تعلیم انسانی زندگی کا اتنا اہم حصہ ہے جسے الگ کرنے کے بعد انسان اپنے وجود کی تلاش میں ساری عمر سرگرداں رہتا ہے ۔تعلیم کے بنا اس انسان کا تصور ممکن نہیں جسے اللہ نے اشرف المخلوق کا درجہ دیا ہے ۔کیونکہ اس درجے میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس کم سے کم اتنا علم ضرور ہونا چاہیے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کا خالق کون ہے ،دنیا میں اسے کن مقاصد کو پورا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور بحیثیت انسان اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں،اگر کوئی انسان ان باتوں سے بے خبر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان ہونے کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے اور اگر اسے اس دوڑ میں شامل ہونا ہے تو علم حاصل کرنا پڑے گا تبھی اس دنیا کی حقیقت سے روشناس ہوسکتا ہے۔ اس گفتگو کے بعد تعلیم کی ضرورت اور اس کی اہمیت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔تعلیم نہ صرف معاش کاذریعہ ہے بلکہ معاشرے میں انسان کی پہچان بنانے میں مدد کرتی ہے ۔
اسلام ایک ایسا مکمل اور واحد دین ہے جس کی بنیاد علم پر رکھی گئی جس قدر اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اتنا دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ،ا سلام نے تعلیم کا جو تصوّر پیش کیا اس نے ایک جاہل معاشرے کومہذب بنا دیا ،آپس میں تلوار سونتنے والوں کو بھائی چارہ سکھا دیا،پہلی وحی میں نازل ہونے والا پہلا لفظ’اقراء‘ یعنی ’پڑھ ‘کے ذریعہ ہی معلوم ہو گیا کہ اسلام کی نظر میں تعلیم حاصل کرنا کس قدر اہم ہے اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً نازل ہونے والی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ذریعہ علم کی جو توضیح پیش کی گئی اس نے ایک نئے معاشرے کو وجود دیا جس میں ہر شخص کوتعلیم کے میدان میں برابر کا درجہ دیا گیا۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ تلقین کی کہ ہر مسلمان علم حاصل کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔تبھی ایسامعاشرے کا وجودمیں آسکتاہے جس کی مثال بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،خلفائے راشدین، اموی اور عباسی دور میں دیکھنے کو ملی کہ جب مسلمانوں نے علم کے میدان میں ترقی کی تمام منزلیں فتح کر لیں۔
تعلیم کی اہمیت قرآن میں:
تعلیم ایمان کی اصل اور عقائد کی روح ہے ،تعلیم ہی دنیا ہے اور تعلیم ہی آخرت ، یہی تہذیب اور ا خلاق سے روشناس کراتی ہے، تعلیم پر ترقی کا دارومدار ، اور اسی پر انسان کی مغفرت اور نجات ، یہی تعلیم دوزخ سے بچاتی اور جنت کا حقداربناتی ہے۔علم سے بے بہرہ انسان زندگی کے میدان میں فکری اور عملی ہر لحاظ سے پیچھے رہ جاتا ہے ،اس لئے اسلام کی پہلی وحی اقراء نازل ہوئی ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’اقرا باسم ربک الذی خلق oخلق الانسان من علق oاقرا وربک الاکرمoالذی علم بالقلمoعلم الانسان مالم یعلمo‘(۱)
(اے پیغمبر)پڑھ اپنے رب کے نام سے (آغازکرتے ہوئے)پڑھ جس نے (ہر چیز کو)پیدا فرمایاجمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا)
اس وحی کے پہلے ہی لفظ سے اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی توجہ تعلیم کی طرف دلوا دی اور یہ بات صاف کر دی کہ زندگی میں سب سے اہم چیز علم ہے ۔ایک مسلمان کی زندگی کی شروعات علم سے ہوتی ہے جہالت سے نہیں، تو سب سے پہلے ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے گوشۂ علم میں داخل ہونا پڑے گا۔صرف پڑھنا ہی نہیں لکھنا سیکھنا بھی مسلمان پر اس آیت کی روشنی میں لازم کر دیاگیا۔
قرآن میں جگہ جگہ جاہل اور عالم کے فرق کو بیان کیا گیا ہے اور بار بار علم کے سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور علم حاصل کرنے کے فوائد اور نہ حاصل کرنے کے نقصانات کو بیان کیا گیا ہے۔
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون انما یتذکر اولو الباب(۲)
(ان سے پوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر ہو سکتے ہیں ،نصیحت تو عقل رکھنے والے ہیں قبول کر سکتے ہیں )
وما یستوی الاعمیٰ والبصیر ولا الظلمٰت ولا النور ۔ولا الظل ولا الحرور(۳)
(اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے )
قل لا یستوی الخبیث والطیب ولو اعجبک کثرۃ الخبیث فاتقوااللہ یاٰولی الباب لعلکم تفلحون(۴)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دو کے پاک اور ناپاک بہر حال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو پس اے لوگوجو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی)
ویقول الذین کفروالست مرسلا قل کفیٰ باللہ شھیدا بینی و بینکم ومن عندہ علم الکتاب (۵)
(یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو ،کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے )
یا ٰ ایھا الذین اآمنوااذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس فافسحوایفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفعوا اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجٰت(۶)
(اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا ۔اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جایا کرو ۔تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عالم کی قدر کو بیان کیا ہے کہ علم کی وجہ سے انعام میں اس کے درجات بلند کر دئے جائیں گے۔قرآن کریم میں علم کا ذکر اسّی بار ہوا ہے۔علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے نبی کو علم کے بڑھنے کی دعا کا حکم دیا :
وقل ربّی زدنی علما(۷)
اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر
علم حاصل کرنے کا مقصد اسلام میں بہت وسیع ہے علم صرف اس لئے نہیں حاصل کرنا ہے کہ زمانے میں بڑے عالم کہلائیں بلکہ اللہ کی حقیقت اور اس کی صفات کو جانیںاور اللہ سے ڈریں کیونکہ جب انسان اللہ کو جانے گا تبھی اس کے احکامات کو بھی مانے گا اور خوف خدا اس کے دل میں پیدا ہوگا اور اس طرح وہ برائیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے گا ۔ دل میں خوف خداہی اچھا اور برائیوں سے پاک معاشرہ وجود میں لا سکتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ:
انما یخشی اللہ من عبادہ العلمٰئوا(۸)
(حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں)
اگر علم کے بغیر مسلمان کا تصور ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ بار بارتعلیم کے متعلق آیات نازل نہ فرماتا بلکہ ایک مرتبہ نازل کرنے کے بعد رک جاتا ان تمام آیات کے مطالعہ سے یہی بات عیاں ہوتی ہے کہ تعلیم ہی میں بندے کے لئے نجات ہے۔
تعلیم کی اہمیت احادیث میں:
احادیث میں بھی تعلیم کی اہمیت کا ذکر متعدد بار ہوا ہے۔ احادیث کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر علم کی فضیلت بیان کی ہے ۔حدیث کی کتابوں میں علم کی اہمیت پر پورے پورے ابواب موجود ہیں ۔جس میںمیں مختلف انداز میں علم کی اہمیت بیان کی گئی ہے :
اطلبوا العلم ولو بالصین (۹)
(علم حاصل کرو بھلے ہی چین جانا پڑے)
چین عرب سے بہت دور ہے اور ان دنوں میں سفر کرنا بھی بہت مشکل لیکن اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ علم کے حصول میں کتنی بھی پریشانیاں آئیں پھر بھی علم حاصل کرو۔
’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم‘(۱۰)
(علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’ارجعوا الیٰ اھلیکم فاقیموا فیھم وعلموھم و مروھم‘(۱۱)
( اپنے بیوی بچوں کے پاس جاؤ اور انہی میں رہو اور ان کو دین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عمل کا حکم دو )
’الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن فحیث وجدھا فھو احق بھا‘(۱۲)
(علم و عقل کی بات مومن کا گمشدہ مال ہے ،پس جہاں بھی اسے پائے حاصل کرنے کا وہ زیادہ حقدار ہے)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سلک طریقا یلتمس فیہ علما سھّل اللہ لہ طریقا الی الجنۃ (۱۳)
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے علم سیکھنے کے لئے کوئی راستہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا ایک راستہ آسان کر دیتے ہیں )
عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم من خرج فی طلب العلم کان فی سبیل اللہ حتّی یرجع(۱۴)
(انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص علم کی تلاش میں نکلے وہ واپس لوٹنے تک اللہ کی راہ میں ہے)
حدیث میں بھی نہ صرف پڑھنے پر زور دیا گیابلکہ لکھنے کی طرف بھی خاص توجہ دلوائی گئی جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے:
’’ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے اور احادیث سنتے تھے،وہ انہیں بہت پسند کرتے لیکن یاد نہ رکھ سکتے تھے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی کہ یا رسول اللہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں سنتا ہوں مجھے وہ اچھی لگتی ہیں لیکن میں یاد نہیں رکھ سکتا ۔پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ فرمایا‘‘(۱۵)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول من یرد اللہ بہ خیرا یفقّہ فی الدین (۱۶)
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتاہے اس کو دین کی سمجھ عنایت فرماتا ہے )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص علم کے حصول کی راہ میں چلا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلاتے ہیں اور بے شک ملائکہ اپنے پروں کو طالب علم کی خوشنودی کے لئے بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی تمام اشیاء معفرت کی دعا کرتی ہیں اور مچھلیاں پانی کے پیٹ میں اور بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودہویں کے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر اور بے شک علماء انبیاء کے ورثاء ہیں اور انبیاء علم کو میراث بناتے ہیں پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے پورا حصہ حاصل کر لیا۔(۱۷)
یہ تمام احادیث اپنے معنی کے اعتبا سے بہت وسیع ہیں اور ایک ایک حدیث علم کی اہمیت پر روشنی ڈال رہی ہے۔اور عالم کی کیا فضیلت ہے جاہل کے مقابلے میں اس کو بھی بہت اچھی طرح ظاہر کر دیا گیا ہے۔
تعلیم عہد نبوی میں:
جس وقت اسلام مکہ کی سر زمین پر نمودار ہوا صرف سترہ لوگ پڑھنا جانتے تھے۔یہ اسلام ہی تھا جس نے لوگوں کو ہر ممکن طریقے سے تعلیم کی طرف مائل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خود معلم بن کر لوگوں کو علم سیکھایا ۔اور پھر اپنے صحابہ اکرام کو اس کام میں شامل کیا۔جنگوںاور سیاست میں مصروفیات کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہالت کو ختم کرنے کی طرف ہمیشہ اپنی توجہ مبذول رکھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عاص کو منتخب کیا تاکہ وہ لوگوں کو پڑھائیں اس کے علاوہ حضرت عبادہ بن صامت کو اصحاب صفّہ کوقرآن پڑھانے اور لکھنا سکھانے کے لئے مقرر کیا ۔(۱۸)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلم عورت رفیدہ کا جنگ تبوک میں پہلا کیمپ لگایا تاکہ وہ زخمیوں کا علاج کر سکیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو فوجی تربیت دی اور جنگ کے طریقے سکھائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو پھیلانے میںجو رول ادا کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جس بھی خطے کو فتح کیا وہاں پر اپنے صحابہ کرام کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دے سکیں،اپنے قابل صحابہ کو دور داز علاقوں میں علم سیکھانے کے لئے بھیجا کرتے جہاں لوگ تعلیم سے بے بہرہ تھے ۔مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے وہاں بھی ایک معلم کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو دین کا علم دے سکے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی اشاعت میں جو بھی ذریعہ ملا اس کو استعمال کیا یہاں تک کہ جب جنگ بدر میں کافر قیدیوں کے پاس دینے کے لئے فدیہ نہ ملا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے دس بچوںکو لکھنا پڑھنا سکھا ئے گا۔(۱۹) اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ کاتب وحی تھے انہی بچوں میں سے تھے جن کو ان قیدیوں نے علم سکھایاتھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز میں علم کو فروغ دیا اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی علم کے حصول کے لئے اصحاب صفّہ نے جو مثال قائم کی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں کہ کس طرح حصول علم کی محبت میں اپنے آپ کو وقف کر دیا ۔ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے لکھنا بھی سیکھ لیا تھا۔اور ایک صاحب نے اپنی کمان حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کو اس لئے ہدیہ کر دی تھی کہ حضرت عبادہ ؓ نے انہیں قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تھا(۲۰)مدینہ میں صرف صفہ ہی نہیں بلکہ مساجد میں بھی تعلیم دی جاتی تھی۔
(یہ بھی پڑھیے وراثت میں عورتوں کا بھی حصہ ہے -ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی)
نبی کے اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کا کیا مقام ہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قرآن کا علم حاصل کرنے کی ہی ترغیب نہیں بلکہ کچھ صحابہ کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم بھی دیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کو ہر اس انسان سے حاصل کرنے کی کوشش کی جوتھوڑا بھی علم رکھتا تھا بھلے ہی وہ کافر ہو یا مسلم،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے حصول میں کوئی فرق نہیں رکھا۔
تعلیم عہد خلفائے راشدین میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے شروع ہونے والا تعلیمی سفر خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی چلا لیکن اس کی نوعیت ویسی ہی رہی جیسی نبی کریم صلی اللہ علیہو وسلم کے زمانے میں تھی۔ اسلام کے استحکام کے لئے ہی تعلیم کو جاری رکھا گیا اور قرآن مجید کی جمع و تدوین جیسے کام اس دور میں انجام پائے۔ اس کے علاوہ اسلام کے بنیادی اصولوں کی تعلیم لوگوں کو دی جاتی رہی ،کیونکہ فتوحات کی وجہ سے عرب کے باہر بھی کئی نئے علاقے جیسے مصر،فلسطین،عراق اور شام فتح ہوئے مسلمانوں نے تعلیمی مراکز قائم کئے اور ان علاقوں تک علم کا نورپہنچایا ۔فلسطین میں معاذ بن جبل،مدینہ میں عبد اللہ بن مسعود،دمشق میں ابو درداء، شام میں عبد الرحمن بن قاسم اور مصر میں جبان بن جبلہ کے ذریعہ تعلیم کو فروغ دیا گیا۔اس دور میں تعلیم کی بنیاد اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ اس کااثر بعد کے زمانے میںبھی دیکھائی دیا۔’’خلافت راشدہ میں سرکاری سرپرستی میں تعلیم کو فروغ دیا گیا ،اسلامی خلافت کی حدود میں ہر جگہ قرآن مجید کی تعلیم کے مکتب قائم کئے گئے جن میں پڑھنا اور لکھنادونوں سکھائے جاتے تھے۔ ان مکتبوں میں تنخواہ دار معلم مقرر تھے ۔صرف حضرت عمر ؓ کے زمانے میں مسجدوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو چکی تھی۔یہ مسجدیں جن میں تنخواہ دار امام اور موذن مقرر تھے بعد میں بتدریج مدرسوں میں تبدیل ہو گئیں ۔تعلیم کے فروغ اور وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے عہد میں صرف شہر کوفہ میں تین سو حفاظ قرآن تھے جو مدینہ کے بعد تعلیم کا سب سے بڑا مرکز تھا،دوسرے بڑے تعلیمی مراکز مکہ،بصرہ،دمشق اور فسطاط تھے ۔مدینہ منوّرہ میں حضرت عمرؓ،حضرت علیؓ،حضرت عائشہؓ،حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ،مکّہ میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور کوفہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اپنے وقت کے ممتاز ترین عالم اور معلم تھے ۔ان اصحاب کے درس میں قرآن اور حدیث کے علاوہ فقہ،علم لغت،تاریخ اور شعر و شاعری پر بھی توجہ دی جاتی تھی‘‘۔(۲۱)
تعلیم عہد بنو امیہ میں:
اموی دور میں بھی مسلمانوں نے علوم و فنون کو فروغ دیا کیونکہ اس زمانے میں بھی کئی صحابہ موجود تھے تو انہوں نے دینی تعلیمات کا درس دینا جاری رکھا ۔دینی علوم کی اشاعت میں جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ،عبداللہ بن عمرؓ،عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓابو ہریرہؓ،انس بن مالکؓ اور خواجہ حسن بصری،امام زہری اور قاضی شریح وغیرہ شامل ہیں ۔اس دور میں دینی علوم کی تصنیف و تدوین کا آغاز ہوا اور کچھ نئے علوم نے بھی وجود لیا ۔
اموی دور میں درس دینے کے لئے علماء کے حلقے ہوتے تھے،مدارس کا رواج زیادہ نہیں تھا،بہت سے صحابہ کے حلقے تھے جن میں ہر فن کی تعلیم دی جاتی تھی۔ان میں عبد اللہ بن عباس اور ربیعہ رائی کا حلقہ درس خاصا وسیع تھا۔اموی عہد میں مساجد تعلیم کا مرکز تھیں ،درگاہوں کا قیام نہیں ہوا تھا لیکن یہ حلقے ہی اس کام کو بخوبی انجام دے رہے تھے۔جن میں بڑے بڑے تابعین اور علماء شامل ہوا کرتے تھے۔علم کا بڑا مرکز حجاز اور عراق مانے جاتے تھے ۔کچھ مکانات کو ابتدائی مدارس کے طور پر استعمال کیا گیا جس کو مکتب کا نام دیا گیا ۔جہاں پر بچے قرآن پڑھنا ،دینی مسائل کو سمجھنا ، لکھنا اور ریاضی کا بھی تھوڑا علم حاصل کرتے تھے ۔تعلیمی اعتبار سے اموی عہد میں کافی ترقی ہوئی اور خاص طور پر عربی زبان کو کافی فروغ ملا۔
تعلیم عہد عباسی میں:
عباسی دور میں مسلمانوں نے تعلیم کی جن بلندیوں پر قدم رکھا اس مقام تک مشرق بھی نہیں پہنچا تھا۔مسلمان اس زمانے میں یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفے اور حکمت سے واقف ہوئے۔کئی درسگاہیں اور دارالعلوم قائم ہوئے جن میں ہر طرح کے علوم پڑھا جاتے تھے۔ان کے نصاب میں نہ صرف قرآن،حدیث،فقہ اور ادب شامل تھابلکہ منطق، فلسفہ، ریاضی،علم ہئیت،طبعیات،کیمیاء کا درس بھی شامل ہیں۔بغداد میں تعلیم کے فروغ کے لئے ’’ دار الحکمت‘‘نامی ادارہ مامون رشید نے قائم کیا۔جہاں پردنیا کی کئی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا ۔ان میں فلکیات کے موضوع پر لکھی گئی برہم گپت کی مشہور کتاب ’سدھانت‘کا ترجمہ محمد ابن ابراہیم الفرازی نے اور طب میں لکھی گئی جالینوس اورسقراط کی کتابوں کا ترجمہ یحییٰ بن البطریق ،اطلیموس کی کتاب المجسطی اور اقلیدس کی کتاب اولیات اور سنسکرت کی مشہور کتاب پنج تنتر کا ترجمہ بھی کلیلہ و دمنہ کے نام سے اس عہد میں ہوا ۔ جامعہ ازہر ،نظامیہ اور مستنصریہ نے بھی تعلیم کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔اس دور میں کئی ادارے اور مدارس قائم کئے گئے، نظام الملک نے کئی مدرسے قائم کئے بلخ ،نیشا پور،ہرات،اصفہان،بصرہ،مرو،موسل میں مدارس قائم کئے۔ان مدارس کے ساتھ ہاسٹل بھی قائم کئے گئے تھے۔اس زمانے کے مشہور عالموں میں امام ابو اسحٰق شیرازی،ابن کاتب،قطب الدین شافعی،اما م غزالی شامل ہیں۔
عربوں میں یہ جو بھی علمی بیداری ہوئی تھی یہ سب قرآن کی تعلیمات کا ہی نتیجہ تھی،قرآن اور نبی کی تعلیمات نے ان کے دماغوں پر لگے تالوں کو کھول دیا اور جب یہ تالے ٹوٹے تو مسلمانوں نے دنیا کا تمام قوموں کو پیچھے چھوڑ دیا اور مسلم دنیا علم کا گہوارہ بن گئی اور لوگ دور دراز سے ان سے علم حاصل کرنے کے لئے آنے لگے۔
قرآن اور نبی کی تعلیمات نے مسلمانوں پر سحر کا سا اثرکر دیا اور مسلمانوں نے بہت تیزی سے علم سیکھا اور اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ دنیا کی ساری قوموں کو پس پشت چھوڑ دیا ،تعلیم کے ہر میدان میں جھنڈے گاڑ دیے چاہے وہ علم کیمیاء ہو،علم فلکیات ہو،علم ریاضی ہو،علم جغرافیہ ہو،علم معدنیات ہو،علم طب ہو،علم فلسفہ ہو،علم طبیعیات ہو،علم نباتات و حیوانات ہو،یا تاریخ نگاری ۔مسلمانوں نے بڑی بڑی لائبریاں اور مدارس قائم کئے ۔ اب تک زمانہ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے ۔نبی کے دور سے شروع ہونے والا علمی انقلاب قرون وسطی تک قائم رہا ، ہر دور میں مسلمانوں نے ثابت کیا کہ تعلیم کے بغیر ایک مسلمان کا وجود مکمل نہیں۔ زمانے میں ترقی صرف اور صرف علم کی بنیاد پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے اور جب سے مسلمانوں نے اس جذبے کو چھوڑ دیا زوال نے ان کا دامن پکڑ لیا۔
اسلام یہی چاہتا ہے کہ مسلمان علم کے ہر میدان میں ترقی کرے اور اپنی زندگی علم کی شمع سے ہمیشہ روشن رکھے۔تاکہ اپنے ابائواجداد کی طرح وہ بھی زمانے میں سرفراز ہوسکے۔
حواشی
۱۔العلق۔۱۔۵
۲۔زمر۔۹
۳۔فاطر۔۱۹۔۲۱
۴۔مائدہ۔۱۰۰
۵۔رعد ۴۳
۶۔مجادلہ ۔۱۱
۷۔طہٰ ۔۱۱۴
۸۔فاطر۔۲۸
۹۔ابن عدی،بہیقی
۱۰۔سنن ابن ماجہ،باب فضل العلماء،حدیث نمبر۲۲۴
۱۱۔الجامع الصحیح للبخاری،باب الاذان للمسافرین،حدیث نمبر۶۳۱،صفحہ۔ ۴۳
۱۲۔سنن ابن ماجہ مترجم ،باب الحکمۃ ،جلد دوم،صفحہ۔۲۵۱۔۲۵۲
۱۳۔ترمذی۔حدیث ۵۴۱۔علم کا بیان۔طلب علم کی فضیلت
۱۴۔ترمذی۔حدیث۵۴۲۔علم کا بیان۔طلب علم کی فضیلت
۱۵۔ ترمذی۔حدیث۵۶۰۔ علم کا بیان۔کتابت علم کی اجازت کے بیان میں
۱۶۔بخاری۔۷۲۔علم کا بیان
۱۷۔ابو داود۔۲۴۴۔علم کا بیان۔علم کی فضیلت کا بیان
۱۸۔( Mohd Sharif ,Education,Religion and theModern Age -Khan۳۹(
۱۹۔مسند احمد۔بحوالہ مدنی معاشرہ عہد رسالت میں،اکرم ضیاء العمری،ص۔۲۷۰
۲۰۔سنن ابی داود ،جلد۲۔۲۳۷
۲۱۔ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ،،جلد ۱۔ثروت صولت۱۲۳
Dr. NajmusSahar
najmu.sahar@gmail.com
نوٹ: مضمون نگار ہمدرد یونیورسٹی میں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

