اس لئے شروعات ایسی جگہ سے کی جائے جہاں تعلیم کی کمی ہو مدرسہ بھی نہ ہو۔ لیکن ایک ماڈل اسکول کسی قصبہ میں ضرور ہونا چاہیے۔

استاد:۔ اسکول کے آس پاس کے علاقہ کا سروے کر پڑھے لکھے لڑکے اور لڑکیا ں تلاش کی جائیں اور انہیں مشن اسپرٹ سے پڑھانے کی تحریک دی جائے جہاں تک ممکن ہو سرکاری مستند ادارہ کے ٹرینڈ ٹیچر لئے جائیں۔

مالی ضرورت:۔ شروع میں کچھ لوگوں کو مال کی قربانی دینا پڑے گی بعد میں سرکاری مدد و طلبہ کی فیس سے خرچ چلایا جا ئے گا۔

مڈل تک میڈیم:۔ مادری زبان(اردو) رہے آٹھویں کے بعد جو بچے زیادہ ذہین ہیں اور جو میڈیم بدلنا چاہیں تو انکی مرضی کے مطابق میڈیم میں پڑھایا جائے۔ جو ٹیکنیکل لائن میں جانا چاہیں انہیں انگریزی میڈم میں پڑھا یا جائے اس کے لئے چھٹے درجہ سے انگریزی مضمون پر خاص توجہ دی جانی چاہیے۔

کھیل کود:۔ٹیم گیم فٹ بال،ہاکی، والی بال کے ساتھ ہی انفرادی گیم و اسپورٹ پر زیادہ ھیان دیا جانا چا ہیے سرکار نے اس کے لیے اکیڈمی بنا ر کھی ہے اور بچہ کا پورا خرچ بھی وہی اُٹھا تے ہیں۔ٹیم کے مقابلہ میں فرد کا انتخاب زیادہ آسان ہے۔ مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ٹیم و انفرادی کھیل کود ہو تے رہنا چاہیے غیر صحت مند کھیل نہیں ہونا چاہیے جو ڈو کراٹے کی بھی مشق کرائی جانی چاہیے اور یوگ کو بھی مناسب ڈھنگ سے اپنا یا جانا چاہیے۔

ہمیں مڈل تک کی تعلیم تو خود ہی اپنے ماحول میں دینا چاہیے اور ممکن ہو تو پوری اسکولی تعلیم XIIتک ہماری نگرانی میں ہو۔

کوچنگ:۔کا مقصد ہے بچہ کو اس کے اسکول کے درجہ کے معیار کے برابر کر نا تاکہ وہ اوستاد کی بات سمجھ سکے اور سوال کر سکے اور درجہ میں اپنا معیار اونچاکر سکے۔ جہاں انجمن اسکول نہ کھول سکے وہاں کو چنگ مراکز کے ذریعہ ان کا پڑھائی کا معیاربلند کرے اور جو بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں ان کو یہاں پڑھا یا جائے۔ اور تربیت کی جائے۔

بڑی لڑکیوں کی کوچنگ بڑی ذمہ د اری کا کام ہے اسکول و کالج لڑکیاں گروپ میں جا تی ہیں لیکن کوچنگ میں یا تو تنہا جانا پڑتا ہے یا بہت چھوٹا گروپ ہو تا ہے اور اکثر فاصلہ بھی ہو تا ہے۔اس لیے لڑکیوں کی کوچنگ ان کے گھر کے قریب ہی ہونا چاہیے۔

مقصد: ان کو مصروف رکھنا، نا مناسب جگہوں سے بچانا،تعلیمی معیار بلند کرنا،مفید علم دینا،لڑکیوں کی ضرورت کی فطری،عملی و دینی تعلیم دینا۔

فنی تعلیم:۔ میڈیکل، ٹیکنیکل، قانون، انجینیرنگ وغیرہ کی تعلیم کے لئے بچہ کا رجحان دیکھ کر شروع سے ہی تیاری کرانا چاہیے۔ جیسے میڈیکل کالج نہیں کھول سکتے تو نرسنگ کورس چلانا چاہیے اورکم از کم دایہ ٹریننگ مرکز تو ہونا ہی چاہیے۔یہ بہت مہنگا سسٹم ہو تا ہے تو جہاں تک ممکن ہو سرکاری کالج میں یہ تعلیم دلوانا چاہیے۔

تعلیم با لغان:۔ تعلیم بالغان سماجی بیداری ہے۔ اس میں صرف علمی و معلوماتی تعلیم ہو مذہبی یا مسلکی نہ ہو۔ ا س میں زبان کی ضرورت کے مطابق تعلیم دی جائے اور استاد معلومات کے ساتھ اپنے گھر و حلقہئ اثر میں تعلیم کی ترویج کی اسپرٹ پیدا کریں۔

اس کے علاوہ انہیں درجات میں آگے چل کر محکمہ جاتی قانونوں کی معلومات دیں تاکہ وہ دفتری لیت لالی سے بچیں اور حکومت کی طرف سے جو محکمہ جاتی سہولتیں اور رعایتیں دی جارہی ہیں ان کی معلومات دینا۔یعنی ہمارے نام سے حکومت کی طرف سے جو پیسہ و رعایت دی گئی اسکا ہم ہی استعمال کریں۔جہالت و لا علمی و لاپرواہی کی وجہ سے ہم یہ مواقع کھو رہے ہیں۔

مقاصد:۔(۱) 18سے 25سال تک کے بچوں کو مصروف رکھنا۔ (۲) ان میں آگے بڑھنے و ترقی کرنے کی خواہش پیدا کرنا۔

(۳) انہیں ا ن کی ضرورت کے مطابق علم و تربیت دینا۔ (۴) ان میں مقابلہ کا جذبہ پیدا کرنا۔

(۵) انہیں غیر اخلاقی و غیر قانونی کاموں سے بچانا۔ (۶) وحدانیت و رسالت سے روشنا س کرانا۔

مقابلہ جاتی ا متحانات کی تیاری:۔ جیسے انسپکڑ،پٹواری،آئی.ائے.ایس،آئی.پی.ایس وغیرہ نئے و اہم درجات میں داخلہ کی تیاری کرانا۔

 

حصہ دوئم:

ہمیں احساس جرم سے نکلنا چاہیے۔ یعنی پاکستان ہم نے بنایا۔ملک کو آزاد کرانے مں ہمارا کوئی خاص کردار نہیں مسلم حکمرانوں نے عوام پر ظلم کیے،ہم جاہل،ظالم،بدتمیز و غنڈے ہیں وغیرہ۔

ہمیں لوگوں کو بتانا چاہیے کہ ملک کا بٹوارہ انہوں نے کیا جن کو اس سے فائدہ تھا ہمیں نہیں تھا اور نہ ہوا،ملک کو آزاد کرانے میں سب شریک رہے اور ہم نے بھی خوب قربانیاں دی و قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں اور دارورسن کو اپنایا ۔ہم سے پہلے سماج اونچ نیچ اور چھوا چھوت میں گرفتار تھا۔ہم نے انسانوں کو مساوات کا اسلامی تصور دیا۔مسلم حکمرانوں نے عام طور پر انصاف سے کام لیا اور ملک کی دولت ملک میں ہی رکھی باہر نہیں لے گئے اور آج کتنے لوگوں کے سوئس بنک وغیرہ میں اکاؤنٹ ہیں جن کی صحیح تعداد بھی معلوم نہیں۔

یہ ملک ہمارا ہے تہذہبی طور پر ہم اس کے وارث ہیں سماج کے کچھ طبقوں میں نشہ، جوا، سٹہ،بے ایمانی،رشوت خوری، بداخلاقی، طبقاتی، چپقلش وغیرہ برائیاں پھیل رہی ہیں ہمیں آگے بڑھ کر سماج کو ان برائیوں سے پاک کرنا ہے۔

ہمارے ملک کا سماج ملا جلا سماج ہے۔ کسی بھی ملے جلے سماج میں رہنے کے لئے بیدار مغزی اور جرأت ضروری ہے اسی کے ساتھ اگر خیر کا جذبہ بھی ہو تو ہم سماج میں معزز، مقرب بااعتماد اور ایک اچھے انسان کی حیثیت سے متعارف رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرہ میں کچھ کمزوریاں آئی ہیں جیسے مسلکی (آپس کے) اختلاف علم کی کمی پست ہمتی،دوسروں پر انحصار، ناکامی سے خوفزدہ رہنا اور کچھ خدمت کے جذبہ کی کمی اصولوں میں بھی سمجھوتہ کرتے رہنا۔

جہاں تک ہمارے آپس کے اختلاف کا تعلق ہے تو علم کیمیا کا اصول ہے کہ دو مختلف چیزیں یا عناصر ملتے ہیں تو ایک نئی چیز پیدا ہوتی ہے۔ اختلاف بھی دوگروہ یا طبقوں میں ہوگا تو ایک نئی بات پیدا ہوگی اور اس کو مثبت بنا یا جا سکتا ہے اور یہ اختلاف ایک دوسرے کا تکملہ ہو سکتا ہے۔

دو متحارب فریق ایک دوسرے میں پست ہمتی اور خوف پیدا کرتے ہیں ہم کسی کے متحارب فریق نہیں ہیں کیونکہ ہم حامل قرآن پاک ہیں جو پوری دنیا کی رہبری کے لئے ہے ہمیں تو دنیا میں اچھائیوں کو پھیلانا ہے اور برائیوں کو بے خوف ہوکر پھیلنے سے روکنا ہے۔

ہمیں اپنے میں سے خوف کو دور کرنا ہے۔ پست ہمت اور خوفزدہ شخص کے لئے کا میابی تو دور کا مسئلہ ہے اس کی پست ہمتی اور بے حوصلگی اس کو کسی مقابلہ میں اترنے ہی نہیں دیتی اور دوسروں کو کھلا واک اوور مل جا تا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

ہماری ذمہ داریاں تو بہت ہیں لیکن ہماری اہلیتیں (Capacity)اور مواقع کم ہیں اس لئے ہم سماج میں پچھڑ گئے ہیں۔

اس پچھڑے پن کو دور کرنے کے لئے ہمیں پورے معاشرہ میں بیداری مہم چلانا پڑیگی۔

(۱) بنیادی تعلیم عام ہونا چاہیے۔ہر حقدار (Eligible)کو اعلیٰ تعلیم ملنا چاہیے۔

(۲) تعلیمی کانفرنسز ہوتی رہنا چاہیے جس سے تعلیمی معیار کا پتہ چلتا رہے سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی کا علم ہوتا رہے اور احتساب ہو تا رہے۔

(۳) ہر مقابلہ میں اترنا چاہیے۔

(۴) وہ علم جس سے اخلاقیات اور حوصلہ بلند ہو جیسے سیرت ؐ پاک و حکایات صحابہ و غیرہ حاصل کرنا چاہیے و تاریخ اسلام بھی۔

(۵) ہر فرد کو مذہبی مقامی و دفتری زبان آنا چاہیے۔

(۶) تاریخ کا علم ہو نا چاہیے۔

(۷) دنیا کے کامیاب ہیروز کی سوانح حیات جاننا چاہیے۔

(۸) سرکارکے ہر ڈیپارٹمنٹ کا حسب ضرورت علم ہونا چاہیے۔

(۹) معاشرہ کے ہر فرد تک پہنچناچاہیے۔

(۰۱) مذہبی اجتماعات کا افادیت کی بنیاد پر احتساب ہو نا چاہیے۔

(۱۱) کچھ خاص لوگوں کودوسرے مذاہب و تہذیبوں کا علم ہونا چاہیے۔

(٢١) ہماری فکر انفرادی سے بڑھ کر ملی ہو اور نظر (Vision)کشادہ ہو۔

اب درسگاہیں بھی ہماری نہیں اب ہم دوسروں سے علم فکر و تہذیب حاصل کر رہے ہیں۔

ہمیں زیادہ سے زیادہ درس گاہیں کھولنا چاہیے۔تعلیمی سروے کرنا چاہیے پچھڑی ذاتوں میں خاص طور پر اسکول کھولنا چاہیے جیسے نٹ، بیلدار، بھلیڑی مسلمان وغیرہ کے علاقوں میں۔

تعلیمی نصاب بچے کے عقیدے و اس کی ذہنی و جسمانی اہلیت کے مطابق ہو ان کے لئے بوجھ نہ ہو۔ بچہ کی تندرستی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔

سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کے بچے ہو ں گے اور وہ اردو پڑھناچاہیں گے تو ان کو اردو پڑھائی جائے گی اوراردو ٹیچر مقرر ہوں گے اور لوگوں کو نوکری ملے گی۔

خوارک،پوشاک واجتماعی پروگرام (شادی وغیرہ) کے سارے طور طریقے افادیت،سادگی وکفایت پرمبنی ہوں۔

تجارت و تعلیم کے علاوہ بڑے پیمانہ پر امداد باہمی کی بنیاد پر صنعت و حرفت پر زیادہ توجہ دی جائے۔ایک سروے کمیٹی ہو جو معاشرہ کا ہر قسم کا سروے کر کے سماج کی ضرورتوں کو پوراکرنے میں معاون بنیں۔

زکوٰۃ کو منظم کیا جائے اور قرآن پاک کے بتائے ہوئے مدوں میں ہی صرف کی جائے۔

مقامی طور پر ایک وقف تحفط کمیٹی بنانا چاہیے جن کے ارکان وقف جائداد کے قانون سے واقف ہوں۔ ان کے پاس فنڈ بھی ہوتا کہ وہ وقف کمیٹی کی مدد کر سکیں۔ اور اس کی آمدنی سے ملت مستفید ہو سکے۔

ایک کمیٹی ہو جو مختلف سرکاری دفتروں سے اچھے رشتہ رکھے وانہیں تعاون دے ساتھ ہی غیر سیا سی انجمن و اداروں سے رابطہ رکھیں اور معلومات کا تبادلہ کر یں۔

سرکاری سہولت لینے کے لئے فرد پر بھروسہ نہ کیا جائے انجمن خود تمام قانونی کام کرے۔

آسانی سے اسلام کو روشناس کرانے کا ذریعہ اذان ہے،اس لیے اذان خوش الحان انداز میں دی جائے اور صحیح دی جائے اور اس کے تربیتی مراکز ہوں۔دینی ضرورت کے لئے جو لوگ باہر گئے ہوے ہوں یا جوجیلوں میں بند ہوں ان کے گھروں کی خبر گیری کی جائے۔

ان سب کا موں کے لئے اہل خیر حضرات سے مالی تعاون حاصل کرکے مستقل فنڈ بنایا جائے۔

لیڈر اور قوم کا تعلق دودھ اور ملائی جیسا ہو تا ہے جیسا دودھ ویسی ملائی اس لئے ہمیں دودھ (ملت) پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔

اتحاد:۔ ہم خدمت دنیوی و مادی ٹارگیٹ یکساں کرلیں اور انہیں حاصل کرنے میں ایک دوسرے کے معاون بنیں۔

ترقی:۔علم،حرکت،بیداری،مقصد کا تعین نظم وقت اور حوصلہ ضروری ہے۔

انجمن تاریخ داں:۔ شریر لوگ غلط تاریخ بیان کرہمیں گمراہ اور بدنام کر رہے ہیں اس انجمن کے ذریعہ ہمارے بزرگوں اور شاہوں کے واقعات اور کاموں کو بتایا جائے جیسے بادشاہ ہند ناصرالدین کا اپنی ملکہ سے یہ کہنا کہ میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ روٹی پکانے کے لیے ایک خادمہ رکھ سکوں (ملکہ خود کھانا پکاتی تھیں) رہا شاہی خزانہ تو وہ سب رعایا کا مال ہے میں اس میں سے اپنے لیے ایک کوڑی بھی نہیں لے سکتا۔

اور اسی کے ساتھ مستند تاریخی کتب کی لائبریری قائم ہو جس میں تحقیق ہو اور نام نہاد تاریخوں کا محاسبہ ہو سائنس کے اسکالرس کے پروگرام کرتے رہنا چاہیے اور سائنس میں فلاح و بہبودکی ایجادات پر غور کرنا چاہیے۔

اطلاعی مرکز:۔صرف ایک آدی کمپیوٹر پر بیٹھ کر پوری معلومات ہر قسم کی اکٹھی کر سکتا ہے۔ ہمیں معلومات سے دلچسپی کم ہے اس لئے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مرکز سے ہرقسم کی تعلیمی معلومات روز گار کے مواقع اور سرکاری اسکیموں کی معلومات واسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ اور طریقہ کار معلوم کرکے لوگوں کو بتائیں اور مدد بھی کریں۔

مقامی طور پر تعلیم یافتہ (عالم و گریجویٹ) لوگوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا و ایک ڈھیلا ڈھالا ان کا نطم قائم کرنا۔ان کے پروگرام کرتے رہنا جس میں ان کے خود کے مسائل وملت کے مقامی مسائل سے روبرو کرانا۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ وپنشن یافتہ لوگوں کا کلب: کلب کے ارکان کے علم و تجربہ و معلومات سے مستفید ہونے کے لئے ان کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا وملی مسائل پر ان سے گائڈلائن لینا۔

واٹس ایپ:چلانا چاہیے،قرآن پاک کی معاشرتی آیا ت کا ترجمہ وتفسیر عالم صاحب کی رہبری میں ہو جیسے (مفہوم) کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹادے اور اسی قسم کی احادیث صحاح ستہ سے بیان ہوں۔

ان سب کا موں کے لیے ایک قانونی کمیٹی ہو (N.G.O)اور اس کے صدر کی معاونت کے لیے عالم،ماہر تعلیم و وکیل ہوں۔

سرکار اقلیتوں کے لئے بجٹ تقویض کرتی ہے جو ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا ہے۔ ہماری لا پرواہی و لا علمی کی وجہ سے ہم اس بجٹ سے خاطر خو اہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہے اور اٹھا نے نہیں دیا جا رہا ہے۔ہمیں اس رعایت کا پورا ستعمال کرنا ہے اور اس میں جان بوجھ کر جورکاوٹیں ڈالتے ہیں انکا احتساب کرنا ہے۔

آج ہم آزاد ہیں اپنا مقدر خود بنا سکتے ہیں ضرورت ہے بیداری اور محنت کی ہمیں تقلید نہیں کرنا ہے رہبری کرنا ہے۔

اس کے لئے مڈل اسکول تک کی تعلیم کے ہم خود ذمہ دار بنیں کسی کو بھی یہ ذمہ داری نہ دیں۔تاکہ ہمارا عقیدہ،تہذیب و قدریں محفوظ رہیں اور علم کی بنیاد اتنی مضبوط ہوجائے کہ آگے جاکر ہم تقابلی امت (Competitive nation) بن سکیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

You may also like

Leave a Comment