سوشل میڈیا نے لوگوں کو جوڑنے کا حیرت انگیز کام کیا ہے۔:پروفیسر فاروق انصاری
آج بہت سے آڈیو ویڈیو نے اردو کے فروغ میں بھی آگے آنے کا کام کیا ہے۔ڈاکٹر شعیب رضا وارثی
شعبۂ اردو،میرٹھ یونیورسٹی میںادب نما کے تحت ’’سوشل میڈیا اور اردو‘‘پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ14؍دسمبر2023ء
آج نوجوان نسل سو شل میڈیا کو اتنی اچھی طرح استعمال کررہی ہے کہ ہمیں ان سے مدد لینی پڑ تی ہے مگر آج ہما ری زندگی میں سوشل میڈیا کتنا اہم رول ادا کررہا ہے اس پر بھی نظر ڈالنا ہو گی۔ آج سو شل میڈیا ہمارے لیے بہت بڑی دین ہے جو ہمیں اس صدی میں حاصل ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا سے ہمیں بہتر نتائج حاصل کرنے چاہئے۔یہ الفاظ تھے عارف نقوی جرمنی کے جو شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت’’ سوشل میڈیا: افادیت اور اردو‘‘ پراپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاںریسرچ اسکالرسیدہ مریم الٰہی نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف فکشن نگار اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔مقررین کے بطور پروفیسرفاروق انصاری (NCERT)،نئی دہلی،پروفیسر معین الدین جینا بڑے،ڈاکٹر شعیب رضا وارثی،این آئی او ایس ،نوئیڈااور لکھنؤ سے آیوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین نے شرکت کی جب کہ مقالہ نگار کے بطور ڈاکٹر ساجد علی اور ڈاکٹر تابش فرید نے نے شرکت کی۔اسققبالیہ اور تعارفی کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی ، نظامت ریسرچ اسکالر عظمیٰ سحر اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے انجام دی۔
مو ضوع کا تعارف کراتے ہوئے ڈا کٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے آج اردو دنیا میں بھی کہرام مچا دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے دوریوں کو نزدیکیوں میں تبدیل کردیا ہے۔اردو نیٹ جاپان،ریختہ اور اردو اخبارات نے اردو والوں کی بہت مدد کی۔ سوشل میڈیا نے جہاں نئی صدی میں نئی نسل کو بڑے پیمانے پر مستفید کیا وہیں اردو کے میدان کو بھی بہت سی سہولیات سے آ راستہ کیا ہے۔
صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جب سے اردو والوں کے اندر سو شل میڈیا کی اہمیت پیدا ہوئی ہے تب سے اردو کے فروغ میں نئے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔موبائل پر دنیا بھر کے تمام اردو اخبارات اور میگزین پڑھ سکتے ہیں۔اردو دنیا نے ایک گروپ بھی بنا لیا ہے۔بہت سے افسانے و افسانچے ہمیں فیس بک پر مل جاتے ہیں۔ یو نی کوڈ نے اردو والوں کی احساس کمتری کو دور کیا ہے۔
پروفیسر فاروق انصاری نے کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ڈیجیٹل ایرا آج بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جو کچھ ہماری نظروں کے سامنے ہوتا ہے اس کی اصلیت کیا ہے اس کا پتہ ہمیں سوشل میڈیا سے چلتا ہے۔ آج وہاٹس ایپ پر بہت سے گروپ موجود ہیں جس سے بہت بڑا سرما یہ مل جاتا ہے۔ ٹیلی گرام سے بھی بہت سے لوگ جڑے ہو تے ہیں۔سوشل میڈیا نے لوگوں کو جوڑنے کا حیرت انگیز کام کیا ہے۔ سائنسی تعلیم اور سماجی پہلو ئوں کو اجاگر کرنے میں اس کا اہم رول رہا ہے۔
پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے کہا کہ سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا مگر اصل بات یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے والے کس طرح اس کا استعمال کرتے ہیں۔ ہر میڈیا چینل کا اپنا ایجنڈہ ہو تا ہے۔ میں ممنون ہوں کہ میں شعبۂ اردو کے پروگرام سے جڑا۔
ڈاکٹر شعیب رضا وارثی نے کہا کہ آج کل سوشل میڈیا پر بہت سے لفظ غلط استعمال ہو رہے ہیں۔ آن لا ئن کلاس میں آج بہت سے ذہین طالب علم نظر آ رہے ہیں۔ آج بہت سے آڈیو ویڈیو نے اردو کے فروغ میں بھی آگے آنے کا کام کیا ہے۔ آج اردو شانہ بہ شانہ ترقی کررہی ہے۔ آج ہندی، انگریزی کے ساتھ اردو کی بہت سی کتابیں سو شل میڈیا پر موجود ہیں۔ اردو آج کہیں بھی کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بھی بہت بول بالا ہے۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ میں آج کے پروگرام کے تعلق سے سب کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور بس اپنے سبھی طالب علموں سے یہ کہتی ہوں کہ سو شل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور اس کے مثبت نتائج سے خوب فیض یاب ہوں۔
پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر الکا وششٹھ، محمد شمشاد، فیضان ظفر،،لائبہ اور دیگر طلبا وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

