کرناٹک اردو چلڈرنس اکادمی کی طرف سے شکاری پور میں موٹی ویشنل پروگرام کا انعقاد
آج بروز منگل ۱۷؍جنوری ۲۰۲۳کو کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی نے سنسکرتی بھون شکاری پور میں ایک موٹی ویشنل پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کی صدارت سید حماد انوراللہ صاحب نگراں زبیدہ ایجوکیشن گروپ شکاری پور نے کی۔ مہمانوں کی حیثیت سے قومی شاعر ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی ، مولانا آزاد ماڈل اسکول کی میر معلمہ محترمہ ممتاسالی، گورنمنٹ جونیر کالج کے پرنسپل جناب ناگ راج کے، ایم، جناب سومنّا بی آر،سی، جناب مالتیش، سری نیواس، جناب خضر بیگ، کنڑا صحافتی تنظیم کے ضلعی صدر جناب ہچرایپّا وغیرہ نے شرکت کی۔
ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ تعلیم ہی سے زندگی کا لطف قائم ہے۔ تعلیم جہاں انسان کو کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے وہیں زندگی کا لطف لینے کا سلیقہ سکھاتی ہے اور ہر طرح کی ذمہ داری کے تئیں حساس بناتی ہے۔ انہوں نے طلبا و طالبات کو مخاطب کر کے کہا کہ تعلیم اور محنت کو اپنا دوست بنالیجئے، اسی میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادب، ادب اطفال اور کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی کے مشن کا ایک رخ تعلیم کو عام کرنا اور بچوں میں تعلیمی امنگ پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امین مدثر صاحب بہت ہی قابل موٹی ویٹر ہیں۔ ان کی تقریر اور تربیت سے یقینا بچوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے یہ ساری باتیں اپنی افتتاحی تقریر میں کہی۔ کیوں کہ انہوں نے ہی اس پروگرام کا افتتاح کیا تھا۔ اور انہیں کی دلچسپی اور توجہ سے یہ پروگرام منعقد ہواتھا۔
محترمہ ممتا سالی نے کہا کہ میں B.E.Oکی شکر گذار ہوں کہ انہوں نے سبھی اسکولوں کے بچوں کو اس پروگرام میں شرکت کی اجازت دی۔ میں حافظؔ جی کی بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے اتنے اچھے موٹی ویشنل (تعلیمی امنگ) پروگرام کا انعقاد کروایا۔
جناب ناگ راج نے کہا کہ بچوں آپ کے امتحان قریب ہیں۔ اور آپ پر دباؤ بھی ہوگا، مجھے یقین ہے کہ امین مدثر صاحب کے تخاطب کے بعد آپ تازگی محسوس کریں گے اور بہتر نشانات حاصل کریں گے۔ جناب سومنا بی، آر،سی نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں مختلف اسکولوں کے طلبا اور اساتذہ کے اجتماع سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سبھی ایک دوسرے کو جانیں گے اور امین مدثر صاحب کی اسپیچ سے فائدہ اٹھائیں گے۔
محترمہ کری بسمّا کنڑا معلمہ نے کنڑا زبان پر عبور حاصل کرنے کے طریقوں سے بچوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ آپ لوگ امین مدثر صاحب کی تقریر کے بعد محسوس کریں گے کہ پڑھنا لکھنا یا کسی بھی زبان اور موضوع پر دسترس حاصل کرنا قطعی مشکل نہیں ہے۔
جناب خضر بیگ نے کہا کہ میں امین مدثر صاحب کی اسپیچ سننے اور بچوں کو مستفید ہونے کے لیے شرالکپّہ سے کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی کی دعوت پر آیا ہوں۔ میں بے حد خوش ہوں کہ ہم نے اور ہمارے طلبا نے توقع سے زیادہ سیکھا ہے۔
جناب ہچرایپّا نے کہا کہ یہ موٹی ویشنل پروگرام بہت مفید ہے۔ اس طرح کے پروگرام تسلسل سے ہوتے رہنے چاہئیں۔ اس طرح کے پروگراموں سے صرف طلبا کا ہی نہیں ان کے والدین کا ذہن بھی صاف ہوتا ہے۔
سید حماد انوراللہ صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں اور بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ؛ مجھے یقین ہے کہ اس موٹی ویشنل پروگرام سے بچوں کا بہت فائدہ ہوگا۔ بچوں میں پڑھنے لکھنے سے دلچسپی پیدا ہوگی۔ وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پر جوش بنیں گے۔ زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں خود اعتمادی سے حصّہ لیں گے۔ جس میدان میں جائیں گے اپنی انفرادی شناخت بنائیں گے۔ اور تعلیم سے کبھی منہ نہیں موڑیں گے
ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے میڈیا کے سوال کے جواب میں بتایا کہ موٹی ویشنل پروگرام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے جس تعلیم کو سزا اور بوجھ سمجھتے ہیں، اس سے مزہ لینے لگتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ تعلیم بوجھ نہیں ہے۔ انجوائے ہے۔ ایسا انجوائے جو زندگی کی مثبت قدریں سکھاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو طلبا تعلیم کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں اور جوکم نمبر لینے اور والدین کے دباؤ سے خوداعتمادی سے محروم ہوجاتے ہیں موٹی ویشن ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ انہیں اہم فرد ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ اس طرح طلباء کی زندگی میں نئی روشنی، نئی امنگ، اور نیا جوش پیدا ہوتا ہے۔
موٹی ویشنل مقرر جناب امین مدثر صاحب نے ابتداہی میں بچوں کو باندھ لیا ۔ مختلف قسم کے سوالات، اور الگ الگ اقسام کی حرکتیں کراکر بچوں کو پوری طرح متوجہ کرلیا۔ اور پھر جو انہوں نے اپنی جادوئی تقریر سے سماں باندھا تو گویا طلبا کی کایا ہی پلٹ گئی۔ انہوں نے بچوں کو ہنسایا بھی ، کھلایا بھی، اور پھر اس طرح کی ذہن سازی کی ہنر مندی دکھائی کے بچوں میں حصول تعلیم کا ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا ہوگیا۔ طلبا کے چہروں پر بشاشت آگئی۔ ان کی تقریر سے والدین کے بھی قلب ماہیت کی کیفیت محسوس کی یہ موٹی ویشنل پروگرام نہایت کامیاب رہا۔ اگر امین مدثر صاحب کی تقریر نقل کی جائے تو ایک کتاب بن جائے گی۔
اس پروگرام میں دوسرے مہمانوں کی حیثیت سے انجنیر محمد شعیب نے بھی شرکت کی۔ یہ پروگرام انجنیر محمد شعیب کے شکریے کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

