مضمون نگار : ام ماریہ حق (دہلی)
شعر و ادب کے دانشوران کے مطابق شاعری انسان کے احساس و جزبات کے اظہار کا نام ہے۔ تاریخِ شعر و ادب کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ غزل کس قدر ترقی پسند’ دلآویز اور ہمہ گیر صنفِ سخن ہے جس کی جڑیں ہماری تہذیب و معاشرت میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ اردو شاعری میں غزل ایک ایسی منفرد صنفِ سخن ہے جس کے تقابل میں فارسی کے سوا دنیا کی کسی اور زبان میں ایسی کوئی صنف نہیں ملتی ہے جسے غزل کا درجہ دیا جا سکے۔ غزل کی اس مقبولیت اور کامیابی میں اس کی ہییت اور تشکیلی عوامل شامل ہیں۔ شاعر زندگی کے جن واقعات و سانحات اور حادثات سے متاثر ہوتا ہے وہ انہیں تاثرات کو لفظی پیکر میں عطا کر کے بے زبان بُت کی تخلیق کرتا ہے اور ویسے بھی موضوع کے لحاظ سے غزل انسانی فطرت اور عادت کے بہت قریب ہے۔ جدید شاعری میں جن شعراء نے اس فکری نہج کو نۓ امکانات سے روشناس کرایا ان میں عرفان صدیقی کا نام سرِ فہرست ہے۔ جدید شاعری بالخصوص غزل کو انھوں نے جو معنوی جہت دی وہ ان کے معاصرین اور ان کے عہد کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کے یہاں پرانی تہذیب کے اجالوں میں جدید مشاہدات کے عجیب بازیافت ہے جس کی پاسبانی اور حفاظت میں ان کا منفرد انداز بے مثال ہے۔ ان کی غزل کے چند اشعار پیشے خدمت ہیں۔
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دستِ کرم دنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
_ _ _
درِ روحانیاں پہ چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی سلطنت میں کار سلطانی بھی کرتے ہیں
_ _ _
مجھے کچھ شوق نظارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا
مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں
_ _ _
جو سچ پوچھو تو ضبط آرزو سے کچھ نہیں ہوتا
پرندے میری سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں
_ _ _
بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی
کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں
عرفان صدیقی کی شاعری کا ایک بہت بڑا وصف اس کا اسلوب یے۔ کلام میں رچاؤ اور آراستگی پیدا کرنے کا احساس ان کے اسلوب میں ہر جگہ نمایاں ہے۔ انہوں نے یوں تو قریب قریب سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل کارنامہ جو ہمارے سامنے موجود ہے وہ ان کی غزلیں ہیں جنہیں انھوں نے اپنی زبردست قوت فکر اور فنی مہارت سے بہت بلندی پر پہونچایا۔ عرفان صدیقی کو شہرت اور مقبولیت کچھ دیر سے ملی پر یہ قبولیت خالص تھی جس میں کوئی بیساکھی نہیں لگی تھی۔ اپنی پہچان بنانے کے لیے انھوں نے کبھی کسی گروپ یا کسی ناقدین کا سہارا نہیں لیا حالانکہ یہ کرنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اپنی شاعری کی انفرادیت کا انھیں خود بھی علم تھا مگر خود ہی اس کا اظہار ان کی طبیعت میں نہ تھا۔ "کینوس” ان کا پہلا مجموعہ کلام تھا۔ اس کے بعد "شب درمیان”، ” سات سماوات” ، "عشق نامہ ” اور "ہواۓ دشتِ ماریہ” منظر عام پر آۓ جن کی ادبی حلقوں میں خوب پزیرائی ہوئی۔ ان کے تمام مجموعوں پر مشتمل دیوان "دریا” کے نام سے ہے جو پاکستان سے شائع ہوا۔ عرفان صدیقی اپنی غزلوں کے لیے لفظیات کے انتخاب میں تصنع آمیز آرائش کو راہ نہیں دیتے۔ وہ سادہ کاری اور اخلاص سے بھرپور معنویت کی بے پناہ لزتوں سے اپنی غزلوں کو سجاتے ہیں۔
یا تو یہ سیلاب ہی بالاۓ سر آ جائے گا
یا ہمیں پانی پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا
_ _ _
شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے
برگِ افتادہ ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے
_ _ _
تم بتاتے تو سمجھتی اسے دنیا عرفان
فائدہ عرضِ ہنر میں تھا ہنر میں کیا تھا
_ _ _
اتنی امید نہ آتے ہوئے برسوں سے لگا
حال بھی تو کسی ماضی کا ہی مستقل ہے
_ _ _
اچھا نہیں غزل کا یہ لمحہ میرے عزیز
بس چپ رہو کہ لوگ خفا ہونے والے ہیں
_ _ _
مدت سے اک سکوت ہمارا نشان تھا
ہم حرف زن ہوۓ تو اثر نے کہا نہیں
_ _ _
ریت پہ تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آۓ تھے وحشت کے بغیر
_ _ _
ہمارے داغ چھپاتیں روایتیں کب تک
لباس بھی تو پرانا تھا پھٹ گیا آخر
_ _ _
دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے نقشِ کف پا بھی خاموش
بدایوں کی سر زمین کو یہ فخر اور اعزاز حاصل ہے کہ اس خاکِ پاک سے بڑے بڑے دانشور، شعراء، ادیب، کھلاڑی، مترجمین اور ماہرینِ موسیقی پیدا ہوۓ۔ مغربی اترپردیش کا یہ قدیم تاریخی، علمی و ادبی شہر اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جہاں عرفان صدیقی جیسے ادیب، شاعر ، ترجمہ نگار اور صحافی نے جنم لیا۔ عرفان صدیقی انہیں نامورانِ بدایوں کے لائق فرزند تھے شعر و سخن سے ان کی عمیق وابستگی ہونا ایک فطری بات ہے بلکہ یوں کہیں کہ شعر و ادب ان کی گھٹی میں تھا۔ ان کے والد محترم مولوی سلمان احمد ہلالی بدایوں کے استاد شعراء میں شمار کۓ جاتے تھے۔ وہ بدایوں میں ایڈوکیٹ تھے اور دیوانی معلومات کے ماہر تھے انھوں نے اعلیٰ تعلیم اور قانون کی ڈگریاں بریلی کی مشہور اور قدیم درسگاہ بریلی کالج سے حاصل کیں جو انگریزی حکومت کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ ہلالی صاحب انگریزی تعلیم اور قانون کے علاوہ فارسی اور انگریزی کے بھی فاضل تھے۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ نعت و منقبت میں پنہاں تھا وہ بڑے راسخ العقیدہ شخصیت کے مالک تھے۔ ہلالی صاحب کی نعت کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔
وہ جس نے حسنِ صورت حسنِ سیرت سب بنائی ہے
وہ ہے مداح ان کے حسنِ صورت حسنِ سیرت کا
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عرفان صدیقی کو ادب ورثے میں ملا۔ انہوں نے جس ماحول اور جس فضا میں ہوش سنبھالا اس میں ہر طرف علم و ادب خصوصاً شاعری کا چرچہ تھا۔ ان کے والد، دادا نانا، بھائی سب کے سب شاعر تھے یہاں تک کہ ان والدہ بھی شاعرہ تھیں۔ ایک انٹرویو میں اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ۔۔ ” میرے خاندان میں شروع سے دو دھارے تھے ایک تھا مزہب کا اور ایک تھا ادب کا۔ پورے خاندان میں ایک مزہبی روایت تھی بڑے تسلسل کے ساتھ اور میرے جو اجداد تھے ان کا روزگار کا معاملہ بھی کچھ نہ کچھ اسی مزہب کے حوالے سے تھا یعنی اوقاف کی تولیت جو سارے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے دوران میرے مورثوں کو دی گئی تھی”۔
عرفان صدیقی کے ابتدائی کلام کو دیکھیں تو بدایوں کی شعری روایت کا پورا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کا آبائی مکان محلہ سوتھا میں واقع ہے اور اس محلہ کا نام سوتھ ندی کی مناسبت سے ہے۔ سوتھ ندی گنگا کی شاخ ہے ۔ عرفان صدیقی کی ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے دادا کے زیر سایہ ہوئی اس کے بعد ان کا کریسچن ہائر سیکنڈری اسکول بدایوں میں داخلہ کروایا گیا جہاں سے انہوں نے ہائی سکول کا امتحان پاس کیا۔ حافظ صدیق اسلامیہ انٹرکالج بدایوں سے انھوں نے انٹر کیا اور آگے کی تعلیم کےلیے بریلی کالج میں داخلہ لیا اور بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد (عمرانیات) میں ایم اے آگرہ یونیورسٹی سے کیا۔ اس کے بعد وہ دہلی چلے گئے اور وہاں کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن نامی ادارے سے صحافت میں ڈپلومہ کیا۔ اس کے بعد ان کا انتخاب انڈیا انفارمیشن سروس میں ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی ان کے صحافتی سفر کا آغاز ہوا۔دوران ملازمت وہ لکھنؤ اور دہلی میں رہے۔ زندگی کے آخری ایام تک وہ بدایوں سے عشق کرتے رہے جو ملازمت کے سبب تقریباً چھوٹ گیا تھا۔ ملازمت کے دوران ہی انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی جو صحافت کے فن اصول اور قوانین پر مشتمل ہے۔ میڈیا کے مختلف اداروں میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے نقش وہاں بھی چھوڑے وہ اردو اور انگریزی میں بہترین نثر لکھنے پر قادر تھے۔ انھوں نے ترقی کے مختلف منازل طے کرتے ہوئے حکومت ہند کے ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے عہدے سے پریس انفارمیشن بیورو کے علاقائی دفتر کے سربراہ کی حیثیت سے سبکدوشی حاصل کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لکھنؤ سے نکلنے والے مشہور روزنامہ "صحافت” میں چیف ایڈیٹر ہو گۓ۔ ان کی پوری حیات صحافت سے وابستہ رہی۔ عرفان صدیقی مختلف خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک تھے انہوں نے شعر و ادب اور صحافتی میدانوں میں طبع آزمائی کی اور دونوں ہی میدانوں میں معیاری مقام حاصل کیا۔ ایک طرف صحافت ان کا پیشہ تھا تو وہ خدمت سخن کا جزبہ شاعری کی شکل میں پورا کر رہےتھے۔
_ _ _
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
_ _ _
یوں تو عرفان صدیقی نے قریب قریب سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کا اصل اثاثہ غزلیں ہیں جو انہوں نے اپنی زبردست قوت فکر اور فنی مہارت سے بہت بلندی پر پہونچایا۔ معاملاتِ عشق ہو یا واردات دنیا کی حکایات ان تمام موضوعات کو غزل کرنے کے لیے انھوں نے جن الفاظ کا انتخاب کیا جن میں اس سے بہتر صورت آسان نہیں۔ یہ لفظ و ادغام کی وہ دنیا ہے جہاں ایک جہانِ معنی آباد ہے۔
_ _ _
ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں
کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
_ _ _
اس کے ہاتھ میں ہے شاخ تعلق کی بہار
چھو لیا ہے تو نۓ برگ و ثمر آ گۓ ہیں
_ _ _
حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا
تو نے کہا تھا، تیرا کہا کیوں نہیں ہوا
عرفان صدیقی کی شاعری کے تخلیقی زاویوں کے تہہ خانے میں اترنا بے حد مشکل ہے۔ انہوں نے کچھ نظمیں بھی کہیں ہیں جو ان کے پہلے دو مجموعوں "کینوس” اور "شب درمیاں” میں موجود ہیں۔ ان کی ایک مختصر نظم "شہر خوف”پیشے خدمت ہے۔
_ _ _
گلی میں خوف / دریچوں میں خوف/ آنکھ میں خوف/ فصیل شہر میں یہ شفاک وقت ٹھرا ہوا/سماعتوں میں پراسرار آہٹوں کا ہجوم/ ابھی وہ آئیں گے/ میرے شکستہ زینے سے/ اور اس مکان کے سارے چراغ، سارے گلاب/ میری کتابیں، میرے خواب، میری تصویریں/ میرے یقین/ مری نا ممکنات کی دنیا/ دھواں بنا دیں گے/ عجیب زہر لہو میں اترتا جاتا ہے/ مگر یہ بچہ جو سوتے میں مسکراتا ہے۔
ان کی ایک قابلِ ذکر نظم” نیا قصیدہ” جو غزل کے فارم میں ہے۔ اس کے چند اشعار پیش ہیں۔
کہنہ محراب میں افسردہ چراغوں کا دھواں
سرمئی شام میں صبحوں کا پھر مرا روشن
جاگتی راتوں میں لہراتے ہوۓ حمد کے گیت
طاق مسجد میں کسی دل کی تمنّا روشن
چھت پہ مہتاب نکلتا ہوا سرگوشی کا
اور پازیب کی جھنکار سے زینہ روشن
عرفان صدیقی ایک بلند مرتبہ شاعر ہونے کے ساتھ ایک بہترین صحافی اور با صلاحیت مترجم بھی تھے۔ آپ نے کالی داس کا مشہور ڈراما "مالویکا اگنی متر” اور نظم "رتوسمہارم” کا اردو ترجمہ "رت سنگھار” کے نام سے کیا۔ ساتھ ہی عربی کے مصنف محمد شکری کی سوانحی ناول کا اردو میں "صرف روٹی کی خاطر” نام سے ترجمہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ انہیں عربی اور سنسکرت دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ ترجمہ محض ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ استعمال کرنے کا کام نہیں ہے اس کے لیے مترجم کو دونوں زبانوں کی تہزیبوں، محاوروں اور کہاوتوں سے واقف ہونا لازمی ہے۔ پانچ ابواب پر مشتمل "مالویکا اگنی متر ” کا ترجمہ عرفان صدیقی نے سلیس اور آم فہم زبان میں کیا ہے۔ انہوں نے جہاں نثری حصہ کو آسان زبان میں کیا ہے وہیں نظموں کو اپنی شاعرانہ سلاحیت کے سبب اسی رنگ و آہنگ میں میں پیش کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شعری افق پر عرفان صدیقی جیسا ستارہ کبھی کبھی ہی طلوع ہوتا ہے جو اپنی تخلیقی بصیرتوں سے ادب کے آسمان کو روشن کرے اور تازہ کاری کی بدولت نئ تاریخ بھی درج کرواۓ۔ ان کے جانے سے اردو شاعری کو جو نقصان ہوا اس کی تلافی ممکن نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان سے کتنی بشارت لیتے ہیں اور ان کے شعری شعور کو کتنا جان پاتے ہیں۔
ہم خاک میں ملنے پہ بھی ناپید نہ ہوں گے
دنیا میں نہ ہوں گے تو کتابوں میں ملیں گے
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

